Home Blog Page 212

خیبر پختونخوا حکومت کی اچھی کارکردگی دیکھ کر مریم نواز نے پوری تقریر صوبائی حکومت کے خلاف کردی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

موجودہ حالات کے مطابق پنجاب میں 58 فیصد کم پیداوار ہوئی ہے۔ پنجاب میں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور راولپنڈی کے سرکاری سکول برائے فروخت ہیں، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا مریم نواز کے خطاب پر ردعمل

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی اچھی کارکردگی دیکھ کر مریم نواز نے پوری تقریر صوبائی حکومت کے خلاف کردی اور گزشتہ روز مریم نواز کی کسان کارڈ کے اجراء کو کسانوں نے مسترد کردیا جبکہ پنجاب کے کسان اپنے معاشی قتل کا حساب مانگ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حالات کے مطابق پنجاب میں 58 فیصد کم پیداوار ہوء ہے۔ پنجاب میں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور راولپنڈی کے سرکاری اسکول برا? فروخت ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اب تک کتنے سولر لگائے اور اب تک کتنے ٹریکٹر بانٹے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع کے لئے عرض ہے خیبر پختوخوا حکومت تاریخ کے بلند ترین خزانے پر بیٹھی ہے اور خیبرپختونخوا نے قرض اتارنے کا فنڈ بنا کر ایک ساتھ پانچ فیصد قرض کی رقم رکھی جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب نے اپنے کسانوں سے گندم تک نہیں خریدی ہے اور خیبرپختونخوا نے پنجاب کے کسانوں سے 20 ارب کی نقد گندم خریدی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پہلے چھ ماہ میں صحت کارڈ کی مد میں 15 ارب خرچ کئے جس سے چار لاکھ لوگوں کا علاج ہوا۔ مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کو چینلج دیتے ہوئے کہا کہ آؤ پروگرام رکھے آئے مقابلہ کریں کس صوبے نے کتنا کام کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخو اپورے صوبے باالخصوص ضم قبائلی اضلاع کی حقیقی معنوں میں تیز تر ترقی چاہتے ہیں۔وزیر قانون

خیبرپختونخوا کے وزیر قانون وپارلیمانی امور آفتاب عالم آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈ اپور پورے صوبے باالخصوص ضم قبائلی اضلاع اوردیگر ضم علاقوں کی تیز ترترقی کیلئے وژنری سوچ رکھتے ہیں اوروہ حقیقی معنوں میں ان کی ترقی چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوانے ضم قبائلی اضلاع اوردیگر ضم علاقوں کی تیز ترترقی کیلئے ”گرینڈقبائلی جرگہ“ کے نام سے خصوصی پروگرام شروع کرکے اس پرعملی کام کا آغاز بھی کردیاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز ڈسٹرکٹ کونسل ہال کوہاٹ میں ضم تحصیل درہ آدم خیل کے ”عوامی جرگہ“سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیاجس کا اہتمام ڈپٹی کمشنرکوہاٹ عبدالاکرم نے کیاتھا۔ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ نے جرگے کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جرگہ کے انعقاد کامقصد وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی جانب سے ضم اضلاع کی تیز ترترقی کیلئے گرینڈقبائلی جرگہ کے نام سے شروع کردہ پروگرام پر تحصیل درہ آدم خیل کے منتخب نمائندوں،قبائلی زعماء، عمائدین علاقہ اورعام لوگوں کی آرا ء اوروزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق ضم علاقوں کیلئے نئے اقدامات اورترقیاتی عمل میں مشاورت حاصل کرناہے۔جرگہ سے تحصیل ناظم شاہد بلال آفریدی،سابق ایم این اے باز گل آفریدی اوردیگرچیدہ چیدہ قبائلی زعماء نے بھی خطاب کیا اورعلاقے کی ترقی کی حوالے سے مفید اورقابل عمل تجاویز اورسفارشات پیش کیں۔ انہوں نے علاقے کو درپیش بعض بڑے مسائل کی بھی نشاندہی کی جن کا صوبائی وزیرنے ترجیحی بنیاد وں پر حل کرنے کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ آج کے جرگے کے انعقاد کا مقصد بھی علاقے کی ترقی کیلئے یہاں کے عوام کی قیمتی آراء اور تجاویز حاصل کرنا ہے اورشرکاء نے بہترین اورقیمتی تجاویز اورسفارشات دی ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ درہ آدم خیل کی اقتصادی ترقی اورتیکنیکی ہنر مندی کے فروغ کیلئے درہ آدم خیل میں انڈسٹریل زون کاقیام زیر غور ہے۔اسی طرح علاقے میں زراعت کے فروغ اورزیتون کے باغات لگانے کے علاوہ قدرتی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ڈیموں کی تعمیر پر بھی کام کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں،سکولوں اورکالجوں کی اپگریڈیشن کے علاوہ درہ آدم خیل اورجواکی ایریا میں علیحدہ علیحدہ سپورٹس کمپلیکس پربھی کام جاری ہے۔آفتاب عالم نے ٹی ایم اے درہ آدم خیل کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کا بھی یقین دلایا۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے بدھ کے روز

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے بدھ کے روز پشاور میں سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ،ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس اور خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں محکمہ صنعت کے مذکورہ شعبوں کی ذمہ داریوں اور کارکردگی کے حوالے سے دئے گئے احکامات پر عملدرآمد اورحاصل کردہ اہداف کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب اللہ عارف،ایڈیشنل سیکرٹری صنعت ریحان گل خٹک،چیف کمرشل آفیسر کے پی ایزڈمک عادل صلاح الدین،ڈایریکٹرانڈسٹریز حسن عابد کے علاؤہ مذکورہ شعبوں کے دیگر حکام و افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایس آئی ڈی بی کے تحت کاروبار کیلئے اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے 4 بلین روپے کے قرضہ سکیم کی تیاری پر کام جاری ہے جبکہ صوبے میں مختلف نئی چھوٹی صنعتی بستیوں کو بجلی کی فراہمی اور ترسیل کے معاملات کو حل کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ انڈسٹریل پارک پشاور میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا کام تیزی کیساتھ اگے کی جانب گامزن ہے اور اس ضمن میں منصوبے کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب عنقریب ہوگی۔اجلاس میں باجوڑ سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام میں حائل مراحل کو جلد طے کرنے جبکہ انڈسٹریل پارک ڈی آئی خان کے قیام کے امور کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔اس طرح ایس آئی ڈی بی کے وسائل اور بستیوں کے تفصیلات اور اراضی کے کوآرڈینیٹس اور ڈیجٹائزڈ میپنگ کا بندوبست کرنے کی بھی ہیدایت کی گئی۔اجلاس میں معاون خصوصی نے کہا کہ بورڈ کے ڈیجٹائزیشن کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔اس موقع پر نظامت اعلی صنعت وحرفت کی جانب سے مختلف کاروباری شعبوں کی رجسٹریش،محاصل اور قوانین کے تحت انڈسٹریل شعبوں کی رجسٹریشن میں اب تک حاصل کیئے گئے اہداف اور پلان کے حوالے سے فورم کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ گودام رجسٹریشن کے طریقہ کار کو عوام کی آسانی کیلئے سہل بنانے کیلئے علاقائی دفاتر کو با اختیار بنایا جائے۔اس طرح کمرشل کورٹس کی کارکردگی،اپرینٹس شپ ایکٹ کے تحت حاصل کردہ اہداف اور پیشہ ورانہ امور کی کمپوٹرائزیشن کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے بھی فورم کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والے فلنگ اسٹیشنز کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے سروے کیا جائے تاکہ ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں نظامت صنعت کے عملے کی کارکردگی کی بنیاد پر جزا کیکسی معقول نظام کو اپنانے کیلئے دیگر محکموں میں اعلی کارکردگی پر دئے جانے والے ریوارڈ کی مسابقتی جائزے کی ہدایت کی گئی۔ اس طرح سوات میں پرنٹنگ پریس کی ملکیتی اراضی کو واپس حاصل کرنے کیلئے کیس پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہیدایت کی گئی۔اجلاس میں سالٹ اینڈ جپسم سٹی کرک،بونیر ماربل سٹی کے امور،رشکئی سپیشل اکنامک زون میں بجلی کی فراہمی کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ محکمہ صنعت ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام(AIP) کے تحت کے پی ایزڈمک کوفنڈز کی ادائیگی کیلئے کیس تیار کرے تاکہ تعمیراتی واجبات کے بقایاجات کو ادا کیا جا سکے۔اس طرح کے پی ایزڈمک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نامزدگی کے امور کو بھی جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے آئی سی ٹی پاشا ایوارڈ 2024 میں سٹوڈنٹس کیٹیگری میں گولڈ ایوارڈ لینے پر

