Home Blog Page 20

مریم صفدر کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے وزیراعلی پنجاب مریم صفدر کے دہشت گردی سے متعلق بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین اور حساس قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی معاملے پر سیاست چمکانا مسلم لیگ ن کا پرانا وطیرہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے یا علاقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، مریم صفدر کا بیان صوبوں کے درمیان نفرت اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا ہے۔خیبرپختونخوا کی بہادر پولیس اور عوام نے قیام امن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے صوبوں کو ہی خطرہ قرار دینا انتہائی افسوسناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، مگر مریم صفدر دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو صوبائیت کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جنہوں نے کبھی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں لڑا، آج وہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی معاملے پر قوم کو بھاشن دے رہی ہیں۔ مریم صفدر دہشت گردی پر پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے دہشت گردی کے خلاف دیگر صوبوں کی قربانیوں کا اعتراف کریں،شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں پر انگلی اٹھانے والی مریم صفدر سجن جندال کے ملک کے خلاف بات کرنے سے کیوں کتراتی ہیں؟ وزیر اطلاعات شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ مریم صفدر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان پر عوام سے معافی مانگیں۔

نوشہرہ میں چکن گنیا کے تدارک کے لیے فوری اقدامات

خیبرپختونخواکے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے سپین کَانڑی، زیارت کاکا صاحب، ضلع نوشہرہ میں مزکورہ بیماری کے پھیلاؤ کی اطلاع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ اور تمام متعلقہ محکمہ صحت کے افسران کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔
صوبائی وزیر صحت کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ فوری طور پر متاثرہ علاقے میں موجود کیٹیگری ڈی ہسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایات جارء کیں کہ ہسپتال میں ضروری ادویات اور ویکسینز کی دستیابی، ڈاکٹروں، نرسز اور دیگر طبی عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ علاقے کے عوام کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
محکمہ صحت کی ٹیمیں بھی متاثرہ گاؤں پہنچ چکی ہیں اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے گاؤں میں مچھروں کے خلاف اسپرے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر ضروری ادویات بھی فراہم کر رہی ہیں جبکہ عوام کو مچھروں سے محفوظ رکھنے کے لیے مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور افواہیں یا خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال محکمہ صحت کے مکمل کنٹرول میں ہے اور عوام کو ہر ممکن طبی و حفاظتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر علاقے میں سامنے آنے والے کیسز کو ملیریا سمجھا گیا تھا، تاہم بعد میں مکمل تشخیص اور طبی معائنے کے بعد اس بیماری کی چکن گنیا وائرس کے طور پر تشخیص ہوئی۔
صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ علاقے میں تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور عوام کو علاج، ادویات، طبی عملے اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آنے دی جائے۔ انہوں نے صورتحال کی مسلسل نگرانی اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیر صحت نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پُرسکون رہیں، محکمہ صحت کی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں اور بیماری پر قابو پانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان شاء اللہ صورتحال پر جلد مکمل قابو پا لیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی صحت اور حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ممکنہ وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کے مشیر ملک لیاقت علی خان کا پشاور کے خصوصی تعلیمی و فلاحی اداروں کا دورہ، سہولیات کی بہتری اور مسائل کے حل کی ہدایات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوسہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے پشاور میں ڈیف اسکول، تنظیمِ لسائلِ والمحروم اور ویمن کرائسس سینٹر (دارالامان) کا دورہ کیا اور خصوصی تعلیم، سماجی بہبود اور خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس سلسلے میں مشیرِ وزیراعلیٰ نے پشاور کے ڈیف اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گرلز اور بوائز دونوں سیکشنز کا تفصیلی جائزہ لیا اور خصوصی طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات، خوراک اور دیگر انتظامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے سے ادارے کے امورِ کار اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ مشیرِ وزیراعلیٰ نے ادارے میں اساتذہ کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی کمی جلد پوری کی جائے گی تاکہ خصوصی طلبہ کو معیاری تعلیم اور بہتر تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اسکول کے ہاسٹل کا بھی دورہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی رہائشی سہولیات، خوراک اور صفائی ستھرائی سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سہولیات میں مزید بہتری کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ دورے کے دوران مشیرِ وزیراعلیٰ نے شجرکاری مہم کے تحت اسکول میں پودا بھی لگایا۔

