وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری نیک محمد خان داوڑ نے بدھ کے روزریسکیو ڈائریکٹوریٹ پشاور کا دورہ کیا۔ ان کی آمد پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے پرتپاک استقبال کیا، جب کہ ریسکیو اہلکاروں نے سلامی پیش کی اور پریڈ کا مظاہرہ کیا۔معاون خصوصی نے مختلف سیکشنز کا تفصیلی دورہ کیا اور ریسکیو آپریشنز میں استعمال ہونے والے جدید آلات اور تکنیکی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ انہیں بتایا گیا کہ ریسکیو ادارہ نہ صرف قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب بلکہ دہشت گردی، آگ، اور دیگر ہنگامی حالات میں بھی بروقت اور مؤثر خدمات فراہم کر رہا ہے۔اس موقع پر ریسکیو کے اہلکاروں اور حکام نے معاون خصوصی کو اپنے مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا۔ معاون خصوصی نے ان کے مسائل غور سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاران ہر محاذ پر عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پیش پیش ہیں، اور ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔نیک محمد خان داوڑ نے ریسکیو کے اقدامات اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے اور حکومت ریسکیو کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ریسکیو اہلکاروں کی تربیت اور آلات کی جدیدیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر امداد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریسکیو کے اہلکاروں کو درپیش مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے حکومت کی طرف سے ریسکیو کے اہلکاروں کے لیے مالی مراعات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کا عندیہ دیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وزیراعلیٰ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں ضلع کوہاٹ کا تفصیلی دورہ کیا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کوہاٹ میں ضلع بھر کے تمام سرکاری میل وفیمل کالجز کو درپیش مسائل ومشکلات اوردرکار ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خان خٹک،چیئرمین ڈیڈیک ایم پی اے شفیع جان،ایم پی اے داؤد آفریدی، ڈائریکٹراعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا فریداللہ شاہ، محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران اورضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے میل وفیمل کالجز کے پرنسپلز بھی بریفنگ میں موجود تھے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمدصادق ساغری نے بریفنگ دیتے ہوئے ضلع بھر کے کالجز کا اجتماعی جائزہ پیش کیا جس میں انہوں نے کالجز میں درپیش مسائل وضروریات کی نشاندہی کی جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیر کو انفرادی طورپر تمام میل وفیمل کالجز کے پرنسپلز نے بھی اپنے متعلقہ کالجزکے مسائل وضروریات کے بارے میں بتایا تمام کالجز کے بارے میں بریفنگ لینے کے بعد سے صوبائی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکی ہدایات کی روشنی میں ان کا ضلع کوہاٹ کادورہ کیا جس کا بنیادی مقصد ضلع کے کالجز کو درپیش مسائل سے آگاہی اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہے۔ انہوں واضح کیا کہ سب سے اہم اورضروری مسئلہ تدریسی عملہ کی کمی کا ہے جس کو حل کرنے کیلئے عارضی طورپر ہنگامی اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء وطالبات کی تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو صوبائی وزیر نے کہاکہ مسلسل تیسری بار خیبر پختونخوا کے عوام پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کااظہار کرتے رہے ہیں۔لہٰذا موجودہ صوبائی حکومت بھی مالی مشکلات کے باوجود حتی المقدور اقدامات اٹھا رہی ہے اورعوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں اور عوام کی تواقعات سے بھی زیادہ ڈیلیور کریں ہمیں اکیڈیمک کے اندر ایکسیلنس لانا ہے اور اس عظیم مقصد کیلیے ہر ایک نے کمیٹیڈ ہونا ہے انہوں نے کہا کہ بہت جلد کالجز کے اندر اور اساتذہ کے مابین کارکردگی کے بنیاد پر مقابلے کرائیں گے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریگا اس کی حوصلہ افزائی کی جائیگی اور نہیں کریگا تو پھر اصلاح یا سزا کا عمل ہوگا جو ہماری حکومت کا نعرہ بھی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ اگلی بار جب کالج آؤ ں تو واضح تبدیلی دیکھنے کو ملنی چاہئئے صرف زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا عملی کام نظر آنا چاہیے انہوں نے کالجز کے پرنسپل کو یقین دہانی کرائی کہ کالجز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اس موقع پر گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ منیجمنٹ سائنسز کوہاٹ کے پرنسپل پروفیسر علاؤالدین نے بھی کالج ہذا کے بارے میں بریفنگ دی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ بہت جلد 17 ہزار اساتذہ کی بھرتی
