وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات سہیل آفریدی کی زیر صدارت منگل کے روز محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبر پختونخوا کی کارکردگی اور متعلقہ اداروں کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد اسرار خان، ایم ڈی پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، ڈائریکٹر لیگل اورڈی ایس ٹیکنیکل سمیت تمام چیف انجینئرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اجلاس کو محکمہ کے امور اور اس سے جڑے اداروں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران محکمہ کے مستقبل کی حکمت عملی، ترقیاتی منصوبوں تکمیل اور نئی قانون سازی کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ ”سی اینڈ ڈبلیو ایکٹ” بھی زیر غور آیا۔ شرکاء نے اس ایکٹ کے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور محکمہ کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔اس موقع پرمعاون خصوصی سہیل آفریدی نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ سی اینڈ ڈبلیو ایکٹ کے مسودہ کو قانونی تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دیتے ہوئے ایکٹ کے نفاذ کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جاسکیں۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو عوامی خدمت کے ایک مثالی ادارے کے طور پر پیش کیا جائے اور اس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
پاکستانی نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے مربوط کوششوں کی فوری ضرورت ہے – سپارک
نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے، اورمؤثر اور جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک)نے دو روزہ مکالمے کا انعقاد کیا۔ مکالمے میں شرکاء نے متعدد پہلوؤں جیسے کہ تمباکو سے منسلک پالیسیوں کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا، قوانین کا سختی سے نفاذ، ٹیکس میں اضافہ، اور نئی تمباکو مصنوعات کے استعمال جیسے موضوعات پر بات کی۔ اس کے ساتھ ہی عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے جدید حکمت عملیوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف، مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ – خیبر پختونخوا نے تمباکو کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”تمباکو کا استعمال آنے والی نسلوں کے لئے پیچیدہ مسائل کا باعث بن سکتا ہے اور اس مسلے کو نظر انداز کرنا بہتر نہیں۔ نوجوانوں کی صحت کی حفاظت اور قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔”ڈاکٹر خلیل احمد، پروگرام منیجر – سپارک نے تنظیم کی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے فوری اور دیرپا اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”نوجوانوں میں تمباکو کا بڑھتا ہوا استعمال ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے جو عوامی صحت، اور ملکی معیشت کے لیے سنگین چیلنج ہے۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملیوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔”ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمن نے عالمی سطح پر تمباکو کے استعمال کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 1.3 ارب لوگ تمباکو استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صرف 35 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر سگریٹ نوشی کا معاشی بوجھ 615 ارب روپے سے زائد ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے ای سگریٹس جیسی نئی تمباکو مصنوعات پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین بنانے پر زور دیا۔ڈاکٹر فوزیہ حنیف، ڈپٹی ڈائریکٹر – وزارت قومی صحت نے پاکستان میں تمباکو سے متعلقہ امراض کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال تمباکو کی وجہ سے 160,000 سے زائد اموات ہوتی ہیں، جبکہ 10 سے 14 سال کے تقریباً 1,200 بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے قوانین کو مزید سخت کرنے اور نئی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر محمد آصف، چیف ہیلتھ – وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے غیر متعدی امراض جیسے پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماریاں اور سانس کی دائمی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے صحت کی انتباہات، عوامی آگاہی مہمات اور نوجوانوں کی شمولیت کو تمباکو کنٹرول کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔ماحولیاتی اثرات پر بات کرتے ہوئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے نمائندے راؤ محمد رضوان نے کہا کہ تمباکو کی کاشت جنگلات کی کٹائی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے پائیدار زرعی طریقے اپنانے پر زور دیا۔تقریب کے دوران ایف بی آر اور پیمرا کے نمائندوں نے بھی تمباکو پر ٹیکس اور میڈیا کے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مکالمے کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جائے گا، نئی مصنوعات کو ریگولیٹ کیا جائے گا، اور عوامی آگاہی کو فروغ دیا جائے گا۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی ڈی ایچ او کانفرنس: کارکردگی کا جائزہ، سزا و جزا کا آغاز
محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے آج مشیر صحت خیبرپختونخوا، احتشام علی کی زیر صدارت ماہانہ ڈی ایچ او کانفرنس بلایا گیا ہے۔ کانفرنس میں سیکرٹری صحت عدیل شاہ، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم، اے ڈی جیز، آر ڈی جیز، تمام ڈی ایچ اوز اور پروگرام ڈائریکٹرز شرکت کرینگے۔کانفرنس کا بنیادی مقصد تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران (ڈی ایچ اوز) کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینا ہے۔ اس موقع پر مشیر صحت احتشام علی نے واضح کیا کہ محکمہ صحت میں اب سزا و جزا کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جس کی کارکردگی جیسے بھی رہی ہو، لیکن آگے جس کی کارکردگی خراب ہوگی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔مشیر صحت نے مزید کہا کہ کانفرنس کے دوران تمام ڈی ایچ اوز کی ویکسینیشن، ادویات کی فراہمی، او پی ڈی، طبی آلات کی فعالیت، ذیلی عملے کی کارکردگی، اور اچانک دوروں کے نتائج جیسے اہم معیارات پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا“آج پتہ چل جائے گا کہ کون محنت سے کام کر رہا ہے اور کون سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے عہدے پر موجود ہے۔ خراب کارکردگی والے افسران کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔”مشیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر میں بہتری کے بغیر محکمہ صحت کے نظام کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا ان کے مطابق تمام افسران کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی، ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ کانفرنس محکمہ صحت میں اصلاحات اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا ایک اہم حصہ ہے۔ مشیر صحت نے واضح کیا کہ صحت کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے، اور کسی بھی قسم کی نااہلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان افریدی کی زیر صدارت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان افریدی کی زیر صدارت اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کو مالی بحران سے نکالنے اور انکو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور بزنس ماڈلز سے متعلق ایک اجلاس پیر کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کی کمیٹی روم میں منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے متعلقہ افسران سمیت اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی بزنس ماڈلز اور ریونیو بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں اسلامیہ کالج کی خیبر بازار اور ہری چند چارسدہ میں دکانوں کی مارکیٹ ریٹ پر دینے سے پیدا ہونے والے ریونیو پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں جون 2025تک یونیورسٹی کی ریونیو بڑھانے سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں بھی سیرحاصل بحث ہوئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے یونیورسٹی نے کوئی بھرتیاں نہیں کیں جبکہ یونیورسٹی کے 238 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دئیں گئے ہیں، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں مختلف بزنس ماڈلز پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی بریفنگ میں مذید بتایاگیا کہ اسلامیہ کالج کی بلڈنگ سیکنڈ ٹائم پر استعمال کیلیے دستیاب ہوگا جس سے ریونیو بڑھایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ ریونیو بڑھانے کے مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اس کے ٹیم کی یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے اور مالی استحکام کیلیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور اس ضمن میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، انہوں نے کہا کہ مالی بحران کے شکار جامعات کو بہت جلد مالی طور پر مستحکم بنائیں گے مالی بحران کاسامنے کرنے والے یونیورسٹیوں کو مالی طور پر مستحکم بنا کر صوبے کے تمام جامعات میں معیاری تعلیم کی فروغ کو عام کرینگے، انہوں نے کہا کہ مالی بحران کا سامنے کرنے والے جامعات کے وائس چانسلرز کو بزنس ماڈلز پیش کرنے اور طویل مدتی اور قلیل مدتی حکمت عملی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے اور بہت جلد اس کے اچھے ثمرات سامنے آئینگے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کا اچانک دورہ کیا۔اس موقع پر کالج پرنسپل انجینئر ظفر اقبال اور دیگر سٹاف بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے اپنے خطا ب میں کہا کہ فنی تعلیم کا فروغ اور طلباء کو معیاری فنی تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر انہوں نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا، انہوں نے طلباء کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔معاون خصوصی نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کے طلباء کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کالج میں طلباء کو معیاری تعلیم سمیت تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے طلباء کے اچھے مستقبل کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کرا ئی۔