Home Blog Page 207

مشیر صحت احتشام علی کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہسپتال کے انتظامی امور پر توجہ دینے، صبح شام ہسپتا کے مختلف شعبہ جات کے دورے کرنے اور صفائی ستھرائی سمیت دیگر امور پر دھیان د ینے کی ہدایت

مشیر صحت احتشام علی نے ہسپتالوں کے مسلسل دوروں کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی جانب سے کٹیگری اے، بی، سی اور ڈی ہسپتالوں کے تمام ایم ایس کو مراسلہ جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت کے مختلف ہسپتالوں کے حالیہ دوروں کے حوالے سے، تمام متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ روزانہ صبح اور شام کے اوقات میں ہسپتال کی نگرانی کیلئے مختلف شعبوں کے دورے کریں۔ ان ہدایات کے مطابق ہسپتال کے تمام شعبے بشمول وارڈز، او پی ڈی، تشخیصی شعبے، واش رومز صاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ہدایات میں مزید کہاگیا ہے کہ وارڈز میں مریضوں کے داخلے اور ڈسچارج رجسٹرز کا جائزہ لیں تاکہ ڈی ایچ آئی ایس-2 کے اصولوں کے مطابق درست اندراجات کیے جائیں۔ایم ایس کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وارڈز میں بستروں کی دستیابی اور حالت کا جائزہ لیں تاکہ بستر کی چادریں صاف ہوں اور مناسب دیکھ بھال کی جائے۔خط کے متن کے مطابق ایم ایس تصدیق کریں کہ کنسلٹنٹس، اسپیشلسٹ، اور میڈیکل افسران صبح اور شام کی شفٹوں میں اپنی مقررہ ڈیوٹی کریں۔ مزید لکھا گیا ہے کہ نرسنگ عملے اور پیرا میڈیکس کی موجودگی یقینی بنائیں۔تشخیصی شعبوں کی کارکردگی اور افادیت کی نگرانی کریں تاکہ تمام نتائج درست طریقے سے درج کیے جائیں۔مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ایم ایس او پی ڈی خدمات کے آپریشنل معیار کا جائزہ لیں اور مریضوں کی جانچ پڑتال کے مناسب ریکارڈ کو یقینی بنائیں۔اسی طرح کنسلٹنٹس کی وارڈز میں روزانہ دو مرتبہ راؤنڈ یقینی بنائیں تاکہ مریضوں کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ میڈیکل افسران اور اسپیشلسٹس کی ڈیوٹیز سرکاری ہدایات کے مطابق یقینی بنائیں۔ان ہدایات میں ہسپتال کے آپریشنز، ڈیوٹی روسٹرز، اور عملے کے نظم و ضبط کو یقینی بنانا، ضروری طبی سامان کی دستیابی کا جائزہ لینے، مریضوں کے علاج میں بروقت اقدامات کرنے سمیت ایمرجنسی خدمات کے لیے 24/7 تیاری کو یقینی بنانا شامل ہیں۔مراسلے میں ایم ایس کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے میڈیکل، پیرا میڈیکل اور انتظامی عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور حکومتی پالیسیوں اور طبی اخلاقیات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ایم ایس کو انفیکشن کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے، مالی امور، بجٹ، اور خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے اور تمام عملے کی بایومیٹرک حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فضل شکور خان کا ہزارہ ڈویژن کا دورہ، سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل کے حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فضل شکور خان نے جمعرات کے روز ہزارہ ڈویژن کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کے دفتر میں سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بالاکوٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا اور احکامات جاری کیے۔ صوبائی وزیر محنت کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام، وائس کمشنر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ خورشید عالم، ڈائریکٹر محکمہ محنت عرفان اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لیبر ثاقب خان، سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کی نمائندہ شاہین لیبر یونین کے عہدیداران اور کنٹریکٹرز شامل تھے۔ اس موقع پر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ (ای ایس ایس آئی) کے وائس کمشنر کی جانب سے ادارے کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی جبکہ ہزارہ ڈویژن خصوصاً سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والی لیبر سے متعلق مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ای ایس ایس آئی بغیر حکومتی فنڈنگ کے مکمل طور پر کنٹیریبوش کی بنیاد پر کام کرتے ہوئے مختلف کمرشل و صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کو میڈیکل اور کیش امداد فراہم کرتا ہے۔ صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان نے مزدور یونین کے مسائل کو غور سے سنا اور موقع پر ان کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مزدوروں کی نمائندہ یونین تین دن کے اندر اندر وفات پانے والے مزدوروں کے کیسز متعلقہ کنٹریکٹر کمپنی کے پاس جمع کروائے جبکہ کنٹریکٹر کمپنیسات دن کے اندر ان کیسز کی جانچ پڑتال کرکے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لیبر کو آگاہ کرے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت مزدوروں کے حقوق سے متعلق اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں بھر پوراقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے حال ہی میں مزدوروں کی ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس موقع پر کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے کہا کہ سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کی نمائندہ یونین کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ انہوں نے ڈائریکٹر محکمہ لیبر کو ہدایت کی کہ جانبحق مزدوروں کے گریجویٹی کے کیسز ایک ماہ اندر اندر نمٹائے جائیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان ایبٹ آباد شہر میں ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ کے تحت قائم ڈسپنسری کا بھی دورہ کیا اور وہاں مہیاء کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے عملے سے ملاقات کی اور انہیں محنت و لگن سے اپنے فرائض منصبی انجام دینے کی تاکید کی۔

