وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر کی سربراہی میں آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے وزیرخزانہ مزمل اسلم سے انکے دفتر میں ملاقات کی اور انکے ساتھ ”نمک منڈی جیمز پروسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ سنٹر” کے نئے مجوزہ منصوبے کے قیام کے حوالے سے پیش رفت اور حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں ان سے اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی استدعا کی۔اجلاس میں آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلی عہدیداروں سرتاج احمد خان،منہاج الدین،افتخارالدین اور علی حسن نے شرکت کی۔اس موقع پر معاون خصوصی نے وزیر خزانہ کو پشاور میں نئے قائم ہونے والے مجوزہ منصوبے جو بی آرٹی پشاور کے چمکنی سٹیشن میں واقع پلازے میں قائم ہونے پر سٹیک ہولڈرز کا اتفاق ہوا ہے کے سلسلے میں درکار مراحل کو جلد از جلد طے کرنے میں مدد چاہی اور کہا کہ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا میں جیمز کی صنعت کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے اور اس میں مزید طوالت سے بچا کر اس کے قیام کیلئے ضروری امور کو جلد نمٹانے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں معاون خصوصی نے صوبائی وزیر سے جیمز کی صنعت پر ایکسپورٹ کے سلسلے میں صوبائی سیلز ٹیکس کی شرح جو 2 فیصد ہے کو 1 فیصد تک کم کرنے کے سلسلے میں کیس کو تیز کرنے کی بھی گزارش کی تاکہ یہ صنعت یہاں پر ترقی سے ہمکنار ہو سکیں۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رواں کے آخر میں چمکنی کے مقام پر مجوزہ سائٹ کا جائزہ لینے کی غرض سے وہ اور معاون خصوصی مشترکہ دورہ کریں گے۔انھوں نے کہاکہ اس منصوبے کا اسی سال ہی فیصلہ کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے اس صنعت کے کاروباری حضرات سے کہا کہ وہ اگلے سال جنوری کے اوائل میں یہاں پر قومی سطح کے جیمز ایکسپو کا انعقاد کرائیں تاکہ یہاں پر اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے خواہش مند حضرات راغب ہو سکیں۔انھوں نے اس کے انعقاد میں معاونت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔وزیر خزانہ نے جیمز سیکٹر میں ایکسپورٹ کے اوپر صوبائی سیلز ٹیکس کم کرنے کے نفاذ کو جلد از جلد کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی اور اس سلسلے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے تاخیر پر معزرت کی۔انھوں نے کہا کہ یہاں پر اس سیکٹر کی مزید ترقی کے زیادہ امکانات موجود ہیں اور ہمیں اس کو سپورٹ کرنا ہے تاکہ یہاں کی مارکیٹ سے استفادہ اٹھانے کیلئے ملک بھر کے لوگ راغب ہو سکیں۔انھوں نے پشاور میوزیم میں قیمتی پتھروں کی نمائش کیلئے مہینے میں 2 دن کیلئے مناسب جگہ فراہم کرنے کی استدعا پر جیمز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ممکنہ عملدرآمد کیلئے تحریری درخواست ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ملاقات میں معاون خصوصی عبدالکریم تورڈھیر نے مزکورہ اہم منصوبے کے جلد از جلد قیام میں سنجیدہ کوششوں میں یقین دہانی پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور جیمز صنعت کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو مقامی سطح پر پائے جانے والے قیمتی پتھر کا تحفہ بھی دیا۔
وزیراعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے سی این ڈبلیو سہیل آفریدی سے لور دیر کے ممبر قومی اسمبلی بشیر احمد خان
وزیراعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے سی این ڈبلیو سہیل آفریدی سے لور دیر کے ممبر قومی اسمبلی بشیر احمد خان گل، ڈیڈیک چیئرمین عبید الرحمن اور ایم پی اے گل ابراہیم نے ملاقات کی اور اپنے حلقے میں سی این ڈبلیو سے متعلق درپیش مسائل بارے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر بختونخوا کے معاون خصوصی سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام اضلاح کو یکجا فنڈز دیے جائیں گے اور لور دیر میں جو ترقیاتی کام سی این ڈبلیو سے متعلق ہیں ان کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا، سہیل آفریدی نے سی این ڈبلیو حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام اضلاع میں جو بھی سی این ڈبلیو سے متعلق کام ہیں انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اسی طرح کام جاری رکھیں گے اور جو ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں انہیں جلد تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مزید ایسے منصوبوں پر کام کرنے جا رہے ہیں جن سے عوام مستفید ہوں گے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی اور آبادکاری، ملک نیک محمد خان داوڑ نے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی اور آبادکاری، ملک نیک محمد خان داوڑ نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کا خصوصی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ہائی سکول دتہ خیل کو ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دینے کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، تحصیل انتظامیہ، علاقائی مشران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے اپنے خطاب میں علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی تعلیم اور ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ حکومت شمالی وزیرستان کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور تعلیم کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی اور تعلیمی اداروں کی بہتری اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
خیبر پختونخوا میں احتجاج کی فائنل کال کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور خود تمام تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔مشیر اطلاعات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں احتجاج کی فائنل کال کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور خود نگرانی کر رہے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے احتجاج کا بھرپور سلسلہ شروع ہوگااور پی ٹی آئی کے عہدیداران و کارکنان سمیت عوام اس میں بھر پور شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فائنل کال جعلی حکومت کے جنازے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی وفاقی جعلی حکومت کی سیاسی لاش علی امین گنڈاپور دفنائیں گے۔ فائنل کال اتنی شدید ہوگی کہ شاید جعلی راج کماری مریم نواز اور ان کے ابا جنیوا سے واپسی موخر کرکے وہیں رہنے میں عافیت سمجھیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی اور منتخب اراکین کی گرفتاری جعلی حکومت کی فائنل کال سے خواس باختگی ظاہر کرتی ہے۔جعلی حکومت کچھ بھی کرے اس کا آخری وقت آپہنچا ہے۔فائنل کال کے بعد ملک میں آئین و قانون کا بول بالا ہوگا اسی طرح ملک کی عدالتوں میں دائر جعلی مقدمات کا خاتمہ اور عمران خان کی رہائی سمیت مینڈیٹ چوروں کا کڑا احتساب ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ ادارہ برائے سٹیٹ چلڈرن زمونگ کور پشاور کا قیام بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ویژن اور صوبے کہ نادار اور یتیم بچوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جس میں ان بچوں کی بہتر دیکھ بہال،تعلیم۔صحت اور کھیلو سمیت دیگر بنیادی ضروری سہولیات فرام کی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ماڈل انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹ چلڈرن زمنگ کور پشاور میں منعقدہ فن فیئر کی تقریب کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود سید نظر حسین ڈائریکٹر زمنگ کور سمیت مختلف فلاحی اداروں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے زمنگ کور کے فن فیئرکے افتتاع کے بعد مختلف فلائی اداروں کی طرف سے لگائے گئے سٹال کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ان تمام بچوں کی اچھی طرح ذمہ داری لے رہی ہے اور ہم انہیں اپنے بچے تصور کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ جذبے کے ساتھ تعلیم،کھیل اور ہنر حاصل کر سکیں اور معاشرے میں باعزت طور پر زندگی گزار سکیں انہوں نے کہا کہ وسائل سے زیادہ عوامی فلاحی خدمت کے لیے اچھی نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہے اور ہم ان کے بہتر مستقبل کے لیے موجودہ تمام وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ تمام بچے بہتر تعلیم اور ہنر کامیابی سے حاصل کر سکیں قبل ازیں صوبائی وزیر نے فن فیئرتقریب اور وہاں پر لگائے گئے واٹر فیلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا۔
اڈیالہ جیل کے سامنے قائدین کی گرفتاری پر مشیر اطلاعات کی مذمت
آئی ایم سائنسز یونیورسٹی پشاور میں منعقدہ کانفرنس میں خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کی بہتری پر اہم تبادلہ خیال
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے والے سینئر رہنماؤں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت غلط اقدام ہے اور جمہوریت پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں پاکستان کے سینئر ترین پارلیمنٹیرینز جن میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، سینیٹر شبلی فراز، اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان جیسے اہم رہنما شامل ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس اقدام کو حکومت کی بے حسی اور غیر جمہوری رویے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکتیں جمہوری اصولوں کی توہین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے تحریک انصاف کو دبانے کی کوشش کرنا حکومت کی سنگین غلط فہمی ہے۔ پارٹیاں اس طرح ختم نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ عمران خان کو قید میں رکھنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور عمران خان کو رہا کر کے سیاسی عمل میں شامل کرنا پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔قبل ازیں خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں منعقدہ ”ٹرانسفارمنگ ہائیر ایجوکیشن کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور نجی اداروں کے تعاون سے منعقد کی گئی۔کانفرنس کا مقصد خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانا ہے تاکہ نئی نسل کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی ترقی کا عمل ہمیشہ ارتقائی ہوتا ہے، اور کامیاب معاشرے اس تبدیلی کو بہتر طور پر منظم اور ردعمل کی بجائے رسپانس کی پالیسی اپناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تعلیمی اور حکومتی نظام میں دیگر معاشروں کی بے سوچے سمجھے نقل کی، جس سے ہماری ترقی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عصری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملیوں پر غور کرنا ہوگا اور دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بھی چیلنجز کے حل کے لیے عوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام میں بہتری کے لیے مستقل اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو معاشرتی تبدیلیوں کا رسپانس دینا ہوتا ہے، اور اس میں عوام کی جانب سے دباؤ بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔کانفرنس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم، ڈاکٹر قبلہ آیاز، نصیر شاہ، ڈاکٹر شفیق الرحمان، اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے خیبرپختونخوا کی اعلیٰ تعلیم کو درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر اپنے ماہرانہ خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے دوران فیکلٹی ممبران اور طلبہ و طالبات کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی صدارت میں کمشنر ٓافس پشاور
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی صدارت میں کمشنر ٓافس پشاور میں غیر قانونی رکشوں، بے ہنگم ٹریفک اور جامع ٹریفک منصوبہ سازی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی فضل الہی، ممبر قومی اسمبلی شیر علی ارباب کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں وزیر ایکسائز خلیق الرحمن اور دیگر تمام ممبران کو پشاور شہر میں ٹریفک کے لیے ایک جامع منصوبہ سازی پر پریزنٹیشن دی گئی۔ وزیر ایکسائز خلیق الرحمن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دو ہفتے کے اندر ایک جامع منصوبہ بندی تیار کی جائے جس میں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اہداف کو واضح کیا جا ئے تاکہ قلیل المدت اہداف پر فوراً کام شروع کیا جا سکے اور طویل المدت اہداف کے لیے بھی اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔ وزیر ایکسائز خلیق الرحمن نے واضح ہدایات جاری کیں کہ بی آر ٹی روٹ پر چلنے والی بسوں اور ویگنوں کو ابتدائی مرحلے میں دوسرے روٹس پر منتقل کیا جائے تاکہ پشاور کے عوام کو ٹریفک کی روانی میں درپیش پریشانیاں دور ہوں۔ اس کے علاوہ وزیر ایکسائز خلیق الرحمان نے متعلقہ اداروں کے افسران کو یہ بھی ہدایات دیں کہ بہتر کوآرڈینیشن کرتے ہوئے آبادی اور گاڑیوں کے لحاظ سے درست ڈیٹا اکٹھا کیا جائے جس کی بنیاد پر ایک جامع منصوبہ بندی کو ترتیب دیا جا سکے۔ وزیر ایکسائز خلیق الرحمن نے کہاکہ اگر پشاور شہر میں ٹریفک کے اس بنیادی مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو آئندہ کچھ سالوں میں پشاور کے شہریوں کو سموگ کی وجہ سے بہت سی خطرناک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت اقدمات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت پشاور میں ٹریفک کی بے ہنگم صورتحال اور آلودگی کو لے کرسنجیدہ ہے اور اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ بنجر زمینیں قابل کاشت بنانے کیلئے کوشاں ہیں، عاقب اللہ خان
ممکنہ سیلابی نقصانات سے بچنے کے لیے پائیدار و مؤثر اقدامات ضروری ہیں، صوبائی وزیر آبپاشی
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ بنجر زمینیں قابل کاشت بنائیں جبکہ ممکنہ سیلابی نقصانات سے بچنے کے لیے بھی پائیدار اقدامات اٹھائے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی ضلع سوات میں جاری و مجوزہ منصوبوں کے بارے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور ایم پی ایز جبکہ محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔اجلاس کو سوات میں جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور اراکین صوبائی اسمبلی نے صوبائی وزیر آبپاشی کو ان کی آراء و تجاویز سمیت تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر زیادہ سے زیادہ بنجر زمینیں قابل کاشت بنانے جبکہ ممکنہ سیلابی نقصانات سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔صوبائی وزیر آبپاشی نے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا، اور اراکین صوبائی اسمبلی کے تجاویز اور تحفظات سے متعلق درکار اقدامات اٹھانے کیلئے ھدایات بھی جاری کیں۔