خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہمارے دفتر کے دروازے ہر وقت عوام اور پارٹی کارکنان کے لیے کھلے ہیں دفتر آنے والے شہریوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور اسی وژن کے تحت ان کے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر عوامی ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ شہریوں کی شکایات اور مسائل کو نہ صرف سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے بلکہ ان کے حل کے لیے تمام دستیاب اور جائز وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے اپنے دفتر پشاور میں عوام اور پی ٹی آئی کارکنان سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر فضل حکیم خان کا کہنا تھا کہ عوام اور پی ٹی آئی کارکنان ہماری اصل طاقت ہیں ہر شہری و کارکن کی عزت ہماری اولین ترجیح ہے اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں اور پارٹی کا منشور ہر سطح پر عوامی فلاح، شفاف حکمرانی اور مقامی ترقی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن صرف سیاسی نمائندے نہیں بلکہ عوام کے حقیقی خادم ہیں جو دن رات اپنے علاقوں کی ترقی، نوجوانوں کی بہتری، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔ فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ عوامی خدمت ان کی سیاست کا محور ہے اور وہ ہر لمحہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے خادم ہیں اور میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہیں فضل حکیم خان نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے جامع اقدامات اٹھا رہی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت اور دیانتداری کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تعمیر و ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انشائاللہ عوام کی دعاؤں اور حمایت سے ہم اپنے وعدے پورے کریں گے۔
بجلی کے مسائل کے حل کے لئے صوابی کے عوامی نمائندوں کی پیسکو چیف سے ملاقات۔ پیسکو چیف کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تور ڈھیر، ممبر قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی اور ممبر صوبائی اسمبلی مرتضٰی خان ترکئی نے پیسکو چیف سے ملاقات کی اور ضلع صوابی کے بجلی مسائل بارے ا نھیں آگاہ کیا۔ وفد نے پیسکو چیف کو صوابی میں کم ولٹیج،ناروا لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی مرمت و دستیابی بشمول ضلع بھر میں پولز اور کیبلز کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر اور خصوصاً صوابی میں عید کے دنوں میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جائے اور صوابی کے بجلی سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لئے بھی عملی اقدامات کئے جائیں۔ وفد نے جہانگیرہ، مانکی اورجلبئی فیڈرز، پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی، متھرا فیڈر اور محب بانڈہ ترکئی فیڈر،پرمولی فیڈر نارنجی فیڈر کو نواں کلے، کرنل شیر کلے کو فضل آباد گریڈ اسٹیشن کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی گئی۔ وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 132 کے وی لائن دو بیان گرڈ سٹیشن کو رشکئی اکنامک زون کے ساتھ منسلک کیا جائے اور انبار گریڈ اسٹیشن پر کام تیز کیا جائے تاکہ صوابی کے بجلی کے جملہ مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ وفد میں شامل عوامی نمائندوں کا کہنا تھا کہ بجلی کے ان مسائل پر قابو پا نے سے صوابی کی رہائشیوں کو بھی بلاتعطل بجلی میسر ہوگی اور عوام کو لو وولٹیج اور لوڈ شیڈنگ سے ریلیف مل سکے گا۔ پیسکو چیف نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس ضمن میں دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مشیر صحت احتشام علی کا پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ – مریضوں کی عیادت، سہولیات کا جائزہ اور ریجنل سیٹلائٹ سینٹرز کے قیام کی ہدایت
مشیر صحت خیبر پختونخوا جناب احتشام علی نے آج پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ادارے میں موجود مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، داخل مریضوں کی عیادت کی اور علاج معالجے کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔مشیر صحت نے PIC کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ملاقات کی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مریضوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے ان کے مسائل سنے اور انہیں درپیش مشکلات کے فوری ازالے کی یقین دہانی کرائی۔مشیر صحت نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ریجن کے دل کے مریضوں کے لیے ایک مرکزِ امید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج معالجے کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر مشیر صحت نے ایک اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو کہا کہ PIC جیسے جدید طبی ادارے کی سہولیات دیگر اضلاع کے عوام تک بھی پہنچائی جائیں۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں ریجنل سیٹلائٹ سینٹرز کے قیام کا عمل جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بھی بروقت علاج میسر آ سکے۔دورے کے دوران انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر سینئر افسران نے مشیر صحت کو ادارے کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اختتام پر مشیر صحت نے بتایا کہ“ان کی ترجیح عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ دل کے امراض سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہم اسے مزید مضبوط بنائیں گے اور اس کے دائرہ کار کو پورے صوبے تک وسعت دیں گے۔
وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی نگرانی میں کلپانی ندی میں لاپتہ نوجوان کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے مسلسل دوسرے روز بھی ویلج کونسل غلہ ڈھیرمیں کلپانی ندی میں ڈوبنے والے نوجوان شعیب کی تلاش کے لیے جاری ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔وزیر خوراک موقع پر موجود رہ کر مختلف ریسکیو ٹیموں، غوطہ خوروں اور کشتیوں کے ذریعے جاری سرچ آپریشن کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے۔ خانپور سے آئی خصوصی غوطہ خور ٹیم کے علاوہ مقامی غوطہ خور بھی بھرپور جذبے اور انتھک محنت کے ساتھ نوجوان کی تلاش میں مصروف ہیں۔اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے مردان و نوشہرہ انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پورے عزم، ہم آہنگی اور خلوص کے ساتھ یہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، انہوں نے کہا کہ وہ خود اس افسوسناک واقعے پر دل گرفتہ ہیں اور نوجوان کی بازیابی تک ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی جاری رکھیں گے۔ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نوجوان کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ریسکیو 1122 کے ٹیم لیڈر نے وزیر خوراک کو اب تک کی پیش رفت سے تفصیلاً آگاہ کیا۔
بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کیلئے صرف 54 کروڑ روپے رکھے ہیں اور خیبرپختونخوا کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ بھی نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
حکومت کے مطابق ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد تک بڑھ جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے مطابق 15 فیصد بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس میں صرف 30 فیصد کپاس کی پیداوار میں کمی شامل ہے جس کی درامد پر پانچ ارب ڈالر اضافی خرچ ہوں گے اس طرح گندم کی پیداوار میں کمی کے باعث تین ارب ڈالر کی گندم کی درامدات پر خرچ ہونگیصرف زراعت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کی امپورٹ کرنی پڑے گی اور یہ 10 ارب ڈالر ملک اور کسانوں کا نقصان ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں حکومت دعوی کر رہی تھی کہ مہنگائی 4.5 فیصد یا 4.7 فیصد ہے اب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد پر جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس سال پاکستان کی جی ڈی پی ایک لاکھ 14 ہزار ارب تھی اور اگلے سال ایک لاکھ 29 ہزار ارب روپے ہو جائے گی جبکہ اس میں ترقیاتی اخراجات کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اس سال وفاقی حکومت کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہی جبکہ صوبوں کو بھی کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس ایک ہزار ترقیاتی اخراجات میں 120 ارب روپے جو پیٹرول میں ریلیف نہیں دیا گیا تھا جس سے بلوچستان میں سڑک بنا رہے ہیں شامل ہے جس کا مطلب ہے کہ اپ نے ایک سال میں صرف 880 ارب روپے کی پی ایس ڈی پی رکھی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام میں سپورٹس پانی ماحولیات کے بارے میں بات ہوتی تھی اس میں بھی ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 65 ارب روپے مختص کیا گیا تھا جس کو کاٹ کر صرف 45 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس پر صوبوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ جن صوبوں کے منصوبے 75 فیصد سے زیادہ مکمل ہو جائیں گے ان کو ترجیح دی جائے گی اس میں ہماری صوبے کے دو سڑک جو تقریبا نویں فیصد مکمل ہوئے ہیں کے بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے جس کا میں نے حکومت کو اج کے اجلاس میں بتا بھی دیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ مہنگائی ایک فیصد پر لائے ہیں تو شرح سود 11 فیصد کیوں ہے اس سال سود کی ادائیگی میں دو سے دو ڈھائی ہزار ارب روپے کی بچت ہونی چاہیے جس کو اپ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیں کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 118 ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر دیا گیا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد ہو جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی اور 39.5 ارب روپے ترسیلات زر کا تہمینہ رکھا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے کی پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کو صرف 54 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ بلوچستان کو 120 ارب روپے کے علاوہ 20 ارب روپے دے رہے ہیں اس طرح سندھ کو 47.1 ارب روپے مختص کیے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے لیے 37 ارب روپے اور 45 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے صرف 70 ارب روپے رکھے ہیں اور رواں سال ضم اضلاع کو 70 ارب روپے میں سے صرف 34 ارب روپے ملے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اس سال پنجاب کا ترقیاتی بجٹ ہزار ارب روپے جبکہ سندھ کا 1100 روپے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 433 ارب روپے ہوگا وفاق خیبر پختونخواہ کو ضم اضلاع کا حصہ نہیں دے رہا جو ناانصافی ہے۔ خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کہ رواں سال خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملیں گے صرف رواں سال 42 ارب روپے این ایف سی کے مد میں خیبر پختونخوا کو کم ملے ہیں وفاق نے ٹیکس کے مد میں مئی کے مہینے تک ایک ہزار ارب روپے کم جمع کیے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کو اس سال 90 ارب روپے کم ملیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت سابقہ فاٹا ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کا ایوارڈ جاری کریں اور جو آبادی کے حساب سے حصہ بنتا ہے وہ فل الفور مہیا کریں اگر نہیں دے رہے تو جو بجٹ میں اعلان کرتے ہیں کم از کم وہ تو فراہم کیا کریں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں ان کی حکومت نہیں بنی ہے اس لیے ان کو فنڈز فراہم نہیں کرتے جو نا انصافی پر مبنی ہے جبکہ خیبرپختونخوا نے ائی ایم ایف شرائط بھی پورے کیے ہیں اور حکومت خود اس کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹریز سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو صوبے میں آٹے سمیت دیگرضروری اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کی صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں قومی سطح اور دیگر صوبوں میں اشیائے خوردونوش کا خیبرپختونخوا کے نرخوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ جہاں قیمتوں میں ریٹل پرائس اور سیل پرائس میں ذیادہ فرق ہو وہاں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں. اجلاس کو صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے نکاسی آب اور سیوریج کے نظام کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جن 40 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو نوٹسز دئے ان میں سے 29 نے اپنے سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا ہے۔ جبکہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے پانچ ہوٹلوں کو سیل کیا گیا ہے۔ اسی طرح کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 34 میں سے 8 ہوٹلوں نے اپنے نظام میں درستگی کی ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 193 میں سے 14 نے سیوریج اور نکاسی آب کا نظام درست کیا جبکہ 3 یونٹس کو اب تک سیل کیا گیا۔کیلاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 14 میں سے 6 نے اپنا نظام درست کیا ہے جبکہ اپر سوات میں 112 ہوٹلوں کو نوٹسز دئے گئے ہیں۔ نوٹس پیریڈ جوکہ 14 دن ہے مکمل ہونے کے بعد تمام ہوٹلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ماحولیاتی تحفظ یقینی بناکر سیاحت کو فروغ دینا ہے جس سے مقامی معیشتیں پروان چڑھ سکیں۔ چیف سیکرٹری نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو مقامی شہریوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں کا کہنا تھا کہ اتھارٹیز کے قیام کا مقصد ان علاقوں میں پائیدار سیاحت کا فروغ ہے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو ای آفس منصوبے کے اجراء، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں، ماسٹر پلاننگ اور لینڈ یوز پلاننگ، انسداد پولیو اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی
افغان طلباء کی تعلیمی ترقی پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش کی مظہر ہے، سید قاسم علی شاہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود و ویمن ایمپاورمنٹ سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ ”275 افغان طلباء میں ٹیبلٹس کی تقسیم تعلیم کے فروغ اور علاقائی بھائی چارے کا عملی اظہار ہے۔” وہ آج یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں افغان طلباء میں ڈیجیٹل تعلیمی آلات تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اقدام حکومت پاکستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن، علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام اور یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے باہمی تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے ان تمام اداروں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی تعلیمی ضروریات کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔سید قاسم علی شاہ نے مزید کہا،”پاکستان اور افغانستان صرف جغرافیائی ہمسایہ نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کے گہرے رشتوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم کی روشنی سرحدوں کی محتاج نہیں اور ہم افغان طلباء کے تعلیمی سفر کو ہر ممکن تعاون سے ہموار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی نئی نسل کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جو نہ صرف تعلیم بلکہ بااختیار معاشروں کے قیام کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔تقریب کے اختتام پر وزیر موصوف نے تمام متعلقہ اداروں، منتظمین، اساتذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بامقصد پروگرام کو کامیاب بنایا۔
نوتعینات ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن انصاراللہ خلجی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا
سینئر افسران، صحافی حضرات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر افراد نے نو تعینات ڈی جی کو مبارکباد دی
محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے نئے ڈائریکٹر جنرل انصاراللہ خلجی نے کل بروز پیر باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ چارج سنبھالنے کے موقع پر محکمہ اطلاعات کے افسران، عملے، صحافی برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے نو تعینات ڈی جی کو مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے دفتر میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں سینئر افسران، صحافی حضرات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نو تعینات ڈائریکٹر جنرل کی صلاحیتوں، تجربے اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں محکمہ اطلاعات مزید فعال، مؤثر اور عوامی رابطہ کاری کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرے گا۔نو تعینات ڈی جی انفارمیشن نے کہا کہ وہ محکمہ کی بہتری، شفاف اطلاعات کی فراہمی اور صحافیوں کے ساتھ مثبت و تعمیری تعلقات کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس کے استحکام اور آزادی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عوام تک بروقت اور درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے تمام افسران و عملے پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری، محنت اور لگن کے ساتھ سرانجام دیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے نو تعینات ڈی جی کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق انڈس لفٹ ایریگیشن کنال کی فیزیبیلیٹی سٹڈی کی منظوری دیدی۔ صوبائی وزیر سجاد بارکوال
آر ایف پی باقاعدہ طور پر مشتہر، کرک کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں – سجاد بارکوال
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے ضلع کرک کیلئے انڈس لفٹ ایریگیشن کنال کی فیزیبیلیٹی سٹڈی کی منظوری پر ضلع کرک کے عوام کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اظہار دلچسپی (آر ایف پی) کا اشتہار مشتہر ہوگیا۔ منصوبے کی منظوری بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے باقاعدہ طور پر دے دی ہے اور اس پر عملی طور پر کام کا آغاز اشتہار مشتہر ہونے سے ہوگیا ہے۔ اس منصوبہ سے ضلع کرک کی بنجر اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گاجبکہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چئیرمن ڈیڈک ضلع بنوں، چئیرمن ڈیڈک لکی مروت، میئر کرک سٹی عظمت خٹک، صدر پاکستان تحریک انصاف کرک عاصم خٹک و دیگر کے ہمراہ مذکورہ منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے انڈس آپ لفٹ ایریگیشن کنال کے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ سے خیبرپختونخوا کے حصہ کا پانی ضائع ہو رہا ہے اس پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے انڈس آپ لفٹ ایریگیشن کنال منصوبے کو عملی شکل دے رہے ہیں جس سے جنوبی اضلاع کرک، بنوں اور لکی مروت کے علاقے مستفید ہوسکیں گے۔ ان اضلاع کی ہزاروں ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنائیں گے جس سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے منصوبے کی منظوری میں محکمہ پی اینڈ ڈی، آبپاشی، اراکین صوبائی اسمبلی اور حصوصا وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انکی کوششوں سے منصوبے کی فیزیبیلٹیی سٹڈی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کیلئے بہترین کنسلٹنٹ مقرر کریں گے تاکہ وہ منصوبے کی بہتر فیزیبیلٹیی سٹڈی کرسکیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اراضی اس منصوبے سے مستفید ہوسکے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) جیتنے کے باوجود مایوس، جبکہ تحریک انصاف ہار کر بھی مطمئن ہے،آر اوز کے دفاتر کے باہر ”عمران خان زندہ باد” کے نعرے گونج رہے تھے، جبکہ اندر نتائج میں تبدیلی کی جا رہی تھی.اپنے دفتر سے جاری بیان میں بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ شریف خاندان نے پرانی روش اختیار کرکے دھاندلی نہیں بلکہ کھلم کھلا ”دھاندلا” کیا ہے، جعلی حکومت کب تک انتخابی نتائج تبدیل کرتی رہے گی؟ سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے عمران خان کی مقبولیت کو ختم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے مزید بتایا کی یہ انتخابی نتائج نہ صرف مریم نواز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہیں، مریم نواز کا ترقیاتی سفر صرف ٹک ٹاک ویڈیوز تک محدود ہے عوام نے انتخابات میں ٹک ٹاک منصوبوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے سیالکوٹ انتخابات میں 8 فروری الیکشن کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے۔ ریٹرننگ افسران نے تاریخ کی بدترین دھاندلی کرکے ہارے ہوئے امیدوار کو جتوایا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات جعلی حکومت کے خلاف ریفرنڈم تھا اس لئے رات کو نتائج تبدیل کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج تبدیل کرنے سے عمران خان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی ہے عمران خان اب بھی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ دھونس دھاندلی سے عمران خان کی مقبولیت نہ کم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی عوام کے دلوں سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک عوام عمران خان کے ساتھ ہیں شریف خاندان صرف دھاندلی سے انتخابات جیت سکتے ہیں ورنہ حقیقت میں وہ انتخابی مہم کے لئے بھی نہیں نکل سکتے ہیں کیونکہ عوام کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں اور انکے پلے کارکردگی نہیں ہے۔
