پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں تجاوزات اور ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا کرنے والے غیر قانونی سپیڈ بریکرز کے خلاف نتیجہ خیز آپریشن کے احکامات جاری، تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لیے تاجروں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے، ڈپٹی کمشنرز کو اسکولوں اور مراکز صحت کے دوروں میں تیزی لانے، سو فیصد عملے کی حاضری یقینی بنانے اور عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے بھی احکامات جاری اس کے علاوہ تمام پانچوں اضلاع میں غیر قانونی کرش پلانٹس اور بل بورڈز کے خاتمے کے لیے بھی ہدایات جاری، صوبائی حکومت کے عوامی ایجنڈا پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی تمام ڈپٹی کمشنرز سے دس دنوں میں رپورٹ طلب۔ اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ماہ اگست اور ماہ ستمبر کے حوالے سے ضلع کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنرز نے بزریعہ ویڈیو لنک شرکت کی اجلاس میں تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع کی ماہ اگست اور ماہ ستمبر کی کارکردگی کے حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی جس کے تناظر میں ضروری احکامات جاری کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں زیر التوا ریونیو، لینڈ ایکوزیشن اور انتقلات کیسز جلد سے جلد نمٹائے تاکہ عوام کو بار بار پیشیوں سے نجات دلائی جاسکے اس کے علاوہ سٹیزن پورٹل پر موصول شکایات کے فوری ازالے اور نتیجہ خیز کھلی کچہریوں کے انعقاد اور سرکاری واجبات کی فوری اصولی کے بھی احکامات جاری کیے اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کے عوامی ایجنڈے کے تحت ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے تمام ڈپٹی کمشنرز سے دس دنوں میں رپورٹ طلب کرلی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسٹینشن لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ خیبرپختونخوا پشاور میں ماہانہ کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسٹینشن لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ خیبرپختونخوا پشاور میں ماہانہ کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیو اسٹاک محمد طاہر اورکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری لائیو سٹاک نیاز محمد خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان سمیت تمام ضلعی و پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمے کی ماہانہ کارکردگی، گڈ گورننس روڈ میپ اور ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جس طرح ایمرجنسی کی صورت میں عوام ریسکیو 1122 کو کال کرکے ایمبولینس سروس حاصل کرتے ہیں اسی طرز پر محکمہ لائیو سٹاک میں بھی مویشی پال کسانوں کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر مقرر کیا جائے تاکہ صوبے بھر کے کسان اس نمبر پر رابطہ کرکے فوری رہنمائی، علاج اور دیگر سہولیات حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مقصد عوامی خدمت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ ہر مویشی پال کسان کو اپنے دروازے پر سہولت میسر ہو۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے اس نئے نظام کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان نے صوبائی وزیر کو محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں اس ماہ محکمہ لائیو سٹاک کی کارکردگی میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسی جذبے اور محنت کے ساتھ خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے اور مزید بہتری کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔ اس دوران صوبائی وزیر نے تمام ضلعی ڈائریکٹرز سے حلف لیا کہ وہ جانوروں کا خیال اسی طرح رکھیں جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ اجلاس میں تمام ضلعی ڈائریکٹرز نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جن میں رسک الاؤنس، رہائشی سہولتوں اور دیگر اہم معاملات شامل تھے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام افسران اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں کیونکہ غفلت برتنے والے افسران کے لیے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران میں شیلڈز تقسیم کیں۔
