پشاور میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے زیر اہتمام پاک افغان قبائلی عمائدین مکالمہ منعقد ہوا جس میں سرحد کے دونوں اطراف سے عمائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل پر اظہارِ خیال کیا۔اپنے خطاب میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو محض جغرافیہ نہیں باندھتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط رشتے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارا سب سے مضبوط رشتہ مذہب ہے، ہماری ثقافتیں، روایات اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاستی سرحدیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عوام ایک ہی ہیں۔”انہوں نے واضح کی دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کے درمیان تنازعات صدیوں پر محیط رہے، لیکن پائیدار امن ہمیشہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوا۔ انہوں نے کہا،“یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ جیسی تباہ کن جنگ بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوئی۔ ہمارے لیے سبق بالکل واضح ہے: مکالمہ کوئی اختیار نہیں بلکہ واحد راستہ ہے۔”مشیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس خطے کے عام عوام ہی عدم استحکام کے سب سے بڑے متاثرین ہیں جبکہ چند عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارے خطے کی ترقی کا درد کسی اور کو نہیں۔ اگر ہم نے خود اتحاد اور استحکام قائم نہ کیا تو کوئی دوسرا ہمارے لیے یہ کام نہیں کرے گا۔ آج ہمارے فیصلے ہی طے کریں گے کہ ہماری آئندہ نسلیں جنگ وراثت میں پائیں گی یا امن۔”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے امریکی انخلا کے بعد پاک افغان تعلقات میں پیدا ہونے والے خلا پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ“امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک سال سے زائد عرصہ کوئی باضابطہ سرکاری دورہ افغانستان کا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کابل میں سفیر تک تعینات نہیں کیا گیا۔ یہ بے عملی خطرناک خلا پیدا کر رہی ہے جو اعتماد کو کمزور اور غلط فہمیوں کو فروغ دیتی ہے۔”انہوں نے وفاقی حکومت کی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ“افغانستان کے دورے کے لیے وفود کی تجاویز بار بار پیش کی گئیں مگر یا تو روک دی گئیں یا نظرانداز ہوئیں۔ ایسی سخت رویہ داری فاصلے مزید بڑھاتا ہے۔ سرحدی عوام اسلام آباد کی بے عملی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر روابط اور مکالمے کو فروغ دینا چاہیے، روکنا نہیں۔”خطاب کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صرف ریاستی قیادت سے تعلقات کی بہتری کی توقع کافی نہیں۔“یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے، دونوں ممالک کے عوام پر۔ ہماری آوازیں، ہمارا اتحاد اور ہمارا مکالمہ ہی امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔”انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایسے تمام پلیٹ فارمز کی حمایت جاری رکھے گا جو باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ترجیحی منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے مختص، وزیراعلیٰ کی بروقت تکمیل پر زور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بدھ کے روز ترجیحی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صحت ، تعلیم، آبنوشی، مواصلات، آبپاشی، ریلیف اور دیگر شعبہ جات کے رواں مالی سال کے دوران مکمل کرنے کے لئے پبلک سروس ڈیلیوری کے اہم منصوبوں کی نشاندھی کی گئی جبکہ صوبائی کابینہ نے ان ترجیحی اور تکمیل کے قریب منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے اضافی 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا مقصد ان کو جلد مکمل کرکے فعال بنانا ہے، یہ عوامی خدمات کی فراہمی کے فوری نوعیت کے منصوبے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل اہم ترجیح ہے تاکہ لوگوں کو سروس ڈیلیوری بلاتاخیر شروع ہو۔ گذشتہ سال کے آخری تین ماہ میں تکمیل کے قریب منصوبوں کو جو اضافی فندنگ ہوئی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں،رواں سال ابتداءہی سے اس فارمولہ کہ تحت فنڈز ریلیز ہونگے تاکہ تکمیل کے قریب منصوبے رواں سال ہی مکمل ہو جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت تکمیل کے قریب منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ سروس ڈیلیوری میں تاخیرنہ ہو۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا دانشمندانہ استعمال اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں ترجیحات کا تعین انتہائی اہم ہے،جن جن منصوبوں پر 80 فیصد کام ہو چکا ہے، انہیں بھرپور فنڈنگ کر کے جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں کے لیے جو 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہیں جلد از جلد ریلیز کیا جائے اور کہا کہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز خود ان منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کریں تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی ہو۔
اراکینِ اسمبلی کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اہم اجلاس
