وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی زیرصدارت سالانہ آگاہی امرباالمعروف پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں محکمہ خزانہ میں سالانہ آگاہی امرباالمعروف پلان پر عملدرآمد اور موجودہ پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ اور صوبائی انسپکشن ٹیم کے نمائندوں نے شرکت کی۔ محکمہ خزانہ کے حکام نے پلان کے تحت اب تک کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جبکہ دیگر ٹاسک پر عملدرآمد جاری ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ نے اجلاس میں مالی نظام میں اصلاحات، محکمانہ امور میں کفایت شعاری، اور بجلی کے استعمال میں اعتدال پر زور دیا اور کہا کہ مالی امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ایماندار افسران کی کار کردگی کو سراہا جائے، اور اداروں میں شکایات کے حل کے لیے شکایات سسٹم کو مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کرپشن کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی کو کلیدی قرار دیتے ہوئے تمام اہداف پر بروقت عملدرآمد کی تاکید کی۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو تاکید کی کہ معیاری کارکردگی اور وقت کی پابندی کو ترجیح دی جائے۔
وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی مدبرانہ کوششوں سے ضلع کرم میں امن قائم ہو چکا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ضلع کرم میں وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی مدبرانہ کوششوں سے امن قائم ہو چکا ہے،علاقے کو بنکروں اور اسلحے سے پاک کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر دونوں فریقین کے تقریباً 979 بنکر تباہ کیے گئے ہیں۔علاقے کو مکمل طور پر اسلحے سے بھی پاک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ86 دیہاتوں کو غیر مسلح کر کے اسلحہ اور گولہ بارود سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بنکرز اور اسلحہ تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دورانِ کشیدگی وزیراعلی نے اپنا ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں کے لیے مختص کر دیا تھا، ہیلی کاپٹر کی 338 پروازوں کے ذریعے 29,140 کلوگرام ادویات متاثرہ علاقے تک پہنچائی گئیں، اسی طرح مریضوں سمیت 9,290 افراد کو محفوظ طریقے سے پشاور اور دیگر علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ علاقے میں اب ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہے، ٹل پاراچنار روڈ کی مرمت کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ 9.6 ارب روپے کی لاگت سے سڑک کی توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔بازاروں کی تزئین و آرائش کے 728 ملین روپے کے منصوبے میں سے 300 ملین روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔
کاروباری طبقہ ہی مقامی معیشت اور خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔ چیئرمین ڈیڈاک کوہاٹ
کاروباری طبقہ ہی مقامی معیشت اور خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔ چیئرمین ڈیڈاک کوہاٹ
ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (ڈیڈاک) کوہاٹ کے چیئرمین شفیع جان ایم پی اے نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوہاٹ کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے چیمبر کے صدر رشید پراچہ، اراکین اور مقامی کاروباری برادری سے ملاقات کی۔اس موقع پر ایم پی اے شفیع جان کو شہر میں کاروباری سرگرمیوں، صنعتوں کو درپیش مسائل اور معاشی ترقی کے امکانات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ تاجر برادری نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، ناقص انفراسٹرکچر، پانی کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل پر موصوف کی توجہ مبذول کر۱تے ہوئے ”صنعتی ایمرجنسی” نافذکرنے کی درخواست کی تاکہ اس خطے کو صنعتی مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔ اگر حکومت سہولیات اور مراعات کی فراہمی میں تعاون کرے تو کوہاٹ جنوبی خیبرپختونخوا کا انڈسٹریل حب بن سکتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ، علاقائی خوشحالی اور معاشی استحکام ممکن ہو گا۔شفیع جان نے تاجروں کے مسائل غور سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مسائل کو صوبائی اسمبلی میں بھرپور طریقے سے اُجاگر کریں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ متعلقہ محکموں سے فوری رابطہ کیا جائے گا تاکہ مسائل کا جلد از جلد حل ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے کیونکہ یہی طبقہ مقامی معیشت اور خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔چیمبر آف کامرس کے صدر اور دیگر اراکین نے ایم پی اے شفیع جان کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اُن کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ قبل ازیں مرحوم ملک محمد اسد خان کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ان کے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اجلاس میں صدر چیمبر رشید پراچہ،سینئر نائب صدرفہیم اللہ،سابق صدور سید فائق شاہ، ارشد حیات،ملک محمد اقبال،محمد جنید، عظمت جمیل، کرنل ر جواد پراچہ، پیر کامران شاہ، شاکر جہانگیر، محمد راشد اقبال میر، چیئرمین واسا محمد سعد، قاسم زبیر، انتظار علی، وسیم خان، عبدالرحمان، راحت خٹک ودیگر شامل تھے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور جمہوری و پُر امن انداز میں ملک کی حقیقی تبدیلی کے لیے اپنے مشن پر پوری ثابت قدمی سے گامزن ہے۔ پاکستان صرف قائد عمران خان کی قیادت میں ہی ترقی، خودمختاری اور انصاف کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ عمران خان کی جلد رہائی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ ایک باوقار، خوشحال اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کی قیادت دوبارہ سنبھال سکیں۔ تحریک انصاف کی یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک وطن عزیز میں آئین، قانون اور عوام کی حکمرانی قائم نہیں ہو جاتی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے اپنی رہائش گاہ مینگورہ میں مختلف عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عوامی مسائل کو توجہ سے سنا اور ان کے فوری اور موثر حل کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عہدیداران سے بھی ملاقاتیں کیں جس میں پارٹی کے تنظیمی امور، عوامی خدمات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ قائد عمران خان کا وژن عوامی خدمت، شفاف حکمرانی اور قانون کی بالادستی پر مبنی ہے، جسے صوبائی حکومت عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہے۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کے مثبت اثرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے عمران خان کی جلد رہائی کو ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس مقصد کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی حمایت سے ملک میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ویلج کونسل سائیکوٹ میں سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت کا سروے مکمل کردیاگیاہے،جلد عملی کام شروع ہوگا۔وزیرزراعت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمدسجاد بارکوال نے کہا ہے کہ ضلع کرک میں ان کے حلقہ نیابت کے ویلج کونسل سائیکوٹ میں سروے ٹیم نے مین روڈ تا زنگانہ روڈ،مین روڈ تاخونشاخیل سکول روڈ،شیخان کورونہ تاکاشوروڈ،زڑہ گانڈی مین روڈ تا ڈگری کورونہ اور شوبلے بانڈہ تا پلوسکی الگڈہ روڈ سمیت مختلف گلیوں کا سروے مکمل کرلیا ہے اور انشاء اللہ بہت جلدان پر کام شروع کر دیاجائے گا۔ وزیر زراعت نے یونین کونسل شنواہ گڈی خیل، نغری والہ، ڈگر سرکا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے کالاباغ ڈیم میں شہید ہو نے والے عارف اللہ کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور شہید کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے محلہ شہید عارف اللہ کے عمائدین کو درپیش پانی کے مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے مسجد اور آبنوشی سکیم کی سولرائزیشن کا اعلان کیا اور مشکل کی گھڑی میں بھرپور جدوجہد کرنے پر یونین کونسل کی ٹیم کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔دریں اثناء صوبائی وزیر زراعت سجاد بارکوال نے جام شہادت نوش کرنے والے ایف سی بلوچستان کے شہیدالرحمان کی رہائشگاہ پران کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت کے ساتھ تحصیل جنرل سیکرٹری ملک زاہد بہرام خیل، عارف نواز خٹک، چیئرمین ملک محیط خان، صدر وی سی شاہ سلیم، حاجی فضل رحیم ودیگر پارٹی کارکنان بھی موجود تھے۔
خوشحال گڑھ اور بلی ٹنگ یونین کونسلز میں دو سڑکوں اور خیرماتو روڈ پرآرسی سی پل کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں، عنقریب کام شروع ہو گا، وزیر قانون
خوشحال گڑھ اور بلی ٹنگ یونین کونسلز میں دو سڑکوں اور خیرماتو روڈ پرآرسی سی پل کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں، عنقریب کام شروع ہو گا، وزیر قانون
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وعدوں سے تکمیل تک کا سفر کامیابی سے جاری ہے اور حسب وعدہ عوام کے تمام مسائل بتدریج حل کریں گے۔انہوں نے اپنے عزم کا ارادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلقے کے لوگوں سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جسے پورا نہ کیا جا سکے۔وزیر قانون نے کہا کہ ان کے اور ایم این اے شہریار آفریدی کے مشترکہ فنڈز سے چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال کی کاوشوں سے ان کے حلقہ نیابت پی کے- 90 میں ترتیب وار ہر یونین کونسل میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے تمام منصوبوں کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ حلقہ پی کے- 90 کے یونین کونسل خوشحال گڑھ میں 10 کلومیٹر طویل کمر ڈھوک روڈ، یونین کونسل بلی ٹنگ میں 5 کلومیٹر طویل سیاب تا کوٹ روڈ براستہ بندی ڈھوک اور آر سی سی پل خیرماتو روڈ بلی ٹنگ کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں جن پر عنقریب عملی کام شروع کر دیا جائے گا جس سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔اس طرح شیخان روڈ پر بھی اسفالٹ کا کام شروع کردیاگیاہے جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔دریں اثناء وزیر قانون کی ہدایت پر ان کے حلقے کے علاقہ مندونی میں چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال کی نگرانی میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام جنگلی زیتون کے درختوں میں پھلدار زیتون کی گرافٹنگ کا عمل جاری ہے۔مجموعی طور پر9ہزار6سو37جنگلی زیتون کے درختوں کے اندر25 ہزار7سو پھلدار زیتون کی گرافٹنگ کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت بجٹ سے قبل ضم شدہ اضلاع کا حصہ اور نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات خیبر پختونخوا کومنتقل کرے: بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وفاقی حکومت بجٹ سے قبل ضم شدہ اضلاع کا حصہ اور نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات خیبر پختونخوا کومنتقل کرے: بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز غیر آئینی طور پر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔بیرسٹر سیف
وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے۔مشیر اطلاعات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل فوری طور پر این ایف سی کا اجلاس بلا کر ضم شدہ اضلاع کا آئینی حصہ خیبر پختونخوا کو منتقل کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جوکہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ صوبے کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی ہے کیونکہ ضم اضلاع اب باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات بھی بجٹ سے پہلے خیبر پختونخوا کو ادا کئے جائیں تاکہ صوبے کے مالی معاملات کو بہتر انداز میں چلایاجا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئندہ بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کو ریلیف دینا چاہتی ہے، لیکن وفاق کی جانب سے مالی تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔انہوں نے یاددہانی کرائی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ان اہم معاملات پر وزیراعظم کو باضابطہ طور پر خطوط بھی لکھے ہیں، تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی نہ صرف وہاں کے عوام کا حق ہے بلکہ اس سے دہشت گردی میں بھی واضح کمی آ سکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت واقعی دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر ضم شدہ اضلاع کے فنڈزصوبائی حکومت کو منتقل کرنے چاہئیں۔ دہشت گردی صرف خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، اور اس کے حل کے لیے وفاق کو صوبے کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے صوبے کو اس کا جائز حق فی الفور دیا جائے۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس روڈ میپ کے تحت صحت و صنعت کے محکموں کا اجلاس
خیبر پختونخوا حکومت کے ”گورننس روڈ میپ” کا جائزہ لینے کے لئے اجلاسوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں صحت اور صنعت کے محکموں سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کا انعقاد ہوا جس کی صدارت چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔اجلاس میں محکمہ صحت کے لیے تیار کردہ حکمت عملی پر غور خوص کیا گیا جس کا مقصد بنیادی طبی سہولیات کو مستحکم کرنا، ثانوی ہسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ عوام کو ایمرجنسی اور مخصوص علاج کی بہتر سہولیات فراہم ہوں،اس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے کو ڈیجیٹائزیشن اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے مزید مستحکم کرنے کے اہداف کا بھی جائزہ لیا گیا۔محکمہ صنعت کے روڈ میپ میں صنعتی زونز کی ڈیجیٹائزیشن، صنعتی بستیوں کے قیام میں رکاوٹوں کے خاتمے، مزید آسانیاں پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے لئے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے، اور تکنیکی تربیتی ادارے (ٹیوٹا) کی استعداد کو بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا جیسے اہداف کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ روڈ میپ اور ایکشن پلان کے تحت پیش رفت کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے مؤثر نگرانی یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ اور آپریشنل سٹاف کو بھی ان اہداف سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی بھرپور شمولیت سے مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔اجلاس میں دونوں محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ اور محکمانہ اہداف کا بھی جائزہ لیا گیا۔گورننس روڈ میپ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت تمام محکموں کی ترجیحات کو یکجا اور ہم آہنگ کر کے اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ جامع اور مربوط حکمت عملی صوبے میں گورننس کو بہتر بنانے، ترقی کو تیز کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ریسرچ ہی ترقی کی بنیاد ہے، خیبر پختونخوا حکومت تحقیق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے: مینا خان آفریدی
