خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم پشاور میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان، ممبر صوبائی اسمبلی خالد خان، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نہروں کی صفائی، پانی کی منصفانہ تقسیم، حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان نے پشاور کے علاقے جوئی زرداد کینال، میاں گجر کینال اور اسلام آباد کورونہ میں آبپاشی سے متعلق مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کورونہ کے تحفظ، حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور نہری نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شاہ عالم، اسلام آباد کورونہ اور دیگر حساس علاقوں میں نہری نظام کی صفائی اور حفاظتی پشتوں پر کام کا فوری آغاز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت آبپاشی نظام کی بہتری، نہری ڈھانچے کی مضبوطی اور کسانوں کو بروقت پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں جاری کاموں کو مؤثر، شفاف اور بروقت مکمل کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور آبپاشی نظام کی مضبوطی کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ آبپاشی صوبے بھر میں نہری نظام کی بہتری اور کسانوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔
محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی جانب سے منشیات کے خلاف اہم کامیاب کاروائیاں
خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں منشیات کے خلاف جاری کاروائیوں میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے ایبٹ آباد اور خیبر میں دو اہم کاروائیاں عمل میں لائی ہیں جن میں بھاری مقدار میں منشیات قبضے میں لی گئی ہیں۔اس حوالے سے ایکسائز انٹیلیجنس بیورو اور ایکسائز پولیس سٹیشن ایبٹ آباد کی جانب سے ضلع ایبٹ آباد میں کی گئی ایک مشترکہ کاروائی میں 342 کلوگرام چرس پکڑی گئی جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا اور سمگلنگ کیلئے استعمال کی جانے والی گاڑی بھی قبضے کی گئی۔دوسری کارروائی ضلع خیبر میں ایکسائز پولیس سٹیشن خیبر اور ایکسائز انٹیلیجنس بیورو کی جانب سے عمل میں لائی گئی جس میں 150 کلوگرام چرس قبضے میں لی گئی۔سمگلنگ کیلئے استعمال کی جانے والی سوزوکی گاڑی کو قبضے میں لیکر ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔مذکورہ کاروائیاں پراونشل انچارج بیورو آف ایکسائز انٹیلیجنس سعود خان گنڈاپور اور ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد،ایس ایچ او تھانہ خیبر اور متعلقہ ٹیموں کے ذریعے عمل میں لائی گئیں۔صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیئے ہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ اس ناسور سے معاشرے اور نئی نسل کو ہم نے بچانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت منشیات کے ڈیلرز،سمگلرز،فروشان اور کاروبار کرنے والوں کے خلاف جاری آپریشن جاری رہے گا اور منشیات کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا ہے جائیں گے۔عوام کے جان و مال کے تحفظ اور نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
A high level meeting on the law and order situation in Khyber Pakhtunkhwa was held on Tuesday, during which the province’s security, economic and development related matters were reviewed.
A high level meeting on the law and order situation in Khyber Pakhtunkhwa was held on Tuesday, during which the province’s security, economic and development related matters were reviewed. The meeting was attended by Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi, representatives of the federal government, and senior civilian and military officials. Commenting on the details of the meeting, Special Assistant to Chief Minister on Information Shafi Jan, Advisor to Chief Minister on Finance Muzzamal Aslam and Minister for Law Aftab Alam stated in a video message that the meeting thoroughly reviewed the province’s security situation, economy, law and order, and development related matters. In his video message, Shafi Jan stated that as soon as the law and order situation improves in the affected areas, all services will be handed over to the civil administration in phases. Sharing what he termed a major piece of good news for Peshawar and Khyber Pakhtunkhwa, he announced that Pakistan Super League (PSL) matches will be held in Peshawar this time. He added that for the first time in PSL history, Peshawar’s Imran Khan Cricket Stadium will host PSL matches, while PSL roadshows will also be organized in various cities of Khyber Pakhtunkhwa. Briefing on financial matters, Finance Adviser Muzammil Aslam said in the video message that the meeting discussed in detail the financial challenges faced by Khyber Pakhtunkhwa, and the points regarding the province’s financial difficulties earlier presented before the Prime Minister were reiterated. He said that many of the province’s major financial issues could be resolved if Khyber Pakhtunkhwa receives its due share under the NFC Award.