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی جناب بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل پشاور، اراکینِ صوبائی اسمبلی کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی عوام کے لاکھوں ووٹرز کے نمائندے ہیں اور ان کے جان و مال کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی حساس صورتحال میں عوامی نمائندوں کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔اسپیکر نے واضح ہدایت دی کہ صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، ایم پی اے ہاسٹل میں تعینات نفری کی تعداد اور موثر سیکورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور اراکینِ اسمبلی کو فراہم کیے جانے والے پولیس گن مین کی تعیناتی اور ان کے ہمراہ رہنے کے حوالے سے جامع ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے اسپیکر نے پارلیمانی اراکین، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کی ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو اراکینِ اسمبلی کی سیکیورٹی کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ منتخب نمائندوں کو کسی ناگہانی خطرات سے موثر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
خیبرپختونخوا میں اے آئی اور سائبر سکیورٹی ورکشاپ کا انعقاد، نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے پر زور
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، صوابی میں ‘ایمپاورمنٹ آف نیکسٹ جنریشن: اے آئی اور سائبر سکیورٹی’ کے عنوان سے شاندار تقریب کا انعقاد، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و آئی ٹی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، صوابی میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ “ایمپاورمنٹ آف نیکسٹ جنریشن: اے آئی اور سائبر سکیورٹی” کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں ضم شدہ اضلاع (Merged Areas) کے طلبہ و طالبات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز تھے۔ اس موقع پر غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر فضل خالد، مختلف پروفیسرز، لیکچررز اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو جدید علوم، بالخصوص مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں آگے لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تربیتی پروگرام نہ صرف طلبہ کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے رجحانات سے روشناس کرائے گا بلکہ انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار اور ریسرچ کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانا، خود انحصاری اور جدید علوم سے آراستہ کرنا ایک قومی مشن ہے۔ اسی وژن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور عملی جامہ پہنا رہے ہیں تاکہ صوبے کے نوجوان خصوصاً مرجڈ ایریاز کے طلبہ ڈیجیٹل دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ماہرین نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ای۔کامرس اور ڈیجیٹل اکانومی کے مختلف پہلوؤں پر طلبہ کو آگاہ کیا اور عملی تربیت فراہم کی۔ شرکاء نے اس تربیتی ورکشاپ کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کے لئے تعلیمی اور عملی دنیا کے دروازے کھولیں گے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے آخر میں کہا کہ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نوجوانوں کے لئے مزید ایسے تربیتی پروگرام منعقد کرے گا تاکہ خیبرپختونخوا کے طلبہ ملک کے ڈیجیٹل مستقبل میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا علماء بورڈ سے ملاقات، آئمہ کے اعزازیہ میں اضافہ اور مدارس کے طلبہ کے لیے وظائف کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز متحدہ علماءبورڈ کے وفد نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ملاقات کی جس میں مدارس اور مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری اور محکمہ اوقاف کے حکام بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے آئمہ کرام کے لیے اعزازیہ کی رقم 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 15 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اعزازیہ کے پروگرام میں مزید رجسٹرڈ آئمہ کرام کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے وظیفہ پروگرام میں مدارس کے ٹیکنیکل سکلز میں سند یافتہ دو ہزار طلبہ کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ متحدہ علماءبورڈ اپنی طرف سے سولرائزیشن پرگرام میں شامل کرنے کے لیے 200 مدارس کی نشاندہی کرے۔ اس کے علاو¿ہ وزیر اعلیٰ نے متحدہ علماءبورڈ کے مطالبے پر بورڈ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے محکمہ اوقاف کو قانون سازی کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں ، وزیر اعلیٰ نے محکمہ اوقاف کو علاقائی اور صوبائی سطح پر نعت و قرات کے مقابلے منعقد کرنے کی ہدایت کی جبکہ علمائے کرام سے حکومت کی جانب سے منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس اور دیگر مذہبی پروگراموں میں بھر پور شرکت کی استدعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو سیرت النبی سے روشناس کرانا ناگزیر ہے، علماءمختلف مواقع پر منعقدہ پروگراموں میں شرکت کریں اور ہماری نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور مختلف اُمور میں حکومت کی رہنمائی میں علماءکا کردار نہایت اہم ہے، وفاقی حکومت نے امن کے لیے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اتفاق کر لیا ہے، علمائ ان مذکرات میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،صوبائی حکومت صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے جبکہ اس سلسلے میں علمائے کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔ متحدہ علماء بورڈ نے بورڈ اراکین کے لیے اعزازیہ کی منظوری پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی تیز کرنے کی ہدایت، وزیراعلیٰ نے 6 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کردی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پیر کے روز ایک ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں پر اب تک کی پیشرفت کا ضلع وار جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم،چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کے علاوہ سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سیلاب متاثرین کے ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگیوں کے لئے چھ دنوں کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور آنے والے اتوار تک متاثرین کو ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ جاں بحق افراد کے وہ کمسن بچے جن کے شناختی کارڈ اور بینک اکاو¿نٹ نہیں بن سکتے ان کو معاوضوں کی ادائیگیوں کے لئے کوئی قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے جبکہ زخمیوں کی تصدیق کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لئے محکمہ صحت کی مزید ٹیمیں تعینات کی جائیں اور جو افراد اب تک لاپتہ ہیں ان کے لواحقین کو بھی معاوضوں کی ادائیگی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ گھروں اور دوکانوں کی تصدیق کے عمل کو بھی جلد مکمل کرنے کے لئے مزید ٹیمیں لگائی جائیں جبکہ آبی گزرگاہوں پر قائم تباہ شدہ گھروں کا بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے پر کام شروع کیا جائے اور ایسے گھروں کے مالکان کے لئے محفوظ مقامات پر گھر تعمیر کرنے کے لئے متاثرین سے بات چیت شروع کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جن کے گھروں میں سیلابی ریلہ اور ملبہ داخل ہوا ہے انہیں گھروں کی صفائی کے لئے ایک لاکھ روپے فی گھرانہ ادائیگی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں اور بحالی کے کاموں کے لئے پی ڈی ایم اے کو درکار پانچ ارب روپے فوری جاری کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ باجوڑ کے نقل مکانی کرنے والے گھرانوں کو نن فوڈ آئٹمز کی بجائے نقد ادائیگیاں کی جائیں۔ اجلاس کو سیلابوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک صوبے میں 406 اموات اور 247 زخمیوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ 406 جاں بحق افراد میں سے 332 افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے معاوضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ اسی طرح زخمیوں کو بھی پانچ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے معاوضوں کی ادائیگی شروع ہوگئی ہے اور اب تک 35 زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 28 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 5720 متاثرہ خاندانوں میں سے 4398 خاندانوں کو فوڈ پیکج کی رقوم کی ادائیگی ہوگئی ہے۔ باجوڑ کے نقل مکانی کرنے والے 9698 افراد کو فوڈ پیکج فراہم کیا گیا ہے۔ دیگر نقصانات بارے بتایا گیا کہ اب تک کی رپورٹس کے مطابق 598 گھروں کو مکمل طور پر اور 2971 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ متاثرہ گھروں کے مالکان کو بھی معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اوراب تک 43 متاثرہ گھروں کے مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی ہوگئی ہے۔ سیلابوں سے 526 رابطہ سڑکیں اور 106 پل متاثر ہوئے ہیں جبکہ 326 تعلیمی مراکز، 38 صحت کے مراکز اور 67 سرکاری دفاتر متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے میں 2808 دوکانیں متاثر ہوئی ہیں، نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ جلد بحالی کے عمل کا آغاز کیا جا سکے، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور بحالی کے لئے وسائل کی کمی نہیں، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور بحالی کے کاموں کے لئے فنڈز کے استعمال میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے مانیٹرنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے۔
سیلاب متاثرین کیلئے بڑا ریلیف پیکیج، گھروں کے معاوضے میں اضافہ اور موبائل بینکنگ کے ذریعے ادائیگیوں کا اعلان
سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے کے لئے ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ متاثرہ اضلاع بشمول بونیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، لوئر دیر، باجوڑ، صوابی اور ٹانک کے ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعلی کو متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور بحالی کے کاموں پر اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان اضلاع میں مال و املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا 70 سے 80 فیصد ڈیٹا اکھٹا کیا گیا ہے اور باقی ماندہ ڈیٹا بہت جلد اکھٹا کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی متاثرہ خاندانوں کو فوڈ پیکج کے تحت رقم کی ادائیگیوں کے لئے آج بعد از نماز جمعہ چیکس تیار کئے جائیں اور یہ رقم متاثرین کو موبائل بیکنگ سسٹم کے ذریعے ان کے موبائل فونز پر منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ پیکیج کے تحت فی متاثرہ خاندان 15 ہزار روپے دئے جائیں گے۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ متاثرہ اضلاع میں مکمل تباہ شدہ گھروں کا معاوضہ چار لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کردیا گیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ گھروں کا معاوضہ ایک لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کردیا گیا یے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ متاثرہ اضلاع میں مال مویشیوں کے نقصانات کی ادائیگیاں بھی جلد شروع کی جائیں اور ان اضلاع میں مال مویشیوں کو چارے کی فراہمی کا عمل بھی شروع کیا جائے جس کے لئے محکمہ لائیو اسٹاک کو پانج کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے حکام پر زور دیا کہ باجوڑ کے متاثرین کا خصوصی خیال رکھا جائے اور وہاں کے رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو بھی 15 ہزار روپے فی خاندان فوڈ پیکیج دیا جائے، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی وزیرستان میں بھی نقصانات کا سروے شروع کیا جائے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ سیلاب میں بہہ جانے والے گاڑیوں کے مالکان کو فی گاڑی کے حساب سے پانج لاکھ روپے دئے جائیں گے، اس مقصد کے لئے کابینہ کی منظوری کے لئے کیس تیار کیا جائے۔ انہوں نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صوبے میں بارشوں کے متوقع دوسرے اسپیل کے لئے بھر پور پیشگی انتظامات کئے جائیں اور احتیاطی تدابیر اپنائے جائیں، اپر چترال اور اپر سوات میں گلاف کے خطرے کے پیش نظر خطرے سے دوچار آبادیوں کو کچھ دنوں کے لئے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور اسی طرح ان علاقوں میں انے والے سیاحوں کو بھی محفوظ مقامات تک محدود رکھا جائے۔
خیبرپختونخوا کابینہ کا 37واں اجلاس، سیلاب متاثرین کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان
صوبائی کابینہ کا 37 واں اجلاس وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی صدارت میں پشاور میں ہوا۔ اجلاس میں حالیہ سیلابی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں صحت مراکز کو فوری فعال کر کے ادویات فراہم کی جائیں، موبائل ہسپتالوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے، صفائی مہم شروع کی جائے اور پانی کے ٹیوب ویلز و رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی کی جائے۔ کابینہ نے شہداء کے لواحقین کو 20 لاکھ، زخمیوں کو 5 لاکھ روپے امداد، متاثرہ خاندانوں کو فوڈ اسٹامپ اسکیم کے تحت فی خاندان 15 ہزار روپے دینے کی منظوری دی۔ اسی طرح تباہ شدہ گھروں کی دوبارہ تعمیر، مال مویشی اور کاروبار کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے پانچ ارب روپے جاری کر دیے ہیں جبکہ مخیر حضرات کی امداد شفافیت کے ساتھ تقسیم کرنے کے لیے خصوصی اکاؤنٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کوئی بھی متاثرہ شخص امداد سے محروم نہیں رہے گا اور حکومت متاثرین کو مکمل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
خیبرپختونخوا میں مون سون شجرکاری مہم 2025 کا آغاز، وزیراعلیٰ علی نے پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے خیبر پختونخوا میں قومی سطح پرمون سون شجرکاری مہم 2025 کا اجراءکردیا ۔ اُنہوںنے بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور کے سبزہ زار میں پوادا لگا کر مہم کا باضابطہ اجراءکیا۔ قومی سطح پر شجرکاری کی یہ مربوط مہم اگست سے اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس شجرکاری مہم کےلئے ہفتہ وار تھیمز مقرر کئے گئے ہیں۔ قومی مون سون شجرکاری مہم 2025 کے تحت اگست کے آخری ہفتے میں بھی صوبہ بھر میں شجرکاری کا اہتمام کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شجرکاری ایک قومی فریضہ اور وقت کی اشد ضرورت ہے، صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے مربوط اقدامات اٹھار ہی ہے۔ بلین ٹری پراجیکٹ کی شاندار کامیابی کے بعد اب موجودہ صوبائی حکومت بلین ٹری پلس پراجیکٹ کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری کر رہی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے موسمی تبدیلیوں کے حالیہ تباہ کن اثرات سے بچنے کے لئے بڑے پیمانے پر شجرکاری کو ناگزیر قرار دیا اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کے لئے آگے آئیں اور اس اہم قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ضلع صوابی کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع صوابی کا دورہ کیا اور ڈپٹی کمشنر آفس میں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، منتخب عوامی نمائندے، چیف سیکرٹری اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ بریفنگ کے مطابق سیلاب سے صوابی میں 28 افراد شہید، 26 زخمی اور 7 لاپتہ ہوئے۔ متعدد گھر اور کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں جبکہ بجلی و سڑکوں کے نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ ریسکیو آپریشن میں ضلعی و صوبائی اداروں سمیت پاک فوج، پولیس اور رضاکاروں نے حصہ لیا اور درجنوں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ متاثرین کو خیمے، خوراک اور ضروری اشیاء فراہم کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا نعم البدل ممکن نہیں، تاہم حکومت ہر متاثرہ خاندان کے نقصانات کا سو فیصد ازالہ کرے گی۔ انہوں نے شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے امدادی پیکج دگنا کرنے، ریلیف ایمرجنسی نافذ کرنے اور فوری معاوضوں کی ادائیگی کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے بھر میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 340 سے زائد ہے جبکہ 127 افراد لاپتہ ہیں اور خدشہ ہے کہ اموات 500 تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کو تیار راشن کے بجائے نقد رقوم دی جائیں گی تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کر سکیں۔ مزید برآں انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت صوبے میں آبی گزرگاہوں کی صفائی اور کشادگی کا بڑا منصوبہ شروع کر رہی ہے اور خطرناک مقامات پر آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ تجاوزات ہر حال میں ختم کی جائیں گی تاکہ آئندہ انسانی جانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