معاون خصوصی طفیل انجم نے کہا کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کے لئے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے سٹاف کی حاضری اور طلباء کو دی جانے والی تعلیمی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کے حوالے سے برطانوی ہائی کورٹ کا فیصلہ جعلی حکومت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے مطابق یہ رقم سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی جانی تھی، مشیر اطلاعات نے کہا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ ذاتی عناد اور بدنیتی پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ دیگر جعلی مقدمات کی طرح یہ مقدمہ بھی ہائی کورٹ میں بے بنیاد ثابت ہوگا، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کے تمام جھوٹے مقدمات کی حقیقت ایک ایک کر کے سامنے آ رہی ہے،یہ مقدمہ بھی جلد ختم ہونے والا ہے، جعلی حکومت کوئی اور جھوٹا مقدمہ بنانے کی تیاری کرے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ جانے کے بعد مریم نواز اور شریف خاندان کے تمام ارمان آنسوؤں میں بہہ جائیں گے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تمام جھوٹے مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور انشاء اللہ جیت سچ کی ہوگی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت جعلی مقدمات کے ذریعے اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ عمران خان کی طاقت عوام ہے اور عمران خان کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ بغض عمران خان میں فارم 47 کی جعلی حکومت نے آئین وقانون کو پامال کیا ہے۔ جعلی حکومت کا عمران خان اور پی ٹی آئی کے خاتمہ کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیرخان کی زیرصدارت
بالاکوٹ پن بجلی منصوبہ،صوبائی حکومت کی تعمیراتی کام میں سست روی پرتشویش
فلیگ شپ منصوبے کے ڈیزائن اورE&Mمیں تاخیرپر ٹھیکہ دارکو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ
توانائی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی تاخیرناقابل برداشت ہے،معاون خصوصی طارق سدوزئی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیرخان کی زیرصدارت توانائی کے جاری منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں بتایا گیاکہ بالاکوٹ پن بجلی منصوبہ ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو آئندہ 7سالوں کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک(ADB) اورAIIB یعنی ایشیاء انفراسٹرکچرانوسٹمنٹ بینک کے مالی تعاون سے مکمل کیاجائے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ 15ارب روپے کی آمدن ہوگی۔سیکرٹری توانائی محمدزبیرخان نے منصوبے پر کام کرنے والی چینی تعمیراتی کمپنی Gazoba China اورترک کنسلٹنٹ کمپنیDolsarکی ٹیم کی جانب سے منصوبے کے ڈیزائن اورای اینڈ ایم کے کام میں تاخیرپرسخت برہمی ظاہرکی۔معاون خصوصی توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے منصوبے پرکام کرنے والے ٹھیکہ دار،کنسلٹنٹ اورپراجیکٹ ڈائریکٹرکومنصوبے کی ڈیم سائیٹ پرکام کی رفتارمیں مزیدتیزی لانے پرزوردیااوربعض مقام پررکے ہوئے تعمیراتی کام کو فوری طورپر شروع کرنے کے احکامات جاری کئے۔ بعدازاں سیکرٹری توانائی نے لاوی پن بجلی منصوبے پر کام کی سست روی پر متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرکی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ توانائی منصوبوں میں مزید تاخیرناقابل برداشت ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ خیبرپختونخواحکومت نے چینی انجینئرزکے تعاون سے ضلع مانسہرہ میں صوبے کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے بالاکوٹ ہائیڈروپاورپراجیکٹ، 300میگاواٹ پرجاری تعمیراتی کام میں سست روی پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکہ دارکوتاخیرپرسخت نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح ضلع چترال میں 69میگاواٹ لاوی پن بجلی منصوبے پرکام کی سست روی پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکہ دارکو خبردارکیا گیا ہے کہ وہ منصوبے کو جلدازجلد مکمل کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے بصورت دیگرکسی بھی قسم کی مزید تاخیرناقابل برداشت ہو گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عوام اور حکمران کے درمیان فاصلے ختم کرنا تحریک انصاف کا طرہ امتیاز ہے پی ٹی آئی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعت ہے، 8 فروری کو قیادت کی کال پر لبیک کہیں گے، عمران خان کے خلاف عدالتی فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں بتدریج اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام عمران خان کو ہی اپنا لیڈر تسلیم کرچکے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ سوات میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سوات اور ملاکنڈڈویژن کے لئے جتنے بھی ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے ہیں اس کو عملی جامہ پہنائیں گے کوئی بھی منصوبہ ختم نہیں ہوا بلکہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس میں تاخیر آئی ہے، انشاء اللہ ترقی اورخوشحالی کاسفر جاری رکھیں گے اس حوالے سے لوگوں میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہیں انہوں نے کہا کہ سوات میں جس مقام