بعد ازاں تنظیمِ لسائلِ والمحروم کی جانب سے مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کو تنظیم کی مختلف فلاحی و سماجی سرگرمیوں اور منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں تنظیم کے ورکنگ سیکٹر، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری اعظم خان، محکمہ سماجی بہبود کے افسران اور تنظیم کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ تعلیم کے شعبے میں مستحق بچوں کے داخلوں، تعلیمی اخراجات اور مالی معاونت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستحق طلبہ کو تعلیم کے حصول میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، تاہم معاونت کی فراہمی میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاونت کے لیے پیش کیے جانے والے کیسز کی مکمل تصدیق کی جائے تاکہ سہولیات حقیقی مستحقین تک پہنچائی جا سکیں۔ بریفنگ کے دوران صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں تنظیم کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں مشیرِ وزیراعلیٰ نے حیات آباد پشاور میں قائم ویمن کرائسس سینٹر (دارالامان) کا دورہ کیا، جہاں ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر پشاور شعیب خان، ویمن کرائسس سینٹر کی منیجر اور عملے نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں مرکز کے امورِ کار، داخلے کے معیار، مقیم خواتین کو فراہم کی جانے والی خدمات، دستیاب سہولیات، اہم مسائل و مشکلات اور ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیرِ وزیراعلیٰ نے دارالامان کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات، اسٹاف کی دستیابی، رہائشی سہولیات، خوراک، صفائی ستھرائی، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ نے انہیں سکیورٹی، اسٹاف، انتظامی امور، رہائشی سہولیات اور دیگر درپیش مسائل و ضروریات سے آگاہ کیا، جنہیں مشیرِ وزیراعلیٰ نے غور سے سنتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔

ملک لیاقت علی خان نے دارالامان کے انتظامی بلاک کا بھی دورہ کیا اور مرکز کے عملے سے ملاقات کی، جبکہ مقیم خواتین اور بچوں میں تحائف تقسیم کرکے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دارالامان میں مقیم خواتین اور بچوں کو محفوظ، باعزت اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کو معیاری خوراک، بہتر رہائشی سہولیات، مناسب سکیورٹی، صاف ستھرا ماحول اور ضروری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ ویمن کرائسس سینٹر کو درپیش مسائل کے حل اور اس کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

IPSOS Economic Survey Exposes Government’s Economic Claims, Public Confidence Continues to Decline: KP Finance Advisor Muzzammil Aslam

Adviser to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, reacting to the latest IPSOS economic survey, said that the survey had exposed the government’s economic claims, as public confidence in the economy continues to decline and the government’s claims do not correspond with ground realities.
Muzzammil Aslam said that, according to the survey, only one in every seven Pakistanis believes that the country’s economy is getting stronger. “The question is: who are these fortunate people who see the economy getting stronger? Perhaps the confidence in an improving economy is limited to those who are receiving government contracts,” he remarked.
He said inflation had become the biggest concern for the Pakistani public, while unemployment, poverty, high electricity prices and load-shedding also remained among the major concerns. These figures, he said, clearly demonstrate that ordinary citizens continue to face severe economic hardships.
The Finance Adviser said that according to the IPSOS survey, only 15 percent of Pakistanis are confident about investment prospects in the country, while only 16 percent are confident about retaining their jobs. “Perhaps most of those 16 percent who are confident about their job security are government employees,” he remarked.
Muzzammil Aslam said that, according to the survey, only 19 percent of Pakistanis are satisfied with their personal financial situation. These figures reflect the growing economic distress and anxiety among the people, with inflation and unemployment being the major causes of concern.
He said that while the government was claiming economic achievements on one hand, the experiences of the people and the realities on the ground presented an entirely different picture. This clear disconnect between government claims and public economic sentiment was deeply concerning, he added.
The Khyber Pakhtunkhwa Finance Adviser said the IPSOS survey was clear evidence of growing public distrust in the economy and raised a major question mark over the government’s economic policies. “If the economy is genuinely improving, its benefits should also be visible in the lives of ordinary people,” he said.
He said that according to the survey, people in Punjab appeared to be the most dissatisfied, where inflation, unemployment and other economic challenges had become serious concerns for the public.
Muzzammil Aslam questioned whether the government’s real priority was to reduce the difficulties faced by the people or to consolidate its hold on power. He said the fundamental objective of economic policies should be to provide relief to the people, create employment opportunities and improve their standard of living, rather than merely creating an impression of economic success through statistics and claims.
He said the government would have to take the economic concerns of the people seriously and adopt practical policies whose positive impact could be clearly felt in the daily lives of ordinary citizens.

