وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ ضلع مانسہرہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے،علاقے کی پسماندگی دور کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی فراہمی صوبائی حکومت کے ترجیحات میں شامل ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام کی جانب سے کئے گئے اعتماد پر پورا اتریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں اپنے حلقہ نیابت سے آئے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر زاہد چن زیب نے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا کر یہاں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی مخلصانہ قیادت میں ضلع مانسہرہ میں خوشحالی اور تعمیر و ترقی کے خواب کی تعبیر کو جلد ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں لوگوں کی معیار زندگی میں بہتری لانے کے لئے صوبائی حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور علاقے کے لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے درکار فنڈز کے حصول کی خاطر صوبائی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں جن کی تکمیل کے باعث علاقے کی پسماندگی دور ہوگی اور مثبت تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ مشیر سیاحت و ثقافت نے یقین دلایا کہ حکومتی اقدامات سے یہ علاقے جلد خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔
خواجہ آصف بے بنیاد بیانات کے ذریعے گمراہی پھیلانے سے گریز کریں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا ردعمل
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے باہر جانے سے متعلق بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف شوشے چھوڑنے کے ماہر ہیں اور آئے روز کو ئی نہ کو ئی شوشہ چھوڑ تے ہیں. انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق پھر ایک شوشہ چھوڑا ہے مگر خواجہ آصف کو یا د رکھنا چاہئے کہ بیرونی طاقتوں کے بل بوتے پر ہمیشہ شریف خاندان ملک سے باہر گیا ہے اگر عمران خان باہر جاتے تو اتنا عرصہ جیل نہ کاٹتے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ خواجہ آصف اور شریف خاندان کا یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کیونکہ عمران خان ہر بربریت کا جوانمردی سے مقابلہ کررہے ہیں. بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان کے شریف خاندان کی طرح باہر محلات نہیں ہے۔ بیرونی دنیا میں عمران خان کا صرف نام اور عزت ہے جو شریف خاندان کی نہیں ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خواجہ آصف بے بنیاد پروپیگنڈا کرکے عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو اپنے لیڈر کے برابر لانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں ہے اور خواجہ آصف بے بنیاد بیانات کے ذریعے گمراہی پھیلانے سے گریز کریں۔ مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر سیف نے کہا کہ شریف اور زرداری خاندانوں کے باہر ممالک میں عظیم الشان محلات ہیں ڈیل کے بعد دونوں خاندان ان محلات میں رہتے ہیں اور ان محلات کو پاکستان کے عوام کا پیسہ لوٹ کر بنایا گیا ہے۔ بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ عمران خان باعزت بری ہوکر شریف اور زرداری خاندانوں سے پاکستانی عوام کی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی، ارشد ایوب خان، اور وزیر اعلیٰ کے
خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی، ارشد ایوب خان، اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے یو این ڈی پی کے زیرِ اہتمام ضم اضلاع کی ترقی و بحالی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری کاظم نیاز اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی محمد داؤد بھی موجود تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک تاریخی اقدام ہے، جس سے 60 لاکھ افراد کو آئینی حقوق، حکومتی اصلاحات، اور سماجی و معاشی ترقی کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے 120 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھا رہی ہے، جس سے سستی بجلی فراہم کی جائے گی اور اسے مقامی صنعتوں کو دیا جائے گا۔مزمل اسلم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی عوام کے لیے لائف انشورنس پروگرام بھی متعارف کروا رہی ہے، جس کے لیے اسلامک انشورنس کمپنی قائم کی جائے گی۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تمام سرکاری عمارتوں کو سولرائزیشن پر منتقل کر رہی ہے اور ساتھ ہی صوبے کے ملازمین کے لیے سولر لون اسکیم بھی متعارف کروا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے پہلی بار تمباکو ٹیکس کی مد میں 200 فیصد اضافہ کیا ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم شدہ اضلاع کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ قبائلی لیڈ پروگرام خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اہم اقدام ہے، جو ضم اضلاع کی ترقی و بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخو کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ پشاور سمیت صوبہ بھر میں
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخو کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ پشاور سمیت صوبہ بھر میں ڈینگی وبا کا زوال شروع ہوگیا ہے اور 28 اکتوبر سے روزانہ رپورٹ ہونے والے ڈینگی کیسز میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ ہاٹ سپاٹ یونین کونسلز سے بھی ڈینگی کے کم کیسز رپورٹ ہونے لگے ہیں۔ نومبر میں روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد چالیس سے کم ہوگئی ہے، ان امور کا اعلان وزیر اعلیٰ کے مشیر صحت نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا، انہوں نے مزید کہاکہ جب چارج سنبھالا تو ڈینگی کا سیزن چل رہا تھا، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور لائن ڈیپارٹمنٹس نے بہترین کارکردگی دکھا کر صوبے کو مہلک بیماری سے بچالیا ہے، ڈینگی ایکشن پلان 2024 اب تک کامیابی سمیٹ رہاہے۔
سیکرٹری صحت حکومت خیبرپختونخوا سید عدیل شاہ نے کہا ہے
سیکرٹری صحت حکومت خیبرپختونخوا سید عدیل شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ صحت نے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کے اشتراک اوربرطانوی جامعات کے تعاون سے سرکاری ہسپتالوں میں فرائض سر انجام دینے والی نرسز کے لیئے جدید پیشہ ورانہ ٹریننگ کا جو مرحلہ وار پروگرام شروع کیاہے اس سے نہ صرف نرسز کی جدید خطوط پر ٹریننگ کی نئی راہیں کھلیں گی بلکہ اس سے سرکاری ہسپتالوں میں نرسنگ کیئر کاایک جدید کلچر بھی فروغ پائے گا۔انہوں نے ان خیالات کااظہار کے ایم یو میں برطانوی جامعات کے اشتراک سے صوبے کی نرسز کے دوسرے بیچ کی ٹریننگ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیاہے۔ جب کہ اس موقع پر دیگر کے علاوہ SAME RPS UKکے نمائندیڈاکٹر اعجاز حسین، کے ایم یو کی پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی،کے ایم یو کے رجسٹرار انعام اللہ وزیر، ایچ ایس آر یو محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن،ڈاکٹر فرید اللہ شاہ ڈائریکٹر نرسنگ ڈی جی ہیلتھ سروسز اورڈائریکٹرکے ایم یو آئی این ایس ڈاکٹر نجمہ ناز بھی موجود تھے۔سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ کورس کے لیئے منتخب شدہ نرسز کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ سے زیادہ معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیئے جدید تربیت دی جائے گی جس سے سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ خیبرپختونخوا کے صحت کا نظام دیگر صوبوں کے برعکس زیادہ فعال ہے اور یہاں پر مشکل ترین حالات کے باوجود طبی عملہ جو خدمات انجام دے رہاہے وہ مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے نرسز کی جدید ٹریننگ کا یہ سلسلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر شروع کیاہے جس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ نرسز کو صحت کے نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے لہٰذا ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے اس ضمن میں SAME RPS UKکے نمائندے ڈاکٹر اعجاز حسین اور کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کی خصوصی دلچسپی کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ پہلے گروپ کی ٹریننگ کی کامیاب تکمیل کے بعد باقی گروپوں کی تربیت پر بھی اسی شوق اور جذبے سے کرائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تربیتی پروگرام سے اگر ایک طرف نرسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قابلیت میں اضافہ ہوگا تو دوسری جانب یہ کورس مریضوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی مفید ثابت ہو گا۔
بیرون ملک وفات پانے والے پاکستانیوں کے جسد خاکی کی آبائی علاقوں میں مفت منتقلی کے لیے ایمبولینس سروس کا آغاز
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی اور آبادکاری ملک نیک محمد خان نے بیرون ملک وفات پانے والے پاکستانیوں کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقوں تک مفت منتقل کرنے کے لیے ایک خصوصی ایمبولینس سروس کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو مالی اور انتظامی سہولت فراہم کرنا ہے۔خصوصی معاون برائے ریلیف ملک نیک محمد خان داوڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس سروس کی منظوری گزشتہ کابینہ اجلاس میں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم عوامی فلاح و بہبود کے عزم کے تحت یہ مفت ایمبولینس سروس شروع کر رہے ہیں، جس کے ذریعے بیرون ملک وفات پانے والے پاکستانیوں کے جسد خاکی کو ان کے گھر والوں اور آبائی علاقوں تک عزت و احترام کے ساتھ پہنچایا جائے گا۔یہ سروس اسلام آباد اور باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور پر 24 گھنٹے دستیاب ہوگی، جہاں دونوں ہوائی اڈوں پر ایمبولینسز کو متعین کیا جائے گا تاکہ بیرون ملک سے آنے والے جسد خاکی کی فوری منتقلی ممکن ہو سکے۔ یہ سروس بغیر کسی معاوضے کے گھر تک پہنچانے کے تمام مراحل کا احاطہ کرے گی۔مزید برآں، ایئرپورٹ پر تین مخصوص ایمبولینس پارکنگ ایریاز، عملے کی رہائش اور سہولیات کے لیے ایک خصوصی ڈیسک بھی قائم کیا جائے گا، تاکہ سروس کو بہتر انداز میں اور فوری ردعمل کے ساتھ فراہم کیا جا سکے۔ملک نیک محمد خان نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 نے اس سروس کی بروقت فراہمی کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ انتظامیہ سے ایمبولینسز اور عملے کے لیے جگہ فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ اس انتظام کے تحت ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کسی بھی وقت مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گی جیسے ہی جسد خاکی ایئرپورٹ پر پہنچیں۔یہ مفت ایمبولینس سروس صوبائی حکومت کے پاکستانی اوورسیز شہریوں کے لیے خدمت اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے عزم کی عکاس ہے۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی کا گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند ضلع چارسدہ کا تفصیلی دورہ
ڈیری فارم ہری چند سے حاصل ہونے والی پیداوار سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے – صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کی ہدایت
*صوبائی حکومت مویشی پال زمینداروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے – صوبائی وزیر *
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، ماہی پروری و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں لائیو سٹاک شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ مویشیوں کی بہترین افزائش نسل میں ہری چند فارمز کا کردار قابل ستائش ہے۔ صوبائی حکومت مویشی پال زمینداروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔مصنوعی نسل کشی مراکز سے مویشی پال حضرات کو ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ تاکہ مویشی پال کو نسل کشی کے امور میں مسائل کا سامنا نہ ہو اور بہترین قسم کے نسل حاصل کیا جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اراکین صوبائی اسمبلی ارشد خان عمرزئی، اختر خان ایڈووکیٹ اور سطان روم خان کے ہمراہ گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند ضلع چارسدہ کے دورے کے دوران کیا۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے ہدایت کی کہ ڈیری فارم سے حاصل ہونے والے دودھ کی فروخت میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی لوگوں کو معیاری غذائیت پر مبنی خالص دودھ مل سکے۔اس کے علاؤہ فارمز سے حاصل ہونے والی پیداوار میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان اور محکمہ لائیو اسٹاک کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر لائیو سٹاک, فیشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی کو گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند ضلع چارسدہ کے اعراض و مقاصد، کارکردگی اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی طور پر بریف کیا گیا۔ جبکہ گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند کے مختلف سیکشن، لیبارٹریز، سیمنز پروڈکشن یونٹ اور مویشیوں کو دی جانے والی خوراک ونڈا کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مویشیوں کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔دورے کے دوران رکن صوبائی اسمبلی ارشد خان عمرزئی کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند کے ساتھ ہرقسم کی تعاون کرینگے۔ فارم کی ترقی سے علاقے کی ترقی وابستہ ہیں۔ مقامی مویشی پال زمینداروں کو ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جائے۔دورے کے دوران ڈائریکٹر ڈیری فارم ڈاکٹر برہان الدین نے گورنمنٹ کٹیل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیری فارم کو رائل ڈچ حکومت کے امدادی پروگرام کے تحت سال 1982 میں قائم کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں واحد غیر ملکی کیٹل بریڈنگ اور ڈیری فارم سال 1982 میں 90 فریزین گائے اور 1 بیل درآمد کیا گیا۔ بعد میں فریزین گائے کے تبادلے کے ذریعے حکومت پنجاب سے 30 جرسی گائے حاصل کی گئی۔فارم میں غیر ملکی جانوروں کے ذریعے مقامی جانوروں کی دودھ اور گوشت کے پیداوار میں اضافہ کرنا ہیں۔اسطرح مختلف یونیورسیٹوں اور پیرا وٹرنری انسٹی ٹیوٹ سے آنے والے ترقی پسند کسانوں اور طلباء کیلئے ایک تدریسی ادارے اور پوسٹ گریجویٹ ویٹرنری طلباء کیلئے تحقیقی طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے فارم کی کارکردگی میں گہری دلچسپی لی اور فارم کی کارکردگی کو سراہا۔ اور اس بات پر زورں دیا کہ فارم اپنے معیار کو برقرار رکھیں اور صوبے کے زمینداروں کی خدمت بہترین طریقے سے جاری رکھیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیر صدارت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان،
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیر صدارت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور اور وومن یونیورسٹی مردان کے ساتھ ضلع نوشہرہ کے الحاق شدہ سرکاری جنرل اور کامرس کالجز کے مسائل کے حوالے سے اجلاس منگل کے روز اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں سپیشل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹر ایجوکیشن، مذکورہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اور نوشہرہ کالجز کے پرنسپلز نے شرکت کی وبائی وزیر کونو شہرہ کے جنرل اور کامرس کالجز کے مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں کالجز کے امتحانات اور نتائج میں تاخیر، ضلع کے اندر ایک کالج سے دوسرے کالج مائیگریشن، امتحانات میں آؤٹ أف کورس سوالات، افغان سیٹس سمیت دیگر مسائل پر سرے حاصل بحث ہوئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ امتحانات کو وقت پر منعقد کرنے اور نتائج کے بروقت اعلان کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کا سارا نظام سٹریم لائن کر رہے ہیں ڈگری کے لیے چار سال کی مدت ہونی چاہیے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ بعض مسائل کو حل کرنے کے لیے یونیورسٹی اور کالجز کے حکام آپس میں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے ان کا حل نکالیں اور جو مسائل درپیش ہو ان کے لیے ماہانہ اجلاس منعقد کرے انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے سے جتنے بھی سرکاری کالجز اور جامعات ہیں ان کو سولرائزڈ کر رہے ہیں جس سے نہ صرف تعلیمی اداروں میں بجلی شیڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ بلوں کی مد میں بھی کافی بچت ہوگی۔
پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کی خریداری کے لئے خیبر پختونخوا حکومت ہر حد تک جائیگی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو بولی کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت پی آئی اے کی خریداری کے لئے ہر حد تک جائیگی اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورنے متعلقہ حکام کو بولی کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قومی اثاثے کو سیاسی مافیا کے چنگل سے آزاد کرکے منافع بخش ادارہ بنایا جائے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تعجب کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کو اس نہج تک پہنچانے والے مافیا کی بولی میں دلچسپی لینا سمجھ سے بالاتر ہے اورجن لوگوں نے پی آئی اے ایئر لائن جیسے منافع بخش ادارے کو تباہ کیا ہے آج وہی لوگ اس کی بولی میں پیش پیش ہیں۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ شریف اور زرداری خاندانوں کی وجہ سے تمام ادارے خسارے میں جکڑے ہوئے ہیں اور قومی اثاثوں کو سیاسی مافیا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ر ہا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ جعلی حکومت نے ملک کو جو نقصان پہنچایا ہے ان سے پورا پورا حساب لیا جائے گا۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ شریف اور زرداری خاندان نے ملکی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کئی باریاں لینے کے باوجود ملک کا یہ حال ہے کہ قومی اثاثوں کو اونے پونے داموں بیچ دیا جارہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ محکمہ لیبر میں شفافیت اور بہتری لانے کے لئے تمام ممکن اقدامات اٹھارہے ہیں مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کے لیے کوشاں ہیں مزدوروں کی فلاح و بہبود موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت کو ڈیجیٹائزڈ کرنے پر کام جاری ہے جس کا کام بہت جلد مکمل کر کے محکمہ کے تمام نظام کو آن لائن کر دیا جائے گا اور مزدوروں کو تمام سہولیات کی فراہمی آن لائن نظام کے ذریعے آسانی سے میسر ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے کی مختلف مزدور یونینز اور فیڈریشنز کے عہدیداران سے مزدوروں کے مسائل کے حوالے سے منعقد اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری لیبر کیپٹن(ر) میاں عادل اقبال، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا محمد طفیل، وائس کمشنر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشنز، ڈائریکٹر لیبر، پاکستان یونائٹیڈ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رازم خان سمیت دیگر مختلف مزدور یونینز اور فیڈریشنز کے عہدیداران نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو صوبے کے مختلف کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی طورپر آگاہ کیا گیا اجلاس میں صوبائی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم اجرت، کے مزدوروں میڈکل بلوں میں تاخیر، ڈیتھ اور جہیز گرانٹ سمیت دیگر مسائل پر تفصیل سے بحث ہوئی صوبائی وزیر نے یونیز اور فیڈریشن کے عہدیداران کو یقین دلایا کہ مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے محکمہ کو ہدایت کی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے مسائل حل ہوجائیں گے۔