پر بھی دریائے سوات میں غیر قانونی کھدائی کی جائے گی اس علاقے کی لوکل انتظامیہ کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں اور عوامی مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں عوامی مفادات عزیز ہیں جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، لوگوں کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے حکومت اور عوام کے درمیان نہ صرف حائل رکاوٹوں کو دور کیا بلکہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلوں کو بھی ختم کردیا ہے انہوں نے کہا کہ گریویٹی منصوبہ 2026 میں مکمل کردیا جائیگا اور اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی بھی بہتر انداز میں میسر ہوگی انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کے انڈونمنٹ فنڈ میں تاریخی اضافہ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کو صحافیوں کی محرومیوں اور ضروریات کا دوسروں کی نسبت زیادہ احساس ہے اب اس انڈونمنٹ فنڈ سے صوبے کے زیادہ سے زیادہ صحافی فائدہ اٹھاسکیں گے اور ماضی کی محرومیوں کا کسی حد تک ازالہ ہوسکے گا اسی طرح ہم دوسرے محکموں کی محرومیوں کو بھی دور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور ان کو فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پسماندہ اضلاع کے صحافی ترقی یافتہ ضلعوں کی نسبت زیادہ محرومیوں اور مشکلات کا شکار ہیں جس کا حکومت کو احساس ہے یہ صوبے کی پہلی حکومت ہے جنہوں نے بلا امتیاز پورے صوبے کے پریس کلبوں کیلئے خطیر رقوم کی صورت میں خصوصی فنڈز کا اجراء کیا جن سے پریس کلبوں کی ضروریات کسی حد تک حل ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ اگلے سال پریس کلبوں کے فنڈز میں صوبے کے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید اضافہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ جن محکموں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے ان کی یہ مالی مشکلات دور کی جائیں اور اس کا ایک ثبوت حال ہی میں صوبائی حکومت کی جانب سے بنوں یونیورسٹی کو جاری کیا جانے والا 15کروڑ فنڈ بھی ہے اسی طرح ہم محکمہ صحت پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ان کے مسائل کو حل کر رہے ہیں تاکہ وہ پسماندہ اور غریب عوام کو بہتر سے بہتر علاج اور سہولیات فراہم کر سکیں جو ہمارے قائد عمران خان کا منشور ہے انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا انتہائی ذمہ دار طبقہ ہے وہ حکومت انتظامیہ اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور عوام کے مسائل کی مثبت انداز میں نشاندہی کر کے ان کو موثر انداز میں حکومت تک پہنچاتے ہیں اور حکومت بھی صحافیوں کے نشاندہی کئے گئے مسائل کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیتی ہے۔
کرم کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کی بیٹھک، ترجمان حکومت خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس کے علاوہ دیگر سول و پولیس افسران شامل
کرم کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں، ترجمان حکومت خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس کے علاوہ دیگر سول و پولیس افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس موقع پرترجمان صوبائی حکومت خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریاست پر امن عناصر کیساتھ کھڑی ہے اور ظالم عناصر کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں موجود چند شرپسندوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے، امن معاہدے پر قانون اور پشتون روایات کے مطابق عملدرآمد کرایا جائے گا۔ شرپسندوں کے خلاف کاروائی میں پولیس اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے سکیورٹی فورسز سپورٹ میں موجود ہوں گی۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ امن پسند لوگوں کے درمیان کچھ شرپسند گھس گئے ہیں، امن پسند لوگوں کو نقصان سے بچانے کیلئے انہیں شرپسندوں سے الگ کرکے کارروائی کی جائے گی۔ ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے عوام کے لیے رہائش کے بہترین متبادل انتظامات کیے گئے ہیں، ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت دونوں فریقین سے درخواست کرتی ہے کہ اپنے درمیان موجود شرپسندوں کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔ ترجمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت گزشتہ تین مہینوں سے کرم میں پرامن طریقے سے امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، گرینڈ جرگے کے ذریعے پشتون روایات کے مطابق امن معاہدہ کیا گیا، کرم میں چند شرپسند عناصر نے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی، شرپسندوں نے ڈپٹی کمشنر پر قاتلانہ حملہ کیا، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے، شرپسند عناصر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور امدادی سامان کے قافلوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں،حکومت جلد ہی متاثرہ علاقوں سے شرپسندوں کا خاتمہ کرکے علاقے میں امن بحال کر دے گی۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت نے امن معاہدے کے مطابق امن بحال کرنے کی پوری کوشش کی ہے، کرم کے عوام امن چاہتے ہیں اور امن معاہدے کا احترام اور پاسداری کرتے ہیں۔