صوبائی وزیر عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر معیاری کام کے خلاف ضرور کارروائی کرینگے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی و آباد کاری ملک نیک محمد خان داوڑ نے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی و آباد کاری ملک نیک محمد خان داوڑ نے شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان، جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے، کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک ارب روپے کی لاگت سے پاک افغان سرحد پر جدید ہسپتال کے قیام کے لیے مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔ یہ ہسپتال تعمیر ہونے کے بعد مقامی آبادی کے ساتھ افعانستان کے شہریوں کو بھی جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا۔ ہسپتال کے لیے حتمی جگہ کا انتخاب مقامی اقوام کی مشاورت سے کیا جائے گا۔دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، تحصیلدار غلام خان، متعلقہ حکام، اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی معاون خصوصی کے ہمراہ موجود تھے۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے زیرو پوائنٹ پاک افغان بارڈر کا بھی جائزہ لیا اور کسٹم کلیئرنس ایجنٹس سے ملاقات کی، جنہوں نے اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے بعض مسائل موقع پر ہی حل کئے جبکہ دیگر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔علاوہ ازیں،معاون خصوصی نے علاقے کے عمائدین سے ملاقات بھی کی اور ان سے سرحدی امورسے متعلق مسائل پر تفصیل تبادلہ خیال کیا۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے عوام کو یقین دلایا کہ علاقے کے مسائل کو حل کرنے اور انہیں حکومت کی جانب سے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
قائمہ کمیٹی برائے اوقاف،حج،مزہبی و اقلیتی امور کا اجلاس منگل کے روز رحمان بابا اسمبلی سیکرٹریٹ ہال میں
قائمہ کمیٹی برائے اوقاف،حج،مزہبی و اقلیتی امور کا اجلاس منگل کے روز رحمان بابا اسمبلی سیکرٹریٹ ہال میں رکن صوبائی اسمبلی اعجاز محمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر اوقاف،حج مزہبی و اقلیتی امور عدنان قادری،رکن صوبائی اسمبلی علی شاہ خان،شفیع اللہ خان،ریحانہ اسماعیل،عدنان خان کیساتھ دپٹی سیکرٹری اسمبلی جہانزیب خان،اسسٹنٹ سیکرٹری اسمبلی سیف اللہ،ایڈیشنل سیکرٹری حافظ عبدالمنعیم محکمہ قانون،ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف عبد الکبیر،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ندیم شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔محکمہ کے حکام نے اجلاس کو صوبائی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی کے اغراض و مقاصد، اختیارات و کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اسکے ساتھ حکام نے محکمہ اوقاف کے ساخت،مساجد و مدارس،لیز اراضی،وقف املاک،رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس،حسن قرات مقابلہ انعقاد،قران بورڈ،علماء و مشائخ کانفرنس انعقاد،اقلیتی حقوق کی تحفظ و امور،تجاوزات،نئے لیز پالیسی،مدرسہ کے اساتذہ و طلباء کو ٹریننگ،اوقاف ملازمین تنخواہوں و پنشن بارے تفصیلی آگاہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف،حج و مزہبی امور محمد عدنان قادری نے کہا ہے کہ محکمہ اوقاف کے معاملات کو GIS میپنگ سسٹم کے ذریعے فعال کرکے عوام کو سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔اس مقصد کیلئے محکمہ کو فنڈز مہیا کئے گئے ہیں اور عنقریب تمام اضلاع میں محکمہ کا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے انکی درخواست پر آئمہ کرام کیلئے ایک لاکھ روپے جاری کردئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ میں مزید اصلاحات لانے کیلئے کوشاں ہیں۔اس موقع پر رکن اسمبلی شفیع اللہ خان نے مساجد و مدارس کیلئے سولرائزیشن نظام کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اپنی تجویز پیش کی۔رکن اسمبلی ریحانہ اسماعیل کے ایک سوال پر لیز اراضی طریقہ کار اور نئے پالیسی کے حوالے سے محکمہ نے تفصیلی طور آگاہ کیا۔چیئرمین کمیٹی اعجاز محمد نے کالو شاہ میں محکمہ کی چھتیس ہزار کنال کی اراضی،اوقاف پلازہ ڈبگری گارڈن،فردوس پشاور میں ساتھ کنال اراضی،حاجی کیمپ اڈہ ٹینڈر و لیز معاملہ پر حکام نے تفصیلی جوابات دیئے۔سوات سے رکن اسمبلی علی شاہ خان نے کمیٹی کو اپنی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ لیز اراضی پالیسی کے حوالے سے ڈی سی کیساتھ متعلقہ رکن اسمبلی کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔اس موقع پر رکن اسمبلی عدنان خان نے وقف املاک و اراضی کے انتقال ریکارڈ اور متعلقہ پٹواریوں کو قائمہ کمیٹی میں پیش کرنے کی تجویز دیتے ہوئے بتایا کہ قابضین املاک کا ریکارڈ اور انکے خلاف صوبائی اسمبلی میں معاملہ اٹھایا جائے۔انہوں نے مساجد و مدارس رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے اور محکمہ اوقاف میں مزید بہتری و اصلاحات لانے کی بھی تجویز دی۔