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے آئی سی ٹی پاشا ایوارڈ 2024 میں سٹوڈنٹس کیٹیگری میں گولڈ ایوارڈ لینے پر گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول نمبر ون ہریپور کے طالب علم محمد اویس اور حاشر خان کو خصوصی کیش پرائز اور اعزازی شیلڈ دی
گزشتہ روز میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آئی سی ٹی پاشا ایوارڈ 2024 میں گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول نمبر ون کے طالب علم محمد اویس اور حاشر خان نے سمارٹ ٹاؤن پراجیکٹ بنا کر سینیئر سٹوڈنٹس کیٹگری میں گولڈ ایوارڈ اپنے نام کیا- اس شاندار کامیابی پر کامیاب طلبا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی ہدایات پر پشاور سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اسوند یار خٹک، ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ میڈم نیلم سلطانہ خٹک کے علاوہ محکمہ تعلیم کیسینئیر دیگر حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کامیاب طالب علموں کو دس دس ہزار روپے کیش انعام سے نوازا- اس موقع پر ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا گیا -صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم طلبا کو آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع مہیا کرتا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ ہمارے طلبا نہ صرف پاکستان بلکہ انٹرنیشنل لیول پر خیبرپختونخوا کا نام روشن کریں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے طلبا مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ قابل تحسین ہے۔

وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس، ویٹ اسٹوریج بڑھانے اور گندم کے عمل کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ خوراک کا ایک اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو اور سیکرٹری خوراک ثاقب رضا اسلم کے علاوہ محکمہ خوراک کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی طرف سے پاسکو کی تحلیل کے فیصلے کے تناظر میں صوبائی حکومت کے لائحہ عمل پر بھی غوروخوص کیا گیا اور ایسی صورت میں صوبائی حکومت کی ویٹ اسٹوریج کی استعداد کو بڑھانے اور اس سلسلے میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں منصوبہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ پاسکو کی تحلیل کی صورت میں وفاقی اور پنجاب حکومتوں سے اس بات کی ضمانت لی جائے کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگے گی اور یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائے گا۔
اجلاس میں گندم کی خریداری کی مد میں پاسکو کے بقایاجات کی ادائیگیوں سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اجلاس میں گندم کی خریداری کی مد میں مقامی کاشتکاروں کے بقایاجات ترجیحی بنیادوں پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی استعداد کو بڑھانے کے لئے درکار عملے کی کمی پوری کرنے اور محکمے کے جملہ امور خصوصاً گندم کی خریداری، نقل و حمل اور اسٹوریج سے متعلق معاملات کو ڈیجیٹائز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی ملکیتی جائیدادوں کے بہتر انتظام و انصرام اور ان سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کو صوبے میں گندم کی ضرورت، دستیاب اسٹاک، ریلیز پالیسی، اسٹوریج کی استعداد اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے پاس اس وقت وافر مقدار میں گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گندم کی خریداری سے متعلق جملہ امور میں شفافیت اور گندم کے معیار کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے گندم کی خریداری، نقل و حمل اور اسٹوریج کے سارے عمل کو ڈیجیٹائز کیا جائے۔