ڈاکٹر شفقت ایازکی اپنے دفتر میں عوامی وفود سے ملاقاتیں، مسائل سنے، فوری احکامات جاری کیے، اور عوامی خدمت کے تسلسل کو مزید مضبوط بنایا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بدھ کے روز اپنے حلقے سمیت صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، اُن کے مسائل سنے، تجاویز حاصل کیں، اور فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔دفتر میں آنے والے عوامی وفود نے تعلیم، صحت، پانی، بجلی، انٹرنیٹ، روزگار، سڑکوں کی حالت، اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل ڈاکٹر شفقت ایاز کے سامنے رکھے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے تمام مسائل نہایت توجہ سے سنے اور وفود کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر اِن تمام امور کی نگرانی کریں گے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے اُن کا فرض ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں، اُن کی بات سنیں، اور اُن کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت نے عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی، اور فوری مسئلہ حل کرنے کے نئے طریقہ کار متعارف کرائے ہیں، تاکہ ہر شہری کو انصاف اور سہولت اُس کی دہلیز پر فراہم ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور دن رات خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ اُن کا ویژن ایک ایسا مضبوط، جدید اور خودکفیل صوبہ ہے جہاں تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت، توانائی، اور نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، تاکہ شفافیت، تیز رفتاری، اور عوامی اطمینان میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا وژن یہی ہے کہ“عوام کو طاقت کا سرچشمہ”بنایا جائے، اور عوامی نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کے خادم بنیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کی تعلیم، روزگار، انصاف، اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی پالیسیوں کا محور بنایا، اور آج خیبرپختونخوا حکومت اُسی وژن کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے، اور اب صوبائی حکومت اُس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ عمران خان اور علی امین گنڈاپور دونوں کا ویژن یہی ہے کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے جدید، تعلیم یافتہ، ڈیجیٹل، اور خوشحال صوبہ بنے، جہاں ہر شہری کو برابری کے مواقع، انصاف، اور بنیادی سہولیات حاصل ہوں۔ ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ عوامی خدمت ہی اُن کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے، اور وہ ہر روز عوام سے براہِ راست ملاقاتیں جاری رکھیں گے تاکہ اُن کے مسائل اُن کے سامنے ہی حل کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ“یہی عمران خان کا وژن اور علی امین گنڈاپور کی پالیسی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی خدمت کے اس تسلسل کو مزید مضبوط بنائے گی، اور صوبے کے ہر شہری کو جدید سہولتوں اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی یقینی بنائے گی۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی ثانوی تعلیم محمد عاصم خان کے زیر صدارت محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت جاری کی کہ محکمہ تعلیم کے جاری منصوبوں کی جلداز جلد تکمیل یقینی بنانے کیساتھ ساتھ نئے منصوبوں کیلئے لائحہ عمل فوری طور پر تیار کیا جائے اور ریلیز شدہ بجٹ کو فوری خرچ کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر عوامی مفاد میں شروع کردہ منصوبے فوری طور پر مکمل کرنااور درس وتدریس شروع کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں طلباء و طالبات سکولوں سے باہر ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل سے ان بچوں کو اپنے ہی قریبی علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے ایجوکیشن حکام کو تنبیہہ کی کہ جن ملازمین کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسز اور سیکرٹریٹ پلاننگ سیکشن میں ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے ہر سیکشن سے اس کی پراگریس بارے پوچھا جائے گا۔ تمام کاموں کیلئے ٹائم لائن مقرر کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سکول جن میں تعمیراتی کام مکمل ہوچکاہے ان کیلئے ملازمین کے پوسٹوں کی منظوری کے کیسز بھیجے جائیں اور وہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے بنائے گئے منصوبوں کے پی سی ون پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ صوبے کے ہر ضلع کے ہر سکول کو فرنیچر، وائٹ بورڈز اور مفت درسی کتب کی فراہمی کیساتھ ساتھ مفت سکول بیگز کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایات اُنہوں نے محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری مسعود، چیف پلاننگ آفسر زین اللہ شاہ بشمول پلاننگ اور مانیٹرنگ سیکشنز کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔معاون خصوصی برائے تعلیم محمد عاصم خان نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم میں ٹیلی تعلیم کے نام سے پائلٹ کے تحت آن لائن تعلیمی پروگرام شروع کیا جارہا ہے جس کو پھر صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ اساتذہ کی تربیتی پروگرام میں مزید اصلاحات لائے جا رہی ہیں۔ جبکہ آئی ٹی لیبز، سائنس لیبز، سپورٹس سہولیات، لائبریری اور ڈیجیٹل کلاس رومز پر مشتمل سنٹر آف ایکسیلینس تعلیمی ادارے صوبے کے تمام اضلاع میں بھی قائم کئے جائیں گے۔ اور صوبے کے ہر ضلع میں موجود 2 سکولوں کو بھی سٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جائے گا۔ جسمیں پشاور کے سٹی نمبر ون اور لیڈی گرفتھ سکولز شامل ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کے مطابق بندوبستی اضلاع کے 100 سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنے۔ زیادہ طلباء کی شرح رکھنے والے سکولوں میں 500 اضافی کلاس رومز کی تعمیر۔ بالخصوص سیلاب زدہ علاقوں میں 50 پرائمری سکولوں کو پری فیبریکیٹڈ سٹرکچر کے تحت قائم کرنے اور آج ایس ایف کے تحت گرلز کمیونٹی سکولوں اور اے ایل پی سینٹرز کے قیام اور 150 مڈل لیول سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنا ہمارے نئے منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈی آئی خان میں گرلز کیڈٹ کالج کے قیام بشمول ضم اضلاع کی تعلیمی بہتری کے لئے 50 سکولوں میں باقی ماندہ کام کی تکمیل اور 120 گرلز سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور ضم اضلاع کے 150 پرائمری و مڈل سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنا ہمارے اہداف ہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ زیادہ پسماندہ اور خصوصاََ ضم اضلاع کیلئے کرائٹیریا پالیسی میں نرمی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ وہ 28 سکیمیں جو کہ تکمیل کے قریب ہیں ان کو فوری مکمل کریں اور بجٹ ریلیز کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ میگا منصوبوں میں گرلز کیڈٹ کالج ڈی ائی خان، گرلز کیڈٹ کالج مردان، کیڈٹ کالج لکی مروت، ضم اضلاع کے بچوں کے لیے ماہانہ وظیفہ پروگرام، ضم اضلاع کے سکولوں کی سولرائزیشن، ضم اضلاع کے اسکولوں کی بحالی و آباد کاری کا منصوبہ اور ضم اضلاع کے اسکولوں کے طلباء و طالبات کو مفت درسی کتابوں اور اسکول بیگز کی فراہمی بشمول دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔
ڈاکٹر سمیرا شمس کی بطور چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن تقرری کی گئی ہے
حکومتِ خیبرپختونخوا نے ڈاکٹر سمیرا شمس کی بطور خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن تقرری کی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں کمیشن کے ارکان کی منظوری بھی دی گئی اورکابینہ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وومن ایمپاور منٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن دس اراکین پر مشتمل ہے جن میں شبینہ ایاز، آمنہ پرویز، طیبہ بتول، مسلم تاج، ڈاکٹر منہاس مجید، شکیرا سید، طاہرہ کلیم، اکرام خان، کومل یونس اور حمیرہ نواز شامل ہیں۔یہ تقرری خواتین کے حقوق کے فروغ، ان کی سماجی و معاشی بااختیاری اور صنفی مساوات کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ صوابی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ صوابی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد بچوں کے تحفظ، فلاح و بہبود، اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق عوامی شعور و آگاہی کو فروغ دینا تھا۔اس موقع پر یونیسف خیبر پختونخوا کے ہیڈ، ڈپٹی کمشنر صوابی، محکمہ سماجی بہبود کے اعلیٰ افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے مختلف اداروں کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ “بچوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی بچے پر جسمانی یا ذہنی تشدد ناقابلِ برداشت ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر بچہ محفوظ، پُراعتماد اور باوقار زندگی گزار سکے۔ اللہ تعالیٰ ان معصوم جانوں کے بارے میں ہم سے ضرور سوال کرے گا۔ بچوں کی نگہداشت صرف ایک سرکاری فریضہ نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ”ان شاء اللہ بہت جلد ایک مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ اگر کسی بچے کو مدد کی ضرورت پیش آئے تو وہ بلاجھجک براہِ راست مجھ سے یا محکمہ سماجی بہبود سے رابطہ کر سکے۔”صوبائی وزیر نے یونیسف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہدایات کے مطابق بچوں کے تحفظ کے لیے شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے جو بچوں کو معیاری تعلیم، فنی ہنر اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) جیسے شعبوں میں تربیت دے کر ایک بااعتماد اور خودمختار شہری بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران اور معزز مہمانوں میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان کا جاری میٹرک دوئم امتحانات پشاور کے امتحانی ہال کا دورہ