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ بہت جلد 17 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے لئے اشتہار شائع کیا جائے گا۔ تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور سکولوں میں اساتذہ ہر صورت فراہم کئے جائیں گے۔ ریگولر، ایڈہاک اور بذریعہ پیرنٹس ٹیچرز کونسل اساتذہ کی تعیناتی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اساتزہ ریکروٹمنٹ پالیسی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ڈائریکٹر آئی ٹی صلاح الدین، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ حالیہ کامیاب داخلہ مہم، اساتذہ کی پروموشن اور ریٹائرمنٹ کی بدولت اساتذہ کی آسامیاں خالی ہو گئی ہیں جن پر ہنگامی بنیادوں کے تحت 17 ہزراساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور ہر صورت طلباء و طالبات کو اساتذہ فراہم کئے جائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اساتذہ کی کمی کے پیش نظر محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ جتنے بھی اساتذہ لمبی چھٹیوں پر ہیں یا باہر کے ممالک جانے کے لئے چھٹیاں لی ہیں یا پھر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں ان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر فراہم کی جائے اور ان کی چھٹیاں اور ڈیپوٹیشن فوری طور پر منسوخ کر دیں۔ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا استاد کا کام ہر صورت طلبہ و طالبات کو پڑھانا ہے اور ان کو کسی بھی دوسرے کام کرنے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی اساتذہ سیکرٹریٹ، ڈائریکٹریٹ لیول اور ضلی دفاتر میں منیجمنٹ کی پوسٹوں پر تعینات ہیں ان کو فوری طور پر اپنی اصل پوسٹوں پر واپس لانے کے لیے اقدامات کریں اور ایک ہفتے کے اندر اندر رپورٹ دی جائے۔ تدریسی کیڈر کے لوگوں کا کام صرف درس و تدریس سے ہے اور ان کے سکولوں سے باہر رہنے کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت کی کہ جو اساتذہ رانگ پوسٹوں پر کام کر رہے ہیں اور اپنے سبجیکٹ یا کیڈر کے علاوہ دوسری پوسٹوں پر تعینات ہیں ان کی بھی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ رانگ پوسٹوں پر تعینات ہیں ان کو اپنی اصلی پوسٹوں پر ہر صورت واپس لانا ہے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ جن 17 ہزار آسامیوں پر بھرتی کرنے جا رہے ہیں وہاں پوسٹیں پہلے سے دستیاب ہیں اور کسی بھی قسم کے اضافی اخراجات نہیں آئیں گے۔ تاہم پھر بھی فوری طور پر محکمہ خزانہ سے این او سی لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایٹا کے ذریعے بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ٹسٹ آئٹم بینک کو مزید بہتر بنایا گیا ہے اور دیگر اداروں بشمول محکمہ تعلیم حکام خود اس بھرتی کے عمل کی نگرانی کریں گے اور تمام نظام میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہوگا اور قابل وذہین اُمیدواروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ پراسس کے دوران امیدواروں کی بائیومیٹرک ویریفیکیشن ہوگی اور تمام ہالوں میں کیمروں کی تنصیب بشمول دیگر اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے اور امیدواروں کی ایٹا کی طرف سے فائنل لسٹ کے اجراء سے پہلے ان کی تعلیمی اسناد کی ویریفیکیشن بھی ایٹا کے ذریعے کی جائے گی۔ اصل اسناد کی ویریفیکیشن کے بعد فائنل میرٹ لسٹ محکمہ تعلیم کو ملے گی اور پھر اس لسٹ کے مطابق امیدواروں کی بھرتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی ضلع چارسدہ میں الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے لگائے گئے فری میڈیکل کیمپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت
ہم سب کی سرپرستی آپ پر رہے گی اس لئے آپ یتیم نہیں ہے اور نہ مایوس ہونا ہے بلکہ ہر میدان میں انسانیت کی خدمت کرنی ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