He added that despite limited federal funds, the provincial government is fulfilling its responsibilities in the merged districts, but the existing resources are insufficient. The meeting also discussed proposals to address future financial challenges and decided that the province’s recommendations would be presented to the federal government to secure maximum possible financial relief for Khyber Pakhtunkhwa. Muzammil Aslam further said that the meeting also held detailed discussions on the impact of operations and market closures on livelihoods in affected areas, and that the federal and provincial governments will jointly take steps to provide alternative trade arrangements, employment opportunities, and compensation for financial losses. Speaking on law and order issues, Law Minister Aftab Alam Advocate said in his video message that the meeting took important decisions regarding security. He said that a major development has emerged for Khyber Pakhtunkhwa, particularly Malakand Division, under which the Pakistan Army will hand over its responsibilities in Malakand Division to the provincial police, Counter Terrorism Department (CTD), and other law enforcement agencies. He said that the process of restoration of peace is a major success of the provincial government, civil administration, and military leadership, and that this decision is a clear expression of confidence in the Khyber Pakhtunkhwa Police. He added that meetings will be convened with stakeholders, including political and religious parties and tribal elders, to take them into confidence, and that the civil and military leadership will ensure implementation of their recommendations. The law minister further said that the decisions taken by the Provincial Apex Committee will be ensured before the National Apex Committee meeting, where these decisions will be formally endorsed as well.
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم خیبر پختونخوا اکرام اللہ خان کی خصوصی ہدایت پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے سنٹرل جیل مردان کا دورہ کیا
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم خیبر پختونخوا اکرام اللہ خان کی خصوصی ہدایت پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے سنٹرل جیل مردان کا دورہ کیا۔ جہاں پر آئی جی جیل خانہ جات کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ آئی جی نے ایگزیکٹو افسران اور منسٹریل سٹاف سے ملاقات کی اور ان کے درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے جیل کے مجموعی انتظامی امور اور کارکردگی پر جامع بریفنگ دی، جس کے بعد آئی جی نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے کک ہاؤس، جیل ہسپتال، جووینائل سیکٹر، خواتین سیکٹر، اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر اور کنٹرول روم کا دورہ کیا۔جیل ہسپتال کے دورے کے دوران آئی جی نے زیرِ علاج قیدیوں سے ملاقات کی، ان کے جاری طبی علاج کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ادویات کے سٹور کا بھی معائنہ کیا گیا، جو وافر مقدار میں معیاری ادویات سے مکمل طور پر لیس پایا گیا۔بعد ازاں آئی جی جیل خانہ جات نے ڈیٹرجنٹ فیکٹری، مردانہ ٹیلرنگ ورکشاپ، خواتین ٹیلرنگ ورکشاپ اور بیڈ انڈسٹری کا بھی دورہ کیا اور جیل صنعت میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ آئی جی نے قیدیوں کے مسائل بذاتِ خود سنے، تاہم کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے ملاقات کے لیے آنے والے سائلین سے بھی ملاقات کی اور انہیں حکومت کی جانب سے قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی سہولت کے لیے جاری فلاحی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات نے شجرکاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے جیل احاطے میں پودا بھی لگایا اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔مزید برآں انہوں نے جیل عملے کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی اور عملے کی فلاح و بہبود کے لیے انسپکٹوریٹ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دورے کے اختتام پر معزز آئی جی جیل خانہ جات نے جدید سی سی ٹی وی کیمروں سے آراستہ نئے تزئین شدہ کنٹرول روم اور صوبے میں پہلی بار جیل عملے کے بچوں کے لیے قائم کی گئی جیل ایجوکیشنل اکیڈمی کا افتتاح کیا۔ معزز آئی جی نے سپرنٹنڈنٹ جیل اور ان کی ٹیم کی پیشہ ورانہ لگن اور مؤثر انتظامی کارکردگی کو سراہا۔
پشاور اور مردان میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم جاری، متعدد ٹیکس نادہندہ یونٹس سیل
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کے تحت صوبہ میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے اور ریونیو اہداف کے حصول کیلئے ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔اس سلسلے میں پشاور میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کے تحت پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ توصیف خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرپشاور کی زیر نگرانی زرعلی خان، اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کی سربراہی میں بڑے ٹیکس نادہندگان سے واجبات کی وصولی کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود ٹیکس واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ پشاور میں کارروائی کے دوران متعدد ٹیکس نادہندہ پراپرٹی ٹیکس یونٹس سیل کر دیئے گئے۔محکمہ ایکسائز کے مطابق ضلع مردان میں بھی بڑے ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔ محمد خالد، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع مردان کی زیر نگرانی شیر محمد خان، اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کی سربراہی میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے اور ریونیو اہداف کے حصول کیلئے ضلع میں جامع مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور بڑے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں اور سیلنگ اسکواڈز تشکیل دیئے گئے ہیں۔اس ضمن میں شیر محمد خان کی سربراہی میں مردان سیلنگ اسکواڈ نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے متعدد ٹیکس نادہندہ پراپرٹی یونٹس (جائیدادیں) بمہر (سیل) کر دئے۔محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی اور زحمت سے بچنے کیلئے پراپرٹی ٹیکس نادہندہ گان اپنے ٹیکس واجبات بروقت ادا کریں۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت ضلع صوابی میں صحت کے اداروں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت ضلع صوابی میں صحت کے اداروں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری صحت اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اسد قیصر اور شہرام ترکئی سمیت ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے تمام متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شر کت کی۔اجلاس میں متعلقہ اداروں کو جاری اخراجات کے لیے ریکرنگ گرانٹ کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ اداروں کے انتظامی امور مؤثر انداز میں چل سکیں اور عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر جی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی اور گجو خان کالج آف ڈینٹسٹری کی مستقل عمارتوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی پروگرام میں منظور شدہ رقم بروقت تکمیل کے لیے ناکافی ہے اور لاگت میں اضافے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا چکا ہے تاکہ منصوبوں میں تاخیر نہ ہو۔ٹی ایچ کیو ہسپتال ایم ٹی آئی لاہور میں نگار کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نرسنگ کالج فی الوقت کرایہ کی عمارت میں اپنے وسائل سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق متعلقہ اداروں کا قیام مقررہ مدت میں ضروری ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔آئی ٹی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کو کے پی ایم ٹی آئی پالیسی بورڈ کی ہدایات کے مطابق مضبوط بنایا جائے تاکہ گورننس، ڈیٹا مینجمنٹ اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر کیا جا سکے۔اجلاس میں سی ٹی اسکین، ایکس رے مشینوں اور دیگر اہم طبی آلات کی خریداری کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ بیشتر آلات اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جس کی وجہ سے مرمت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ فرسودہ مشینری کی بروقت تبدیلی اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے لیے علیحدہ سی ٹی اسکینر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تشخیصی خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔بی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی میں کلینیکل ٹاور کی تعمیر کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ڈیزائن میں جدید ہسپتال معیار اور انفیکشن کنٹرول تقاضوں کے مطابق بہتری کی ضرورت ہے۔ وزیر صحت نے تجربہ کار کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز کی توثیق کی تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق جامع اور معیاری ڈیزائن تیار کیا جا سکے۔کارڈیک کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری کے قیام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نظرثانی شدہ پی سی ون متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چکا ہے اور منظوری کا منتظر ہے۔ وزیر صحت نے اس منصوبے کی جلد منظوری اور تکمیل کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔ٹوپی اور لاہور کے ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی مرمت، بحالی اور اپ گریڈیشن کے امور بھی زیر غور آئے تاکہ انفراسٹرکچر اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ضلع صوابی میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جس کے لیے خطیر فنڈز درکار ہیں۔ وزیر صحت نے ماں اور بچے کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری کارروائیاں مکمل کر کے بروقت منظوری اور فنڈز کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع صوابی کے عوام کو معیاری، قابلِ رسائی اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور شفافیت کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین محمد نعیم خان، عارف احمد زئی، ارباب محمد عثمان خان، سمیع اللہ خان، زر عالم خان، عبدالمنینم، محمد نثار باز، محترمہ نیلوفر بابر، محترمہ شازیہ جدون، محترمہ خدیجہ بی بی، محترمہ ریحانہ اسماعیل اور محترمہ امنہ سردار نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، متعلقہ محکمے کا عملہ، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں 9 اگست 2025 کو ہونے والے سابقہ اجلاس کی ہدایات کی روشنی میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ کی جانب سے جی ڈی اے کے قواعد و ضوابط کے نفاذ، گزشتہ چار برسوں کے دوران کیے گئے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدات پر جامع بریفنگ دی گئی، جس پر قائمہ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کیا۔رکن قائمہ کمیٹی محترمہ ریحانہ اسماعیل کے سوال پر گلیات کے ہوٹلز سے متعلق تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ چیئرمین ذیلی کمیٹی سمیع اللہ خان، رکن صوبائی اسمبلی، نے پیش کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جی ڈی اے کے ہوٹلز کو نگراں حکومت کے دور میں گرین ٹورازم پاکستان کے تحت وفاقی حکومت کو طویل المدتی لیز پر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کمیٹی اراکین نے سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ آیا نگراں حکومت کو اس نوعیت کے طویل المدتی معاہدے کرنے کا آئینی و قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔قائمہ کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ نگراں حکومت کا دائرہ اختیار محض روزمرہ کے انتظامی امور تک محدود ہوتا ہے اور اسے طویل المدتی معاہدے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مذکورہ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے متعلق تمام اختیارات دوبارہ محکمہ ثقافت و سیاحت کو منتقل کیے جائیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی شرافت علی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اپنی سفارشات آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریری صورت میں مرتب کریں تاکہ اس معاملے کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے
یمبرسڈرز برائے آر ٹی پی ایس کمیشن کی تعارفی میٹنگ: عوامی خدمات میں شفافیت کی نئی آغاز
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا نے آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014 اور نامزد شدہ عوامی خدمات کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کے لیے ایمبرسڈرز مقرر کیے ہیں۔ بطورِ ایمبرسڈرز، ان کا کردار عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم ہے۔
عوام کو آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014، اس کے تحت نامزد شدہ خدمات اور وقت کی حدود کے بارے میں آگاہ کرنا، آگاہی سرگرمیوں کے لیے ڈی ایم او آفس کے ساتھ تعاون کرنا اور نفاذ کے متعلق مسائل کی اطلاع دینا اور شکایت کنندگان کو ڈی ایم او آفس کے ذریعے مدد فراہم کرانا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر پشاور تاشفین اسرار نے پشاور کے ایمبرسڈرز خائستہ رحمان، یاسر بھٹی اور رقیہ ندیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا۔اس سلسلے میں، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن، خیبر پختونخوا 16 فروری 2026 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں ایمبرسڈرز کے لیے اوریئنٹیشن اور ٹریننگ ورک شاپ کا انعقاد کر رہا ہے۔ اس ورک شاپ میں ایمبرسڈرز کو آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014، نامزد شدہ خدمات اور ان کے کام کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور ٹریننگ دی جائے گی۔مانیٹرنگ آفیسر پشاور تاشفین اسرار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایمبرسڈرز کی تعاون سے ہم عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنا سکیں گے۔
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقات کی۔
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، خصوصاً آبپاشی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق امور صوبائی وزیر کے سامنے رکھے۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے وفود کے مسائل بغور سنے اور متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں، جبکہ بعض افراد کے مسائل موقع پر ہی حل کر دیے گئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہمارا عزم ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ترقی، شفافیت اور عوامی فلاح کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی واضح ہدایات ہیں کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ملاقات میں شریک وفود نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہا۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایبٹ آباد میں صوبائی خاتون محتسب اور کمشنر ہزارہ ڈویژن کی زیرِ صدارت کھلی کچہری،
خواتین کو جائیداد میں ان کا جائز حصہ دلانے اور کام کے مقامات پر ہراساں کیے جانے سے بچانے کے حوالے سے آگاہی، رہنمائی اور فوری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منگل کے روز صوبائی خاتون محتسب خیبر پختونخوا رباب مہدی اور کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران صوبائی خاتون محتسب اور کمشنر ہزارہ ڈویژن نے شہریوں کی شکایات اور مسائل کو بغور سنا اور ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر صوبائی خاتون محتسب محترمہ رباب مہدی نے اپنے ادارے کی کارکردگی، خواتین کے وراثتی حقوق کی بحالی اور ہراسانی کے مقدمات کے بروقت حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خاتون محتسب کا ادارہ خواتین کو مفت، تیز اور باوقار انصاف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس کے نتیجے میں عوام بالخصوص خواتین کا ادارے پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی خواتین کے جائیداد اور کام کی جگہ پر حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نے اپنے خطاب میں صوبائی خاتون محتسب کے دفتر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی بدولت خواتین کو انصاف کی فوری اور آسان رسائی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اسلام، آئین اور شریعت میں خواتین کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔کمشنر ہزارہ نے مزید کہا کہ خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دینا اور کام کے مقامات پر انہیں سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تحریری لین دین اور مناسب دستاویزات کے استعمال پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں، نیکی کے راستے پر چلیں اور سفارش و رشوت سے اجتناب کریں تاکہ ایک مثبت اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