.سندھ کے عوام بھی ظلم، ناانصافی اور سیاسی انتقام کے خلاف کھڑے ہیں، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا ہے کہ اندرون سندھ اسٹریٹ موومنٹ کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کا شاندار استقبال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا پیغام ملک کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر گلی تک پہنچ چکا ہے۔وزیر اطلاعات نے شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور اور نوشہروفیروز میں عوامی رابطہ مہم کے دوران بھرپور شرکت پر سندھ کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی، حقیقی آزادی اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت ملک بھر میں عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اندرون ملک سفر پر بھی بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا،شفیع جان نے کہا کہ سندھ کے عوام ظلم، ناانصافی اور سیاسی انتقام کے خلاف کھڑے ہیں۔ سندھ میں عوام روایتی سیاست، سیاسی اجارہ داری اور ناقص طرز حکمرانی سے تنگ آچکے ہیں، سندھ میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ اندرون سندھ میں تحریک انصاف کی عوامی پذیرائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جڑیں سندھ میں بھی مضبوط ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن لانگ مارچ ہوگا۔ یہ لانگ مارچ عمران خان کی رہائی اور حقیقی آزادی کی جدوجہد میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔پاکستانی عوام جلد وفاق پر مسلط مینڈیٹ چور اور نااہل ٹولے سے نجات حاصل کریں گے۔

سیکرٹری صحت فَیّاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ایچ پی وی ویکسینیشن سٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس

سیکرٹری محکمہ صحت خیبر پختونخوا فَیّاض علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبے میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسینیشن کے حوالے سے سٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں HPV ویکسینیشن کی تیاریوں، جاری سرگرمیوں، فیلڈ لیول انتظامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے اجلاس کو پروگرام کی پیش رفت اور تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سیکرٹری صحت فَیّاض علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ویکسینیشن سے متعلق تمام انتظامات مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ بچاؤ پر مبنی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ HPV ویکسینیشن کے ذریعے بچیوں کو مستقبل میں سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں ۔سیکرٹری صحت نے والدین، طلبہ اور عوام میں HPV ویکسینیشن کے حوالے سے بھرپور آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا تاکہ غلط فہمیوں کا مؤثر انداز میں ازالہ کیا جا سکے۔انہوں نے ویکسین کی دستیابی، افرادی قوت، لاجسٹکس، آگاہی سرگرمیوں، فیلڈ مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، محکمہ اطلاعات، PSRA، PPA، UNICEF، WHO اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔سیکرٹری صحت فَیّاض علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں حفاظتی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور بچیوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے.

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کے راشننگ کنٹرولر پشاوراور خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کا چارسدہ روڈ پر فلور ملز کا مشترکہ معائنہ، سرکاری آٹے کے نمونے لیبارٹری ارسال

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایات پر صوبے کے عوام کو فراہم کیے جانے والے سرکاری آٹے کا معیار یقینی بنانے کے لیے راشننگ کنٹرولر پشاور نے خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ چارسدہ روڈ پشاور پر مختلف فلور ملز کا دورہ کرکے تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران حکومت خیبرپختونخوا کی سرکاری گوداموں سے فراہم کردہ گندم سے فلور ملزمیں تیار کیے جانے والے سرکاری آٹے کے معیار، تیاری کے عمل اور مقررہ معیار پرعملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے مختلف فلور ملز سے سرکاری آٹے کے نمونے بھی حاصل کیے، جنہیں مزید تجزیے اور معیار کی جانچ کے لیے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
راشننگ کنٹرولر پشاور اور فوڈ اتھارٹی حکام نے واضح کیا کہ سرکاری آٹے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مقررہ معیار پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فلور ملز کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
حکام کے مطابق سرکاری آٹے کی انسپکشن، کوالٹی چیکنگ اور سیمپلنگ کا عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا، جبکہ لیبارٹری رپورٹس کی روشنی میں مزید ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان سے سابق ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان خان کی ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان سے سابق ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان خان نے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں حلقہ پی کے 72 میں محکمہ آبپاشی کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں، آبپاشی نظام کی بہتری اور عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران حلقہ پی کے 72 میں محکمہ آبپاشی کی جاری سکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مختلف منصوبوں کی تکمیل میں درپیش مسائل، عوامی ضروریات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر حلقے میں آبپاشی سے متعلق مزید ضروری منصوبوں اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے بھی امور زیر غور آئے۔صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ حلقہ پی کے 72 میں محکمہ آبپاشی کی تمام جاری ترقیاتی سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تاکہ علاقے کے عوام کو آبپاشی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حلقہ پی کے 72 میں جاری تمام منصوبوں کی پیش رفت باقاعدگی سے مانیٹر کی جائے اور ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ترقیاتی کام مقررہ معیار اور شفاف طریقہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ آبپاشی کے منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور فیلڈ میں منصوبوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے۔سابق ڈپٹی سپیکر محمود جان خان نے صوبائی وزیر آبپاشی کو حلقہ پی کے 72 میں آبپاشی کے شعبے سے متعلق عوامی مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا اور جاری منصوبوں کی جلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔

صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ٹرانسپورٹ پالیسی ملک میں دیگر صوبوں اور خیبر پختونخواکی پہلی پالیسی ہوگی جو کابینہ سے منظوری کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کی جائے گی۔ڈرافٹ خیبرپختونخوا ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 پر مختلف اداروں اور محکموں کے سٹیک ہولڈرز کا مشاورتی سیشن جمعہ کے روز پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ جس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیشن میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد ذبیر،منیجنگ ڈایریکٹر خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی افتخار احمد،چیف ایگزیکٹیو افیسر ٹرانز پشاور ڈاکٹر سید مرتضیٰ اصغر بخاری،سیکرٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ڈایریکٹر ٹرانسپورٹ سمیت مختلف اداروں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔سیشن میں شرکا نے ڈرافٹ پالیسی کے حوالے سے اپنی قیمتی ارا اور تجاوز فراہم کیں جبکہ پالیسی کے ڈیلنگ کنسلٹنٹ ڈاکٹر سید اختر علی شاہ نے پالیسی کے اہم خدوخال اور اغراض و مقاصد پر سیر حاصل پریزنٹیشن دی۔مشاورتی سیشن سے اپنے خطاب میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی سمیع اللہ خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ پالیسی لانا اس صوبے کیلئے ایک اعزاز ہے جسکا سہرا محکمہ ٹرانسپورٹ کی پوری ٹیم کی مرعون منت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ پالیسی اس صوبے کا ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے بڑا کارنامہ ہے کیونکہ ملک میں کسی اور صوبے نے ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں بنائی ہے اور نہ یہاں پر پہلے ٹرانسپورٹ پالیسی موجود تھی۔معاون خصوصی نے کہا کہ ہم ٹیم ورک کی شکل میں ٹرانسپورٹ شعبے کی بہتری کے لئے مزید بھی اچھے منصوبے لائیں گے جس میں لوگوں کی تجاویز و ارا کو شامل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کی تین عشروں پر محیط محنت اور جدوجہد میں انھوں نے جو وژن ہمیں دیا ہے وہ عوام کی خدمت و بھلائی اور قوم کو اگے لانے کا ہے۔اس طرح وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل افریدی کی قیادت میں اس شفاف وژن کے تحت لوگوں کی بھلائی کیلئے ہم ہمہ وقت کام کریں گے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہم کئی نئے منصوبے لا رہے ہیں۔ سرکلر ریلوے منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزارت ریلوے کیساتھ ایم او یو ہوا ہے۔ اسطرح الیکٹرک بائکس کا منصوبہ متعارف کیا جارہا ہے جس کے تحت خواتین اور بچییوں کو امدورفت اور تعلیمی اداروں وغیرہ کو انے جانے کیلئے سہولت ملے گی۔اس منصوبے کے حوالے سے پشاور میں شروعات کیلئے تیاری مکمل ہے جبکہ ائندہ فیز میں اسے صوبے کے دیگر علاقوں تک لے جایا جا? گا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں گرین ٹرانسپورٹ پر کام کررہی ہے جبکہ پشاور شہر کیلئے ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی فیزیبیلٹی سٹڈی میں گرین انرجی کا منصوبہ ڈالا جا رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ متعارف کرنے والی ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 پانی کا پہلا قطرہ ہے اور اس میں صوبے کے ضروریات و ترجیہات کے پیش نظر بہتری لائی جائے گی۔ اس پالیسی کے ثمرات سے عوام مستفید ہوں گے اور بانی چئیرمین عمران خان کے وژن کے تحت عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد ذبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پالیسی کا مطلب ایک روڈ میپ فراہم کرنا ہوتا ہے کہ اپنے طے شدہ مقاصد کو کیسے حاصل کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ٹرانسپورٹ پالیسی بنانے کی ہدایت کی تھی اس کے نتیجے میں یہ ٹاسک پورا کیا۔ اب انکی ہدایت کے مطابق الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر کام کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد معاشرے کے ہر سگمنٹ کو محفوظ اور ایکسیسبل ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔خیبر پختونخوا ٹرانسپورٹ پالیسی کا مقصد صوبے میں ایک محفوظ، قابلِ رسائی، مؤثر اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کا قیام ہے، جس کے ذریعے عوام اور اشیاء کی نقل و حمل کو بہتر بنایا جا سکے۔پالیسی کا مقصد سڑکوں پر حادثات میں کمی، محفوظ اور معیاری ٹرانسپورٹ نظام کا فروغ، اور سستی و جامع عوامی سفری سہولیات کی فراہمی ہے، جس میں خواتین، خصوصی افراد اور محروم طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف ذرائع آمدورفت کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ پالیسی کے تحت مال برداری، لاجسٹکس اور تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، بہتر رابطہ کاری، مؤثر ضابطہ کاری اور علاقائی تجارتی راہداریوں کو فروغ دیا جائے گا۔مزید برآں، ٹرانسپورٹ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، ڈیجیٹل نظام، شفاف حکمرانی اور مؤثر نگرانی کے ذریعے شعبہ ٹرانسپورٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ سیشن سے منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی افتخار احمد، چیف ایگزیکٹو افیسر ٹرانز پشاور نے بھی خطاب کیا۔

ہر ماں کا خواب صرف بیٹی کی کامیابی ہی نہیں، بلکہ اس کا محفوظ اور صحت مند مستقبل بھی ہے

ہر ماں کا خواب صرف بیٹی کی کامیابی ہی نہیں، بلکہ اس کا محفوظ اور صحت مند مستقبل بھی ہے
سروائیکل کینسر (Cervical Cancer) جیسے خاموش خطرے سے اپنی بیٹی کو بچانا اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ 9 سے 14 سال کی بیٹیوں کے لیے HPV ویکسین ایک حفاظتی ڈھال ہے جو ان کے آنے والے کل کو بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے۔

آج ہی ایک ذمہ دارانہ قدم اٹھائیں اور اپنی بیٹی کے روشن مستقبل کی ضمانت دیں۔

مفت ویکسینیشن کے لیے ابھی 1166 پر رابطہ کریں

CervicalCancerAwareness #HPVVaccine #SaveOurDaughters #HealthFirst #KPGovt #HealthDepartmentKP #PublicHealth #MotherAndChildHealth #PreventableDiseases #HealthyPakistan