Home Blog Page 23

Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman has welcomed the introduction of the Pharmacy Services Policy by the Government of Khyber Pakhtunkhwa, describing it as an important step towards strengthening healthcare delivery and ensuring safe and effective use of medicines across the province.

Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman has welcomed the introduction of the Pharmacy Services Policy by the Government of Khyber Pakhtunkhwa, describing it as an important step towards strengthening healthcare delivery and ensuring safe and effective use of medicines across the province.

The Minister stated that integration of pharmacy services in healthcare facilities will significantly improve patient safety and enhance the overall quality of medical treatment. He said the policy aims to ensure the rational use of medicines, promote evidence-based drug therapy, and strengthen the role of pharmacists within the healthcare system.

Under the new policy, pharmacovigilance centers will be established to monitor the safety and effectiveness of medicines. Special emphasis will also be placed on antimicrobial stewardship programs to ensure the responsible use of antibiotics and to combat antimicrobial resistance.

Khaliq ur Rehman further said that the policy will also help improve the medicine supply chain system, including proper storage, handling, and availability of essential medicines in healthcare facilities across the province.

The Health Minister added that the implementation of the Pharmacy Services Policy will help improve therapeutic outcomes, reduce unnecessary hospital stays, and enhance the overall efficiency of healthcare services in Khyber Pakhtunkhwa.

He directed the relevant authorities to ensure effective implementation of the policy in all healthcare establishments so that patients can benefit from safe, quality, and accessible pharmaceutical services.

Khaliq ur Rehman reaffirmed the provincial government’s commitment to strengthening the health system and ensuring better healthcare facilities for the people of Khyber Pakhtunkhwa.

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ٹرانسمیشن لائن سے متعلق اہم اجلاس، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے قومی گرین انرجی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا

محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا میں داسو تا اسلام آباد 765 کلو واٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، سیکرٹری جنگلات جنید خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کی ہدایات کے مطابق معاون خصوصی کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر صوبائی کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں منصوبے سے متعلق تمام ضروری امور اور تکنیکی نکات پر جامع ہوم ورک کیا جا رہا ہے تاکہ اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ایک انتہائی اہم گرین انرجی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے بجلی کو قومی گرڈ تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کمپنی وفاقی حکومت کی وزارت توانائی کے تحت ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے عمل میں لا رہی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس میگا ہائیڈل منصوبے کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4320 میگاواٹ ہے، جو ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بجلی کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے مانسہرہ اور اسلام آباد میں جدید پاور ہب گرڈ اسٹیشنز بھی قائم کئے جائیں گے۔بریفنگ میں منصوبے کے ماحولیاتی فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ اس منصوبے سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی، فوسل فیول کے استعمال میں کمی اور ماحول دوست گرین انفراسٹرکچر کی ترقی ممکن ہو سکے گی، جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا 2 فیصد رائلٹی خیبرپختونخوا کو حاصل ہوگی، جبکہ 0.2 فیصد حصہ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا کو فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے طور پر دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے صوبے میں جنگلات کی بحالی، تحفظ اور ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے حوالے سے تمام ضروری ہوم ورک مکمل کرکے اسے حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لئے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف و سرسبز خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی وژن کے تحت ایسے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جو نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط کریں بلکہ ماحول کے تحفظ اور جنگلات کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پائیدار ترقی اور گرین اکانومی کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور خوشحال ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان محمد اظہر خان نے محکمہ زراعت ایکسٹینشن داسو کے ڈسٹرکٹ آفیسر امجد کے ہمراہ شجرکاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے آفیسرز کالونی داسو کے مختلف مقامات پر پودے لگائے

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان محمد اظہر خان نے محکمہ زراعت ایکسٹینشن داسو کے ڈسٹرکٹ آفیسر امجد کے ہمراہ شجرکاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے آفیسرز کالونی داسو کے مختلف مقامات پر پودے لگائے۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ درخت لگانا قومی فریضہ اور صدقہ? جاریہ ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شجرکاری مہم کے پہلے مرحلے میں سفیدہ اور کیکر کے پودے کامیابی سے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں مختلف پھل دار پودے لگائے گئے جن میں خوبانی، امرود، اخروٹ، ناشپاتی، مالٹا، چیری، جاپانی پھل (املوک) اور سیب شامل ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ لگائے گئے پودوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ شجرکاری مہم کے مثبت اور دیرپا نتائج حاصل کیے

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایبٹ آباد گوہر علی نے تحصیلدار ایبٹ آباد کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ انسپیکشن کے حوالے سے کارروائیاں کیں

