خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان،چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، آئی جی پی اختر حیات خان اور کمشنر بنوں ڈویژن محمد عابد وزیر نے گزشتہ روز پولیس لائن حملے میں شہید پولیس اہلکار محمد سراج کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی اور ان کے بلند درجات کیلئے دعا کی۔اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر عمران شاہد، ڈپٹی کمشنر بنوں عبدالحمید خان اور ڈی پی او ضیاء الدین احمد بھی موجود تھے۔شہید کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہادت کا انتہائی بلند مرتبہ ہے۔اور شہداء نے بہادری سے خارجیوں کے مقاصد ناکام بنائے.شہید پولیس اہلکاروں نے وطن عزیر میں امن قائم رکھنے کی خاطر جو قربانیاں دیں ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شہداء کے خاندانوں کے ساتھ انتہائی دلی ہمدردی ہے۔ جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں. انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہداء کے خاندانوں کے جذبے کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے جان کا نذرانہ پیش کرکے بنوں کو بڑی تباہی سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں اور ورثاء کی ہر ممکن مدد کی جائے گی اور بنوں ڈویژن میں امن کے قیام کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائینگے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مصدق عباسی نے کہا ہے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مصدق عباسی نے کہا ہے کہ ضلع نوشہرہ میں دریا کے کنارے سونا نکالنے کے لیے چار بلاکس کی کامیابی سے نیلامی کردی گئی ہے اوراس سے چار ارب روپے سے زائد آمدن ہوگی اور بہت جلد مزید بلاکس کو نیلامی کیلئے پیش کیا جائے گا جس سے اربوں روپے کی مزید آمدن متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریا سندھ کے کنارے سونا تلاش کرنے ا ور نکالنے کے تقریبا 17 بلاکس ہیں۔ ان بلاکس کی کان کنی کی نیلامی کی تین بار کوشش کی گئی مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نیلامی میں ناکامی کی وجوہات معلوم کی گئیں تو پتہ چلا کہ سونا تلاش کرنے والی کمپنیز کو تحفظات تھے اوران کے لئے سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں پر مافیا کی دلچسپی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں غیر قانونی مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ اس میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے جس سے کمپنیوں کو اندیشہ تھا کہ ان کا پیسہ ضائع ہو جائے گا۔ مصدق عباسی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہمیشہ مافیا کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں انکے ویژن کے مطابق اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ضلع نوشہرہ ا ور کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے ان علاقوں میں گرینڈ آپریشن کیا۔ جس میں میں تقریبا دو سو سے زائد مشینوں کو قبضے میں لیا گیا اور ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی مصدق عباسی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے سونا نکالنے کے لیے چار بلاکس کو کھلی نیلامی کیلئے پیش کیا ہے۔ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ جن جن کمپنیوں کو ٹھیکے ملیں گے انکو پورا تحفظ فراہم کیا جائے گااور ان کے کام کے دوران کسی قسم کی دخل اندازی برداشت نہیں کرینگے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ جو نیلامی ہوگی اس سے باقی کمپنیاں فائدہ اٹھائیں گی اور صوبے میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور مافیا کی جرات اور ہمت نہیں ہوگی کہ وہ اس کام میں خلل ڈالے اور اگر کسی معاملے میں کسی قسم کی کمپنیوں کو مدد کی ضرورت ہو تو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا دفتر اور میں خود موجود ہوں۔ براہ راست مجھ سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے اورہر قسم کے شکایت کا انشائاللہ ازالہ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل اور امور نوجوانان کا پہلا تعارفی اجلاس
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل اور امور نوجوانان کا پہلا تعارفی اجلاس منگل کے روز اسمبلی سیکریٹریٹ میں کمیٹی کے چیر مین اور رکن صوبائی اسمبلی شفیع اللہ جان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان کے علاؤہ کمیٹی کے ممبران اور اراکین اسمبلی عجب گل،ملک طارق اعوان،حمید الرحمان، خصوصی دعوت پر آئے ہوئے اراکین اسمبلی شیر علی آفریدی،ملک عادل اقبال اور مرتضی خان ترکئی،سیکرٹری سپورٹس و امور نوجوانان مطیع اللہ خان،ایڈیشنل۔سیکریٹری سپورٹس عبداللہ شاہ،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر خان،ڈائریکٹر یوتھ افیرز ڈاکٹر نعمان مجاہد کے علاؤہ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سیکریٹری انعام اللہ اور محکمہ قانون و دیگر متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ سپورٹس و یوتھ افیرز کے کردار،پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور کارکردگی اور اس کی صوبہ بھر میں انتظامی و آپریشنل سیٹ اپ اور ڈھانچے کے حوالے سے کمیٹی کی اراکین کو آگاہی دی گئی اور اس سلسلے میں انھیں تفصیلی پریزنٹیشن کے ذریعے محکمہ کی افادیت کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔اجلاس میں محکمہ سپورٹس کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس کی ذمہ داریوں،مختلف سپورٹس ایونٹس کے انعقاد،کھیلوں کے سہولیات کی فراہمی،کھلاڑیوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات اور دیگر پہلوؤں میں اس شعبے کی خدمات کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔اسی طرح نوجوانوں کے امور کے حوالے سے یوتھ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری سرگرمیوں کے حوالے سے بھی فورم کو آگاہ کیا گیا۔اسی طرح محکمہ کے اے ڈی پی سکیموں اور آئندہ کیلئے اس شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کے ویژن سے بھی فورم کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر کمیٹی کے چئیر مین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اور کھیل کود کے فروغ کیلئے محکمہ کھیل اہم کردار ادا کررہی ہے اور اس سلسلے میں انکی کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔انھوں نے محکمہ کی ذمہ داریوں اور کردار پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلے اجلاس میں محکمہ کے امور کا مجموعی خاکہ پیش کیا گیا جس میں محکمہ کے حکام سے بہترین تعارف ہوا اور یہ تعاون آئندہ کیلئے جاری رہے گا۔انھوں نے کہا کہ کمیٹی سپورٹس سہولیات کے منصوبوں کا دورہ بھی کرے گی تاکہ وہاں پر ان منصوبوں کا جائزہ لیا جائے۔
لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ کی زیرتعمیر عمارت پر عنقریب دوبارہ کام شروع کردیا جائے گا۔صوبائی وزیر قانون
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ لیاقت میموریل ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کوہاٹ کی زیر تعمیر عمارت پر عنقریب دوبارہ کام شروع کردیا جائے گا جس کیلئے پہلے ہی پی ڈی ڈبلیو پی میں 2 ارب 44 کروڑ روپے سے زیادہ کا نظرثانی شدہ تخمینہ منظور ہواہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل زیارت شیخ اللہ داد کے دورہ کے موقع پر مقامی لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انہوں نے حال ہی میں ٹریفک حادثہ میں تبلیغی جماعت کے جان بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی اور مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی۔وزیر قانون نے کہا کہ مذکورہ ہسپتال کیلئے امسال اپریل میں 1 ارب روپے کا ٹینڈر ہو چکا ہے جس میں سے 20 کروڑ روپے کی رقم ریلیز بھی ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاقت میموریل ہسپتال میں جدید طبی آلات اور سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کوہاٹ میں مقامی سطح پر خواتین اور بچوں کو بہترین طبی سہولیات مہیا ہوں گی۔آفتاب عالم نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈہ پور کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے لیاقت میموریل ہسپتال کے کئی سالوں سے زیر التوا عمارت کیلئے مطلوبہ فنڈز فراہم کئے۔اہلیان کوہاٹ نے مذکورہ ہسپتال کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے مشترکہ کوششوں پر شہریار آفریدی ایم این اے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ، چیئرمین ڈیڈاک شفیع جان ایم پی اے اور داؤد شاہ آفریدی ایم پی اے کا شکریہ ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ کوہاٹ کیلئے مزید میگا پراجیکٹس لائیں گے۔