گورنمنٹ شہید حسنین شریف ہائر سیکنڈری سکول سٹی نمبر ون پشاور کے امتحانی ہال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے کہا کہ میٹرک دوئم امتحان صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام بورڈز میں آج سے شروع ہوگیا ہے۔ امتحانات کے دوران پشاور بورڈ کے زیر سایہ 173 مردانہ اور 65 زنانہ امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ پشاور بورڈ کے مجموعی طور پر 71234 امیدوار امتحان میں شرکت کریں گے۔جن میں پیپر فیل ہونے والے اور نمبروں میں بہتری لانے والے امیدوار شرکت کریں گے۔ امتحانی عمل کی شفافیت اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے 1967 سپروائزری سٹاف کو انویجلیشن کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈز امتحانات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اور کسی بھی قسم کی نقل یا غیرقانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائیں گی، اور تعینات متعلقہ ٹیمیں سخت نگرانی کریں گی۔ ریفارمز پالیسی کے تحت جدید آئٹم بنک بنایا گیا ہے۔ جس سے بذریعہ کمپیوٹر ڈیجیٹل طریقے سے پیپرز بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ بھر کے امتحانی ہالوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اور تمام امتحانی مراکز متعلقہ بورڈز کے کنٹرول رومز کیساتھ منسلک ہیں۔ جبکہ طلباء و طالبات کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے شکایات کے ازالے کیلئے ہر بورڈ میں کمپلینٹ سیل قائم کیا گیا ہے جن میں درج شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔ انہو ں نے تاکید کی کہ طلباء و طالبات محنت کریں ان کو اپنے محنت کا صلہ اچھے نمبروں کی صورت میں ملے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کاٹرافی ہنٹنگ پروگرام
افسرتعلقات عامہ برائے معاون خصوصی جنگلات و جنگلی حیات
چیف سیکرٹری کی زیرِ صدارت ڈیجیٹل خیبرپختونخوا سے متعلق روڈ میپ پر جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت منگل کے روز ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے ڈیجیٹائزیشن روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، منیجنگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف محکموں کی 1192 خدمات کو سال 2030 تک ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ 377 خدمات کو پہلے سال میں ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔ اجلاس میں جنوری 2025 سے اب تک مختلف محکموں کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کے لیے ڈیجیٹل محاصل سسٹم مکمل طور پر فعال ہوچکا ہے، موٹر وہیکل رجسٹریشن دستک ایپ کے ذریعے آن لائن دستیاب ہے، جبکہ ہاؤسنگ اسکیموں کی درخواستیں بھی اب آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ای اسٹیمپنگ کا آغاز ہوچکا ہے، انتقال اور فرد فیس کے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کی خدمات بھی آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ جن خدمات کو ڈیجیٹل کیا جا چکا ہے ان کے لیے 15 اکتوبر 2025 کے بعد مینوئل نظام ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم آر یو کیمرا بیسڈ حاضری سسٹم پر رپورٹس تیار کرے تاکہ حاضری نظام کی افادیت جانچی جاسکے اور سرکاری محکموں میں حاضری کے اعدادوشمار فیصلہ سازی کیلئے دستیاب ہوں۔ چیف سیکرٹری نے یقین دلایا کہ صوبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈیجیٹل خیبرپختونخوا منصوبہ عوامی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری لائے گا اور گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت سے صوبے کے مجموعی گورننس و خدمات سے متعلق امور کو سہل اور تیز بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے معاونِ خصوصی برائے آبپاشی ڈاکٹر محمد اسرار صافی نے چیف انجینئر نارتھ کے دفتر کا دورہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے معاونِ خصوصی برائے آبپاشی ڈاکٹر محمد اسرار صافی نے چیف انجینئر نارتھ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں محکمے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف انجینئر نارتھ انجینئر طارق علی خان نے شمالی ریجن کے آبی نظام، بنیادی ڈھانچے، موجودہ مسائل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنگ انجینئرز، فیلڈ فارمیشن افسران اور آبپاشی کلیکٹرز سمیت متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا نے محصولات کی شفاف وصولی اور جدید نظم و نسق کے لیے ای۔آبیانہ (E-Abiana) نظام متعارف کرایا ہے، جو خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام مردان ڈویژن میں بطور پائلٹ پروجیکٹ آئندہ چند ماہ میں شروع کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے محصولات کی وصولی کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا تاکہ بدعنوانی کے امکانات ختم ہوں اور کسانوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکےں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شمالی ریجن کے 18 اضلاع میں آبی وسائل کے 109 منصوبے جاری ہیں جن میں نہروں، ڈیموں، بیراجوں اور سیلابی حفاظتی ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی شامل ہے۔اس موقع پر معاونِ خصوصی ڈاکٹر اسرار صافی نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر اسرار صافی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مختلف ڈیمز اور منصوبوں کا خود موقع پر جا کر معائنہ کریں گے تاکہ کام کی رفتار اور معیار پر براہِ راست نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اورآبپاشی کے شعبے کے تحت شفافیت، گڈ گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے حقیقی تبدیلی لائیں گے
