Home Blog Page 259

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی پشاور اور دیر میں بڑی کارروائیاں، سینکڑوں کلوگرام باسی و غیر معیاری گوشت،کلیجی، مردہ مرغیاں اور جعلی شہد پکڑ ضبط، مزید قانونی کارروائی کا آغاز

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا اور مضر صحت خوراکی اشیاء سے منسلک کاروباروں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز پشاور اور دیر لوئر میں بڑی کاروائیاں کیں اور سینکڑوں کلوگرام گوشت اور مردہ مرغیاں سمیت غیر معیاری شہد پکڑ لیا اور مالکان کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ، رنگ روڈ اور حاجی کیمپ اڈے کے قریب ناکہ بندیاں کیں اور خوراک کی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی معائنے کے دوران پنجاب سے آنے والی ایک گاڑی سے 300 کلو گرام باسی اور مضر صحت گوشت اور کلیجی برآمد کی گئی جسے موقع پر ہی تلف کردیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر فوڈ سیفٹی ٹیم نے مرغ منڈی میں ایک دکان پر اچانک چھاپہ مار کر 300 کلوگرام سے زائد مردہ مرغیاں پکڑی گئیں جنہیں بھی تلف کر دیا گیا۔ مزید تفصیلات کیمطابق دیر لوئر کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے تیمرگرہ بائی پاس پر واقع ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا اور ہوٹل کے اندر ایک کمرے میں مصنوعی شہد تیار کرتے ہوئے پکڑا گیا فوڈ سیفٹی ٹیم نے انسپکشن کیدوران 200 کلوگرام سے زیادہ جعلی شہد برآمد کرکے بحق سرکار ضبط کر لیا۔کارروائیوں کے دوران مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کی اشیاء میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کے ساتھ ساتھ کوئی نرمی بھی نہیں برتی جائے گی۔

ذچہ و بچہ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا تربیتی پروگرام کا انعقاد

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے آئی پاس پاکستان کے اشتراک سے ایک طبی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جس کا مقصد معیاری تولیدی صحت کی خدمات کے ذریعے ماؤں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں 19 ماہر امراض نسواں، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، اور دیگر طبی اہلکاروں نے شرکت کی، جو پشاور کے سات بنیادی اور تین ثانوی مراکز صحت سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ تربیت 30 ستمبر سے 3 اکتوبر 2024 تک مولوی امیر شاہ میموریل ہسپتال پشاور میں منعقد کی گئی۔ اس تربیت میں زچگی کے دوران ابتدائی بچاؤ، زچگی کے بعد علاج، اور خاندانی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس تربیت کے دوران عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ محفوظ طبی طریقوں کی توثیق کی گئی اور شرکا کو ان پر عملی تربیت فراہم کی گئی۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر خضر حیات نے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھا رہا ہے اور اس تربیتی پروگرام کا مقصد عوام کو معیاری تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔یہ اقدام صوبے میں زچگی کی شرح اموات اور بیماریوں کو کم کرنے اور پاکستان کے سسٹینبل ڈویلپمنٹ گول 3 کے حصول میں مدد فراہم کرنے کی ایک کڑی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے کمیٹی روم میں سٹنڈنگ کمیٹی کا29 واں اجلاس برائے ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ منعقد

صوبائی اسمبلی کے سکریٹریٹ طاہرہ قاضی شہید کمیٹی روم میں پیر کے روز سٹینڈنگ کمیٹی کا29 واں اجلاس برائے ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت سٹیندنگ کمیٹی کے چیرمین جلال خان ممبر صوبائی اسمبلی نے کی۔ اس موقع پر کمیٹی کے دیگر ممبران صوبائی اسمبلی محمد انوار خان، ارباب محمد عثمان خان بھی موجود تھے۔اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کاروائی شروع ہوئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے صوبے کی زیر نگرانی جاری اور مکمل ہاؤسنگ منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ سیکرٹری ہاؤسنگ عنبر علی خان اور ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر نے سیر حاصل بریفنگ دیتے ہوئے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو اجاگر کیا اور کمیٹی کے روبرو صوبے میں ہاؤسنگ سکیموں پر جاری کاموں کا تفصیلی رپورٹ پیش کیا جس میں جلوزئی ہاؤسنگ سکیم،ہنگوٹاؤن شپ، ڈنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات،جرمہ ہاؤسنگ سکیم کوہاٹ، حویلیاں ٹاؤن شپ ایبٹ آباد، نوشہرہ میگا سٹی،ملازی ہاؤسنگ سکیم، ورسک ون اور ہائی رائز حیات آباد زیر بحث آئیں، ان تمام ہاؤسنگ سکیموں پر تقریبا ترقیاتی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ان میں ملازئی ہاؤسنگ سکیم اور ہائی رائز پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اتھارٹی پرائیویٹ پارٹنرشپ پر کئی ایک ہاؤسنگ منصوبے شروع کرنے کے لیے کوشاں ہیں جیسا کہ نوشہرہ میگا سٹی جو کہ ایک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبہ ہے اور خیبر پختونخوا اتھارٹی کے زیر نگرانی چل رہا ہے، اس موقع پر سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین و ممبر صوبائی اسمبلی جلال خان نے خیبر پختونخوا ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اجلاس میں شریک شرکا ء کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ن لیگ اپنے ناجائز اقتدار کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، پر امن احتجاج پر گولیاں برسانا جمہوریت کے خلاف بغاوت ہے، بیرسٹر سیف

ن لیگ کے آلہ کاروں نے پر امن احتجاج کو پرتشدد بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی، ریاستی جبر کا حساب لیا جائے گا

مریم نواز اور شہباز شریف کا ناجائز اقتدار اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، نظریئے کو تشدد سے دبایا نہیں جاسکتا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ اپنے ناجائز اقتدار کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، پر امن احتجاج پر گولیاں برسانا جمہوریت کے خلاف بغاوت ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ ن لیگ کے آلہ کاروں نے پر امن احتجاج کو پرتشدد بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر ریاستی جبر کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز اور شہباز شریف کا ناجائز اقتدار اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور عوام اس ظلم کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی کال پر ملک بھر سے عوام کے سیلاب نے پر امن احتجاج میں شامل ہو کر ن لیگ کی ناجائز حکومت کے خاتمے کا عندیہ دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے ریاستی مشینری کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہتے مظاہرین پر بلا اشتعال فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ یہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ اپنے اقتدار کو طول دینے اور ملکی معیشت کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے صوابی سے آگے موٹروے پر کیلے بچھانے کی بھی سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ ن لیگ پرامن احتجاج کرنے والوں سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا، عوام اپنا مینڈیٹ چوری کرنے والے حکمرانوں سے حساب لینے کے لئے نکلے ہیں، اور ن لیگ نے پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے تشدد اور ریاستی جبر کا سہارا لیا ہے۔” بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ نے احتجاج کے دوران لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا جبکہ ن لیگی مسلح کارکنوں کے شامل ہونے کے واضح شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے موٹروے کی کھدائی اور ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر پرامن احتجاج کو پرتشدد بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والے لوگوں پر ریاستی جبر کا حساب لیا جائے گا۔ بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ ن لیگ کا خوف سمجھ سے باہر ہے، اور انہیں مشورہ دیا کہ اداروں کو اپنی گندی سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔ سیاست کو سیاسی اداروں تک محدود رکھنا چاہیے، اور شریف خاندان سے نجات اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے شریف خاندان کو بین الاقوامی سطح پر ثابت شدہ کرپٹ سیاسی خاندان قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کرپٹ خاندان کو پاکستانی عوام پر مسلط کر کے قوم کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے، بیرسٹر سیف نے کہا کہ محسن نقوی کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے اور پولیس کے پرامن ہونے کا دعویٰ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کس طرح پرامن لوگ ریاستی جبر کا شکار ہو رہے ہیں آنسو گیس اور و ربڑ کی گولیوں کا بے دریغ استعمال بھی کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری پر انہوں نے ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خواتین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ خواتین کارکنان کی گرفتاریاں ایک احمقانہ قدم ہے اور ن لیگ نے اپنے ناجائز اقتدار کو بچانے کے لیے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ انہوں نے ن لیگ کے اقتدار کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اور شہباز شریف کو قوم چھپنے کی جگہ بھی فراہم نہیں کرے گی۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے ذ یر اہتمام فارم ڈی، ڈی پی ٹی، بی ایس نرسنگ اور بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے

خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے ذ یر اہتمام فارم ڈی، ڈی پی ٹی، بی ایس نرسنگ اور بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے مختلف شعبوں میں داخلوں کے لیے دوسراکے ایم یو سنٹرلائزڈ داخلہ ٹیسٹ اتوار 6اکتوبر 2024کومنعقد کیا جائیگا۔ ٹیسٹ صوبے کے 13شہروں کے 16 امتحانی مراکز میں صبح بیک وقت 9 بجے شروع ہوگا، مذکورہ ٹیسٹ میں کل 26993 امیدوار حصہ لیں گے۔ تمام طلباء وطالبات کو رش اوربدنظمی سے بچنے کے لیئے ٹیسٹ سنٹرز میں صبح 7 بجے پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہیں۔ طلباء کوموبائل فون،گھڑیاں، کیلکولیٹر،زیورات اورٹیسٹ میں مدد دینے والا کوئی بھی مواد ساتھ نہ لانے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حوالہ پولیس کر کے ایف آئی آردرج کی جائے گی۔ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان دو سے تین دنوں کے اندر کیا جائے گا جسے کے ایم یو کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھا جاسکے گا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی متعلقہ حکام کو صوبے میں جیم سٹون بزنس اور کھیلوں کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے ہدایت

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت صوبے میں جیم سٹون بزنس کی ترقی اور کھیلوں کو فروغ دینے کے حوالے سے پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صنعت اور محکمہ کھیل کے سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، بزنس و سپورٹس ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اور اہم عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ قیمتی پتھروں کی صنعت سے وابستہ سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور تاجروں کو بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی مقدار میں قیمتی جواہرات کے خزانو ں سے نوازا ہے اور اگر وسیع طور پر سرمایہ کاری کی جائے تو صوبے کی اقتصادی ترقی میں یہ شعبہ نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔چیف سیکریٹری نے مزید کہاکہ حکومت ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے جو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر نے اور کاروباری عمل میں آسانی کو یقینی بنانے کے ساتھ صوبے کے قیمتی پتھروں کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے۔ انہوں نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں جو سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان،ہموار اور شعبہ صنعت میں مزید اسٹیک ہولڈرز کو راغب کریں۔اجلاس میں جیم سٹون بزنس پر بات چیت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے چیف سیکرٹری نے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی پیدا کرنے کے ضمن میں صوبے کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے پیشہ ورانہ ماحول بنانے کی اہمیت پر زور دیا جہاں سپانسرز اور سرمایہ کار کھیلوں کی ترقی میں آسانی سے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی سہولیات اور کھیل کے میدانوں میں نمایاں بہتری کی بدولت خیبر پختونخوا اب قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے جس سے ہمارے کھلاڑیوں کی پروفائل بلند ہونے کے ساتھ صوبے کا وقار بھی بلند ہو گا۔انہوں نے سپورٹس حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ قومی و بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد میں اپنی کوششیں مزیدتیز کریں اور پرائیویٹ سیکٹر اور سپورٹس ایسوسی ایشنز کے درمیان شراکت داری کو فروغ دیں۔کھیلوں کے مضبوط انفراسٹرکچر کی ترقی میں کارپوریٹ سپانسرشپ کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں کے وابستہ دیگر افراد کو ضروری تعاون فراہم کرنے کے پیش نظرسرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے صوبے میں مختلف کھیلوں کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالنے کی بھی اپیل کی جس کے لئے صوبائی حکومت سپورٹ فراہم کرے گی.

ہارس ٹریڈنگ کے لیے ایک بار پھر راہ ہموار کی جا رہی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا سخت ردعمل

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کی ووٹنگ میں ہارس ٹریڈنگ کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا جو کہ جمہوریت کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آرٹیکل 63 اے فیصلہ کا لعدم قرار دینے کے بعد زرداری اور شریف خاندان کے لئے اراکین پارلیمنٹ خریدنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی مافیا کو فائدہ جبکہ ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب عدالتیں سیاسی مصلحت کا شکار ہوتی ہیں تو انصاف کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ عمران خان نے اس ہارس ٹریڈنگ کا قلع قمع کر دیا تھا، مگر اب کی صورت حال تشویشناک ہے۔ آرٹیکل 63 اے کے تیز ترین فیصلے نے سب کو حیران کیا جبکہ یہ فیصلہ عدالتی نظام کیلئے باعث شرمندگی رہے گا۔ انھوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی کہ  پی ٹی ائی کا ساتھ دیکر اس غیر آئینی ترامیم کا راستہ روکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ بہت جلد

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ بہت جلد محکمہ اعلیٰ تعلیم میں سزا و جزا کا عمل شروع کرینگے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریگا اسکو ریوارڈ سے نوازا جائیگا اور جس کی کارکردگی خراب ہوگی اسکو سزا بھگتنا ہوگانظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلیے اقدامات اٹھارہے ہیں صرف گریجویٹس پیدا نہیں کرنے بلکہ کوالٹی اور ایکسلنس گریجویٹس پیدا کرنے ہے ایسے ڈگری ہولڈرز پیدا کرنے ہے جن کو ڈگری مکمل ہونے سے پہلے روزگار ملے صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خصوصی ہدایت پر ضلع مہمند کے سرکاری کالجز کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا یکہ غنڈ ڈگری کالج میں صوبائی وزیر کے ہمراہ ممبر قومی اسمبلی ساجد مہمند، ممبر صوبائی اسمبلی محبوب شیر، ڈاکٹر اسرار، ڈائریکٹر ایجوکیشن، ضلع مہمند کے تمام کالجز کے پرنسپلز بھی موجود تھے صوبائی وزیر کو پرنسپلز نے اپنے متعلقہ کالجز کے بارے میں الگ الگ بریفنگ دی صوبائی وزیر کو گورنمنٹ ڈگری کالج یکہ غنڈ، گورنمنٹ ڈگری کالج لاکڑی، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چاندہ حلیمزئی، گورنمنٹ کالج آف میجمنٹ سائنسز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صوبائی وزیر کو کالجز میں انٹر، بی ایس، ڈگری پروگرامز اور ایڈمیشنز کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا کالجز میں ٹیچنگ سٹاف، لیبارٹریز سمیت دیگر پر بریفنگ دی گئی ضلع مہمند کالجزکے پرنسپلز نے صوبائی وزیر سے کالجز میں سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کا مطالبہ بھی کیا صوبائی وزیر نے کالجز پر تفصیلی بریفنگ لینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری کالجز میں سہولیات کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پور کررہے ہیں انہوں نے۔کہا کہ مارکیٹ کے ضرورت کے مطابق مضامین کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں عام کرنے پر توجہ دی جائیں جن مضامین میں انرولمنٹ کم ہے ان کو رول اپ کریں ہمیں دنیا کے مطابق چلنا ہوگا سٹوڈنٹس کو مارکیٹ اورینٹیڈ مضامین کی طرف مائل کرنا ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو بھاری عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور ہماری حکومت کی کوشش ہوگی کہ موجود دستیاب وسائل میں زیادہ سیزیادہ ڈیلیور کرسکے انہوں نے کالجز پرنسپلز کو ہدایت کی کہ اپنے اختیارات کو استعمال کرکے کالج کی بعض ضروریات کو پوراکریں جبکہ دیگر سہولیات اور ضروریات کیلیے اپنے ