خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی حقیقی خدمت کرنے اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں تمام تر توانائیاں بروئے کار لارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر پشاور میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں اور وفود نے فضل حکیم خان یوسفزئی کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل سے بھی آگاہ کیا صوبائی وزیر نے ان کے مسائل پوری توجہ اور ہمدردی سے سنے اور موقع پر ہی بعض مسائل کے حل کیلئے احکامات بھی جاری کئے انہوں نے وفود کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحت و تعلیم سمیت دیگر اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے اور دستیاب وسائل کے مطابق بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے پر دلی سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔وفد نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر وزیر موصوف کا شکریہ ادا کیا۔
فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے چھاپے،ملاوٹ شدہ دودھ اور ممنوعہ چھالیہ ضبط۔ بھاری جرمانے عائد، ترجمان
شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ملاوٹ مافیا کے خلاف مسلسل سرگرم ہے ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور نے موٹروے ٹول پلازہ پر ناکہ بندی کی اورخوردنی اشیاء خصوصی طور پر دودھ اورچکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے معائنے کیے چیکنگ کے دوران ملاوٹ شدہ دودھ تلف کر کے بھاری جرمانہ عائد کیا اور چکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے مالکان کو سختی سے مردہ چکن سپلائی کو روکنے کی ہدایت کی۔ترجمان نے مزید بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے بھی کاٹلنگ بازار میں کاروائی کے دوران دو بیکری شاپس سے 120 کلو ممنوعہ چھالیہ اور چورن برآمد کر کے ضبط کرتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کاروائیوں پر داد دیتے ہوئے ہدایت دی کہ دیگر صوبوں سے داخلی شاہراہوں اور بین الاضلاعی راستوں پر خوراکی اشیاء خصوصاً چکن سپلائی کرنے والی گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور جو بھی غیر معیاری اور ملاوٹی خوراکی مصنوعات میں ملوث ہو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پالیسی متعارف کررہے ہیں
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پالیسی متعارف کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ہر کھیل سے متعلق 15 باصلاحیت کھلاڑیوں کودیگر سہولیات کیساتھ اسکالرشپس فراہم کئیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران مختلف کھلاڑیوں میں اعلی کارکردگی دکھانے پر انکی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعامات سے نوازا گیا ہے جبکہ نوجوانوں کی ترقی اور انھیں معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے دس لاکھ تا ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ سکیم شروع کررہے ہیں جس کے تحت نوجوان کلسڑز کی بنیاد پر یہ قرضہ حاصل کرکے اپنے لئیے باعزت روزگار شروع کرسکیں گے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے مختصر دورانئے میں بہتر مالی انتظام کی بدولت سپورٹس فیسلیٹیز سے آمدن آنی بھی شروع ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں ایک مہینے کے دوران صرف حیات آباد سپورٹس کمپلیکس نے ایک ملین روپے کی کمائی کی ہے جسے سپورٹس کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود ہی پر خرچ کیا جائے گا۔انھوں نے صوبے میں کرکٹ کھیل کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کیساتھ پشاور زلمی گروپ کے تعاون کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ محکمہ سپورٹس اس حوالے سے مزکورہ گروپ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر سول سیکریٹیریٹ پشاور میں پشاور زلمی گروپ کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنھوں نے چیف آپریٹنگ آفیسر میاں عباس لائق کی سربراہی میں مشیر کھیل سے ملاقات کی۔وفد میں ہیڈ آف مارکیٹنگ احد خان بھی شامل تھے جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران پشاور زلمی نے مشیر کھیل کو صوبے میں کرکٹ کھیل کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کیساتھ ملکر کوششیں کرنے اور اس ضمن میں اپنا تعاون بڑھانے کے پیشکش کی۔انھوں نے بتایا کہ ہم صوبے میں 100 کرکٹ پچز بنانے میں محکمہ کو اپنا تعاون بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ ارباب نیاز سٹیڈیم کی تیاری کی تکمیل کی اوپننگ تقریب کی سپانسرشپ میں بھی انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم محکمہ کیلئے مختلف گراؤنڈز میں کرکٹ اکیڈمیز بھی بنانا چاہتے ہیں جبکہ صوبے میں پی ایس ایل بھی جلد ازجلد لانا چاہتے ہیں۔انھوں نے مشیر کھیل کو اپنے گروپ کے دیگر خدمات اور سرگرمیوں کے حوالے سے بھی مشیر کھیل کو آگاہ کیا۔اس موقع پر مشیر کھیل نے پشاور زلمی کی جانب سے صوبے میں کرکٹ کی ترقی کیلئے حکومت کو اپنا تعاون بڑھانے کا خیر مقدم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مذکورہ گروپ کی مشترکہ کوششں اس کھیل کی ترقی میں معاون ثابت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں پر کھیلوں کو فروغ حاصل ہو۔اس کے ذریعے ہمارے صوبے کا مثبت تشخص اور تصو اجاگر ہوسکے۔ہم ان کھیلوں کے باعث پوری دنیا میں اپنی امن پسندی اور ایک پر امن معاشرے کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ یہاں پر انٹرنیشنل کرکٹ جلد از جلد لایا جائے،ارباب نیاز سٹیڈیم کو ان سرگرمیوں کیلئے بہت جلد مکمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر سال یہاں پر سپر لیگ کا انعقاد بھی ہمارے پلان میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپورٹس فیسلیٹیز کے حوالے سے صوبے میں محکمہ کے حکام پشاور زلمی سے ہر موڑ پر درکار تعاون فراہم کریں گے۔
ای ایس ایس آئی میں ملنے والی جان بچانے کی ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔فضل شکور خان
ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور نوشہرہ میں فوری طور پر میڈیسن سٹور کا قیام عمل میں لایا جائے۔ وزیر برائے محنت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محکمہ محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں ملنے والی جان بچانے کی ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے سختی سے ہدایات کی کہ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشنز کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں ایمبولینسز کے معیار اور سروسز کو بہتر بنایا جائے اور اگر ایمبولینسز کو کسی دوسری مقصد کیلیے استعمال کیا گیا تو متعلقہ آفیسر کوتاہی اور غفلت کا ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ای ایس ایس آئی کے میڈیکل شعبے سے وابستہ عملے کی غیر ضروری اور طویل چھٹیاں فوری طور پر ختم کی جائیں یہ ہدایت صوبائی وزیر نے ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن پشاور کے دورہ کے موقع پر جاری کیں اس موقع پر انکے ہمراہ سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے ای ایس ایس آئی کی مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود عملے سے کام کے بارے میں دریافت کیا صوبائی وزیر کو ای ایس ایس آئی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صوبائی وزیر کو ادایات کی خریداری اور دوسرے امور پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ میڈیسن کے شعبے کے لیے 355 ملین روپے کی منظوری ہوئی ہے جسمیں 340 ملین روپے خرچ ہوئے ہے صوبائی وزیر کو مذیدبتایا گیا کہ پورے ادارے میں ایک مہینے کے اندر اندر بائیو میٹرک سسٹم فعال ہوجائیگا اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور نوشہرہ میں فوری طور پر میڈیسن سٹور کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ مزدوروں کے فوری اور جلد علاج معالجے کو یقینی بنایاجاسکے۔
صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کے سالانہ مالی سال کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایم این اے ارباب شیر علی ، ایم این اے اصف خان ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ داؤد خان ، کمشنر پشاور ریاض مسعود اور دیگر افراد شامل تھے
پشاور : تجاوزات کے خلاف اپریشن انتہائی اہم ہے اس حوالے سے ہم ایک انکروچمنٹ ڈرائیو جلد چلائیں گے۔ صوبائی وزیر ارشد ایوب
پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی کے انتظامی مالیاتی اور اپریشنل امور میں بہتری لا رہے ہیں۔ارشد ایوب
پشاور: ٹیوبویل کے سسٹم کو سولرائزیشن کی طرف لے کے جا رہے ہیں۔ ارشد ایوب
پشاور: تجاوزات کے خلاف اپریشن کرنا وقت کی ضرورت ہے اس کے لئے انکروچمنٹ ڈرائیو جلد چلائیں گے۔ ارشد ایوب
پشاور: عوام کو چاہیے کہ اپنے بجلی اور گیس کے بل ایک زمیدار شہری کی طرح ادا کریں۔
پشاور: پشاور زو میں ٹرین سسٹم بہتر بنانے، شاہی کٹہ کی بحالی اور مہمند ڈیم کے لیے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ارشد ایوب
پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے پشاور میں 42 ماڈل سٹریس قائم کئے گئے ہیں۔ ارشد ایوب
پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی علماء کرام ، سکول کے بچوں اور میڈیا ارکان کے ساتھ بھی سالانہ اگاہی مہم چلاتی ہے۔ ارشد ایوب
عیدالاضحٰی کے پیش نظر وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا صوبے میں کانگو فیور کے تدارک کیلئے کمشنرز کو ضروری اقدامات اُٹھانے کیلئے ہدایات جاری
پشاور : عیدالاضحٰی کے پیش نظر جانوروں کی خریداری کیلئے کانگو وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے خدشات زیادہ ہیں : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : ان خدشات کے پیش نظر کمشنرز تمام تر وسائل بروئے کار لائیں : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : مویشی منڈیوں کے داخلے پر مچھر مار ادویات اور داستانوں کا استعمال یقینی بنایا جائے : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : جن مویشی منڈیوں کے داخلے پر مچھر مار ادویات اور داستانوں کا استعمال یقینی نہیں ان منڈیوں کو سیل کیا جائے : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : صوبے کے تمام اضلاع کے مویشی منڈیوں میں جانے والے افراد حفا ظتی داستانے پہن کر جائیں : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : مویشی منڈیوں میں جانے والے افراد مچھر مار ادویات کا استعمال یقینی بنائیں : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : کانگو فیور متاثرہ جانوروں کے اعضا اور خون کے لمس سے پھیلتا ہے : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور : ذبح کے دوران قصائی داستانوں و دیگر احتیاطی تدابیرکے استعمال کو یقینی بنائیں : وزیر صحت کا مراسلہ
پشاور: کرغیستان سے طلبہ کو لانے والا طیارہ پشاور پہچنے پر صوبائی وزیر میناخان کا طلبہ کو استقبال کے بعد گفتگو
پشاور: جب سے یہ خبر آئی اسی دن سے خیبر پختونخواحکومت نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور اس کے حل کیلیے بہت سنجیدہ تھی میناخان
پشاور: وفاقی حکومت اور ایمبیسی نے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیا صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم
پشاور: آج یہ بچے بحفاظت پہچنے ہیں اور ان کے چہروں پر خوشی اور عید کا سماں ہے میناخان آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ہمیشہ سے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی بات کی ہے صوبائی وزیر
پشاور: نوجوان ہمارہ سب سے قیمیتی اثاثہ ہے میناخان
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے فوری فنانسز ریلیز کی اور طیاروں کا بندوبست کیا صوبائی وزیر
پشاور: ان نوجوانوں کو وہاں سے لانے کیلیے اگر اس سے بھی ذیادہ خرچہ آتا توخیبر پختونخوا حکومت برداشت کرلیتی میناخان
پشاور: ہمیشہ سے ہماری حکومت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہےگی صوبائی وزیر
پشاور: ہمیں خوشی ہوتی ہے ان نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور خرچ کرنے میں میناخان
پشاور: اگر ضرورت پڑے تو ہماری حکومت مذید طیاروں کا بھی بندوبست کریگی صوبائی وزیر
وزیر اعلیٰ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، بچوں کی نامکمل نشوونما سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور سے ماہر اقتصادیات غزالہ منصوری کی سربراہی میں ورلڈ بینک کے وفد نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی جس میں بچوں کی نامکمل نشوونما(سٹنٹنگ) سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید امتیاز حسین شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔ اس موقع پر شرکاءکو صوبے میں سٹنٹنگ کی شرح، اسکے بنیادی محرکات، قومی ترقی پر اس کے اثرات اور دیگر متعلقہ پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔علاوہ ازیں سٹنٹنگ کی شرح کو کم کرنے کےلئے ضروری اقدامات اور حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور صوبے میں سٹنٹنگ کی روک تھام کےلئے حکومت اور ورلڈ بینک کے مابین باہمی تعاون سے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور نے اس مقصد کےلئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو پندرہ دنوں کے اندر تفصیلی ورکنگ پلان بھی پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ضم اضلاع میں سٹنٹنگ کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سٹنٹنگ ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کےلئے ماحولیات کے مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کو پورا کرنے، صحت سہولیات تک رسائی یقینی بنانے، اور عوامی سطح پر بھرپور آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی مکمل نشونما یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس مقصد کیلئے نیشنل نیوٹریشن کوآرڈینیشن کونسل تشکیل دی تھی۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق سٹنٹنگ کی شرح کو کم کرنے کےلئے کوشاں ہیں۔ علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ سٹنٹنگ کی وجہ بننے والے بنیادی مسائل کا تدارک ترجیح ہے۔ اس مقصد کےلئے غذائی قلت کے تدارک، فوڈ سیکیورٹی، شعبہ صحت اور ماحولیات کی بہتری اور دیگر پہلوو¿ں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں متعدد منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ اسی طرح روزگار کے فروغ اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نظام حکمرانی کو بہتر بنانے کےلئے بھی کوشاں ہے جس کے ذریعے سماجی خدمات کے اداروں میں سروس ڈیلیوری کے مجموعی نظام کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔اگلے ایک سال میں سٹنٹنگ کی شرح میں خاطر خواہ کمی لانا ہدف ہے۔ اس مقصد کےلئے ورلڈ بنک کا خصوصی تعاون درکار ہو گا اور ہم ان کے تجربے سے بھی بھرپور استفادہ کریں گے۔ وفد کے شرکاءنے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹنٹنگ کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن اور اقدام لائق تحسین ہے۔ وفد نے اس چینلنج سے نمٹنے کےلئے صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ مشترکہ اور مربوط کاوشوں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے امریکن قونصل جنرل شانتے مور کی ملاقات۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پشاور میں تعینات امریکن قونصل جنرل شانتے مور نے منگل کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی اور صوبے میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں وزیر صحت، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ شانتے مور نے کہا کہ امریکی حکومت یو ایس ایڈ کے تحت صوبے کے مختلف سماجی شعبوں میں کام کر رہی ہے جن میں صحت عامہ، تعلیم، فنی مہارت، واٹر اینڈ سینیٹشن ، زراعت، مواصلات، گورننس اور دیگر شعبے شامل ہیں اور امریکی حکومت مذکورہ شعبوں میں اشتراک کار کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود میں یو ایس ایڈ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، صوبائی حکومت نوجوانوں کو تکنیکی ہنر سکھانے اور خودروزگاری کو فروغ دینے کیلئے قرضوں کی فراہمی کا پروگرام شروع کرنے کے علاوہ واٹر اینڈ سینیٹشن سروسز کو مزید علاقوں تک وسعت دینے پر کام کر رہی ہے جس کےلئے صوبائی حکومت کو ڈونر اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پسماندہ علاقوں بشمول ضم اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت اس مقصد کےلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرے گی اور صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کےلئے ڈونر اداروں بھی صوبائی حکومت کے ساتھ مزید تعاون کریں۔ اس موقع پر صوبائی حکومت اور یو ایس ایڈ کے درمیان سماجی شعبوں میں باہمی اشتراک کار کو مزید بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا تقابلی جائزہ: سی جی پی اے کی رپورٹ کی رونمائی تقریب۔
پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کو جانچنے کیلئے سی جی پی اے نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک تقابلی جائزہ پیش کیا۔ جائزے کی رونمائی کیلئے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد اور خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ سابقہ کمشنرز، سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں، وکلاء اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سی جی پی اے کے اس سروے میں ملک بھر میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جائزے میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کو جانچنے کیلئے سی جی پی اے نے وفاق سمیت چاروں صوبوں میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت مختلف اداروں سے معلومات حاصل کرنے کیلئے 127 درخواستیں جمع کروائیں۔ جن میں وفاق بروقت معلومات فراہم کرنے میں 72 فیصد کے ساتھ پہلے جبکہ خیبر پختونخوامعلومات کی فراہمی میں 45 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ پنجاب 33 فیصد کے ساتھ تیسرے، سندھ 24 فیصد کے ساتھ چوتھے جبکہ بلوچستان 3.7 فیصد کیساتھ آخری نمبر پر رہا۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے سیکرٹری انیس الرحمن نے سٹڈی کے سیمپلنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کہ تمام صوبوں میں ایک ہی طرح کی درخواستیں ایک جیسے مخصوص اداروں کو دینی چاہئیے تھی کیونکہ ہر ادارے کی معلومات مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار ناظم شہاب قمر نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن کی کارکردگی صرف کملینٹس کی بنیاد پر نہیں بلکہ درخواستوں، آگاہی پروگرامات، پروایکٹیو ڈیسکلوزر اور کمپلینٹس کی بنیاد پر ایک وسیع جائزے کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔ آر ٹی آئی سے متعلق آگاہی پر بات کرتے ہوئے سید سعادت جہاں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ انفارمیشن کمیشن وقتا فوقتاً ریڈیو اور ٹی وی پر پروگرامز کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اس قانون سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کرتا آرہا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ عوام تک آر ٹی آئی آواز پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