رمضان میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

صوبہ بھر میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، بریفنگ

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے رمضان میں خوردونوش اشیاء کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور مصنوعی مہنگائی و ذخیرہ اندوزی کے تدارک کے لیے مرتب کردہ لائحہ عمل سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خوراک ثاقب رضا اسلم سمیت محکمہ خوراک کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری خوراک نے وزیر خوراک کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بھر میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں ڈویژنل سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اور متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کی نگرانی میں کام کریں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ٹیمیں نہ صرف آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کے کاروباری مراکز کا دورہ کریں گی بلکہ قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور چھاپے بھی ماریں گی۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عوام کا استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عام شہریوں کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ رمضان کے دوران مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور قیمتوں پر کھڑی نظر رکھیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان اور یونیورسٹی آف بونیر کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ جامعات کے موجودہ انفراسٹرکچر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے موڈ پر استعمال میں لانے کے لیے عملی اقدامات اٹھا کر یونیورسٹی کے مالی استحکام کے لیے بزنس ماڈلز کو سنجیدگی کے ساتھ تیار کریں انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مالی بحران کی شکار جامعات کو مالی طور پر مضبوط بنانے اور ان جامعات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد ان جامعات کو مالی بحران سے نکال کر مالی خود مختاری کی طرف لے جائیں گے صوبائی وزیر نے یہ ہدایت مذکورہ دونوں جامعات کی فنانشل سسٹینیبلٹی پلان کے حوالے سے منعقدہ الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلر، ایڈیشنل سیکرٹری اعلی تعلیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی صوبائی وزیر کو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی مردان کے مالی استحکام کے حوالے سے فنانشل سسٹینیبلٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں مالی استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں اخراجات میں کمی کی ہے اور ریونیو میں اضافہ کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے جبکہ یونیورسٹی میں موجود سول،میکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کی لیبارٹریز کو کمرشلائزڈ کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ پہلے مرحلے میں یونیورسٹی کو 200 KW کو شمسی نظام پرمنتقل کیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 200 کے ڈبلیو سولرائز ہو جائے گا جس سے سالانہ یوٹیلٹی بلز کی مد میں لاکھوں روپے کی بچت ہوگی مزید بتایا گیا کہ یونیورسٹی اگلے سیشن سے سول اور میکینیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی اور ایم ایس سی پروگرام اور بی ایس اور بی ایس سی کمپیوٹر انجینئرنگ، ارکیٹیکچر، روبوٹس اور سسٹینیبل انرجی کی پروگرام شروع کررہی ہے یونیورسٹی آف بونیر کے حوالے سے صوبائی وزیر کو الگ بریفنگ دی گئی بریفنگ میں یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام سمیت دیگر امور زیر غور لائے گئے جبکہ اس کے ساتھ سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ جامعات کی ریونیو بڑھانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے یونیورسٹی کی بزنس ماڈلز پر مزید محنت کریں۔ انہوں نے مذید ہدایت کی کہ اگلے جائزہ اجلاس میں جامعات کے پانچ سالہ سٹریٹیجک پلان پیش کیا جائیں انہوں نے کہا کہ مالی بحران کے شکار جامعات کو مالی خود مختاری کی طرف لانے کے لئے ہر ایک نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر پلو ڈھیری مردان کا دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ صوبہ بھر کے تمام ٹیکنیکل کالجز کو جدید خطوط پر استوار کریں اور طلباء کو معیاری فنی تعلیم میسر ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر پلو ڈھیری مردان کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کیا ہے۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران معاون خصوصی نے سنٹر کے تمام سیکشنز کا معائنہ کیا اور طلباء کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی کی ہے جبکہ طلباء کو درپیش مسائل بھی سنے اور ان مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہدایات بھی جاری کئے ہیں۔ کالج انتظامیہ نے سنٹر کے مختلف پہلوؤں پر معاون خصوصی کو بریفننگ دی ہے۔ اس دوران معاون خصوصی نے طلباء کی مختلف ٹریڈ کا بھی معائنہ کیا ہے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وژن کے مطابق ٹیکنیکل ایجوکیشن کو جدت کی طرف لے جا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ طلباء کو معیاری فنی تعلیم باہم پہنچا سکے تاکہ وہ اپنے لئے بہترین روزگار شروع کر سکے۔

کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے جمعرات کے روز ضلع مہمند کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر محکمہ زراعت توسیع کے ضلعی دفتر گئے جہاں انہیں زراعت کے مختلف امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع مراد علی خان، ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع آصف ا قبال اور دیگرمتعلقہ افسران بھی ان کے ہمرا تھے۔ صوبائی وزیر نے دورے کے دوران زرعی مشینری، سٹور ز،فارم سروسز سنٹرز اور حاضری رجسٹرڈ کا معائنہ کیا۔اس موقع پرانہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ زراعت کی ترقی کے لئے تمام تر صلاحتیں بروئے کار لائیں اور جہاں کہیں مسائل درپیش ہوں انہیں ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ بروقت ان کا ازالہ کرتے ہوئے ترقی کے عمل کو تیز کیا جاسکے۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ زمینداروں سے روابط رکھیں اور ان کی فصل کی پیداوار میں اضافہ کے لئے انہیں جدید سائنسی طریقوں سے آگاہ کریں۔اسی طرح انہوں نے باغات لگانے اور کسانوں کے لئے تربیتی سیشن کے انعقاد کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے ضلعی افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ماہانہ کی بنیاد پر کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس منعقد کریں اور ان میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ زمیندروں کے مسائل ضلع کی سطح پر آسانی سے حل ہو سکیں اور شعبہ زراعت بھی ترقی کر سکے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی عارف احمد زئی کی زیر صدارت جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات،جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان، کمیٹی اراکین و ایم پی یز عبدالسلام، افتخار علی مشوانی، محمد نعیم، شیر علی آفریدی سمیت سپیشل سیکرٹری مسعود احمد، جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات، فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور پاکستان فارسٹ انسٹیوٹ کے اعلیٰ حکام سمیت صوبائی اسمبلی اور محکمہ قانون کے افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں ماحولیات کے لئے سیکرٹری کی سربراہی میں ادراہ برائے تحفظ ماحولیات کا اپنا ٹربیونل قائم کرنے، ایف ڈی سی ٹمبر مارکیٹ میں پڑی لکڑیوں، کنٹینرز میں سفیدہ کی ترسیل پر پابندی، بھٹہ خشتوں کو زیگ زاگ ٹیکنالوجی پر منتقلی اور کرش پلانٹس کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی اس موقع پر معاون خصوصی برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات میں سیکرٹری کی سر براہی میں ٹربیونل کے قیام کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ ملکر کام کیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ ایف ڈی سی کے زیر اہتمام لکڑیوں کی نیلامی کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، لکڑیوں کا پورا ریکارڈ موجود ہے، لکڑیوں کی نیلامی سے نہ صرف صوبائی حکومت کو بلکہ لوگوں کو بھی منافع حاصل ہوگا، کنٹینر ز میں سفیدہ لکڑیوں کی ترسیل پر پابندی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ کنٹینرز میں سفیدہ کی ترسیل پر پابندی کی وجہ اس کی آڑ میں دیگر قیمتی لکڑیوں کی اسمگلنگ کا سدباب ہے لیکن اس حوالے سے جلد ایک میکنزم تیار کیا جائے گا جس کے تحت مردان، چارسدہ اور سفیدہ پیداوار والے دیگر علاقوں میں سفید ہ کی ترسیل کے لیے ایک جگہ کا انتخاب کیا جائے گا جہاں محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی نگرانی میں سفیدہ لکڑیوں کی لوڈنگ کی جائے گی جسکا پورا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا تاکہ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو آسانیاں فراہم کی جا سکیں، اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے میں آلودگی کا باعث بننے والے مزید بھٹہ خشتوں کو زیگ زاگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لئے بھٹہ خشت یونین سے بھی ملاقات کی جائے گی تاکہ صوبے میں واقع مزید بھٹہ خشتوں کو بھی زیگ زاگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جاسکیں، اراضی پر دیگر محکموں یا لوگوں کی دعویدار ی کے حوالے سے معاون خصوصی پیر مصور خان نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جس کے متعدد اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں، قائمہ کمیٹی کے چئیرمن عارف احمد زئی نے کہا کہ ایف ڈی سی ٹمبر مارکیٹ چکدرہ اور سوات گبین جبہ میں قیمتی لکڑیوں کا معائنہ اور جائزہ لینے کے لئے کمیٹی جلد وہاں کا دورہ کرے گی۔انھوں نے متعلقہ حکام کو ورکنگ پیپر بروقت کمیٹی اراکین کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا جنوری کی ٹیکس وصولی بڑھ کر 28.92 ارب ہوگئی ہے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی جانب سے ماہ جنوری کے ٹیکس محصولات بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کی جانب سے جنوری کے مہینے میں بھی اضافی محصولات جمع کرنے کی روایت برقرار رکھی گئی کیپرا اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا جنوری ٹیکس وصولی بڑھ کر 28.92 ارب ہوگئی ہے جبکہ ٹیکس محصولات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں میں نان ٹیکس وصولی 55 فیصد سے زیادہ ہے جس سے محصولات 50فیصد سے زیادہ ہو جائیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور کے مسلسل تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کیپرا حکام کو اضافی محصولات جمع کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

سوات کوریڈورپر ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر،صوبائی حکومت کافلیگ شپ منصوبہ ہے

ٹرانسمشن لائن کے ذریعے صوبائی حکومت اپنی بجلی سستے نرخوں پر مقامی صنعتوں کو بھی فراہم کرے گی

یہ منصوبہ 8 ارب روپے کی لاگت سے ڈیڑھ سال میں مکمل کیا جائے گا جس سے سرمایہ کاری کوفروغ ملے گا،سیکرٹری توانائی زبیرخان

خیبرپختونخوامیں بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری اورصوبے میں اپنے ذرائع سے پیداہونے والی سستی پن بجلی کو بہترطریقے سے استعمال میں لانے کے لئے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم ہونے والی خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈسسٹم کمپنی(KPT&GSC) جلد ہی پیڈوکے مکمل ہونے والے منصوبوں سے پیداہونے والی سستی بجلی کواپنے نظام سے استعمال میں لاکر نئی تاریخ رقم کرے گی۔سوات کوریڈورسے40کلومیٹرطویل220کے وی ٹرانسمیشن لائن بچھاناموجودہ صوبائی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس پرتیز ی سے کام کیا جارہا ہے۔ان خیالات کااظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیرخان نے خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈسسٹم کمپنی کے بارہویں بورڈ آف ڈائیریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹومحمدایوب سمیت دیگربورڈ ممبرزمشیر طلاء محمد،ایڈیشنل سیکرٹری عبدالحسیب،ڈائریکٹرایچ آراینڈایڈمن پیڈومحمدادریس خٹک اورڈپٹی سیکرٹری توانائی اعجازاکرم نے شرکت کی۔ اجلاس میں مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمشن لائن بچھانے کے جاری منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیاکہ ٹرانسمشن لائن کا منصوبہ 8 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔ ٹرانسمشن لائن 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور سوات میں صوبائی حکومت کے دیگر منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ یا رعایتی نرخوں پر مقامی صنعتوں کو فراہم کرے گی۔منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل سے صوبائی حکومت کو سالانہ تقریباً 7 ارب روپے کی آمدن ہوگی۔اس سلسلے میں پیڈواورنجی کمپنی کے درمیان پہلے ہی معاہدہ طے پاچکا ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے صوبے میں توانائی اور صنعت کے شعبوں میں انقلاب آئے گا۔ پاور ٹرانسمشن لائن کے ذریعے صوبائی حکومت اپنی بجلی سستے نرخوں پر مقامی صنعتوں کو بھی فراہم کرے گی جس سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو صوبے کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔اس موقع پرسیکرٹری توانائی نے کمپنی کے حکام پر زوردیا کہ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیلئے فزبیلٹی سٹڈی کی تیاری اورکنسلٹنٹ کی تقرری کا عمل مزید تیزکیا جائے تاکہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل کیا جاسکے۔ KPٹرانسمیشن اینڈ گرڈسسٹم کمپنی کے بورڈ کو مزید فعال بنانے کے لئے تیکنیکی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو شامل کیا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں کمپنی کو صوبے کے منافع بخش ادارے کے طورپر سامنے لایاجائے۔اجلاس میں کمپنی کے امورکی بہتری کے لئے کئی اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔

عمران خان کے خط لکھنے سے جعلی حکومت کے جعلی وزراء کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط لکھنے سے جعلی حکومت کے جعلی وزراء کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ خط لکھنے کے بعد شریف خاندان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں، نواز شریف اور مریم نواز کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔خط متعلقہ حکام کو موصول ہونے سے پہلے ہی جعلی وزراء نے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ جعلی حکومت کے ہوش ایک خط لکھنے سے ہی اڑ گئے ہیں، پتہ نہیں عمران خان کے رہا ہونے کے بعد جعلی حکومت کی کیا حالت ہوگی، عمران خان کے رہا ہونے کے بعد جعلی حکومت کو تمام اوچھے ہتھکنڈوں اورتمام غیر قانونی اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ شریف اور زرداری خاندان نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کو اقتدار کی پڑی ہوئی ہے۔ ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ عمران خان کا خط کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہے بلکہ انہوں نے اوپن خط لکھا ہے جسمیں مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عمران خان شریف خاندان کے اعصاب پر سوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہی ملک کا حقیقی لیڈر ہے اور وہ ہی ملک کو موجودہ مسائل سے نکال سکتے ہیں۔ فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا نہ ہوتا تو آج ملک کو موجودہ تباہی کا سامنا نہ ہوتا۔ جمہوریت پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد جعلی حکومت نے تمام ریاستی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے