خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے انسپکشن ٹیموں نے گزشتہ روز پشاور اور ضلع خیبر میں خوراک سے وابستہ کاروباروں کے معائنے کیے، جس کے دوران غیر معیاری اور ملاوٹی اشیاء کی بڑی مقدار ضبط کر لی گئی۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم ٹاؤن-4 نے مختلف کاروباروں پر چھاپے مارے اور پھندو روڈ پر ایک کولڈرنکس شاپ سے تقریباً 500 لیٹر جعلی مشروبات برآمد کر کے ضبط کر لی اور بھاری جرمانہ عائد کیا اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیم ٹاؤن۔1، ٹاؤن -2 اور ٹاؤن ٹاؤن-4 نے مشترکہ کارروائی کی اور ناگمان کے علاقے میں ایک گڑگھانی پر اچانک چھاپہ مارا گیا، جہاں سے 1200 کلو گرام ملاوٹی گڑ اور 1500 کلو گرام چینی برآمد کر کے ضبط کر لی گئی۔ تفصیلات میں بتایا گیا کہ گڑ گھانی میں چینی اور دیگر کیمیکلز ملا کر گڑ تیار کی جا رہی تھی، جس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق مزید کاروائی کا آغاز کیا گیا۔مزید تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے تختہ بیگ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ناکہ بندی کر کے خوراکی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے پانی، آئس کریم، گھی، آئل اور دودھ کے نمونے موقع پر ہی ٹیسٹ کیے۔ ترجمان کے مطابق 80 کلوگرام آئس کریم اور 10 کلو لوکل پاپڑ غیر معیاری ثابت ہونے پر موقع پر تلف کر دئیے گئے اور مالکان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی صوبے کو ملاوٹ سے پاک کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ کامیاب کاروائیوں پر وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کیساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے۔
سندھ میں 61 فیصد اور پنجاب میں 58 فیصد کپاس آمد میں کمی ہوئی ہے اور کپاس میں کمی سے جی ڈی پی اور ممکنہ برآمدات کو بھاری نقصان پہنچا ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پاکستان اسٹاک ایکسچینج آئینی ترمیم کی ناکامی کے بعد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ ترمیم کے بالکل خلاف ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کپاس میں کمی اور آئینی ترمیم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے پاکستانی زراعت اور ممکنہ طور پر برآمدات کے لئے ایک اور بری خبر ہے کہ سندھ میں 61 فیصد اور پنجاب میں 58 فیصد کپاس آمد میں کمی ہوئی ہے مریم نواز حکومت کے وژن نے کسانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ گندم سپورٹ قیمت میں کسانوں کے ساتھ معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کسانوں کی کمر توڑدی گئی اور کپاس کمی سے جی ڈی پی اور ممکنہ برآمدات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ مزمل اسلم نے وفاقی پارلیمینٹ میں آئینی ترمیم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج آئینی ترمیم کی ناکامی کے بعد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ ترمیم کے بالکل خلاف ہے۔
اصلاحاتی ایجنڈا سے متعلق عملی اقدامات یقینی بنائیں جائیں، وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان
آبیانہ وصولی کے حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، عاقب اللہ خان
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ سرکاری محکموں میں اصلاحات کا مقصد گورننس میں بہتری اور سزا و جزا کا عمل یقینی بنانے سمیت عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی ہے،محکمہ آبپاشی کے حکام اصلاحاتی ایجنڈا پر عمل درآمد کرکے آبیانہ وصولی کو یقینی بنائیں.صوبائی وزیر عاقب اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں اصلاحاتی ایجنڈا کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا،سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ، ڈی جی سمال ڈیمز، چیف انجینئرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک تھے،اس موقع پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی،اجلاس میں منظور شدہ و جاری ترقیاتی منصوبوں، درکار فنڈز کی فراہمی و درپیش مسائل، سمال ڈیمز کی اہمیت و ریونیو امور، آبیانہ وصولی جبکہ زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاوسنگ سکیمز و مسائل پر غور و خوض کیا گیا،صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 34 فیصد اراضی قابل کاشت جبکہ 66 فیصد بنجر اور ایریگیشن سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 30 فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے، جس کے تحفظ کیلئے درکار و مؤثر اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ انہوں نے دریاؤں و کنالز میں ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب جبکہ ایک خصوصی مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام پر بھی زور دیا،صوبائی وزیر عاقب اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اصل محکمانہ اصلاحات گڈ گورننس اور صوبے کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے جس کے لیے مثبت سوچ ا ور ٹیم ورک بہت ضروری ہے.
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ ان کارخانوں کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی جہاں پر مزدوروں کو حکومت کی طرف سے مقررہ کردہ ماہانہ اجرت سے کم معاوضہ دیاجاتا ہے انہوں محکمہ لیبر کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مزدوروں کو حکومت کی مقررہ کردہ ماہانہ اجرت پر عمل درآمد کو تمام صوبے میں یقینی بنانے کیلیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اس ضمن میں کسی کیساتھ نرمی سے کام نہ لیا جائے،یہ ہدایت انہوں نے صوابی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دفتر میں کارخانہ داروں کے مسائل کو بغور سننے کے بعد اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دی، اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت عبد الکریم خان تورڈھیر،سیکرٹری لیبر میاں عادل اقبال، سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا محمد طفیل، ڈائریکٹر لیبر عرفان اللہ، ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈبلیو ڈبلیو بی سمیت محکمہ محنت کے دیگر افسران بھی موجود تھے صوابی چیمبر آف کامرس کے کارخانہ داروں نے صوبائی وزیر کو مزدوروں کو درپیش مختلف مسائل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا، صوبائی وزیر نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کے مسائل کو حل کرنا اور ا انھیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے کہاکہ محکمہ محنت میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے انقلابی اقدامات متعارف کرنے جارہے ہیں جس سے مزدوروں کے بہت سے مسائل حل ہوجائینگے معیشت کی مضبوطی اور استحکام میں مزدور طبقہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
مشیر صحت احتشام علی کو صحت کارڈ سے متعلق بریفنگ
خیبرپختونخوا کے ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو صحت کارڈ کے تحت 753 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مفت علاج فراہم کیاجارہاہے، اب تک 3,529,487 افراد کے مفت علاج پر 88 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، صحت کارڈ کے تحت مفت علاج پر ماہانہ ڈھائی ارب جبکہ سالانہ 30 ارب کے اخراجات پختونخوا حکومت برداشت کررہی ہے، اس وقت صحت کارڈ کے بقایاجات کی مد میں 19 ارب روپے واجب الادا ہیں، پختونخوا میں 118 جبکہ ملک بھر میں 635 نجی و سرکاری ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پر رجسٹرڈ ہیں، مشیر صحت احتشام علی کو صحت کارڈ سے متعلق بریفنگ
مشیر صحت احتشام علی کو چیف ایگزیکٹیو صحت سہولت پروگرام ڈاکٹر ریاض تنولی نے صحت کارڈ پروگرام بارے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ حبیب اللہ، سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی و دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔ مشیر صحت کو صحت کارڈ کے تحت مہیا کیا جانے والا علاج اور اس کے پیکجز بارے بتایا گیا۔ ان کو بتایا گیا سیکنڈری کئیر پیکج میں چالیس ہزار فی بندہ اور دو لاکھ فی خاندان مہیا کئے جارہے ہیں جبکہ ٹرژئیری کئیر پیکج میں چار لاکھ روپے تک کا علاج مفت مہیا کیا جاتا ہے۔مشیر صحت کو بتایا گیا کہ پختونخوا کے ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو صحت کارڈ کے تحت 753 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مفت علاج فراہم کیا جارہاہے۔ اب تک 3,529,487 افراد کے مفت علاج پر 88 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صحت کارڈ کے تحت مفت علاج پر ماہانہ ڈھائی ارب جبکہ سالانہ 30 ارب کے اخراجات پختونخوا حکومت برداشت کررہی ہے۔ اس وقت صحت کارڈ کے بقایاجات کی مد میں 19 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ پختونخوا میں 118 جبکہ ملک بھر میں 635 نجی و سرکاری ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پر رجسٹرڈ ہیں۔ مشیر صحت کو علاج کیلئے مہیا کئے جانے والے پیکجز پر نظر ثانی کی اہمیت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس پر مشیر صحت نے جلد سے جلد اس بابت مجوزہ اقدامات اُٹھانے کے احکامات جاری کئے۔اگست کے مہینے میں ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے صحت کارڈ کے تحت 97 ہزار مریضوں کا مفت علاج مہیا کیا گیا۔ مشیر صحت کو بتایا گیا کہ اب تک صحت کارڈ پر علاج کرنے والے 66 فیصد مریضوں نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی خدمات حاصل کیں۔ اب تک صحت کارڈ پر ہونے والے علاج کی مد میں سے سب سے زیادہ اخراجات بالترتیب لیڈی ریڈنگ ہسپتال، پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مفت علاج پر کئے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے سرکاری کالجز میں سٹاف کی کمی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے سرکاری کالجز میں سٹاف کی کمی سمیت دیگر مسائل کو حل کرنے کیلیے کوشاں ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو عام کرنا اور پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے گورنمنٹ ڈگری کالج کوہی شیر حیدر باڑہ ضلع خیبر کے مسائل کے حوالے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں باڑہ کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے افسران، مذکورہ کالج کے اساتذہ، علاقہ مشران اور طلباء نے شرکت کی صوبائی وزیر کو کالج ہذاہ میں سہولیات کی فقدان اور کمی کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا صوبائی وزیر کو بتایاگیا کہ 6لاکھ آبادی کے لئے علاقہ میں واحد ڈگری کالج ہے جو 2000 میں بناہے جہاں پر سہولیات کی کمی ہے بی ایس بلاک کے تعمیراتی کام، بی ایس کے مختلف ڈسپلن شروع کرنے سمیت لیبارٹری کو جدید آلات سے لیس کرنے سمیت دیگر مسائل کو صوبائی حکومت کے علم میں لا رہے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے یقین دلایا کہ کالج کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائیگا انہوں نے متعلقہ افسران کو کالج میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کی ہدایت جاری کی انہوں نے کہا کہ سرکاری کالجز کے مسائل پر قابوپانے اور ان کالجز کو سہولیات کی فراہمی کیلیے اقدامات اٹھارہے ہیں
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صنعتکاروں کو ممکنہ طور پر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر پہلو سے کوششیں کررہی ہے۔انھوں نے کہا کہ جب صنعتوں کا پہیہ چل رہا ہو تو صوبہ ترقی کرے گا اور معاشی طور پر مستحکم ہوگا لہذا حکومت اس شعبے کی ترقی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے خاتمے اور انکی جائز معروضات کو حل کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کے روز اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے صدور پر مبنی صنعتکاروں کے ایک وفد سے اظہار خیال کے دوران کیا جنھوں نے معاون خصوصی سے ملاقات کی۔وفد میں ایبٹ آباد سے حاجی افتخار،پشاور سے وحید عارف،مردان سے سجاد خان،مانسہرہ سے عبد المالک خان،کوھاٹ سے یونس خٹک و دیگر انڈسٹریل اسٹیٹس کے نمائندے شامل تھے۔ صنعتی بستیوں کے صنعتکاروں نے معاون خصوصی کو اپنے بعض مطالبات پیش کیے اوراس حوالے سے معاون خصوصی کو صنعتکاروں کے مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی استدعا کی۔ اس موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت صنعتکاروں کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ انھیں صوبے میں صنعتکاری کیلئے ایک سازگار اور بہتر ماحول فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں توانائی مسائل اور کئی دیگر چیلنجز سے صنعتکاروں کو درپیش مشکلات کا انھیں بخوبی ادراک ہے اور یہی وجہ ہے کہ صنعتوں کو سستی بجلی،قرضہ سکیموں و دیگر پہلوؤں میں مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے کوششیں ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتی بستیوں کے صنعتکاروں کے اجاگر کردہ نکات کا وہ جائزہ لیں گے اور انکی کوشش ہوگی کہ صنعتکاروں کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کا جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کا دورہ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے جمعرات کے روز جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کا دورہ کیا اورجاری منصوبوں کا بغور جائزہ لیا۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ ڈاکٹرعنبر علی،ڈائریکٹر جنرل عمران خان وزیر اور محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جلوزئی ہاؤسنگ سکیم صوبہ خیبر پختونخواکا ایک بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں بھرپور تعاون کا بھی یقین دلایا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ اس اہم منصوبے میں عوام کے لیے ہر قسم کی سہولیات کا لحاظ رکھا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تعاون سے بننے والے فلیٹس کا بھی دورہ کیا جو کہ 780 سکوائر فٹ پر محیط ہے۔ معاون خصوصی نے دو بیڈ رومز اور کچن والے فلیٹس کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا جو کہ 150کنال اور 1320 اپارٹمنٹ پر مشتمل ہے جس کے سنگم پر جلوزئی سپورٹس کمپلیکس بھی واقع ہے اس میں مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے کورٹس بنائے گئے ہیں جن میں والی بال، فٹبال، لانگ ٹینس، بیڈمنٹن اور واکنگ ٹریکس موجود ہیں اور یہ سہولتیں جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کے مکینوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی نے شجر کاری میں اضافہ کرتے ہوئے پودا لگا یا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کو ایک سرسبز و شاداب اور آلودگی سے پاک ملک بنانے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پرسیکرٹری ہاؤسنگ اور ڈائریکٹر جنرل نے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم پر اب تک ہونے والے کام کے بارے میں معاون خصوصی کو بریفنگ دی اور آئندہ کے مراحل پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کی توجہ سیکورٹی کی طرف دلاتے ہوئے ہدایت کی کہ سکیم کے رہائشیوں کے تحفظ کے لئے بہتر سے بہتر انتظامات کئے جائیں اور اس کے لئے پولیس کو پابند بنایا جائے کہ وہ سکیم کے احاطہ میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے میں کو ئی کو تاہی نہ برتے کیونکہ صوبائی حکومت عوام کے لئے امن و امان کے قیام کواپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔
مجوزہ ترامیم بارے جعلی حکومت قوم کو جواب دے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مجوزہ ترامیم بارے جعلی حکومت قوم کو جواب دےانہوں نے کہا کہ ترامیم کا مسودہ میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے لایا جائے کیوں کہ اس وقت مجوزہ ترامیم پر نہ صرف ملکی بلکہ بین القوامی سطح پر بھی جگ ہنسائی ہورہی ہے اور جعلی حکومت مجوزہ ترامیم کے ذریعے جمہوریت پر حملہ آور ہورہی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے مجوزہ ترامیم کا مسودہ اپنے ممبران قومی اسمبلی کو بھی نہیں دکھایا گیا صرف اتنا نہین بلکہ ممبران اسمبلی کے اصرار پر انہیں ڈرا دھمکاکر کہا کہ اپکا کام صرف ووٹ کاسٹ کرنا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ مسودہ اتنا خوفناک لگ رہا ہے کہ اپنے ہی ممبران کو بھی نہیں دکھایا جارہا ہے اور مناسب ہو گا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مجوزہ ترامیم پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اخلاقی طور پر توسیع سمیت کسی بھی عہدہ سے خود ہی دستبرداری کا اعلان کرنا چاہییے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے ذریعے قانون کی حکمرانی کا گلا گھونٹ دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کو جمعرات کے روزپشاور میں
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کو جمعرات کے روزپشاور میں محکمہ محاصلات ت و تعمیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد اسرار خان، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔معاون خصوصی کو پراجیکٹ ڈائریکٹر زنے اپنے اپنے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبے میں مواصلات و تعمیر رات کے زیر انتظام کئی ایک منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جن میں سڑکوں ہائی ویز سکولوں ہسپتالوں اور محکمہ کی بلڈنگ کی تعمیرات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ عوامی ترقی کے منصوبے ایشین ڈیوپلمنٹ بینک اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے صوبے کے تمام اضلاع میں مکمل کیئے جارہے ہیں۔ معاون خصوصی نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ترقیاتی عمل کو مقررہ مدت میں پایا تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ صوبے کے عوام حکومت کے ان ترقیاتی منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کی بدولت محکمے کی آمدن میں اضافہ ہو سکے اوراس آمدن کو صوبے میں دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جا سکے۔
