Home Blog Page 241

24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے پورا بندوبست کیا گیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 24 نومبر2024کو ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی راہ میں پیدا کی جانے والی ہر قسم کی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے پورا بندوبست کیا گیا ہے، پہلے بھی اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی جنہیں پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام کاہجوم عبور کرکے اسلام آباد پہنچتا رہے ہے اور اسی طرح 24 نومبر کو بھی عوام کا سمندرپھر اسلام آبادپہنچے گا اس لئے جعلی حکومت رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حماقت نہ کرے، کنٹینرز عوام کے جوش و جذبے کے سامنے ریت کی دیواریں ثابت ہوں گے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبر پختونخوا کا بہت بڑاقافلہ اسلام آباد پہنچے گا جو مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں آئے گا۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ اس بار خیبر پختونخوا کے نوجوانوں نے عمران خان کو نکالنے کا مکمل تہیہ کررکھا ہے، ان کا یہ پختہ عزم ہے کہ عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو نکال کر مینڈیٹ کو واپس کرنا ہوگا۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت کا آخری وقت آن پہنچا ہے جعلی حکومت کا دھڑم تختہ کرنے کا وقت قریب ہے۔ جعلی حکومت نے فسطائیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام کارکنوں پر جعلی مقدمات بناکر انہیں غیر قانونی طور پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جعلی حکومت کے تمام ظلم اور کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 24 نومبر کی کال بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مینڈیٹ چوروں کے کڑے احتساب کا دن ہے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ڈپٹی کمشنر پشاور ڈرگ کنٹرول روم کا دورہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر پشاور ڈرگ کنٹرول روم کا دورہ کیا، جہاں انہیں ‘منشیات سے پاک پشاور’ مہم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود اور ڈپٹی کمشنر پشاور سرمد سلیم اکرم نے مہم کی موجودہ پیش رفت اور نتائج کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک پشاور کے مختلف علاقوں سے 1021 منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ان افراد میں 19 بچے اور 11 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس وقت پشاور میں آٹھ بحالی مراکز فعال ہیں، جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج معیاری طریقوں سے کیا جا رہا ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو کنٹرول روم کی لائیو مانیٹرنگ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس کے ذریعے تمام بحالی مراکز کی کارکردگی کو مسلسل نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ کنڑول روم معائنے کے بعد چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ‘دہ حق آواز بحالی مرکز’ یونیورسٹی ٹاؤن اور ‘خواجہ یونس بحالی مرکز’ امن آباد کا دورہ کیا۔ انہوں نے بحالی مراکز میں زیر علاج افراد سے ملاقات کی اور ان کے علاج اور سہولیات کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر رفیق خان مہمند، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) راؤ ہاشم عظیم، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفئیر آفیسر نور محمد محسود، محکمہ ایکسائز کے حکام، پولیس افسران اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری نے منشیات سے پاک پشاور مہم کو صوبائی دارالحکومت کے لئے نہایت اہم منصوبہ قرار دیا اور اس ضمن میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر آفسز، سوشل ویلفیئر محکمہ، پولیس و دیگر محکموں، بحالی مراکز کی کارکردگی کو سراہا۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام دوست اور ملازم دوست حکومت ہے جس نے ہمیشہ غریب طبقے کے لوگوں کے مسائل کے حل پر توجہ دی ہے محکمہ فشریز کے درجہ چہارم ملازمین کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا اور ان لوگوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی ہمیشہ سرکاری ملازمین کے گھمبیر مسائل حل کئے ہیں آئندہ بھی کرینگے انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض منصبی ایمانداری، محنت اور نیک نیتی سے سر انجام دیں ہم عوام کی بے لوث خدمت کرنیوالے دیانتدار محنتی ملازمین کیساتھ ہیں اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کر کے ان کے تمام جائز کام کرینگے فرائض میں غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے محکمہ فشریز کے درجہ چہارم ملازمین کے جرگہ سے ودودیہ ہال سیدو شریف میں خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، ترجمان ڈاکٹر خالد محمود خالد، آل درجہ چہارم ملازمین کے صوبائی صدر اکبر خان مہمند،ضلع سوات کے صدر سید خطاب، چیئرمین خورشید شان، فشریز ڈیپارٹمنٹ سوات کے صدر فضل قیوم اور دیگر نے بھی خطاب کیا جرگہ میں فشریز ڈیپارٹمنٹ درجہ چہارم کے ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی، اس موقع فضل قیوم نے صوبائی وزیر کو ملازمین کی مسائل سے متعلق سپاس نامہ پیش کیا مقررین نے صوبائی وزیر سے مطالبہ کیا کہ فشریز ملازمین کو اپنے ہی محکمہ میں رہنے دیں اور دوسرے محکموں میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ فشریز کے درجہ چہارم ملازمین کے جائز مطالبات کے حل کیلئے بھر پور کوشش کرونگا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت غریب عوام کی حکومت ہے اور عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کی ہر ممکن مدد کی جائے گی میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرینگے۔

مشیر اطلاعات کا پیراپلیجک سنٹر پشاور کا دورہ، سنٹر کی خدمات اور کارکردگی کی تعریف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے پیراپلیجک سنٹر پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے کے مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں افراد باہم معذوری کی بحالی کے مختلف وارڈز، فزیو جیم، ارتھاٹکس ڈیپارٹمنٹ، آٹزم سیکشن، کلب فٹ کلینک، اکوپیشنل تھراپی جیم اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ بیرسٹر سیف نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ پیراپلیجک سنٹر پشاور پاکستان اور ہمسایہ برادر ملک افغانستان میں معذور افراد کی بحالی خدمات مہیا کرنے والا منفرد قومی ادارہ ہے جو نہ صرف مختلف حادثات میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں سے متاثرہ معذوری کے شکار افراد کی بحالی یقینی بناتا ہے بلکہ انہیں تربیتی پروگرامز کے ذریعے فعال زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اسی طرح سنٹر کے زیر انتظام ورکشاپ میں خصوصی طور پر معذور افراد کی ضروریات کے مطابق کسٹمائزڈ وہیل چیئرز اور دیگر سہارا جات تیار کئے جاتے ہیں جو اعلیٰ معیار اور جدید تقاضوں کے مطابق ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ خدمات نہ صرف ان افراد کی زندگی کو آسان بناتی ہیں بلکہ انہیں عملی زندگی میں معاشی خود کفالت کی آسانیاں بھی فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی سیف نے سنٹر کی مثالی خدمات، خصوصاً افراد باہم معذوری کی بحالی اور انکی ضروریات کے مطابق وہیل چیئرز اور سہارا جات کی تیاری کو سراہا اور یقین دلایا کہ اس منفرد صنعت کو مزید ترقی دینے کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مزید یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کی سطح پر سنٹر میں تیار کردہ وہیل چیئرز اور دیگر سہارا جات کے استعمال کو ترجیح دی جائے گی تاکہ دیگر ممالک سے درآمد کی بجائے اس منفرد مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف معیاری مصنوعات کی مقامی سطح پر دستیابی یقینی بنائی جائے گی بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت بھی ہوگی۔ مشیر اطلاعات نے سنٹر کو درپیش مسائل کے حوالے سے یقین دلایا کہ سنٹر کی سالانہ گرانٹ میں اضافے، سنٹر میں داخل افراد باہم معذوری کو ہنر سکھانے اور گھروں میں واپسی کے فالو اپ خدمات کے دو پروگرامز کی بحالی اور دیگر ضروریات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سے خصوصی بات کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ جلد سنٹر کا دورہ کریں گے تاکہ ادارے کی مزید ترقی کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جا سکے۔ قبل ازیں سنٹر آمد پر چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے مشیر اطلاعات کو ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے توسیعی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ مشیر اطلاعات نے ڈاکٹر سید محمد الیاس اور ان کی ٹیم کو ان کی غیر معمولی خدمات اور معذور افراد کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سنٹر کو پورے ملک کیلئے ایک حقیقی رول ماڈل بنانے اور اس طرز پر مزید بحالی مراکز کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو سنٹر کی مثالی خدمات پر دستاویزی فلم بنانے اور اسکی عالمی سطح پر تشہیر کی ہدایت بھی کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا ہے کہ ریسکیو1122 کی خدمات کو ہر علاقے میں پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، عوام کو ریلیف فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔یہ بات انہوں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں ریسکیو ایمرجنسی سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے بمقام دتہ خیل شمالی وزیرستان ریسکیو سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیاجہاں حادثات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے ایمبولینسز اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اس کے علاوہ سنگین حالت کے مریضوں کو بڑے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے مفت ایمبولینس سروس بھی دستیاب ہوگی اس کے علاوہ صوبائی وزیر نے دتہ خیل ہسپتال کو ضروری سامان فراہم کیا تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر ہوں۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے مزید کہا کہ ریلیف اور ریسکیو کی خدمات عوام تک باآسانی پہنچانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں عوام کے تعاون کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما الیاس احمد بلور کے انتقال پر

خیبر پختونخوا کے وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما الیاس احمد بلور کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کوصبرجمیل عطا فرمائے۔ انہوں نے کہاکہ میری دلی ہمدردیاں غم زدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں پسماندگان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

وعدوں سے تکمیل تک کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔وزیر قانون

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وعدوں سے تکمیل تک کا سفر کامیابی سے جاری ہے اور انشاء اللہ اسے عوام کے بھرپور تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔اپنے ایک بیان میں وزیر موصوف نے کہا کہ پورے کوہاٹ میں سڑکوں کی تعمیر پر کام زور و شور سے جاری ہے اور وہ سڑکیں جن کی تعمیر کئی سالوں سے زیرِ التواء تھی ان پر کام تیز کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو ٹرانسپورٹیشن کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کے ڈی اے لنک روڈ پر شیخان مین نہر سے آگے کے ڈی اے تک سی اینڈ ڈبلیو اور ایریگیشن کے محکموں کی زیر نگرانی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے جو جلد مکمل ہو گا اسی طرح تحصیل ناظم گمبٹ ساجد اقبال کی زیر نگرانی پستہ سنڈہ روڈ کا بلیک ٹائپنگ بھی جاری ہے،شیخان اور پستہ سنڈہ کے عوام نے فوری منظوری اور کام شروع کرنے پر وزیر قانون اورایم این اے شہریار آفریدی کا شکریہ ادا کیاہے جن کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے کئی سالوں سے زیرِ التواء منصوبے تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔آفتاب عالم نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ عوام کی بے لوث خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور حسب وعدہ تمام وعدے ایفا کریں گے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے خود دورے کررہاہوں۔ صوبائی وزیر تعلیم

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے اور ان کے صوبے کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دورے اس کی کڑی ہیں تاکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرکے اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کئے جا سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کرک میں وہاں کے کالجز سے متعلق دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔قبل ازیں انہیں خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک میں بھی ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال،شاہد خٹک ایم این اے، چیئرمین ڈیڈاک کرک خورشید احمد خٹک، پارٹی کی ضلعی قیادت اور میل و فی میل کالجز کے پرنسپل بھی موجود تھے۔وزیر موصوف کو ضلع کرک کے 6 میل، 4 فی میل اور ایک کامرس کالج کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور انہیں کارکردگی کے کے علاوہ درپیش مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔مینا خان نے واضح کیا کہ معیار تعلیم اور اساتذہ کی حاضری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ڈیلیور کریں۔انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ سرکاری کالجوں میں پی ایچ ڈیز اور اعلیٰ کوالیفائیڈ اساتذہ کے باوجود پرائیویٹ کالجوں کے مقابلے میں ان کی کمزور کارکردگی سوالیہ نشان ہے کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں سرکاری اداروں جیسی کوالیفائیڈ افرادی قوت نہیں۔صوبائی وزیر نے ٹرانسفر پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تبادلے خالصتاً میرٹ پر ہوں گے اور رانگ پوسٹس پر تبادلوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تبادلوں کی حکم عدولی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہر ایک کو عملدرآمد کرنا ہوگا ورنہ گھر جانا پڑے گا۔کالجوں میں بجلی کے مسائل سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ پورے صوبے کا ہے اور اس کے حل کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پہلے ہی 20 ارب روپے کی لاگت سے سولرائزیشن پراجیکٹ شروع کر دیا ہے جس سے تمام تعلیمی اداروں سمیت سرکاری دفاتر کے بجلی کے مسائل حل ہوں گے۔وزیر تعلیم نے زیادہ تر معمولی نوعیت کے مسائل ضلع کرک کی منتخب مقامی قیادت کے باہمی تعاون سے موقع پر حل کر دیئے جبکہ دوسرے مسائل باقاعدہ سمری کی صورت میں بھیجنے کی ہدایات دیں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ عوام دوست اقدامات اٹھاتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے مہنگے ترین علاج کا خرچہ برداشت نہ کر سکنے والے 22 افراد کو 06 کروڑ30 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی ہے، اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مالی استطاعت نہ رکھنے والے اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے منتظر ان 22 افراد کو 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کی امداد فراہم کر چکے ہیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے نظام میں بہتری اور شفافیت لانے کے لیے نظام کو آن لائن اور ڈیجیٹائز کر رہے ہیں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی ڈیجیٹائزیشن پر کام جلد از جلد شروع کر کے سارے نظام کو آن لائن کیا جائے وہ جمعرات کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز، ایم ڈی خیبر پختونخوا ٹیوٹا ملک منصور قیصر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں معاون خصوصی کو خیبر پختونخوا ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی ذمہ داریوں، رولز اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں معاون خصوصی کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی طفیل انجم کا کہنا تھا کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے حوالے سے لوگوں کی بہت سی شکایات آرہی ہیں ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ہر ایک کو دلچسپی لینا ہوگی اور سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے موجودہ نظام میں جو خامیاں ہیں اس کو دور کرنے کے لیے سب ایک ٹیم ورک کی طرح کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی ڈیجیٹائزیشن سے تمام درخواست گزاروں کا ڈیٹا آن لائن دستیاب ہوگا اور ایک کلک پر تمام درخواست گزاروں کا ڈیٹا آئے گا جس سے بہت آسانی ہوگی نظام میں شفافیت اور بہتری لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