وزیر خوراک ظاہرشاہ طورو کی ہدایات پر عیدالاضحیٰ کے پیش نظر عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال اتھارٹی نے جعلی اور غیر معیاری کولڈ ڈرنکس اور مشروبات کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران گزشتہ روز پشاور،مردان اور صوابی سے مجموعی طور پر تقریباً 8000 لیٹرز سے زائد جعلی مختلف برانڈڈ کولڈ ڈرنکس اور کاربونیٹیڈ مشروبات جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریباً 2000 لیٹرز دودھ برآمد کر لیا گیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے فردوس بازار کے قریب واقع گودام اور جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی سے نمونوں کے نتائج غیر تسلی بخش ثابت ہونیپر 4000 لیٹرز سے زائد جعلی برانڈڈ کولڈ ڈرنکس ضبط کر لیں۔اسی طرح صوابی فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی علاقہ چھوٹا لاہور میں کارروائی کے دوران ایک دوکان سے 600 لیٹرز جعلی مشروبات برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مردان میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملاکنڈ روڈ جھنڈی کے علاقے اور چارسدہ چوک میں کولڈ ڈرنکس لے جانے والی گاڑیوں کا معائنے کرنے پر 3500 لیٹرز جعلی کاربونیٹیڈ ڈرنکس اور 65 کلو چائنہ سالٹ برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا۔اسی طرح ڈی آئی خان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی مین شاہراہوں پر ناکہ بندی کیدوران 2000 لیٹرز سے زائد غیر معیاری و مضر صحت دودھ پکڑ کر موقع پر تلف کر دیا۔تفصیلات کیمطابق خلاف ورزی کرنے والے مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر ٹیموں کو شاباس دی اور کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کی ٹیمیں صوبہ بھر میں روزانہ کی بنیاد پر معائنے کر رہی ہیں تاکہ غیر معیاری، مضر صحت اور جعلی اشیائے خورونوش کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو گروپ
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سیدوشریف کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، عید کے بعد سوات کے عمائدین کا جرگہ طلب کرینگے جس میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے مستقبل کے حوالے سے اُن سے تجاویز لی جائیں گی عوام مطمئن رہیں کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی کے خلاف نہیں کیا جائے گا، عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیا ہے عوامی مفادات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، سوات ہمارا گھر ہے اس کی بہتری کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے، وہ پشاور میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کو ایم ٹی آئی میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے اجلاس میں سوات سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، ممبران صوبائی اسمبلی حمید الرحمان، سلطان روم خان، محمد نعیم کے علاوہ وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ہیلتھ ڈاکٹر مدیر خان، انصاف ڈاکٹرز فورم کے ڈاکٹر محمد خالد، انصاف ڈاکٹرز فورم کے فنانس سیکرٹری ڈاکٹر علینہ علی شاہ اور دیگر حکام بھی شریک تھے، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے کے بغیر نہیں کیا جائے گا پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے حوالے سے عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اس سلسلے میں عید الاضحیٰ کے فوراً بعد سوات کے سیاسی و علاقائی مشران کا جرگہ بلائیں گے جس میں اُن سے تجاویز لئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم عوامی مفادات سے ہر گز غافل نہیں اور عوامی رائے کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کینابس پودے کی ادویاتی،
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کینابس پودے کی ادویاتی، تحقیقی، صنعتی اور تجارتی مقاصد کے حوالے سے قائم کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں کمیٹی ممبران وصوبائی وزیر زراعت سجاد بارکوال،سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس،ایڈیشنل سیکرٹری زراعت دل نواز خان، ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان، ڈی جی ڈرگ کنٹرول ڈاکٹرعباس خان اور دیگر متعلقہ ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پرشرکائے اجلاس کو کینابس قوانین 2025 کے حوالے سے پرزنٹیشن دیتے ہوئے کینابس کے فوائد کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ یہ کاسمیٹکس، سکن کیئر، بیکری پراڈکٹس، دوائیوں، بایؤ فیول اور دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ کینابس ایکٹ کے رولز کے حولے سے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے باہمی مشاورت سے ایسے رولز ترتیب دینے ہیں جو فیڈرل ایکٹ کے رولز کے ساتھ تصادم نا ہو ں تاکہ ان رولز سے کینابس کو مثبت مقاصد میں استعمال کے لئے بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جاسکے اور اس سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کی جا سکے جس کے لئے فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ بھی مل بیٹھ کر متفقہ رولز کو وضح کیا جائیگا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس حولے سے پہلے مرحلے میں ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ریسرچ برانچ کے ساتھ مل کر ایک بہتر ماحول میں پائلٹ پراجکٹس پر کام کیا جائیگا اور اس کی کاشت، افزائش اور مقررہ پیداوار کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ اجلاس میں ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو موجودہ 2019 ایکٹ اور اس کے قوانین کا مفصل جائزہ لیگی اور کینابس فصل کے لائسنس کے اجرا، مارکیٹ میں اس کے دوسرے مقاصد کے لئے استعمال پر کام کرے گی۔اسی طرح کینابس کی ا دویاتی اور صنعتی مقاصد کے استعمال کے لئے لائحہ عمل بنانا، اس سے اقتصادی۔مقاصد کا حصول، مانیٹرینگ، ٹیکسیشن اور ریونیو کے حوالے سے قوانین وضح کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر ایکسائز نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا اس حولے سے یہ پہلہ اجلاس ہے اور تمام متعلقہ ممبران کو اس لئے مدعو کیا گیا ہے کہ وہ باہمی مربوط روابط اور قیمتی تجربے کی مدد سے ان رولز اور ایکٹ کو مزید بہتر اور جامع بنایئں تاکہ مسقبل میں یہ ایک اچھی پالیسی بنے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نا ہو۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی و برقیات کا اجلاس بدھ کے روز کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی داود شاہ کی زیر صدارت اسمبلی کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین میاں شرافت، عبدالسلام، ریاض خان، ارباب عثمان، محبوب شیر،تاج محمد ترند سمیت محکمہ توانائی، پیڈو، قانون اور صوبائی اسمبلی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی،پیڈو کے متعلقہ افسران نے اجلاس میں ضلع دیر میں چھوٹے پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل، صوبے کی اپنی ٹرانسمیشن لائن، مساجد، سکولوں، سرکاری عمارات کی شمسی توانائی پر منتقلی سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی، پیڈو کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سولر اسفندیار نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں 8000 سرکاری سکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے اسی طرح بی ایچ یوز، دیگر صحت سہولیات اور سرکاری عمارتوں کو بھی کامیابی سے شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صوبائی اسمبلی اور ایم پی اے ہاسٹل کو شمسی توانائی پر منتقلی کا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے،مساجد کو شمسی توانائی کی منتقلی کے پہلے مرحلے میں 4000 مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 5000 مساجد کی شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے پر کام جاری ہے،کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں بھی 900 مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا جبکہ اس سلسلے میں مزید کام بھی جاری ہے، سولرائزیشن منصوبے میں معیاری آلات کی تنصیب کو یقینی بنانے کے لیے یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور پی سی ایس آئی آر کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، محکمہ توانائی کے افسران نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ صوبائی حکومت مٹلتان سے بحرین تک 40 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن بھی بچھا رہی ہے جسکو چکدرہ تک توسیع دی جائے گی۔چیئر مین کمیٹی داؤ د شاہ نے سولرائزیشن منصوبوں کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی، انھوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبوں کی تکمیل سے لوگوں کو سہولیات میسر آئیگی۔
معاون خصوصی برائے جنگلی حیات پیر مصور خان کا اورکزئی وائلڈ لائف ڈویژن کے ہیڈ واچر قیصر شاہ کی کار حادثے میں وفات پر اظہارِ افسوس
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلی حیات، جنگلات،ماحولیات، و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے اورکزئی وائلڈ لائف ڈویژن کے ہیڈ واچر قیصر شاہ کی ایک کار حادثے میں وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی ہے یہاں سے جاری ایک تعزیتی بیان میں معاون خصوصی نے مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام جبکہ لواحقین کو یہ ناقابل تلافی نقصان صبرو استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی بڑی کاروائی، سیدو گروپ آف ٹیچنگ اہسپتال سوات میں غبن کی کوشش ناکام
اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سیدوشریف سوات میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے غیرمعیاری میٹ ریس (فوم) فراہم کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف فوری اقدام کیا ہے۔ کارروائی کے دوران موقع پر 180 غیر معیاری میٹ ریس قبضہ میں لے لیے گئے جو پی سی ون کے معیار کے مطابق نہیں تھے۔یہ کارروائی شہری کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا کو موصول ہونے والی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ شکایت میں الزام تھا کہ مذکورہ ٹھیکیدار نے پی سی ون کے مطابق میٹ ریس فراہم نہیں کیے بلکہ دیگر کمپنیوں کے غیرمعیاری میٹ ریس فراہم کیے جو کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں۔شکایت پر انکوائری میں الزامات درست ثابت ہوئے اور یہ بات واضح ہوئی کہ ٹھیکیدار نے دانستہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ٹھیکیدار کو ایک ہفتے کی مہلت دی گئی کہ وہ اپنی کوتاہی درست کرے اور ہسپتال کو پی سی ون کے مطابق معیاری 320 میٹ ریس فراہم کرے۔ واضح رہے کہ مقررہ مدت کے اندر اندر ٹھیکیدار نے معیار اور پی سی ون کے مطابق تمام میٹ ریس فراہم کر دیے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا ماحول دوست اقدام
خیبر پختونخوا حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ”کلائمیٹ ایکشن بورڈ (کیب) بل 2025ء” کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ یہ بل صوبے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر فریم ورک فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ ایکشن بورڈ ایک خودمختار مالیاتی ادارہ ہوگا جو نہ صرف تمام سرکاری محکموں کے درمیان ماحولیاتی حکمت عملی کی نگرانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا بلکہ پالیسی سازی، تحقیق، اور کارکردگی کے جائزے جیسے اہم پہلوؤں پر بھی کام کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی اداروں، ماہرین اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کرے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ بورڈ کے تحت ایک خصوصی ”کلائمیٹ ایکشن فنڈ” قائم کیا جائے گا، جو ماحولیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کرے گا اور مقامی سطح پر ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی یہ کاوش بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے بعد دوسرا بڑا ماحولیاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو کم کرنا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلین ٹری پراجیکٹ کو بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں کی جانب سے سراہا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف پالیسی سازی میں شفافیت لائے گا بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک مؤثر دفاعی نظام بھی قائم کرے گا۔ کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی تشکیل سے صوبے میں ماحولیاتی شعور بیدار ہوگا اور عوامی سطح پر ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کررہی ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ اور آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
صوبائی ہائی ویز پر اوورلوڈ گاڑیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات بارے وزیر قانون خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت اہم اجلاس
وزیر قانون خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی ہائی ویز پر اوورلوڈ گاڑیوں کے تدارک اور ایکسِل لوڈ کنٹرول کے موثر نفاذ کے حوالے سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی، معاون خصوصی صنعت عبد الکریم تورڈھیر، معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگریز، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اور منیجنگ ڈائریکٹر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی (PKHA) سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی.شرکاء نے اجلاس کے دوران اوورلوڈ گاڑیوں کے مسائل اور ان سے لاحق خطرات کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگریز نے تجویز دی کہ معدنیاتی علاقوں میں وزن چیک کرنے کے اسٹیشنز ذرائع پر ہی قائم کیے جائیں تاکہ ابتدا میں ہی کنٹرول ممکن ہو۔معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے تجویز دی کہ نہ صرف بھاری گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے بلکہ ان کا سامان بھی بھی ضبط کرکے نیلام کیا جائے تاکہ نظام میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔معاون خصوصی برائے صنعت عبدالقریم تورڈھیر نے کہا کہ اوورلوڈ گاڑیوں کے وزن چیک کرنے کا پورا نظام ڈیجیٹائز کیا جانا چاہیے تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے۔اجلاس کے آخر میں وزیر قانون ایڈوکیٹ آفتاب عالم نے تجویز دی کہ اوورلوڈ گاڑیوں پر موجودہ جرمانہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مواصلات، معدنیات اور ٹرانسپورٹ کے محکمے مل کر اوورلوڈنگ کے مسئلے پر مؤثر انداز میں قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی گاڑیوں کے صرف جرمانے ہی نہیں بلکہ ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جائیں، اور 15 فیصد سے زائد اوورلوڈ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنی سفارشات اور عملی منصوبہ پیش کریں تاکہ صوبے کی سڑکوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی زیر صدارت اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہری کا انعقاد
کھلی کچہری میں صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے اپنی شکایات پیش کیں۔
مشیر وزیراعلی مصدق عباسی نے کہا ہے کہ کرپشن ملک کا مجموعی مسئلہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میرٹ و شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور محکموں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی کے اختساب کے لیے انٹرنل اکاؤنٹبلٹی کمیٹی بنائی ہے۔ جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اینٹی کرپشن فورس بنانے کے لئے قانون سازی کررہے ہیں۔ جس سے ادارے کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ ایک سال میں پانچ سے چھ ارب کی ریکوری کی ہے۔ بڑے کیسز کے لیے اسپشل انویسٹی گیشن ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ماہانہ کھلی کچہری میں سائلین نے محکمہ بلدیات، ریونیو، سماجی بہبود، صحت اور زکوٰۃ کے حوالے سے اپنی شکایات پیش کیں۔ ماہانہ کھلی کچہری کے سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے علاؤہ ریجنل دفاتر میں بھی کھلی کچہریاں منعقدہ ہوئی۔ منعقدہ کچہریوں میں عوام نے مختلف محکموں کے حوالے سے شکایات پیش کیں۔ جن کو تفصیل سے سنا گیا اور ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ کھلی کچہری میں مشیر وزیراعلی مصدق عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا میں پچھلے دس سال میں اتنی ریکوری نہیں ہوئی جتنی ایک سال کے دوران ہوئی۔ محکمہ ریونیو میں بدعنوانی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلی مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں جس سے بدعنوانی میں کمی آئی گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے حوالے سے اپنی شکایات اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کے واٹس ایپ نمبر 03319988848، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آن لائن پورٹل ”اختیار عوام کا” یا اپنی شکایات تحریری طور پراینٹی کرپشن خیبرپختونخوا میں جمع کرسکتے ہیں.
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ بنوں کے عوام کے مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے اور میں نے ہمیشہ ہر فورم پر بنوں کے عوام اور ان کے حقوق کی ترجمانی کی ہے یہ وقت کسی پر تنقید یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ خالصتاً عوامی خدمت اور قومی یکجہتی کا ہے ہمیں ذاتی مفادات، رنگ، نسل اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر صرف قوم کی فلاح کیلئے کام کرنا ہوگااُنہوں نے کہا کہ امن و امان کا مسئلہ صرف خیبر پختونخوا یا بنوں کا نہیں بلکہ یہ ہم سب کا مشترکہ ہے ہمیں تنقید سے ہٹ کر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اپنے علاقے کو ترقی، خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنانا ہوگا اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ علی آمین خان گنڈا پور کی قیادت میں صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے،ہماری کوشش ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک پُرامن، خوشحال اور مثالی صوبہ بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں اُنہوں نے مزید کہا کہ بنوں کے مشران پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور وہ میرے دست و بازو بن کر علاقے کی ترقی اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور رہیں گے اُنہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کھینچا تانی، الزام تراشی اور نفرت پر مبنی سیاست سے دور رہ کر صرف اور صرف خدمت، اتحاد اور ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
