Home Blog Page 19

سنٹرل جیل مردان میں یوم پاکستان کے موقع پر شجرکاری

حکومت خیبر پختونخواکے احکامات کی روشنی میں اور آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک کی خصوصی ہدایت پر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل مردان ریاض مہمند نے پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
یومِ پاکستان کے موقع پر جیل کے مختلف مقامات پر ڈیڑھ سو پودے لگائے گئے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل ریاض مہمند نے اس موقع پر شجرکاری مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ درخت ماحول کی بہتری، آلودگی میں کمی اور موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔
ریاض مہمند کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات کے حوالے سے قیدیوں کی آگہی ضروری ہے اور جیل انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
یوم پاکستان کے حوالے سے اپنے جاری پیغام میں سپرنٹنڈنٹ جیل ریاض مہمند نے کہا کہ پاکستان کی بقا اور خوشحالی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اس حوالے سے جملہ سٹاف اور افسران پر عزم ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یوم پاکستان کے موقع پر شجرکاری مہم ایک قابل تحسین اقدام ہے جس کے ذریعے نئی نسل کو ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی اور قومی خوشحالی کے حوالے سے آگہی حاصل ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی جیل خانہ جات جناب ریحان گل خٹک کی پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت محکمہ جیل خانہ جات ترقی کی منازل طے کر رہا ہے

احساس شجرکاری مہم خیبر پختونخوا 2026 کا آغاز — دو کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر

خیبر پختونخوا میں احساس شجرکاری مہم 2026 کا باقاعدہ آغاز سابق وزیرِاعظم عمران خان کے وژن اور صوبائی حکومت کی ہدایات کے تحت کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام حکومت کے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل خان آفریدی نے سال 2026 کے دوران صوبہ بھر میں دو کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ مہم بلین ٹری سونامی منصوبے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
صوبائی وزیر صحت، خلیق الرحمان نے اس مہم کا باقاعدہ افتتاح گاؤں جاروبہ، ضلع نوشہرہ میں شجرکاری مہم میں شرکت کر کے کیا، جہاں 15 ہزار سے زائد پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر صوبہ بھر میں شجرکاری مہم کا آغاز ہوا، جس کے پہلے ہی دن دس لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے، جبکہ یہ مہم پورے سال جاری رہے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی، امن و امان، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہے، تاہم ان میں موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کل جنگلات کے رقبے کا تقریباً 26 فیصد حصہ ہے، جس میں سے 40 فیصد خیبر پختونخوا میں واقع ہے، جو صوبے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل، خصوصاً پہاڑوں اور پانی سے مالا مال ہے، جن سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جا سکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں صوبے کو شدید بارشوں، سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ جیسے مسائل کا سامنا بھی رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
خلیق الرحمان نے عوام، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شجرکاری مہم میں بھرپور تعاون کریں اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ یہ پودے پروان چڑھ کر ماحول کو صاف، سرسبز اور صحت مند بنا سکیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اجتماعی کوششیں خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان کو سرسبز، صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Massive Tree Plantation Drive in Khyber Pakhtunkhwa on Pakistan Day

Khyber Pakhtunkhwa witnessed an extensive tree plantation campaign under the “Ehsaas Afforestation Drive” on Pakistan Day, coinciding with the third day of Eid, as authorities successfully achieved the ambitious target of planting one million saplings ahead of schedule.
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, formally inaugurated the campaign by planting a sapling in Nowshera. Speaking on the occasion, he emphasized that afforestation is vital not only for environmental conservation but also for ensuring a sustainable and secure future for coming generations.
The Forest Department carried out plantation activities at nearly 300 locations across the province, including educational institutions, government offices, and other key sites. The campaign saw active participation from government teams, students, civil society, and members of the general public, reflecting a strong collective commitment to environmental stewardship.
Highlighting the importance of joint efforts, the Chief Secretary termed public-government collaboration essential for achieving national environmental goals. He underscored that transforming the vision of a greener Pakistan into reality requires sustained and collective action.
He further noted that the plantation drive is not limited to a single day but will continue as an ongoing initiative. To ensure sustainability, proper care and protection of the planted saplings will be maintained for at least three years.
In addition, to facilitate public participation and transparency, the Information Technology Board has launched a dedicated web platform where citizens can upload data about their planted saplings, enabling real-time monitoring of afforestation activities.
Looking ahead, Shahab Ali Shah announced preparations for another major plantation target of 1.4 million saplings on August 14. He reaffirmed the government’s commitment to protect forests and expanding green cover across the province through effective and sustained measures.
He also stressed that meaningful environmental improvement is not possible without public involvement, urging greater participation from youth and civil society to make the campaign a long-term success.

پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد، انتھک محنت اور عظیم قربانیوں کا ثمر ہے، شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں پوری قوم، خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سے 86 سال قبل برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کا متفقہ فیصلہ کیا۔ 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قراردادِ پاکستان مملکتِ خداداد کے قیام کی بنیاد بنی،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام بلاشبہ مسلمانوں کی طویل جدوجہد، انتھک محنت اور عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ آج کے دن ہم اپنے اسلاف کی شبانہ روز جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وطن عزیز کو انصاف، قانون کی بالادستی اور فلاحی اصولوں پر مبنی ایک عظیم ریاست بنائیں گے،

دریں اثناء معاون خصوصی شفیع جان نے وزیراعلی سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق“احساس شجر”شجرکاری مہم کے تحت کوہاٹ جیل کے احاطے میں پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوہاٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 23 مارچ کو بامقصد انداز میں منانے کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر خصوصی شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت صوبہ بھر میں ایک ہی دن کے دوران کامیابی سے 10 لاکھ پودے لگائے گئے۔ یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہے۔شفیع جان نے کہا کہ شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر سرسبز و شاداب پاکستان کی بنیاد رکھنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جنگلات کے فروغ کے لیے بلین ٹری سونامی سمیت متعدد اہم اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں صوبے میں جنگلات کا رقبہ مجموعی رقبے کے 26.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔اخر میں شفیع جان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس خصوصی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے حصے کا پودا ضرور لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری ایک قومی فریضہ ہے جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ خیبرپختونخوا کو حقیقی معنوں میں ایک سرسبز صوبہ بنایا جا سکے۔

یومِ پاکستان پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا پیغام

23 مارچ 1940ء کا دن ہماری قومی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دن ہمیں عزم پاکستان اور ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اس عظیم مملکت کے قیام کے لیے دیں۔
حکومتِ خیبرپختونخوا اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم گڈ گورننس، میرٹ، قانون کی بالادستی، شفافیت اور عوامی خدمت کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق ایک عظیم ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس سال حکومت خیبرپختونخوا نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 مارچ کو یوم پاکستان پر پورے صوبے میں 10 لاکھ پودے لگانے کا ہدف رکھا ہے۔ کیونکہ سرسبز خیبرپختونخوا پاکستان کے محفوظ مستقبل اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے۔
پاکستان زندہ باد!

حساس شجرکاری مہم: خیبرپختونخوا میں 2 کروڑ 8 لاکھ پودے لگانے کا ہدف* عید کے تیسرے روز اور 23مارچ کی مناسبت سے دس لاکھ پودے لگائے جائیں گے، خصوصی انتظامات مکمل