الخدمت فاؤنڈیشن انسانیت کی فلاح کے معاملے میں سب سے آگے پیش پیش ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ضلع چارسدہ میں الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے لگائے گئے فری میڈیکل کیمپ اور فیملی فن گالا میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر کے ہمراہ موبائل ہیلتھ یونٹ،مختلف میڈیکل، ہومیوپیتھک اور فری آئی کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انکی خیریت دریافت کی۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی اس محفل کے حقیقی مہمان خصوصی یہ خوبصورت بچے اور بچیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا ہے، ہمارے معاشرے میں والدین کی وفات کے بعد یتیم سمجھا جاتا ہے، لیکن اصل میں یتیم وہ ہے جس کا معاشرے میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جس مقصد کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، وہ یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ تمام بچے یتیم نہیں ہیں بلکہ ہم سب کے بچے ہیں اور یہ ہمارے لئے نجات کا ذریعہ بھی ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ انسانی خدمت کا کام زندگی کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ میری ہمیشہ خواہش ہوتی ہے کہ ایسے کاموں کا حصہ بنوں جو انسانیت کی فلاح کے لیے کیے جائیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے انسانی فلاح کے ہر پراجیکٹ میں الخدمت فاؤنڈیشن کی شراکت کو سراہا ہے۔ انہوں نے تھیلیسیمیا سینٹر کے لیے زمین کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی زمین فراہم کر دی جائے گی۔ اپنے خطاب کے آخر میں، مشیر اطلاعات نے بچوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، آپ نے مایوس نہیں ہونا ہے، بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے اور ہر میدان میں انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا کی ہدایات پر صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں تمام سہولیات فراہم کرنے کی لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھائیں گے۔انھوں نے کہا کہ چارسدہ کے صنعت کار اپنے کارخانے اور کاروبار سمال انڈسٹریل اسٹیٹ چارسدہ کو منتقل کریں اور سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔انھوں نے مزید کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حکومتی اداروں اور صنعت کاروں کی مسائل اور مشکلات کے حل اور قرضوں اور دیگر سہولیات کے حصول کے لیے حکومتی اداروں اور صنعتکاروں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مرد اور خواتین نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عبدالکریم تورڈھیر نے چارسدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے منتخب کابینہ اراکین جبکہ سابق گورنر حاجی غلام علی نے و ومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب سے سابق گورنر حاجی غلام علی، چارسدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینیئر نائب صدر نعمان اکبر جان خان،میجر ریٹائرڈ اکبر جان خان مہمند، چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر سجاد علی، سابق صوبائی وزیر بیرسٹر ارشد عبداللہ، تحصیل چیئرمین مفتی عبد الروف شاکر،چیف کوآرڈینیٹر عرفان خسرو اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر چارسدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی خان بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے اس موقع پر کہا کہ چارسدہ چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری نے قلیل عرصہ میں بہت کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر بزنس کمیونٹی کے تمام ٹریڈ سے قریبی رابطہ رکھے اور ان کے مشکلات اور مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس سمال انڈسٹری کے فروغ اور صنعت کاروں کو سہولیات، بلاسود قرضوں اور گرانٹ کی فراہمی کے لیے خطیر رقوم پڑے ہیں جبکہ خواتین ٹرانس جینڈر اور معذور افراد کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈ کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری حضرات ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچانے اور روزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کافروع ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار سدہ چپل سازی، گڑ، سفیدہ اورکھدر سمیت دیگر کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے اور ان کاروباروں کو وسعت دینے،انکی مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہاں پر ٹیکنیکل ایجوکیشن کے مختلف سرٹیفیکٹس اور ڈپلومہ کورسزشروع کریں گے جبکہ علاقے میں صنعتوں کے قیام سے بے روزگاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی نیک محمد خان داوڑ کا پی ڈی ایم اے ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف و آباد کاری نیک محمد خان داوڑ نے کہا ہے کہ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے ملازمین کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی پی ڈی ایم اے ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کروائی۔ تقریب کا انعقاد پی ڈی ایم اے کے دفتر حیات آباد پشاور میں ہوا، جس میں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔نیک محمد خان داوڑ نے اپنے خطاب میں پی ڈی ایم اے کے ملازمین کی خدمات اور ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملازمین قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں عوام کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے سکیں۔معاون خصوصی نے ملازمین کو نیک نیتی اور محنت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی تاکید کی اور واضح کیا کہ حکومت کسی بھی قسم کی کرپشن یا بدعنوانی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین ہی ادارے کی ساکھ اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔نیک محمد خان داوڑ نے پی ڈی ایم اے ویلفیئر ایسوسی ایشن کو ہدایت کی کہ وہ ملازمین کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دیں۔ یہ کمیٹی ہفتہ وار بنیادوں پر معاون خصوصی سے ملاقات کرے گی اور ملازمین کے مسائل اور شکایات کا فوری حل پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کمیٹی کا مقصد تمام ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے پی ڈی ایم اے کے مثبت اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کو چند افراد تک محدود فوائد پہنچانے کے بجائے بلا تفریق تمام ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسوسی ایشن کے تمام اقدامات تمام ملازمین کی بہتری کے لیے ہونے چاہئیں، تاکہ کوئی بھی ملازم خود کو نظر انداز یا محروم محسوس نہ کرے۔آخر میں معاون خصوصی نیک محمد خان داوڑ نے پی ڈی ایم اے کی انتظامیہ اور ملازمین کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ حکومت اور پی ڈی ایم اے مل کر صوبے کے عوام کی خدمت میں مزید بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس
صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام، کوآرڈینیٹر ای او سی، عالمی معاون اداروں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کے حکام، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ سپیشل سیکرٹری ہیلتھ و کوآرڈینیٹر صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر نے اجلاس کو بریفنگ دی اور صوبے میں پولیو کیسز کی صورتحال کے بارے میں بتایا۔اس موقع پر گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جاری حکمت عملیوں اور کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔چیف سیکرٹری نے پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور اس حوالے سے کوتاہی برتنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کی بھی ہدایت کی۔ چیف سیکرٹری نے درست اور جامع ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر فیصلہ سازی کے لئے 100 فیصد ڈیٹا کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے فیصلہ سازی کے لیے مستند اور بروقت معلومات کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔بعض اضلاع میں پولیو کے کیسز کے کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے اس کی بنیادی وجوہات کی مکمل تحقیق اور تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائیں۔مزید برآں، چیف سیکرٹری نے عوامی بیداری مہم کے احیاء پر زور دیا۔ انہوں نے عوام کو ہسپتالوں میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ ہسپتالوں کے دورے کریں گے اور سہولیات کا خود جائزہ لیں گے۔اجلاس میں پولیو کے خاتمے کی مہم میں اضلاع کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کرنے کے لیے ”ڈسٹرکٹ سکور کارڈ” متعارف کرانے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ چیف سیکرٹری نے اس اقدام کے ساتھ ساتھ گھریلو سماجی سروے کو بھی سراہا جن کا مقصد پولیو ٹیموں کے گھر گھر دوروں کی تاثیر کا جائزہ لینا ہے۔