وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم تورڈھیر نے پیر کے روز حیات آباد پشاور میں خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) کے زیر تعمیر ہیڈ آفس کا دورہ کیا،کمپنی کا نیا کثیر المنزلہ عمارت تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جو صوبے میں صنعتی شعبے کے حوالے سے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا مظہر ہے۔دورے کے دوران معاون خصوصی کے ہمراہ کے پی ایزیڈمک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عادل صلاح الدین اور سینئر انتظامی ٹیم بھی موجود تھی۔ انہوں نے عمارت کا مکمل معائنہ کیا اور اس کی اہم خصوصیات کا جائزہ لیا۔نئے ہیڈ آفس میں گراؤنڈ فلور، پانچ بالائی منزلیں اور دو منزلہ بیسمنٹ شامل ہیں۔ یہ عمارت کمپنی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید طرز پر تعمیر کی جا رہی ہے جس میں اعلیٰ معیار کے میٹنگ رومز اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ انتظامی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔عمارت میں توانائی کی ضروریات کے لیے سولر انرجی کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ معذور افراد کی آسانی کے لیے علیحدہ ریمپ بھی بنایا گیا ہے تاکہ ہر فرد کی اس کو رسائی حاصل ہو سکے۔علاوہ ازیں، عمارت کی بالائی دو منزلیں نجی شعبے کو کرائے پر دینے کے لیے مختص کی گئی ہیں تاکہ نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے اور دستیاب جگہ کا بہترین استعمال ممکن ہو۔منصوبے کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے عبد الکریم تورڈھیر نے کہا کہ کمپنی کا نیا ہیڈ آفس حکومت کی جدید صنعتی ڈھانچے کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی انتظامیہ نے اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے، خاص طور پر توانائی سے مؤثر حل اور جدید سہولیات کو شامل کر کے جو سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمارت کمپنی کے صوبائی صنعتی ترقی میں کردار کو مزید مضبوط کرے گی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ عمارت اپنے تکمیلی مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور اسکا جلد افتتاح متوقع ہے۔ اس کے فعال ہونے کے بعد یہ دفتر کمپنی کی تمام سرگرمیوں کا مرکز بنے گا، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری میں بہتری آئے گی اور صنعتی زونز کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔کے پی ایزڈمک صوبے میں صنعتی ترقی کے فروغ کے مشن پر گامزن ہے، اور یہ نیا ہیڈ آفس اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز سے آئی ٹی ایکسپرٹس کے وفد کی اہم ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز سے آئی ٹی ایکسپرٹس کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات میں وفد نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے تیار کردہ ”ٹیسٹنگ بورڈ منصوبے“ پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کا مقصد صوبے میں آئی ٹی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی سہولیات اور ٹیسٹنگ کے انتظام میں شفافیت لانا ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس کے عملی نفاذ کے لئے قابلِ قدر تجاویز لیں۔ معاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بانی پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وژن کے تحت ایسے منصوبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے، تاکہ نوجوان نسل کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آسکیں اور نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بلوگرام سوات کے کنویں میں گرنے والی زیر علاج بچی کی سنٹرل ہسپتال سیدو شریف سوات میں عیادت کی اور بچی کو دی جانے والی طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ بھی لیا، صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو بچی کو ہر قسم بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی،صوبائی وزیر نے سکول کی بچی کے ساتھ موجود اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان کو اپنی طرف سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، یاد رہے کہ گزشتہ روز سکول کے کنویں میں دو بچیاں گر گئی تھیں ایک بچی کو ہسپتال انتظامیہ نے وقتی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کیا گیا تھا جبکہ ایک بچی کو مزید علاج معالجے کیلئے نیورو وارڈ میں داخل کیا گیا ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ بچیوں کا کنویں میں گرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بچیوں اُس ذات نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی انکوائری کی جائے گی تاکہ آئندہ کبھی اسطرح کے نا خوشگوار واقعات رونما نہ ہوں،اس واقعے میں غفلت برتنے والے سکول سٹاف کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، صوبائی وزیر نے ریسکیو 1122 کے بر وقت پہنچنے پر اور فوری بہتر طبی امداد کی فراہمی کو قابل تحسین قراردیا ہے جس کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو بہترین ماحول میں تعلیم کی فراہمی ہے کیونکہ سرکاری سکولوں میں متوسط اور غریب لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں جن کو آگے لائے بغیر صوبے کو ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں کیاجاسکتا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کا اجلاس
خیبرپختونخوا اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان، اشفاق احمد، محمد خورشید، تاج محمد، منیر حسین لغمانی، شیر علی آفریدی، میاں شرافت علی اور انور زیب خان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ خزانہ کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے سالانہ بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اراکین کمیٹی کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا اور اس پر بحث کی گئی۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی پروگرام اراکین اسمبلی کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے تاکہ فنڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیئرمین کمیٹی ارباب محمد عثمان نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز سکیموں کی ضرورت کے تحت فراہم کیے جائیں تاکہ عوامی مسائل کا حقیقی معنوں میں حل ممکن ہو۔علاوہ ازیں گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور جاری ترقیاتی سکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مختلف جاری ترقیاتی کاموں اور ان کے حوالے سے جاری کردہ فنڈز کے بارے میں بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے فائنانس نے ہدایت جاری کی کہ عوام کے پیسے کو صحیح سمت میں لگانا ہے اور کرپشن کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اجلاس میں ضلع بٹگرام کی مختلف سکیموں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا دورہ
فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو ایک منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا، پیر مصور خان
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ چکدرہ فارسٹ ڈپو میں پڑی لکڑیوں کی نیلامی سے نہ صرف حکومت کو منافع حاصل ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئینگے،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو ایک منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے دورے کے موقع پر بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر ریحان گل خٹک سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں معاون خصوصی برائے جنگلات کو ایم ڈی ریحان گل خٹک نے ادارے کے مقاصد، کارکردگی، درختوں کی کٹائی کے لیے سائنٹیفک منیجمنٹ، ونڈ فال پالیسی اور چکدرہ فارسٹ ڈپو میں پڑی لکڑیوں کی نیلامی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ چکدرہ فارسٹ ڈپو میں تقریباً 2 لاکھ 39 ہزار سی ایف ٹی لکڑیوں کی نیلامی کے لئے سمری تیار ہوچکی ہے، پیر مصور خان نے اجلاس میں کہا کہ فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو ایک منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا۔ انھوں نے فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی کمرشل اراضی کی تفصیلات بھی طلب کیں اور کہا کہ کمرشل اراضی کو مؤثر طریقے سے استعمال میں لا کر حکومت کو منافع حاصل ہو سکے گا، فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے رہائشی کوارٹرز کے حوالے سے پیر مصور خان نے سختی سے ہدایت کی کہ رہائشی کوارٹرز میں رہائش پذیر غیر متعلقہ افراد کو نکالنے کے لیے فوری نوٹسز جاری کریں، معاون خصوصی نے افسران کو فیلڈ میں نکلنے اور دفتر میں فائل ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ کے لئے بھی سخت ہدایات جاری کیں،اجلاس میں صوبے میں ہر قسم کی درختوں کی کٹائی صرف فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے ہی کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی، بعد ازاں معاون خصوصی کے ساتھ ایمپلائیز یونین کے نمائندوں نے بھی ملاقات کی اور انھیں اپنے مطالبات پیش کئے، پیر مصور خان نے یونین نمائندوں کو انکے تمام مطالبات ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن مصدّق عباسی نے اجلاس کی صدارت کی
حکومت خیبرپختونخوا کے سالانہ آگاہی پلان ”امر بالمعروف” پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس مشیر وزیراعلیٰ مصدّق عباسی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں سالانہ آگاہی پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں اصلاحِ کردار گروپ، اصلاحِ معاشرہ گروپ اور اصلاحِ احوال کمیٹی کی تشکیلِ نو پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ مشیر وزیراعلیٰ مصدّق عباسی نے سالانہ اگاہی پلان ”امر بالمعروف” کے مؤثر نفاذ اور اس پر عملدرآمد کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ مصدق عباسی نے اپنی گفتگو میں زور دیا کہ معاشرے میں اخلاقیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سالانہ آگاہی پلان اپنی نوعیت کا ملک کا پہلا آگاہی پلان ہے جس پر پورے سال عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ڈیرہ جات 2025 کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہاکی اور ٹیبل ٹینس کے مختلف مقابلے
ڈیرہ جات 2025 کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہاکی اور ٹیبل ٹینس کے مختلف مقابلے ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئے۔اس ضمن میں ہاکی کا پہلا میچ ڈیرہ ہاکی کلب اوربلال شہید ہاکی کلب کے درمیان کھیلا گیا جو ڈیرہ ہاکی کلب نے 2 گول سے جیت لیا۔میچ کے مہمان خصوصی تحصیل مئیر ڈیرہ اسماعیل خان عمر امین خان گنڈاپور تھے جبکہ ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بیٹنی،ڈائریکٹر آپریشنز سپورٹس نعمت اللہ مروت،ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ ودیگر مہان بھی اس موقع پر موجود تھے۔دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا جبکہ نتیجے میں دوسرے ہالف میں ڈیرہ ہاکی کلب نے کامیابی حاصل کی۔اس موقع پر مہمان خصوصی عمر امین خان گنڈاپور نے شاندار کھیل پر ٹیموں کو مبارکباد دی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔اس طرح ٹیبل ٹینس مقابلے احمد نواز ملازئی ٹیبل ٹینس اکیڈمی میں کھیلے گئے جن میں تین کیٹیگریز، جونئیر،سینئر اور مکسڈ مقابلے ہوئے اور مجموعی طور پر حافظ وقاص نے اس میں کامیابی حاصل کی۔اس ایونٹ کے آرگنائزنگ سیکریٹری جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن احمد نواز ملازئی تھے جبکہ مہمانانِ خصوصی ڈائریکٹر آپریشنز نعمت اللہ مروت،ڈائریکٹرز سپورٹس اعظم بلوچ و عدنان سہیل اورڈپٹی ڈائریکٹر جمشید بلوچ تھے۔مزید برآں جمشید پہلوان اور محمد رضوان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے وفاق کو ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے لکھے گئے خط کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے ان اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کا صوبے کو منتقل ہونا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کی خاموشی افسوسناک اور آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور معاشی استحکام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ دہشت گردی صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے فنڈز روک رہی ہے، جو ان علاقوں کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ وفاق صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور تمام فنڈز فوری منتقل کرے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے وفاق بھی اس ضمن میں خیبر پختونخوا کی مدد کرے ناکہ فنڈز روکے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبائلی اضلاع محرومیوں کے شکار ہیں اب وقت آگیا کہ قبائلی اضلاع کی تمام محرومیوں کا ازالہ کرکے وہاں ترقی کا سفر شروع کریں.