خیبرپختونخوا حکومت نے بہار 2026 کے دوران احساس شجرکاری مہم کے تحت صوبے بھر میں 2 کروڑ 8 لاکھ (20.8 ملین) پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اقدام سابق وزیرِاعظم عمران خان کے سرسبز پاکستان وژن کے تسلسل میں اٹھایا جا رہا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق مجموعی ہدف میں سے 55 لاکھ (5.5 ملین) پودے صوبے کے مختلف مقامات پر لگائے جائیں گے، جبکہ 1 کروڑ 53 لاکھ (15.3 ملین) پودے کسانوں، سول سوسائٹی، سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں کو مفت فراہم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔
رواں سال کی شجرکاری مہم کی ایک منفرد خصوصیت یومِ پاکستان، 23 مارچ 2026 کے موقع پر ایک دن میں 10 لاکھ سے زائد پودے لگانے کا ہدف ہے۔ اس دن محکمہ جنگلات کی جانب سے 9 لاکھ 82 ہزار 417 پودے جبکہ تعلیمی اداروں اور سرکاری تنظیموں کی جانب سے 92 ہزار 732 پودے لگائے جائیں گے۔
حکام کے مطابق شجرکاری مہم کو مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے لگائے گئے پودے کی تصویر اپ لوڈ کرکے اس مہم میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، ایک پودا ضرور لگائیں اور اس کی تصویر ایپ کے ذریعے شیئر کرکے سرسبز و شاداب خیبرپختونخوا کے خواب کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس سلسلے میں ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ج) اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر یومِ پاکستان (23 مارچ) کے موقع پر صوبے میں ایک ہی دن میں دس لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی وژن کے تحت صوبے کے جنگلاتی رقبے میں نمایاں اور پائیدار اضافہ کیا جائے گا۔ سیکرٹری محکمہ جنگلات نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع کو سرکاری نرسریوں سے پودوں کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے،صبح سے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے آخری پودا لگانے تک شجر کاری مہم جاری رہے گی، ریکارڈ شجر کاری مہم کی نگرانی کے لیے خصوصی سافٹ ویئر اور مرکزی کنٹرول سینٹر قائم کیاگیا ہے،شجر کاری کے تمام مراحل موبائل تصاویر اور لائیو ویڈیو کے ذریعے مرکزی کنٹرول روم کے ڈیش بورڈ پر مانیٹر ہوں گے،تمام سرکاری ادارے، تعلیمی ادارے، کمیونٹیز، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شجر کاری مہم میں شریک ہوں گے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے عوام کے نام اپیل میں کہا کہ عوام بھی اپنے حصے کا پودا ضرور لگائیں، سر سبز خیبر پختونخوا اور مضبوط پاکستان کے عزم کے ساتھ یہ مہم شروع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ و دہشت گردی کے ماحول میں بھی صوبہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے احساس شجرکاری کے ذریعے مثبت ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس مہم کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو 14 اگست کوبھی 14 لاکھ پودے لگانے کے ہدف کے لیے پوری منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی حالات اور توانائی کے موجودہ بحران کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت کفایت شعاری کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لیے 13 ارب روپے کا رمضان پیکج دیا، جس پر انتہائی شفاف انداز میں عملدرآمد کیا گیا اور پیکج کی سو فیصد رقم مستحقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس پیکج سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
شفیع جان نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن حسبِ معمول عوامی ریلیف اقدامات پر سیاست کر رہی ہے۔ اگر کسی کے پاس رمضان پیکج میں بے ضابطگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔ حکومت ہر قسم کا جواب دینے کے لیے تیار ہے کیونکہ شفاف طرزِ حکمرانی ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ”احساس دسترخوان” سمیت دیگر ریلیف اقدامات بھی کیے، جن سے غرباء، مساکین اور مسافر بھرپور مستفید ہوئے۔ پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ذاتی تشہیر کے لیے شروع کیا گیا رمضان دسترخوان پروگرام آخری عشرے میں بند کر دیا گیا۔
توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ اس بحران نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، تاہم وفاقی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کر کے اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا، جس سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کے برعکس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے 16 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2200 روپے امداد کا اعلان کیا۔ اسی طرح تھریشنگ سیزن میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں کسانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے، جبکہ بی آر ٹی فلیٹ میں مزید بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جن میں خواتین کے لیے پنک بسیں بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے میٹرو کے کرایوں میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قومی کفایت شعاری مہم کو نظرانداز کیا گیا اور حکمرانوں نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیر و سیاحت میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاز کے ویانا جانے کا معاملہ سب کے سامنے ہے، اگر یہ بے بنیاد ہے تو متعلقہ صحافی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت گڈ گورننس میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور دیگر صوبوں کے لیے ایک شیلڈ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بدولت دیگر صوبے محفوظ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کو مستحکم بنانے کے لیے 31 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ ان اقدامات سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

خیبرپختونخوا ایک قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین صوبہ ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان سے بدھ کے روز ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے میں آثار قدیمہ کے تحفظ، تاریخی مقامات کی بحالی، تزئین و آرائش، مذہبی سیاحت کے فروغ اور کوہاٹ میں میوزیم کے قیام سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے معاون خصوصی کو کوہاٹ میں میوزیم کے قیام، صوبے میں تاریخی و مذہبی اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ اور ترقی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین صوبہ ہے جہاں گندھارا تہذیب کے آثار سمیت تاریخ کے بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آثار قدیمہ کی حفاظت اور بحالی نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ یہ سیاحت کے فروغ اور معیشت کی بہتری کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔مذہبی سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بدھ مت اور سکھ مت کے ماننے والوں کے لیے متعدد مقدس مقامات موجود ہیں، جنہیں عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کو متوجہ کیا جا سکتا ہے ،شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ میں میوزیم کا قیام علاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ، محققین اور سیاحوں کے لیے ایک علمی و تحقیقی مرکز ثابت ہوگا۔ اس میوزیم میں مقامی تاریخ، نوادرات، ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا جائے گا، جس سے نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل ہوگی،انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور مذہبی سیاحت کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تاریخی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انفراسٹرکچر کی بہتری پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔معاون خصوصی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ، آثار قدیمہ کی بحالی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے ذریعے نہ صرف صوبے کی مثبت شناخت کو اجاگر کرے گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی اور معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے صوبے کے تمام بورڈز چیئرمین کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحان میں صوبے کے بچوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں

خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے صوبے کے تمام بورڈز چیئرمین کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحان میں صوبے کے بچوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ہر ایک بورڈ اپنے اپنے اضلاع میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک پورٹل قائم کرے جس کے تحت امتحان کے حوالے سے بچوں کو درپیش مسائل اور شکایات کا حل کم وقت میں ممکن بنایا جاسکے اور اسی طرح سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کے دفتر میں بھی ایک کنٹرول روم بنایا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں آنے والے میٹرک کے امتحانات کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، سپیشل سیکرٹری افتخار علی خان جبکہ صوبے کے تمام اضلاع کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئر مینوں نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر تمام اضلاح کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں نے اپنے اپنے اضلاع میں میٹرک کے امتحانات کی تیاری کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں میٹرک کے امتحانات 100 فیصد شفاف نظام کے تحت ہوں گے اور ای پیپر اور ای مارکنگ کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حساس امتحانی حالوں میں سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں جہاں پر طلبہ کو امتحانی حالوں تک جانے میں دشواری درپیش ہو تو بورڈز ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی کریں گے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ میٹرک کے امتحانی حالوں میں کیمرے لگائے جائیں گے اور انہیں نیٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے تمام چیئرمین بورڈز کو ہدایت کی کہ میٹرک کے امتحان کا انعقاد کرنا ان کی ذمہ داری ہے اس لیے میٹرک کے امتحان کے عمل کو شفاف بنانے اور نقل کی روک تھام کرنے کے لیے بھر پوراقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک کے امتحان میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔اور تمام بورڈز میں معائنہ ٹیم بنائی جائے تاکہ وہ اچھے طریقے سے امتحانات کی نگرانی کرے انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک کے امتحان میں فل پروف نظام کے ذریعے انتظامات کیے جائیں جس سے بچوں کا قیمتی تعلیمی سال ضائع نہ ہو اور حکومت کی جانب سے سٹینڈرڈ اپریٹنگ پروسیجر کے گائیڈ لائن کے تحت امتحان صاف اور شفاف انداز میں لیا جائے۔

پشاور شہر میں محکمہ ایکسائز کی منشیات کے خلاف تازہ کاروائی

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور شہر میں منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 76 ہزار 800 گرام چرس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کرتے ہوئے منشیات لیجانے والی گاڑی کو تحویل میں لے لیا۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ کاروائی تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کی ٹیم نے ایچ گول چوک سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ پر کی جسکی نگرانی ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) اور حمیداللہ سرکل آفیسر نے کی۔ ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن عماد خان کی سربراہی میں کی گئی کارروائی کے دوران گاڑی نمبر LEC-6325 کی تلاشی لینے پر 76 ہزار 800 گرام چرس برآمد کر لی گئی جبکہ دو ملزمان اجمل عباس ولد محمد امیر اور محمد سہیل ولد محمد علی ساکنان کبیر والا ضلع خانیوال کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