اجلاس میں 28اکتوبر 2024سے دو مرحلوں میں شروع ہونے والی پولیو مہم کے لئے تیاریوں کابھی جائزہ لیا گیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری کو کنٹرول کرنے کا بل پیش کردیا جو ملکی و صوبائی تاریخ میں پہلی بار پیش کیا گیا، انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زونوٹک امراض وہ امراض ہیں جو کہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق نئی پیدا ہونے والی بیماریوں میں سے 75 فیصد بیماریاں ایسی ہے جو کہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں لہذا صوبہ خیبرپختونخوا میں انسانی صحت کی تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ جانوروں میں موجود بیماریوں کو کنٹرول کیا جائے اس وقت پورے ملک میں زونوٹک امراض کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے اس قانون کے ذریعے جانوروں اور انسانوں کی صحت میں بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد صوبہ خیبرپختونخوا میں جانوروں اور انسانوں کی صحت میں بہتری لانا ہے اور جانوروں میں موجود بیماریوں کو کنٹرول کرنا ہے مجوزہ قانون تین ابواب پر مشتمل ہے جس میں کل 29 سیکشن ہیں اس قانون کے تحت سرانجام پانے والے امور میں سے ایک اہم چیز یہ ہے کہ حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے زونوٹک امراض کی نگرانی کے لیے ایک مرکز متعین کرے گی جس میں مختلف محکموں کے نمائندے شامل ہوں گے جو کہ زونوٹک امراض کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرے گی اور اس کا تجزیہ کرے گی انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹریٹ جنرل توسیع لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے عملے میں سے ویٹرنری افسروں کو ذمہ داری سونپی جائے گی جو کہ زونوٹک امراض کی رپورٹنگ کریں گے اور ڈائریکٹریٹ جنرل توسیع ان امراض کے کنٹرول کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے گا انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت زونک امراض کی تشخیص کے لیے تجزیاتی اور حوالہ جاتی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا وباء کے دوران متاثرہ علاقوں کی نگرانی کی جائے گی اور وباء کے دوران حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے مخصوص علاقوں میں جانوروں کی منڈیوں میلوں نمائشوں اور اجتماعات کو ممنوع کر سکیں گی تاکہ امراض کو کنٹرول کیا جا سکے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر والوں کو سزا کی دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ اس قانون میں صوبہ خیبر پختونخوا میں جانوروں اور مچھلیوں کی خوراک اور خوراکی اجزاء کی معیار کو بھی بہتر بنایا جائے گا جانوروں کی خوراک کا اثر جانور سے پیدا ہونے والے دودھ گوشت اور مچھلیوں کے انڈوں پر ہوتا ہے بہتر خوراک سے جانوروں کی پیداوار بھی بہتر ہوگی اور انسانی صحت پر بھی اس کی مثبت اثرات مرتب ہوں گے فی الحال صوبے میں مویشیوں کی خوراک کو منظم کرنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں اس قانون کا بنیادی مقصد صوبہ خیبرپختونخوا میں مویشیوں کی خوراک اور خوراک میں استعمال ہونے والی اجزاء تیاری فراہمی ذخیرہ اور نقل و حمل کو منظم کرنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ای ٹرانسفر پالیسی راؤنڈ ٹو کا آغاز منگل
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ای ٹرانسفر پالیسی راؤنڈ ٹو کا آغاز منگل کے روز سے شروع کر دیا۔ یہ راؤنڈ صرف ایس ایس ٹی اساتذہ کے لیے مختص ہے۔ آج سے 26 اکتوبر تک خالی آسامیاں اپلوڈ کی جائیں گی۔ ایس ایس ٹی اساتذہ 27 اکتوبر سے یکم نومبر تک آن لائن پورٹل پر اپلائی کریں گے۔ جبکہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسرز دو نومبر سے پانچ نومبر تک درخواستوں کی ویریفیکیشن کریں گے اور سات نومبر کو فائنل میرٹ لسٹ جاری ہوگی جبکہ آٹھ نومبر کو ای ٹرانسفر سسٹم کے تحت میرٹ پر آن لائن ٹرانسفر ارڈرز جاری ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ای ٹرانسفر پالیسی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اسفندیار خٹک، ایڈیشنل سیکرٹری فیاض عالم، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر ای ایم ائی ایس نور شیر آفریدی اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے حکام کو ہدایت کی کہ حالیہ ترقی کی وجہ سے ایس ایس ٹی میل و فیمیل اساتذہ کی جتنی بھی پوسٹیں خالی ہو گئی ہیں وہ تمام ای ٹرانسفر ایپ پر اپلوڈ کر دی جائیں۔ اور اس راؤنڈ کے تحت صرف ایس ایس ٹی اساتذہ کی ٹرانسفر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس ٹی اساتزہ کے کوئی بھی آرڈرز مینول جاری نہیں ہوں گے اور جو بھی آرڈرز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز نے کئے ہیں وہ کینسل تصور ہوں گے۔ انہوں نے مزید ہدایت جاری کی کہ محکمہ تعلیم میں ہر قسم کی پوسٹنگ ٹرانسفر پر پابندی عائد ہے اور سیکرٹریٹ بشمول ڈائریکٹریٹ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسز کوئی بھی آرڈر جاری نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی آرڈرز جاری کرے گا ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے آئی ٹی حکام کو ہدایت کی کہ منسٹر آفس اور پورے پختونخوا کے اساتذہ اور سکولوں کے مابین رابطے کے لیے پورٹل قائم کی جائے وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت جاری کی کہ ای ٹرانسفر راؤنڈ تھری کے لئے پالیسی میں مزید اصلاحات شامل کی جائیں اور خواتین کو آسانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خصوصی افراد، انتہائی قابلیت اور اعلیٰ نتائج دینے والے اساتذہ کو خصوصی نمبرات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سخت اور دشوار گزار علاقوں میں سروس دورانیہ کو بھی شمار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ راؤنڈ تھری کے بعد محکمہ تعلیم میں ریٹائرمنٹ یا پروموشن کی وجہ سے جو جو آسامیاں خالی ہو جاتی ہیں وہ ای ٹرانسفر ایپ پر فوراً اپلوڈ کر کے وہاں خواہشمند اساتذ ہ کے آرڈر جاری کئے جائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ محکمہ تعلیم حکام کا زیادہ تر وقت پوسٹنگ ٹرانسفر کے غیر ضروری کاموں میں ضائع ہو جاتا ہے اور اس کو بذریہ ای ٹرانسفر پالیسی کنٹرول کر کے تمام قیمتی وقت صرف درس و تدریس کو دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمارے طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہے اور ان کے لیے یہ تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای ٹرانسفر پالیسی میرٹ پر مبنی ہے اور میرٹ پر آنے والے اساتذہ کے گھر بیٹھے آرڈرز جاری کئے جاتے ہیں جس کے لئے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبے میں ایلیمنٹری اور ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلیے کوشاں ہے ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ طلباء اور نوجوانوں پرزیادہ سرمایہ کاری کی جائے طلباء ہماری پالیساں کامحورہیں ایسی پالیسیوں سے طلباء زیادہ مستفید ہونگے صوبے کے مالی حالات بہتر ہوجائیں تو نوجوانوں پر مزید سرمایہ کاری کرینگے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورہ کے موقع پر اینڈوومنٹ سکالرشپ حاصل کرنے والے یونیورسٹی کے طلبہ میں چیک تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرصوبائی وزیر کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، اراکین صوبائی اسمبلی داؤد آفریدی، شفیع اللہ جان، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصیرالدین، فیکلٹی ممبران سمیت طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی صوبائی وزیر کی آمد پر یونیورسٹی کے عملہ نے استقبال کیا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا صوبائی وزیر کو یونیورسٹی کے وی سی نے تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے اور صوبے کو بقایاجات ادا نہیں کررہی ہے انہوں نے ہال میں موجود نوجوانوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ذندگی سے ناامیدی نکالیں اور پاکستان کی ترقی کیلیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ نوجوان ملک کی ترقی اور بقاء کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اوپر بھروسہ ہونا چاہیے نوجوان عظیم صلاحیتوں سے مالامال ہیں ان صلاحیتوں کو باہر لے آئیں پاکستان کی 60سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یہی نوجوان پاکستان کو چیلنجز سے نکالینگے اور ملک کا مستقبل تبدیل کرینگے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں اوریک اور کیو اے سی کی مضبوطی ضروری ہے انہوں نے کوہاٹ یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی رینکنگ اور سٹوڈنٹس اینرولمنٹ پر خصوصی توجہ دیں اور مارکیٹ اورینٹیڈ سبجیکٹ کی طرف جائے انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کررہے ہیں اور انکا حل نکال کر بہت جلد ان چیلنجز سے نکل جائینگے صوبائی وزیر نے یونیورسٹی کے اینڈوومنٹ فنڈ سے سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ میں چیک تقسیم کئے جبکہ بعد ازاں صوبائی وزیر نے کوہاٹ یونیورسٹی میں یوتھ ڈیولپمنٹ سنٹر کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا۔