صوبائی حکومت پانی کے ضیاع کو روکنے اور اسے زراعت کی خاطر استعمال میں لانے کے لئے بھر پور اقدامات کررہی ہے۔صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پانی کے ضیاع کو روکنے اور اسے زراعت کی خاطر استعمال میں لانے کے لئے بھر پور اقدامات کررہی ہے اورزیر زمین پانی کے بہتر استعمال کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں سمال ڈیمز تعمیر کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صو بے کے کاشتکاروں کو زرعی زمین اور وسائل کی کمی سمیت موجودہ زرعی زمینوں کے کٹاؤ، شہروں کے پھیلاؤ، زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی جیسے کئی ایک مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں کمی سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں منعقدہ ” خیبر پختونخوا میں زیر زمین پانی کی صلاحیت اور ریچارج تخمینہ جات کی ورکشاپ ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ میں قونصلر جنرل امریکی قونصلیٹ جنرل پشاور شانتی مورے، سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، ڈائریکٹر جنرل سائل کنررویشن یاسین وزیر،ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ حیات خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت انجینئرنگ نسیم جاوید، ڈاکٹر عظیم علی شاہ اور چیف آف پارٹی ڈبلیو۔ایم۔ایف۔ای۔پی سمیت محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، نجی و شراکت دار اداروں،اکیڈمیہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ورکشاپ کے افتتاحی سیشن میں جی آئی ایس لیب سائل اینڈ واٹر کنررویشن نے خیبرپختونخوا میں آبی ذخائر کا نقشہ پیش کیا جس کا مقصد آبی ذخائر کی ممکنہ مینجمنٹ ہے۔ ورکشاپ میں زمینی پانی کی ممکنہ زونیشن اور ریچارج کے تخمینہ جات، مختلف علاقوں میں پانی کے صارفین کا نقطہ نظر، یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے کی گئی سرگرمیوں سمیت دیگر مختلف امور پر تفصیلی بحث ہوئی۔صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے شرکاء کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ملکر غذائی خودکفالت کی طرف جانا ہے۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں کافی مسائل کا سامنا ہے۔ہم امن پسند لوگ ہیں۔ محکمہ زراعت میں خواتین عوامی خدمات کی فراہم پر مامور ہیں اورہمیں دنیا کے ساتھ آگے جانا ہے۔ صوبائی وزیر نے صوبے میں زرعی پس منظر، کاشتکاروں کیلئے کئے گئے اقدامات اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل تفصیلی بحث کی۔ اس موقع پرقونصلر جنرل امریکی قونصلیٹ جنرل پشاور شانتی مورے نے ورکشاپ میں شرکاء کی آمد اور تجاویز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ طور پر پانی کی سب کو وافر فراہمی کے لئے کوشش کرنی ہے اور خیبر پختونخوا میں مختلف منصوبوں خاص کر گومل زام ڈیم کے کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ اورسیلاب سے متاثرہ املاک کی بحالی وغیرہ سے زرعی ترقی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ورکشاپ میں یو ایس ایڈ کے WMFEP ڈبلیو۔ایم۔ایف۔ ای۔ پی پروگرام کی تفصیلات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام کو چار اجزاء میں ترتیب دیا گیا ہے جس میں گومل زام ڈیم کے کمانڈ ایریا کی ڈیویلپمنٹ، حکومت خیبر پختونخوا متعلقہ ایجنسیوں / عملے کی بہتر صلاحیت، خیبرپختونخوا میں زرعی پانی کے انتظام اور گورننس کو مضبوط بنانا اور آبی پالیسی، طریقوں، اور پانی کے شعبے کے چیلنج پر افغانستان اور پاکستان کے تعاون میں اضافہ شامل ہے۔پروگرام کا سب سے بڑا فوکس گومل زام کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں حکومت کی مدد کرنا ہے۔ ورکشاپ میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے قونصلر جنرل امریکی قونصلیٹ پشاور شانتی مورے کو شیلڈ پیش کی اور شرکاء میں توصیفی سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی اور آئین و قانون کی بالادستی میں وکلا برادری کا ایک اہم کردار ہے اور وکلا نے قانون کی حکمرانی اور آئین کے تحفظ کیلئے ہر وقت ایک فعال کردار ادا کیا ہے۔ان خیالات کا ظہار انھوں نے بونیر میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بونیر کی جانب سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔مشیر کھیل نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور بونیر بار کے وکلا سے ملاقات کی۔اس موقع پر مشیر کھیل نے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا برادری نے اس ملک میں آئین کی حکمرانی اور پاسداری کیلئے جس طرح گزشتہ ادوار میں ایک کامیاب جدو جہد کی ہے اور ملک کے آئین اور عدلیہ کے وقار اور آزادی کو برقرار رکھنے میں اپنا فعال کردار ادا کیا ہے اسی طرح اب بھی وکلا اس ملک کے آئین کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔مشیر کھیل نے کہا کہ صوبائی حکومت وکلا برادری کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے اور حال ہی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبہ بھر کی بار ایسوسی ایشنز کیلئے گرانٹس فراہم کی ہیں۔انھوں نے بونیر کے وکلاء سے مسائل سنے اور ان کے ممکنہ حل کی یقین دہانی کرائی۔تقریب کے دوران مشیر کھیل کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحفہ بھی پیش کیا گیا۔
صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت محکمہ خوراک کے امور کے حوالے سے اجلاس
شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے محکمانہ امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے، وزیر خوراک کی متعلقہ حکام کو ہدایت
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت محکمہ خوراک کے ضلعی امور کے حوالے اجلاس گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ خوراک ثاقب رضا اسلم، ایڈیشنل سیکرٹری اشفاق احمد، ڈائریکٹر محکمہ خوراک مسرت زمان سمیت دیگر ضلعی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو ضلعی سطح پر محکمانہ امور پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا صوبائی وزیر نے اس موقع پر ہدایات جاری کیں کہ ضلعی دفاتر کے لیے ضروری آلات، جیسے موسچر میٹر، تھرمامیٹر اور چھوٹے وزن کانٹے کا فوری انتظام کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ خوراک میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئے بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے محکمہ خوراک کی ذخیرہ شدہ گندم کی حفاظت اور دیکھ بھال کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کیں۔ مزید برآں، انہوں نے ضروری اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے محکمہ کی کوششوں کو سراہا اور مارکیٹ انسپکشن کے عمل کو مزید موثر اور تیز کرنے کا حکم دیا۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نے ضلعی افسران کے مسائل سے بھی آگاہی حاصل کی اور موقع پر ان کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ محکمے کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس نے ہمیشہ ملک دشمن عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اگر ہم بنوں پولیس لائن کے حملے کے واقعے کا جائزہ لیں تو پولیس نے آج بھی بہادری کی مثال قائم کی ہے اور دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناکر ایک بار پھر پولیس کا نام روشن کرکے عوام میں پذیرائی حاصل کی ہم خیبر پختونخوا کی پولیس کی بہادری کی مثالیں پوری دنیا کو دے رہے ہیں اور آج ہماری پولیس نے ایک بار پھر ہمارا دعویٰ سچ ثابت کر دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کے موقع پر کیا انہوں نے کہاکہ بنوں پولیس لائن حملے کی اطلاع ملتے ہی ہم نے فورا انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کی بنوں پولیس لائن کا واقعہ شہید اہلکار کی نماز جنازہ کے بعد رونما ہوا بنوں پولیس لائن میں متعدد ملک دشمن عناصر برقعہ پہن کر داخل ہوئے بنوں پولیس نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ کو ناکام بنایا اور پولیس لائن کو بڑے نقصان سے بچایا انہوں نے واقعے میں شہید اہلکاروں کے درجات کی بلندی جبکہ زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں ہمیں قبول نہیں ملک دشمن عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
مشیر صحت احتشام علی کیساتھ ہیلتھ بیٹ رپورٹرز کا تعارفی نشست
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کیساتھ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی ہیلتھ بیٹ کے رپورٹرز کی تعارفی نشست کا انعقادہوا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ فیاض شیرپاو، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سراج بھی موجود تھے۔ مشیر صحت احتشام علی نے میڈیا نمائندوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں باقاعدہ خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر مشیر صحت کا کہنا تھا کہ آپ میں سینئیر بیٹ رپورٹرز ہیں جو کہ ہیلتھ کو بہت عرصے سے کور کررہے ہیں۔ آپ کی رہنمائی ہمیں صحیح سمت پر گامزن کرے گی کیونکہ میڈیا ہماری کان اور آنکھیں ہیں۔انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ میری توجہ پرائمری ہیلتھ کئیر کے ڈھانچے کی فعالی و بحالی پر مرکوز ہے۔ ہمارے ہیلتھ کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ ٹرشئیر کئیر پر اس لئے خرچ ہوتا کہ ہمارا پرائمری ہیلتھ کئیرسسٹم ڈلیور کرنہیں پارہا۔