Home Blog Page 198

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی گورننس ریفارمز، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹائزیشن کے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انتظامی سیکرٹریز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور گورننس کو مؤثر، شفاف اور عوامی خدمات کی فراہمی کو تیز تر بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے بتایا کہ صوبے میں پیپر ورک کے خاتمے اور ڈیجیٹل طرز حکمرانی کے لیے ”ای آفس سسٹم” کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے، جس کی باقاعدہ لانچنگ 30 اپریل کو متوقع ہے۔ سسٹم اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے اور اس کے فعال ہونے کے بعد شفافیت، وقت کی بچت اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔چیف سیکرٹری نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ”اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)” سیل کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ SIFC کے تحت ورکنگ گروپس تشکیل دئیے جا چکے ہیں، جبکہ سرمایہ کاری کی ترجیحات اور ممکنہ منصوبہ جات پر مشتمل پراجیکٹ انوینٹری دستاویز 30 مئی تک جاری کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی فائدے کے پیش نظر ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں جو یا تو مکمل ہونے کے قریب ہیں یا جن کا عوامی مفاد سے گہرا تعلق ہے۔ترقیاتی فنڈز کے اجراء اور استعمال کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق سکیموں پر تیزی سے اخراجات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ایک مرکزی پراجیکٹ ٹریکنگ سسٹم بھی فعال کیا گیا ہے، اور تمام محکموں کو اس حوالے سے مکمل عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت سیاحت کے فروغ کے لیے مجوزہ منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں تفریحی پارکس اور موٹرویز شامل ہیں۔ مزید برآں، صوبے میں حال ہی میں قائم کی گئی آٹھ پرائمری سکولوں کو پبلک پرائیویٹ ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ چیف سیکرٹری نے تمام نئے پبلک پرائیویٹ منصوبوں کے لیے واضح ٹائم لائنز تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ ان کا مؤثر نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔خریداری کے نظام میں اصلاحات کے سلسلے میں، چیف سیکرٹری نے کہا کہ آٹھ اہم محکموں میں نافذ کردہ ”ای-پیڈز ای پروکیورمنٹ سسٹم” کو تمام محکمانہ ٹینڈرنگ کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے، اور اس نظام کی یکم جولائی سے تمام محکموں تک توسیع دی جائے گی۔اجلاس کے دوران انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں پر بھی اپ ڈیٹس پیش کی گئیں، جن میں رنگ روڈ کی ناردرن سیکشن پر پیش رفت اور پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے تحت ریگی ماڈل ٹاؤن اور حیات آباد کے ماڈل سیکٹر کی ترقیاتی منصوبہ بندی شامل ہے۔

سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام ڈیرہ جات کے مختلف ایونٹس جاری

بروز اتوار ٹینٹ پیگنگ، کشتی، کوڈی اور دودا کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔اتوار کے روز منعقد ہونے والے مختلف ایونٹس کے موقع پر ممبر نیشنل اسمبلی فیصل امین گنڈ ہ پور اور تحصیل میئر عمر امین گنڈہ پور سپورٹس کمپلیکس میں موجود رہے جبکہ مذکورہ ایونٹس اور میلے میں دلچسپی رکھنے والے شائقین نے کثیر تعداد میں سپورٹس کمپلیکس کا رخ کیا۔ٹینٹ پیگنگ کے ایونٹ میں اتوار کے روز 70سے زائد رائیڈر کلبز نے شرکت کی اور اپنے جوہر دکھائے جس سے شائقین کافی لطف اندوز ہوئے اور تالیوں کی گونج میں گُھڑ سواروں کو داد ملتی رہی۔ٹینٹ پیگنگ کے سلسلے میں اسلام آباد سے آئے ہوئے خواتین رائیڈر کلب نے بھی پرفارم کیا جسے کافی سراہا گیا۔اسی طرح کوڈی اور دودا کے ایونٹس میں بھی علاقائی اور دو ر دراز کے نامور پہلوانوں نے حصہ لیا۔ اتوار کے روز دیگر ایونٹس میں سیک لفٹنگ، سٹون لفٹنگ، وغیرہ بھی شامل کیے گئے۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ممبر نیشنل اسمبلی فیصل امین گنڈہ پور نے کہا کہ ڈیرہ جات جہاں علاقائی ثقافت اور کلچر کو اجاگر کرتا ہے وہیں مہمان نوازی بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے لہذا ڈیرہ جات کیلئے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ہم نے ڈیرہ جات کے تحت جو شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے حصے کا پودا ضرور لگائیں کیونکہ درخت ماحول کو صاف ستھرا بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر کبڈی کے کھیل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نامور پہلوانوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ تحصیل میئر عمر امین گنڈہ پور نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ جات علاقے کے لوگوں سمیت کھلاڑیوں اور دوسرے اضلاع کے لوگوں کیلئے بھی خوشیاں بکھیرنے کا ذریعہ ہے جس سے روایتی کھیلوں کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بڑی سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ جات کا تسلسل سے انعقاد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈہ پور کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کیونکہ ایسے مواقعوں کی فراہمی سے جہاں ایک طرف ثقافتی، روایتی، کلچرل ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے وہیں معاشی سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور کھلاڑیوں سمیت دیگر لوگوں کو بھی معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف مواقع میسر آتے ہیں۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سیاحتی مقامات پر چھ روزہ انسپکشن مہم مکمل، 640 کاروباروں کا معائنہ،431 کلوگرام سے زائد غیر معیاری خوراکی اشیاء کو تلف

سیاحوں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اقدامات جاری رہیں گے، ڈائریکٹر جنرل واصف سعید

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایات پر صوبے کے سیاحتی اور تفریحی مقامات پر چھ روزہ خصوصی انسپکشن مہم مکمل کر لی۔ یہ مہم 31 مارچ (عید کے پہلے دن )سے 5 اپریل تک جاری رہی، جس کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف اضلاع میں واقع مشہور سیاحتی مقامات پر کھانے پینے کے کاروباروں کا معائنہ کیا۔

ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور، نوشہرہ کے کنڈ پارک، چارسدہ کے سردریاب، ہری پور کے خانپور ڈیم، مانسہرہ کے بالاکوٹ، ڈونگا گلی، نتھیا گلی، شوگران، ہرنو، سوات کے فضا گٹ، مالم جبہ اور ملاکنڈ سمیت دیگر سیاحتی و تفریحی مقامات پر چھاپے مارے۔

ترجمان نے بتایا کہ کہ مہم کے دوران تقریباً 640 کاروباروں کا معائنہ کیا گیا، کاروائیوں کیدوران 431 کلوگرام غیر معیاری خوراکی اشیاء پکڑ کر کو تلف کیا گیا، جبکہ 90 کاروباروں کو بہتری کے نوٹسز جاری کیے گئے۔ مزید برآں، 97 نئے لائسنس بھی جاری کیے گئے اور لائسنسنگ کی مد میں 1 لاکھ 91 ہزار روپے کی محصولات وصول کی گئیں۔

ترجمان فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھاکہ فوڈ اتھارٹی کی موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز نے موقع پر ہی خوردنی اشیاء جیسے کوکنگ آئل، گوشت، چائے، دودھ، دہی، مشروبات، مصالحہ جات، نمک اور دیگر اشیاء کے 32 نمونوں کی جانچ کی، جن میں سے 19 نمونے معیاری جبکہ 13 غیر معیاری پائے گئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سیاحوں نے فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سیاحتی مقامات پر کیے جانے والے معائنے کو سراہا اور اسے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کی عید کی چھٹیوں کے باوجود سیاحتی مقامات میں معائنوں پر داد دی اور کہا ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ سیاحوں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

عیدالفطر پر 3 لاکھ سے زائد سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کر کیا

سب سے زیادہ سیاحوں نے وادی سوات کا رخ کیا، اعدادو شمار کے مطابق سوات میں 2 لاکھ گیارہ ہزار 9 سیاحوں نے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کی

وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی ہدایات پر عیدالفطر پر خیبرپختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کیلئے تمام ٹورازم اتھارٹیز، ٹورازم پولیس اورٹورازم ہیلپ لائن 1422کو متحرک کرنے سمیت دیگر اقدامات اٹھائے گئے جس سے ہمیشہ کی طرح نہ صرف کثیر تعداد میں سیاحوں نے سیاحتی مقامات کا رخ کیا بلکہ بہترین انداز میں لطف اندوز بھی ہوئے عیدالفطر کے تین روز میں صوبہ کے مختلف سیاحتی مقامات پر 3 لاکھ چھ ہزار 215 سے زاہد سیاحوں نے رخ کیا جس میں سب سے زیادہ سیاحوں نے سوات کی مختلف وادیوں کا رخ کیا جس کی تعداد2 لاکھ گیارہ ہزار 9 تھی جبکہ وادی ناران میں 42 ہزار111، گلیات میں 28 ہزار جبکہ وادی کمراٹ میں 16ہزار400سیاحوں نے رخ کیا۔ مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی ہدایات پر ٹورازم پولیس کے جوانوں کی ڈیوٹیاں منسوخ کی گئی تھیں جس پر انہوں نے صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر دوران عید ڈیوٹی سرانجام دی۔

عید کے تین دنوں کے دوران صوبے کے 37 اضلاع میں چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرنے والے نان ایم ٹی آئی مراکز صحت کا ڈیٹا جاری، مشیر صحت احتشام علی کا خدمات انجام دینے والوں کو خراج تحسین

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صوبے کے 37 اضلاع میں چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرنے والے نان ایم ٹی آئی مراکز صحت کا ڈیٹا جاری کردیا گیا ہے۔ مشیر صحت احتشام علی نے عید کے ایام میں خدمات انجام دینے والیتمام طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی عملے نے اپنی خوشیاں قربان کرکے لوگوں کی قیمتی جانیں بچائی ہیں۔جاری ہونے والے ڈیٹا کے مطابق صوبہ بھر میں 79756 مریضوں نے ایمرجنسی خدمات لیں۔ اسی طرح 3735 مریضوں کو زچہ و بچہ کی خدمات فراہم کی گئیں جبکہ عید کے دوران 1656 زچگیاں واقع ہوئیں۔ جاری ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ایمرجنسی آپریشن تھیٹر میں 1706 میجر جبکہ 5814 مائنر سرجریز کی گئیں۔ اسی طرح 849 مریضوں کو کتوں کے کاٹنے کی ویکسین و علاج فراہم کیا گیا۔ مزید برآں سانپ کے کاٹے تین مریضوں کو علاج و ویکسین فراہم کی گئی۔

عمران خان سے ملاقات بارے بیرسٹر ڈاکٹرسیف کا بیان

ملاقات میں حکومتی معاملات، دہشت گردی اور افغانستان کے امور پر تبادلہ خیال،بیرسٹر ڈاکٹر سیف

ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میرے لیے سب سے مقدم ہے، مشیر اطلاعات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ میڈیا ذرائع کے نام پر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات شروع کرنے کی خبریں چلا رہی ہیں،قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی نیا ٹاسک نہیں دیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ میڈیا بغیر تصدیق کے ذرائع سے خبریں نشر کرنے سے گریز کرے۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں حکومتی معاملات، دہشت گردی اور افغانستان کے امور پر تبادلہ خیال ہوا، مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ کو حکومتی معاملات جبکہ مجھے دہشت گردی اور افغانستان کے مسئلے سے متعلق ہدایات دیں اور عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی رہائی اور ذاتی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بات چیت نہیں کریں گے۔قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میرے لیے سب سے مقدم ہے، مشیراطلاعات و تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ عمران خان نے بتایا ہے کہ معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے لیے پاکستان تحریک انصاف کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش بند کرنا ہوگی،بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

خیبر پختونخواہ فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک کارکردگی رپورٹ جاری کردی،

خیبر پختونخواہ فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک کارکردگی رپورٹ جاری کردی، 10 ہزار سے زائد کاروائیاں، 1 لاکھ 12 ہزار کلو مضر صحت غیر معیاری خوراک تلف، ڈیڑھ کروڑ سے زائد جرمانے عائد کرکے 25 کاروبار بھی سیل، ترجمان فوڈ اتھارٹی

صوبے سے غیر معیاری و مضر صحت خوردونوش اشیاء میں ملوث افراد و کاروباروں کا خاتمہ ھر صورت یقینی بنائیں گے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک کے دوران کی گئی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی،فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری و مضر صحت کاروباروں میں ملوث افراد کیخلاف ہزاروں کاروائیاں کیں جس کے دوران ہزاروں کلوگرام غیر معیاری ومضر مختلف خوردنی اشیاء پکڑ کرتلف کر دی گئیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر لاکھوں روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے رمضان کاکردگی رپورٹ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبہ بھر میں 10 ہزار 112 سے زائد کارروائیاں کیں جس کے دوران ایک لاکھ 12 ہزار کلو گرام سے زائد غیر معیاری مضر صحت خوراک قبضے میں لے کر تلف کی۔اس کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد کے جرمانے اور سنگین خلاف ورزی پر معتدد کاروبار سیل بھی کیے گئے۔ کارروائیوں کی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ کارروائیاں پشاور میں کی گئیں جہاں 1 ہزار 6 سو 82 کارروائیوں میں 31 ہزار 2 سو 42 کلو سے زائد غیر معیاری خوراک تلف کی گئی،جبکہ مردان میں 883 کارروائیوں میں 49 ہزار 485، ایبٹ آباد میں 559 کارروائیوں میں 10 ہزار 715 کلو، بنوں میں 593 کارروائیوں میں 1099، سوات میں 596 انسپکشنز کے دوران 7578 کلو، مانسہرہ میں 556 انسپکشنز میں 2460، جبکہ ہری پور 512 کارروائیوں کے دوران 4 ہزار 30 کلو سے زائد غیر معیاری مضر صحت خوراک تلف کی گئی۔۔تفصیلات میں مزید بتایا گیا کہ دودھ،مشروبات، کوکنگ آئل و بناسپتی گھی، مصالحہ جات اور دیگر خوراکی اشیاء کے 2ہزار 201 نمونوں کی موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے جانچ کی گئی اور نتائج آنے پر1904 نمونے تسلی بخش جبکہ 297 غیر معیاری قرار پائے گئے، اسی طرح رمضان کاروائیوں کیدوران 2ہزار 477 لائیسنسز کی تجدید و اجراء بھی کی گئی جس سے لائیسنسز کی مد میں تقریباً 9.64 ملین روپے کی محصولات بھی حاصل ہوئے۔مزید برآں، فوڈ سیفٹی ٹیموں کی جانب سے 1 ہزار 147 خوراکی کاروباروں کو بہتری کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ جبکہ رمضان کے مہینے میں 8 تربیتی سیشنز اور 155 آگاہی سیشنز کا انعقاد بھی کیا گیا۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے فوڈ اتھارٹی کی کامیابی کاروائیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ صوبے سے غیر معیاری و مضر صحت خوردونوش اشیاء میں ملوث افراد و کاروباروں کا خاتمہ ھر صورت یقینی بنائیں گے ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے اوپر ہے۔ قیمت میں تبدیلی کو قیمتوں میں کمی نہیں کہتے حکومت ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ اشیا کی طلب وقوت خرید کمی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے قیمتیں نہیں بڑھ رہی ہیں پاکستان کے معاملے میں مہنگائی میں کمی پیداواری ترقی کی وجہ سے نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پی ڈی ایم کا معاشی ویژن ہمیشہ کی طرح فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے۔ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں پرانے خیالات کے مالک اسحاق ڈار اور احسن اقبال پی ایم ایل این کی بقا کی قیادت کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی مہنگائی اور معیشت بارے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم ایل این/پی ڈی ایم کا معاشی وژن ہمیشہ کی طرح فرسودہ ذہنیت کا عکاس ہے اور پی ایم ایل این نجی شعبے والے افراد کو کابینہ میں شامل کرتے ہیں پھر وہی حالات رہتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان کے پاس کسی قسم کی حکمت عملی نہیں پرانے خیالات کے مالک اسحاق ڈار اور احسن اقبال پی ایم ایل این کی بقا کی قیادت کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں شہباز شریف کو شرح نمو کی نشاندھی کرائی اور پانچ سال کے تخمینے میں اوسط نمو 4 فیصد سے کم ہے جبکہ اگلے سال تخمینہ اہم فصلوں کے لیے منفی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ میں نے پوچھا اس ویژن کے ساتھ بے روزگاری اور غربت پر قابو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تواس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا شہباز شریف نے پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کی طرف موڑ دیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے بتا رہا ہوں کہ پاکستان کساد بازاری کا شکار ہے زراعت اور صنعت کے شعبے منفی میں ہے جبکہ حکومت اس کو کساد بازاری نہیں بلکہ استحکام کہتے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہباز شریف کی ٹیم ڈیٹا کو پڑھنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے مہنگائی کم کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے اوپر ہے جبکہ قیمت میں تبدیلی کو قیمتوں میں کمی نہیں کہتے حکومت ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے اشیا کی طلب وقوت خرید کمی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے قیمتیں نہیں بڑھ رہی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کے معاملے میں مہنگائی میں کمی پیداواری ترقی کی وجہ سے نہیں ہے جبکہ نااہل حکومت مہنگائی میں کمی کا جشن منا رہی ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ اگر آپ کی درآمدات کم ہو رہی ہیں جبکہ برآمدات مستحکم ہیں۔ پھر یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے جو ظاہر کرتا ہے ک ملازمتیں شامل نہیں ہو رہی ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ترسیلات زر اگر سرمایہ کاری میں بدل جائیں تو خوش ہونے کی وجہ ہے لیکن اگر یہ گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے بمشکل کافی ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پاکستان چھوڑ چکے ہیں جبکہ ملک چھوڑنے والے لوگوں کے منفی اثرات واضح طور پر مجموعی قومی پیداوار (GNP) پر پڑیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کی عالمی ترقی پر کوئی توجہ نہیں ہے کس طرح ٹرمپ ٹیرف کی جنگ نے اقتصادی بنیادی اصولوں کو کمزور رکھا انہیں پتہ ہے کہ امداد روکنے کے ان کے ایگزیکٹو آرڈرز سماجی شعبے میں ملنے والی گرانٹس پر کیسے اثر انداز ہوں گے؟ وہ سب سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس حکومت پر اعتماد صفر کے قریب ہے جبکہ شہباز حکومت میں پاکستان پہلے ہی تین قیمتی سال ضائع کرچکے ہیں۔ شیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ امن و امان کے نئے چیلنجز کے ساتھ ساتھ شہباز شریف حکومت کے پاس واضح طور پر منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

ایک طرف صوبے کودہشت گردی کا سامناہے جبکہ دوسری طرف صوبے کے فنڈز روک دیے گئے ہیں،بیرسٹر ڈاکٹر سیف

ایک طرف صوبے کودہشت گردی کا سامناہے جبکہ دوسری طرف صوبے کے فنڈز روک دیے گئے ہیں،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
دہشت گردی سنگین مسئلہ ہے، اس پر سیاست سے گریز کیا جائے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
: عمران خان ایک عظیم لیڈر ہیں، جو خود بھی پابندِ سلاسل ہیں مگر اُن کی فکر اپنے کارکنوں کے لیے ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
نواز شریف اور زرداری نے ہمیشہ کارکنوں کو مشکل میں چھوڑ کر فرار ہونے میں عافیت سمجھی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر قیادت عید پی ٹی آئی کارکنوں کے شہداء کے لواحقین اور اسیر کارکنوں کے خاندانوں کے ساتھ گزار رہی ہے،: عمران خان ایک عظیم لیڈر ہیں، جو خود بھی پابندِ سلاسل ہیں مگر اُن کی فکر اپنے کارکنوں کے لیے ہے،: ملک کا عظیم لیڈر اپنی فکر سے آزاد اور کارکنان کی فکر میں مگن ہے، نواز شریف اور زرداری کی طرح ان کو اپنی ذات کی فکر نہیں ہے، یہی فرق ہوتا ہے حقیقی اور جعلی رہنماؤں میں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہاکہ نواز شریف اور زرداری نے ہمیشہ کارکنوں کو مشکل میں چھوڑ کر فرار ہونے میں عافیت سمجھی، عمران خان مشکل وقت میں اپنے کارکنوں کے لیے ڈھال بنے ہوئے ہیں، پوری قوم عمران خان کے اس جذبے پر فدا ہے،
دریں اثنا مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاہے کہ وفاقی حکومت اگر دہشت گردی کے مسئلے پر سنجیدہ ہے تو خیبرپختونخوا کو معاشی طور پر مضبوط کرے، پن بجلی سمیت دہشت گردی کی مد میں صوبے کے بقایاجات جلد ادا کرے کیونکہ بار بار کی یاد دہانی کے باوجود خیبرپختونخوا کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا،انھوں نے مزید کہاکہ ایک طرف صوبے کودہشت گردی کا سامناہے جبکہ دوسری طرف صوبے کے فنڈز روک دیے گئے ہیں، حالانکہ دہشت گردی صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے مزید یہ کہ فاٹا انضمام کے بعد ضم شدہ اضلاع کے فنڈز بھی صوبے کو نہیں دیے جا رہے، خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے، انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سنگین مسئلہ ہے، اس پر سیاست سے گریز کیا جائے

خیبرپختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ سے مختلف علاقوں کے افراد کی عید ملنے کی ملاقاتیں

خیبرپختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ عیدالفطر کے دوسرے روز اپنی رہائش گاہ پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے معززین، عوامی نمائندوں، پارٹی کارکنان اور سماجی شخصیات سے ملے۔ انہوں نے تمام مہمانوں کو عید کی مبارکباد دی اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر سماجی بہبود نے کہا کہ عید خوشیوں اور بھائی چارے کا تہوار ہے، جو ہمیں محبت، یکجہتی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مستحق افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں اور معاشرتی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
اس موقع پر مختلف وفود نے وزیر سماجی بہبود کو عوامی مسائل سے بھی آگاہ کیا، جن کے حل کے لیے انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور سماجی ترقی کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے۔
یہ ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں، جہاں تمام شرکاء نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور ملکی سلامتی و ترقی کے لیے دعاءیں کیں