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایبٹ آباد گوہر علی نے تحصیلدار ایبٹ آباد کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ انسپیکشن کے حوالے سے کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران سپلائی بازار، جناح آباد، منڈیاں، جدون پلازہ اور بلال ٹاؤن میں دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، صفائی کے انتظامات اور اشیائے خوردونوش کے معیار کو چیک کیا گیا۔ مجموعی طور پر 132 دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔معائنے کے دوران خلاف ورزیوں پر 8 دکانوں کو سیل کیا گیا جبکہ 8 دکانداروں کے خلاف چالان اور ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ ایبٹ آباد نے واضح کیا ہے کہ سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں

ڈپٹی کمشنربٹگرام کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ، مریضوں اور تیمارداروں کے ساتھ افطاری

ڈپٹی کمشنربٹگرام اشتیاق احمد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سہیل اور اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم کے ہمراہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں اور ان کے ساتھ موجود تیمارداروں کے ساتھ مل کر افطاری کی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں افطاری کے انتظامات کا جائزہ لیا اور مریضوں سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر اشتیاق احمد نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کا خیال رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے افطاری کا یہ پروگرام باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ ہسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو اس مقدس مہینے میں سہولت فراہم کی جا سکے

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کا کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان منڈیاں کا دورہ

 ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان  بمقام منڈیاں ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کی فیکلٹی سے ملاقات کی اور ادارے میں منعقدہ کانفرنس میں بھی شرکت کی۔دورے کے دوران کالج انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تربیتی پروگرامز اور طبی شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم نے ادارے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ میں ایسے ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو ملک میں صحت کے شعبے کی بہتری اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہر اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی تیاری عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت دبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت دبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سڑک کی بندش، دبیر۔رینولیا روڈ کی تعمیر اور بنکھڈ میں سکول کے لیے اراضی مختص کرنے کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمشنر ہزارہ نے کوہستان سے رکن قومی اسمبلی سردار ادریس اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی عبید الرحمٰن کی کاوشوں کو سراہا۔ کمشنر ہزارہ نے کہا کہ اگر عوام کو منصوبے سے متعلق کوئی شکایات ہوں تو احتجاج کے بجائے ضلعی انتظامیہ یا کمشنر آفس سے رجوع کریں تاکہ مسائل کا مناسب اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلے میں مقامی قیادت اور مشران سے تحریری یقین دہانی لی جائے گی کہ آئندہ سڑک بند نہیں کی جائے گی اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ دبیر روڈ کے ایمرجنسی راستے پر دو ایکسکیویٹر مشینیں تعینات کی جائیں تاکہ ملبہ بروقت ہٹایا جا سکے اور سڑک کی بندش سے بچا جا سکے۔ انہوں نے جی ایم لینڈ اینڈ ری سیٹلمنٹ کو ہدایت کی کہ ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ ایوارڈ کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ اراضی کے حصول کے بعد دبیر۔رینولیا روڈ کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جا سکے۔مزید برآں کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنر لوئر کوہستان کو ہدایت کی کہ ایم این اے کے ساتھ مشاورت کر کے بنکھڈ میں سکول کے لیے مختص اراضی پر اتفاقِ رائے کیا جائے تاکہ سکول کی تعمیر جلد شروع کی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر ہزارہ نے کہا کہ ایسے بڑے ترقیاتی منصوبے پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان میں تاخیر سے ملک و قوم کو نقصان پہنچتا ہے لہٰذا تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کریں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور ڈیڈیک چیئرمین و ایم پی اے داؤد آفریدی کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور ڈیڈیک چیئرمین و ایم پی اے داؤد آفریدی کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے حکام، محکمہ تعلیم کے نمائندگان ، دیگر متعلقہ افسران اور علاقائی عمائدین نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوہاٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ڈسٹرکٹ فنڈڈ سکیمز (DFC) پر تفصیلی غور کیا گیا اور ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی سکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے دورے کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس کے دوران خستہ حال سرکاری تعلیمی عمارتوں کی صورتحال، سکولوں میں درپیش سہولیات کی کمی اور ان کے حل کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے سکولوں کی نشاندہی کر کے ان کی بحالی اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں سکولوں کی تعمیر نو اور اپ گریڈیشن سے متعلق منصوبوں اور اس سلسلے میں نئی اسامیوں (SNE) کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی شعبے کی ترقی ناگزیر ہےوزیر قانون نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تعلیمی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا تعلیمی شعبے کی بہتری اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

محفوظ مستقبل کی جانب اہم قدم

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

پشاور جو خیبر پختونخوا کا تاریخی اور انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے روایتی گشت، ناکہ بندیوں اور دستی نگرانی پر انحصار کیا جاتا تھا وہیں اب جدید ٹیکنالوجی نے اس خلا کو پُر کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے متعارف کرایا گیا سیف سٹی منصوبہ دراصل اسی سوچ کی عملی تعبیر ہے کہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سیکیورٹی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔

یہ منصوبہ محض چند کیمروں کی تنصیب تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس تنصیبات اور عوامی مقامات پر جدید نگرانی آلات نصب کیے گئے ہیں جو ہر لمحہ کی سرگرمی کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ ان تمام کیمروں کو ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیا گیا ہے جہاں تربیت یافتہ عملہ چوبیس گھنٹے صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ اس ہمہ وقت نگرانی کے باعث جرائم کی روک تھام اور فوری رسپانس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

سیف سٹی نظام کی خاص بات اس میں شامل مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چہروں کی شناخت، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے اور مشکوک نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کسی واردات میں ملوث گاڑی یا مطلوب شخص کسی کیمرے کی زد میں آ جائے تو نظام فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس خودکار عمل سے نہ صرف تفتیش کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ شواہد کی دستیابی بھی آسان ہو گئی ہے۔ روایتی انداز میں جہاں گواہوں اور اندازوں پر انحصار کیا جاتا تھا اب وہاں ڈیجیٹل ثبوت مقدمات کو مضبوط بناتے ہیں۔

ٹریفک کے نظام میں بھی اس اقدام نے واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ ماضی میں ٹریفک خلاف ورزی پر اہلکار کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی تھی مگر اب خودکار ای چالان سسٹم نے یہ مرحلہ سہل بنا دیا ہے۔ رفتار کی حد عبور کرنے یا سگنل توڑنے والے افراد کو براہ راست جرمانے کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف شفافیت آئی ہے بلکہ رشوت ستانی اور غیر ضروری بحث و تکرار کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ شہریوں میں قانون کی پابندی کا رجحان فروغ پا رہا ہے کیونکہ اب نگرانی ہر وقت موجود ہے۔

حکومت نے اس منصوبے کے لیے خطیر مالی وسائل مختص کیے ہیں جن کے ذریعے جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا گیا اور جدید سافٹ ویئرز نصب کیے گئے۔ یہ سرمایہ کاری دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنایا جائے۔ ایک محفوظ شہر نہ صرف رہائشیوں کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب شہری خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں تو معاشی پہیہ زیادہ روانی سے چلتا ہے۔

اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر اہم شہروں تک وسعت دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مردان، ایبٹ آباد اور سوات جیسے اضلاع میں بھی اسی طرز کا نظام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پورے صوبے میں نگرانی کا مربوط جال قائم ہو سکے۔ اگر یہ توسیعی مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو جرائم کی بیخ کنی اور دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم جدید نگرانی کے اس نظام کے ساتھ چند اہم سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ڈیٹا کے تحفظ اور شہریوں کی نجی زندگی کے احترام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگرچہ کیمرے سیکیورٹی کے لیے نصب کیے گئے ہیں، مگر ان کے استعمال میں شفاف پالیسی اور واضح قانونی فریم ورک ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کا خدشہ باقی نہ رہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ ان کی معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور صرف قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

سیف سٹی کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب شہری بھی اس عمل کا حصہ بنیں۔ قانون کی پاسداری، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع اور ذمہ دارانہ رویہ اس نظام کو مؤثر بناتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، مگر انسانی تعاون کے بغیر اس کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔ پولیس اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد اس منصوبے کی روح ہے۔

پشاور ماضی میں دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز سے گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل نگرانی کا یہ جامع نظام ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف سیکیورٹی کی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری نظم و ضبط، قانون کی عملداری اور جدید طرزِ حکمرانی کی علامت بھی ہے۔ اگر اس نظام کو تسلسل، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف نگرانی کے ساتھ چلایا گیا تو یہ نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی لائے گا بلکہ ایک پرامن اور منظم معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا۔

آخرکار محفوظ شہر ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ سیف سٹی منصوبہ پشاور کو اسی سمت لے جانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر قیادت اور عوامی تعاون کا یہ امتزاج اگر برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں یہ اقدام خیبر پختونخوا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے اور واقعی ایک محفوظ مستقبل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پشاور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے کا دورہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پشاور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے کا دورہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر اسپیکر نے ایران کے قونصل جنرل علی بنافشہ خواہ سے ملاقات کی اور اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے قونصل خانے میں موجود تعزیتی رجسٹر میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے اور کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نہ صرف ایران کے ایک عظیم رہنما تھے بلکہ وہ امت مسلمہ کے لیے اتحاد، مزاحمت اور حوصلے کی علامت بھی تھے۔ ان کی قیادت، بصیرت اور انصاف کے لیے جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتقال نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔سپیکر نے ایران کے خلاف ہونے والے حملوں اور جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ضروری ہے۔اسپیکر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے۔