مشیر صحت احتشام علی کو محکمہ صحت کی ڈیجیٹائزیشن بارے آئی ٹی سیل کی بریفنگ

0

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی کی سربراہی میں محکمہ صحت کی ڈیجٹائزیشن بارے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ غفور شاہ، محمد خلیل ڈائریکٹر آئی سی ٹی پاپولیشن کونسل اسلام آباد، انچارج آئی ٹی سیل محکمہ صحت زکی اللہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اشفاق احمد، یاسین خان ویب ڈویلپر، اشفاق احمد و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ محمد خلیل ڈائریکٹر آئی سی ٹی پاپولیشن کونسل اسلام آباد نے انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیش بورڈ پر مشیر صحت کو بریفنگ دی۔ مشیر صحت کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت کے تمام مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز کو انٹیگریٹ کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب انچارج آئی ٹی سیل محکمہ صحت زکی اللہ نے مشیر صحت کو ڈیجٹائزیشن پر مفصل بریفنگ دی۔انہوں نے مشیر صحت کو بریف کیا کہ ایچ آر ریکارڈ کو ڈیجٹائز کردیا گیا ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس سے خالی اور پُر کی گئیں تعیناتیوں کا بروقت پتہ چل سکے گا۔ اسی طرح لیو مینجمنٹ سسٹم کو بھی متعارف کرایا جائے گا۔ ایچ آر ڈیٹا میں ضلع وائز ویریفیکیشن ہونا باقی ہے۔ مشیر صحت نے ہدایات دیں کہ تقرریوں و تعیناتیوں کیلئے آن لائن سسٹم جلد سے جلد فعال کیا جائے۔ آن لائن پوسٹنگ ٹرانسفر سے جعلی نوٹیفیکیشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ آن لائن پوسٹنگ ٹرانسفر سے ہر قسم ای او سیز و نوٹیفیکیشن کی تصدیق ہوسکے گی۔ تمام ڈی ایچ اوز اور ایم ایس اپنا ڈیٹا آن لائن کرنے مختص ایپس اور سسٹمز کا استعمال یقینی بنائیں۔ مہینے کے اندر اندر محکمہ صحت کا سارا ڈیٹا ڈیجٹائز ہونا چاہئے۔ تمام پوسٹنگ ٹرانسفرز آن لائن ہونگیں۔ اسی طرح ایسیٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت لئے گئے ڈیٹا پر مراکز صحت کو فعال بنانے کا کام لیا جائے گا۔ چالیس سے زائد پروگرامز سے ایم آئی ایسز کو انٹی گریٹ کیا جارہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان نے سیدو شریف ہسپتال کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان نے سیدو شریف ہسپتال کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مالم جبہ روڈ پر جہان آباد کے قریب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پولیس موبائل گاڑی میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا مانگی جبکہ زخمیوں کی بہتر سے بہتر علاج کیلئے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت بھی جاری کی، صوبائی وزیر نے واقعے میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل برہان علی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے واقعے کو انتہائی افسوناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کے بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہونگے، پاکستانی قوم متحد ہے اور امن کے قیام کے لئے اپنے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر حج، اوقاف اور مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے کہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر حج، اوقاف اور مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے کہا ہے کہ اصلاح معاشرہ اور امن و امان کے قیام میں علماء کا کردار انتہائی اہم ہے لہذا علماء متحد ہو کر مثالی اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ یہ بات انہوں نے اوقاف کمیٹی روم میں متحدہ علماء بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ اوقاف عادل صدیق اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ علماء کرام کے کردار و اخلاق سے انکار ناممکن ہے، علماء کرام خطباء کرام کا معاشرے کی اصلاح میں اپنا ایک رول ہے، موجودہ صوبائی حکومت علماء کرام کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے لہذا ان کی مالی مشکلات سمیت دیگر تمام مسائل حل کرنے کے سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، مدارس کی ترقی اور علماء کرام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔ علماء کرام نے صوبائی وزیر کا دینی مدارس کی ترقی اور علماء و خطباء کرام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنے اور حالیہ قومی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انعقاد پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔

کرک کے عوام کو ان کے جائز حق سے اگر محروم رکھا گیا تو وہ اپناحق چھیننے پر مجبور ہوں گے۔ میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ کرک کے عوام کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی سہولت فراہم کرنا ان کا حق ہے ان کے اس جائز حق سے اگر محروم رکھا گیا تو وہ اپنا حق چھیننے پر مجبور ہوں گے۔ کر ک کے عوام گیس کمپنیوں سے خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں اور انہیں ان کا حق ملنا چاہئے اور اس بارے میں کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کرک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور معززین علاقہ بھی موجود تھے۔وزیر زراعت نے کہا کہ اگر باقی شہروں میں گیس چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی ہے تو پھر جس علاقے میں گیس کی پیدا ہو رہی ہے وہاں پر گیس کیوں نہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سابقہ وفاقی حکومت نے ضلع کرک کیلئے مختص رائلٹی فنڈز میں سے سات ارب روپے پراجیکٹ کیلئے بطور قرض لئے تھے اور اس منصوبے کے تحت بہتر ہزار گھرانوں کو گیس کی سہولت فراہم کی جانی تھی مگر سات ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود ان گھرانوں کو گیس کی سپلائی کا ہدف مکمل نہ ہوسکا اس لئے اس سات ارب روپے کے پراجیکٹ کا پورا حساب دیا جائے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ اوجی ڈی سی اور دیگر کمپنیاں معاہدے سے زیادہ تیل ا ور گیس نکال رہی ہیں جس کے باعث یہاں کے عوامی وسائل بے دردی سے ضائع ہورہے ہیں اور ان مسائل کے بارے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو آگاہ کیا گیا ہے۔ میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا وفاقی حکومت سے عمائدین علاقہ اپنی گیس رائلٹی فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عمائدین علاقہ کو اپنا حق نہ دینے پر قومی تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سات ارب روپے پر مبنی گسیفیکشن پراجیکٹ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرے گی اورضلع کرک میں گیس کے جملہ مسائل کے حل کے حوالے جلد آل پارٹیز کانفرنس بلا ئی جائے گی جس میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عوام کوسات ارب روپے کی رقوم کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کس فارمولے پر لی گئی ہیں اب وہ واپس کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرک کے لوگوں کو صرف کلاس فور کی نوکریاں دی جارہی ہیں جبکہ افسران دوسرے صوبوں سے لیے جاتے ہیں ہم دوسروں صوبوں کے لوگوں کے مخالف نہیں مگر ہمارے عوام کو نوکریوں میں برابر کا حصہ دیا جائے۔ یہاں پر حد سے زیادہ تیل و گیس نکالا جارہا ہے جس سے کنویں خشک ہورہے ہیں۔ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ گیجز نہیں لگائے گئے۔ یہ عوام کے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے۔ صوبائی وزیر نے مذکورہ عوامی مسائل کے حل نہ ہونے کے صورت میں بھر پور تحریک چلا نے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین خان گنڈاپور نے سات ارب کی واپسی میں کردار ادا کرنے اور وفاق کے ساتھ معاملہ اٹھانے کا عزم کیا ہے۔ قوم کے پیسوں کی حفاظت کی جائے گی اور کسی کو ڈاکا نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیس پراجیکٹس میں مقامی لوگوں کو روزگار دیاجائے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کے ایم یو کے زیر انتظام صوبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے

خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کے ایم یو کے زیر انتظام صوبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا کامیاب انعقاد صوبے کے سات شہروں کے 13سنٹروں میں کیا گیا۔یہ ٹیسٹ پشاور،ایبٹ آباد، کوہاٹ، چکدرہ،مردان، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوا۔اس ٹیسٹ میں 23339طلباء اور 18990طالبات جبکہ مجموعی طور پر 42329 طلباء شریک ہوئے۔ٹیسٹ کے بہترین انتظامات پر طلباء اور والدین نے کے ایم یو اور وفاقی وصوبائی اداروں اور پی ایم ڈی سی کی کارکردگی کی تعریف کی۔ سیکرٹری ہیلتھ، کمشنر پشاور،ڈی جی ہیلتھ،ایف آئی اے،آئی بی کے متعلقہ حکام نے وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے ہمراہ پشاورکے تمام امتحانی مراکزکا دورہ کیا۔ وائس چانسلر کے ایم یوپروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے ٹیسٹ کے کامیاب انعقاد پر کے ایم یو سٹاف،چیف سیکرٹری،ڈویژنل اور ڈپٹی کمشنرز،ڈی پی اوز،ٹریفک پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کاانعقاد ہمارے لیئے ایک بڑا چیلنج تھا جس کے کامیاب انعقاد پر ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں۔ وی سی کے ایم یوپروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ محکمہ داخلہ، پولیس، ٹریفک پولیس،ایف آئی اے،آئی بی،سپیشل برانچ کے فول پروف انتظامات اور سیکورٹی پلان کے باعث امتحان انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوا۔واضح رہے کہ امتحانی پیپر بمعKey کے ایم یو کی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کر دیئے گئے ہیں جس سے طلباء فراہم کردہ جوابی کاربن کاپی سے اپنے نتائج خود اخذ کرسکتے ہیں، ٹیسٹ کے حتمی نتائج کا اعلان72گھنٹوں کے اندر کیا جائیگا جسے کے ایم یو کی آفیشل ویب سائیٹ پر دیکھا جاسکے گا۔