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا ایک اور اہم اقدام
فوڈ اتھارٹی کی غیر رجسٹرڈ خوراکی یونٹس و مصنوعات کے خلاف کارروائی سے قبل خصوصی رجسٹریشن مہم کا فیصلہ
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں خوراکی اشیاء تیار کرنے والے تمام غیر رجسٹرڈ یونٹس، کارخانوں اور خوراکی مصنوعات سے وابستہ کاروباری حضرات کے لیے ایک اہم اقدام کا آغاز کرتے ہوئے اج 14 اپریل سے 27 اپریل 2025 تک ایک خصوصی رجسٹریشن مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔
فوڈ اتھارٹی ترجمان نے تفصیلات جاری کی اور کہا کہ اس مہم کا مقصد صوبے میں موجود ایسے تمام خوردونوش اشیاء تیار کرنے والی یونٹس اور مصنوعات کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے جو تاحال فوڈ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے تمام غیر رجسٹرڈ خوراک تیار کرنے والی یونٹس اور فوڈ پراڈکٹس کے مالکان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس خصوصی مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور متعلقہ اضلاع میں موجود فوڈ اتھارٹی کے عملے سیاپنا اندراج یقینی بنا نے میں تعاون کریں۔
واصف سعید نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد بھی اگر کوئی خوراکی یونٹ یا پراڈکٹ رجسٹریشن سے گریزاں پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ” محفوظ خوراک، صحت مند عوام” ہے جسے ھر صورت یقینی بنایا جائے گا خصوصی مہم کے حوالیسے صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طوروکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو محفوظ اور معیاری کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اٹھا رہی ہے
ڈیرہ جات فیسٹول کے تحت منعقدہ آرکیالوجیکل ٹور کے سلسلے میں
ڈیرہ جات فیسٹول کے تحت منعقدہ آرکیالوجیکل ٹور کے سلسلے میں تاریخی مقام کافر کوٹ کا دورہ کیا گیا جس میں مختلف محکموں کے افسران و نمائندے، آ ثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے علاوہ طلباء اور گائیڈز بھی شامل تھے۔کافر کوٹ ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو ہندو شاہی دور کی شان،شوکت کا گواہ ہے یہ دورہ نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ فیسٹیول کی ثقافتی جہت کو مزید اجاگر کرنے کا باعث بھی بنا۔فیسٹیول کے شرکاء نے قلعے کے بلند و بالا برج، پتھریلی دیواریں، اور مندر کے آثار دیکھے، جو صدیوں پرانی تہذیب کی کہانی سناتے ہیں۔ گائیڈز نے حاضرین کو اس قلعے کی تاریخی اہمیت، اس کی دفاعی ساخت اور ہندو شاہی سلطنت کے پس منظر پر بریفنگ دی جس سے شرکاء کو ایک نیا زاویہ حاصل ہوا۔اس موقع پر ٹور کے شرکاء نے تصاویر لیں، ویڈیوز بنائیں اور تاریخ سے محبت رکھنے والوں نے اسے اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیا۔یہ ایونٹ فیسٹیول کی اُن سرگرمیوں میں سے ایک تھا جو صرف تفریح تک محدود نہیں بلکہ سیکھنے اور پہچان کا ذریعہ بھی بنیں جہاں شرکاء کو تاریخ کے ماہرین کی جانب سے تفصیل سے بتایا گیا کہ یہ مقام کس طرح مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ مذکورہ مقام کی تاریخی اہمیت اور اس کے مختلف دوروں پر روشنی ڈالی گئی جس سے شرکاء کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ کس طرح یہ علاقے پاکستان کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہیں۔ہر مقام پر ماہر آثارِ قدیمہ نے شرکاء کو اس کی تاریخ، اس کے آثار اور اس کے تعمیراتی ڈیزائن کے بارے میں مفصل معلومات فراہم کیں۔ ہر جگہ کی منفرد خصوصیات اور اس کے تاریخی پس منظر کو جان کر شرکاء بہت متاثر ہوئے۔ہر مقام پر ماہرین نے شرکاء کی رہنمائی کی اور ان کو بتایا کہ یہ آثار کس طرح ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ اس دوران شرکاء نے نہ صرف ان مقامات کی جمالیات کو محسوس کیا بلکہ ان کے تاریخی حوالے سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے تمام شرکاء کو ماضی کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع دیا۔ٹور کے اختتام پر شرکاء نے اس موقع کو انتہائی تعلیمی اور تفریحی قرار دیا۔ بہت سے شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اس ٹور کے دوران نہ صرف پاکستان کے تاریخی ورثے کے بارے میں علم حاصل ہوا بلکہ وہ اس کے تحفظ اور اس کی اہمیت کو بھی سمجھ پائے۔ شرکاء نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ یہ ٹور ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا جس میں نہ صرف تاریخ بلکہ ثقافت کی گہری سمجھ بھی حاصل ہوئی۔یہ آثارِ قدیمہ کا ٹور ایک شاندار کامیابی ثابت ہوا۔ اس نے شرکاء کو ہمارے ماضی کی اہمیت کا احساس دلایا اور انہیں یہ سکھایا کہ ہمیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت اور اسے محفوظ رکھنے کی کتنی ضرورت ہے۔