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے آرکائیوز لائبریری ہال پشاور میں“خیبر پختونخوا ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈ” کے تحت ایوارڈ تقسیم کی ایک سادہ مگر باوقار تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے دوران 26 کامیاب تحقیقی منصوبوں کے پرنسپل انویسٹی گیٹرز (PIs) اور کو-پرنسپل انویسٹی گیٹرز (CoPIs) کو تحقیقی گرانٹس سے نوازا گیا۔ یہ گرانٹس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تحقیق کے فروغ، مقامی مسائل کے حل اور سائنسی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے دی جا رہی ہیں۔اپنے خطاب میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ تحقیق کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور خوش آئند امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اب اس شعبے میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صوبے نے تحقیق میں تاخیر سے پیش رفت کی، لیکن موجودہ حکومت عزم اور شفاف حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا کردار صرف تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحقیق کو فروغ دینا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تحقیقی منصوبے اور صنعتوں کے مابین روابط نہ ہونے کے باعث متعدد تحقیقی ماڈلز کو عملی شکل نہیں دی جا سکی۔وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے بطور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز،تحقیقی منصوبوں کے جائزہ عمل کی خود نگرانی کرنے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرانٹس کی تقسیم مکمل میرٹ، شفافیت اور منصفانہ بنیادوں پر کی گئی ہے، جس سے تحقیقی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔صوبائی وزیر نے شرکاء سے کہا کہ وہ تحقیقاتی گرانٹس کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کریں تاکہ مستقبل میں اسے مزید موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے انڈؤمنٹ فنڈ کے اس اقدام کو پہلی بارش کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں تحقیق کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اسلام آباد میں
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اسلام آباد میں ہدیۃ الہادی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ حملے جیسے من گھڑت واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کی، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ اس سے پورے خطے کے امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا بیانیہ خود ان ہی کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے جھوٹا ثابت کر دیا، جو پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ریاست قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے نہایت ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور عالمی برادری کے سامنے اپنا مثبت اور اصولی کردار پیش کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے انکشاف کیا کہ بھارت نے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ جنیوا کنونشن کی بھی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں مظفرآباد، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اعلان کو بھی عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیا کہ پاکستان کو اس اقدام کے خلاف عالمی فورمز پر بھرپور قانونی اور سفارتی جدوجہد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر دعویٰ بے بنیاد ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش اس حقیقت کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس پر بھارت کا قبضہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اعترافی تقریر کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ روکی گئی ہے، ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اس نازک صورتحال میں تدبر، جرات اور قومی اتحاد کے ذریعے کامیابی حاصل کی، اور پوری قوم نے اللہ کے حضور شکرانے کے سجدے ادا کیے۔آخر میں، بیرسٹر سیف نے آل پارٹیز کانفرنس کے منتظم سید پیر ہارون گیلانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے تمام سیاسی جماعتوں نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قوم ملکی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحد ہے۔