بنیادی مراکز صحت ہماری آبادی کا اسی سے نوے فیصد کور کرتا ہے۔ میری توجہ اس کے بعد محکمہ صحت کے انتظامی و فعالی ڈھانچے کی ٹوٹل ڈیجیٹائزیشن پر ہے جس کیلئے میں نے پہلے ہی کام شروع کردیا ہے۔ پوسٹنگ ٹرانسفر آج سے آن لائن شروع ہوجائینگی امیدوار آن لائن پورٹل کے زریعے ایپلائی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ہم نے پلیسمنٹ کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو کہ مہینے میں دو بار بیٹھے گی اور ضرورت اور میرٹ کے مطابق فیصلے لے گی۔ پوسٹنگ ٹرانسفرز میرا کام نہیں میرا کام محکمہ صحت میں اصلاحات، پالیسی سازی اور گورننس کو بہتر بنانا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ نگران حکومت کے دور میں ادویات کی خریداری کا بڑا سکینڈل سامنے آیا، ان سب چیزوں سے بچنے کیلئے ہم نے ادویات کی خریداری کے عمل کو بالکل ڈیجیٹائز کردیا ہے اور وزیر اعلیٰ خیب پختونخوا بہت جلد خود اس کا افتتاح کرینگے۔ اس پورٹل کے ذریعے ایم ایس اور ڈی ایچ او اپنے بجٹ اور ضرورت کے مطابق اپنا ڈیٹا ڈالیں گے اور سسٹم ان کا آرڈر جنریٹ کرے گا۔ یہ آرڈر ایم سی سی لسٹ میں دی گئی ادویات کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں پیرنٹس ٹیچز کمیٹی کے طرز پر قائم پرائمری مینجمنٹ کمیٹی اور ہسپتال مینجمنٹ کمیٹیوں کو فعال بنانا ہے۔تاکہ ہسپتال کے ُاندرونی ضروریات و اخراجات کو فی الفور پورا کرنے کو یقینی بنانا ہے۔ ہمارے ڈائریکٹوریٹ جنرل پر کام کا زیادہ بوجھ ہے جس کی وجہ سے وہاں پر سروس ڈلیوری کا مسلہ پیش آرہا ہے۔ہم نے چاروں ریجنز کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرلز کو فعال کرلیا ہے۔گریڈ سولہ اور اس سے کم کے عملے کا انتظام و انصرام متعلقہ ریجنل ڈائریکٹوریٹ دیکھے گا۔ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں بھی ہیومن ریسورس کا ڈیٹا اور پوسٹنگ ٹرانسفر ایک مہینے میں آن لائن ہوجائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو شریف ہسپتال میں
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو شریف ہسپتال میں بائیومیٹرک حاضری مشین کا افتاح کر دیا اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کی سہولت کیلئے ویل چیئرز اور سٹریچرز بھی حوالے کیئے افتتاحی تقریب میں سٹی میئر شاہد علی خان، چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق، ایم ایس ڈاکٹر شرافت علی خان سمیت دیگر عملہ اور پی ٹی آئی کارکنان بھی موجود تھے، فضل حکیم خان یوسفزئی نے افتتاحی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائیومیٹرک سسٹم کے تحت گھوسٹ ملازمین کو برطرف کیاجائے گا تاکہ نظام میں مزید بہتری آسکے انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک لانے کا مقصد ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اور دیگر عملہ کی حاضری کو یقینی بنانا ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں اور انکے لواحقین کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے صوبائی حکومت اپنے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں انہوں نے کہا کہ صحت سہولیات کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور دیگر عملہ مریضوں کا ایسا خیال رکھیں جیسا کہ کوئی اپنوں کا خیال رکھتا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں آج سے انجیکشن اور دیگر ضروری ایمرجنسی طبی سامان بالکل مفت فراہم کیاجائے گااور باہر سے لانے کی ضرورت نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہماری صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سٹی میئر شاہد علی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ صحت کے حوالے سے بہترین اقدامات اٹھائے جائیں اس حوالے سے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اس ہسپتال کو فعال بنانے کے لئے اپنی ذاتی دلچسپی لے کر بہترین کام کئے ہیں جن کے ہم سب شکر گزار ہیں سٹی میئر نے مزید کہا آج جو بائیو میٹرک سسٹم، ویل چیئرز اور سٹریچرز کا افتتاح کیا گیا اس سے مریضوں کی مشکلات میں کمی آئے گی صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے مزید کہا کہ ایک ڈاکٹر جب مریض کو خلوص نیت سے فرسٹ ایڈ دیتا ہیں تو مریض کی تکلیف میں ان کے اچھے رویوں سے کافی حد تک کمی آتی ہے ڈاکٹرز حضرات اور پیرامیڈیکس عملہ فرنٹ لائن پر عوام کی خدمت کریں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اور سٹی میئر شاہد علی خان نے ہسپتال کے مختلف وارڈ کا دورہ بھی کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔
