Home Blog Page 239

پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے جعلی حکومت کی حواس باختگی صاف ظاہر ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

0

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے جعلی حکومت کی حواس باختگی صاف ظاہر ہے، اس وقت اسکی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔وفاقی حکومت ایک طرف دعوے کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے احتجاج میں مشکل سے50 بندے اکھٹے کر سکے گی جبکہ دوسری طرف خوف اور گھبراہٹ میں جعلی حکمرانوں نے پورے پاکستان کے کنٹینرز اسلام آباد پہنچادئے ہیں اسی طرح پنجاب،سندھ اور کشمیر کی تمام فورسز بھی اسلام آباد میں تعینات کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات منوائے گی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ جعلی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور فسطائیت کے ریکارڈ توڑ رہی ہے اور بغض عمران خان میں آئین و قانون کو روندا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے احتجاج سے وفاقی حکومت خوفزدہ نہیں ہے تو پھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤ، عہدیدروں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کیوں شروع ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت کچھ بھی کرلے مگر اس کا خاتمہ قریب ہے عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ۔مینڈیٹ چوروں سے جان چھڑانا ضروری ہے۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختون خوا سے 24 نومبر کواحتجاج کے لئے تمام تیاریاں مکمل کی گئی ہیں علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں بڑا قافلہ اٹک کراس کرکے اسلام آباد پہنچیں گا۔ جعلی حکومت کے کنٹینرز عوام کے جوش و جذبے کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے عوامی سمندر کنٹینرز سمیت تمام رکاوٹوں کو بہار کر لے جائیگا۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سی این ڈبلیو سہیل آفریدی

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سی این ڈبلیو سہیل آفریدی نے سی این ڈبلیو کی ڈیجیٹلائزیشن، ایسٹ مینجمنٹ اور ہیومن ریسورس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح کیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایسٹ مینجمنٹ اور ہیومن ریسورس انفارمیشن سسٹم کا مقصد تمام ریکارڈ کو آن لائن کرنا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ سے بچا جا سکے۔ اس موقع پہ سیکرٹری سی این ڈبلیو اور چیف انجینیئرز سمیت سی این ڈبلیو کے اعلی حکام موجود تھے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی سہیل افریدی نے کہا کہ سی این ڈبلیو کے ایسٹ مینجمنٹ سسٹم سے تمام سی اینڈ ڈبلیو کی مشینری جو کہ صوبے میں موجود ہے اور اس کے علاوہ تمام ریکارڈ جو سی این ڈبلیو سے منسلک ہے، مالی حساب کتاب اور فنڈز تمام ان لائن موجود ہوں گے جس سے محکمے اور عوام کے لیے اسانی پیدا ہوگی۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی سہیل افریدی نے مزید کہا کہ ہیومن ریسورس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے سی این ڈبلیو کے حکام کے تمام مسائل جیسے کہ پوسٹنگ ٹرانسفر، چھٹیاں، انکوائریز، سینیارٹی لیسٹ اور اے سی ار تمام آن لائن کر دیے جائیں گے جس کا مقصد ریکارڈ کو محفوظ بنانا اور سرکاری کاغذات میں ہیرا پھیری اور فراڈ کی روک تھام ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ریزیڈنٹ ریپرزنٹیٹیو سیموئل رزک نے ایک وفد کے ہمراہ پشاور میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری سے ملاقات

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ریزیڈنٹ ریپرزنٹیٹیو سیموئل رزک نے ایک وفد کے ہمراہ پشاور میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صوبے میں یو این ڈی پی کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت ہوئی اور مستقبل میں تعاون کے لیے کلیدی ترجیحات پر غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے یو این ڈی پی کی مسلسل حمایت کو سراہا اور جامع ترقی اور پراجیکٹ پر موثر عملدرآمد پر صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

علامہ اقبال کے افکار نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں: بیرسٹر ڈاکٹر سیف

0

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے پشاور یونیورسٹی میں یوتھ امپاورمنٹ کلب کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ اقبال لٹریری فیسٹول سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی علمی و فکری محافل کا انعقاد نوجوانوں کی کردار سازی اور فکری رہنمائی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری اور افکار نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ اقبال نے اپنے کلام میں تاریخ، فلسفہ اور انسانی زندگی کے مسائل کو اس انداز میں بیان کیا ہے جو ہر دور کے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اقبال کا سب سے بڑا پیغام نوجوانوں کے لیے کردار کی تشکیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مادی دور میں اقبال کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اپنی خودی کو پہچانیں اور زندگی کے بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کریں۔مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنی سوچ، شعور، اور علم کے دائرہ کار کو وسیع کریں۔ اقبال کے افکار کو سمجھیں اور ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کے اہداف کو بلند رکھیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی کی کامیابی مادی مقاصد کے حصول میں نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے میں ہے۔مشیر اطلاعات نے تقریب کے آخر میں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

یونیورسل چلڈرن ڈے کی تقریب میں مشیر صحت احتشام علی کی بطور مہمان خصوصی شریک

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے یونیسیف کے تعاون سے خیبرانسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر میں منعقدہ یونیورسل چلڈرن ڈے کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے شرکا میں پروجیکت ڈائریکٹر ڈاکٹرعنایت، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر باور شاہ، سابق ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی مہرتاج روغانی، یونیسیف پشاور آفس سے ڈاکٹر انعام و دیگر نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر صحت احتشام علی نے بچوں کی صحت کے مسائل اور ان کے حل کے لیے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ”ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان نوزائدہ بچوں کی اموات میں پہلے نمبر پر ہے۔ پرائمری ہیلتھ کیئر کی بحالی اور فعالی ماں اور بچے کی صحت کو محفوظ بنانے کا واحد حل ہے۔”مشیر صحت نے مزید کہا کہ ماں اور بچے کی صحت سے متعلق سپیشلائزڈ ہسپتالوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ”خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور مردان کے بینظیر چلڈرن ہسپتال کو جلد فعال کیا جائے گا۔ ان ہسپتالوں کے لیے علیحدہ بورڈ آف گورنرز کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہوں ”۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ ڈاکٹرز دو سال سے اسی ہسپتال پر بغیر ڈیوٹی کے تنخواہیں لے رہے تھے، جنہیں ہسپتال فعال ہونے تک پوسٹ آؤٹ کردیا گیا ہے۔ ”جب ہسپتال فعال ہوں گے، تب ہی دوبارہ پوسٹنگ ہوگی۔ مشیر صحت نے اپنی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”میرا کوئی ذاتی دوست نہیں جسے کسی عہدے پر بٹھاؤں۔ میرٹ کی بنیاد پر ایک مضبوط ٹیم بناؤں گا جو کام کرے گی۔”یونیورسل چلڈرن ڈے کے موقع پر انہوں نے وعدہ کیا کہ تمام بچوں کو صحت کے یکساں حقوق فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے، بنیادی ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور دور دراز علاقوں میں صحت کے ڈھانچے کی بحالی کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن کا کورس مکمل کریں۔ انکاری والدین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”دقیانوسی تصورات کی وجہ سے اپنے بچوں کے مستقبل کا سودا نہ کریں۔ ان والدین کی حالت دیکھیں جن کے بچے ہمیشہ کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔”تقریب کا اختتام بچوں کی صحت کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے عزم کے ساتھ ہوا۔

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت طورو روڈ کی ڈوئلائزیشن کے حوالے سے اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر مردان کے دفتر میں طورو روڈ کی ڈوئلائزیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ جنگلات، مواصلات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پیسکو، آبپاشی، ایس این جی پی ایل، پی ٹی سی ایل، ایم ڈی اے، اور تحصیل میونسپل آفیسر کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد طورو روڈ کی ڈوئلائزیشن کے دوران درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لیے مجوزہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اجلاس میں مختلف محکموں نے اپنے شعبوں سے متعلقہ مسائل اور تجاویز پیش کیں تاکہ منصوبے پر جلد از جلد کام کا آغاز ممکن ہو سکے۔اس موقع پر وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تعاون کو یقینی بنائیں اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ منصوبے کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھی جائے اور تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ منصوبے پر جلد عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے اور اگلے اجلاس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ عوامی سہولت کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے بھر پور اقدامات کیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی مردان میں کارروائی، مرونڈا بنانے والی یونٹ سے ہزاروں کلو مضر صحت و غیر معیاری گڑ برآمد، کارخانہ سیل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی مضر صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر مردان کے علاقے سکندری میں مرونڈا بنانے والے ایک یونٹ پر چھاپا مارا اور ہزاروں کلو گرام غیر معیاری و مضر صحت گڑ برآمد کرکے تلف کیا۔ترجمان فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے کاروائی کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے خفیہ اطلاع ملنے پر سکندری کے علاقے میں مرونڈا بنانے والی یونٹ پر اچانک چھاپہ مارا اور دوران انسپکشن 4000 کلو سے زائد مضر صحت گڑ برآمد کیا گیا، جسے بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔ یونٹ میں صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری اجزاء کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائی پر فوڈ سیفٹی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے غیر قانونی اور مضر صحت کاروباروں کی بروقت اطلاع دیں۔صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے ملاوٹ کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے سب ایک پیج پر ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے تمام رہنماء، عہدیداران و کارکنان اور عوام سب ایک پیج پر ہیں،پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کی جارہی ہیں۔پی ٹی آئی اختلاف کی خبریں جعلی حکومت کی خواہش ہوسکتی ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جب سے آخری کال کا اعلان ہوا ہے جعلی حکومت کے حکمران پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس کررہے ہیں لیکن انہیں چاہئیے کہ وہ اپنا دل بہلانے کی بجائے اپنی حکومت کا بوریاں بستر گول کرنے کی تیاری کریں کیوں کہ اب جعلی حکومت کے حکمرانوں کے حواس باختہ ہوچکے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے پریشان اور خوف زدہ ہیں اب جعلی حکومت کو چاروں شانے چت کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے نوجوانوں کے 24 نومبر کے احتجاج کے لئے حوصلے بلند ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان کی سربراہی میں منگل کے روز دیوانہ بابا ضلع بونیر میں

خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان کی سربراہی میں منگل کے روز دیوانہ بابا ضلع بونیر میں پارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی حلقہ پی کے 26 کی تمام ویلج کونسلز کے مشران، عہدیداروں،انصاف یوتھ اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نمائندوں اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں 24 نومبر کو پارٹی کے بانی چیر مین عمران خان کی فائنل احتجاجی کال کے سلسلے میں تیاریوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پارٹی کے تمام عہدیداروں اور ورکرز نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی کے 26 کے تمام کارکنان اس احتجاجی کال پر لبیک کہہ کر بڑھ چڑھ حصہ لیں گے۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے تمام مقامی رہنماؤں اور پارٹی عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے علاقوں میں ورکرز کو فعال بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو تیز کریں۔انھوں نے کہا کہ بانی چیر مین کی احتجاجی کال پر ضلع بونیر سے ہزاروں افراد پر مشتمل قافلہ نکلے گا اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں اسلام آباد کی جانب گامزن ہوگا۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری یہ جہدوجہد اور احتجاج حق و باطل کے مابین ایک اہم معرکہ ہے جو آئین و قانون کی بالادستی و حکمرانی کیلئے پاکستان تحریک انصاف لڑ رہی ہے۔

مشیر صحت احتشام علی کو ہیومن کیپٹل انسویسٹمنٹ پروگرام سے متعلق بریفنگ

صوبے کے چار اضلاع کے 195 مراکز صحت کو ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پروگرام کے تحت سولرائز کرنے کا فیصلہ، پروجیکٹ کے تحت صوبے میں اپنی نوعیت کا پہلا ریفرل مکینزم تیار، سیلاب سے تباہ 158 مراکز صحت کی تعمیر و فعالی، پروجیکٹ کا مقصد ان اضلاع میں پرائمری ہیلتھ کئیر کی خدمات کو بہتر بنانا ہے: مشیر صحت احتشام علی کو بریفنگ

صوبے کے چار اضلاع کے 195 مراکز صحت کو ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پروگرام کے تحت سولرائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مشیر صحت احتشام علی کو ہیومن کیپٹل انسویسٹمنٹ پروگرام سے متعلق ہونے والی بریفنگ کے دوران کیا گیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اکرام اللہ نے مشیر صحت کو پروجیکٹ سے متعلق بریف کیا۔ پروجیکٹ پشاور، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور اضلاع میں نافذ ہے جس کو سیلاب کے بعد مراکز صحت کی بحالی و فعالی کیلئے صوبے کے 16 اضلاع تک توسیع دی گئی۔مشیر صحت کو بتایا گیا کہ یہ پروجیکٹ ساڑھے تین سال قبل ترتیب دیا گیا تھا۔مشیر صحت احتشام علی نے بریفنگ کے دوران احکامات جاری کیں عوامی فلاح کے پروجیکٹس کے نفاذ پر عملدارآمد کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ پر خصوصی توجہ اس لئے مرکوز ہے کہ اس سے پرائمری ہیلتھ کئیر کی فعالی مشروط ہے اور اس پروجیکٹ کے فوری نفاذ سے ان چار اضلاع میں بنیادی صحت کے ڈھانچے میں بہتری آئیگی۔ مشیر صحت کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ کی کُل مالیت 85 ملین ڈالر ہے جس میں 42 % گرانٹ اور 58 % فیصد قرض ہے۔پروجیکٹ میں اب تک بارہ ملین ڈالر خرچ کئے جاچکے ہیں۔ پروجیکٹ کے تحت 195 ہیلتھ کئیر فیسیلیٹیز میں صحت کی سہولیات کی فراہمی مقصود ہے جس میں 151 بنیادی مراکز صحت 25 دیہی مراکز صحت، 13 کیٹگری ڈی ہسپتال اور 6 یٹگری سی ہسپتال شامل ہیں۔ پروجیکٹ کے تحت صوبے میں اپنی نوعیت کا پہلا ریفرل مکینزم تیار، پہلے چار اضلاع میں پائلٹ کیا جارہا ہے۔ ریفرل مکینزم میں ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو خصوصی طور پر ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ اب تک چودہ ہزار ڈیفالٹر بچوں کی ویکسینیشن کی گئی ہے۔ پروجیکٹ کے تحت صحت کی بنیادی سہولیات کی بہتری کیلئے 63 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں محکمہ صحت کے عملے کے استعداد کار کو بڑھانے اور سٹاف کی کمی کو دور کرنے کیلئے 3 ملین ڈالر جبکہ گورننس اور مینجمنٹ کی فعالی کیلئے 7.037 ملین کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 158 متاثرہ مراکز صحت کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کیلئے 10 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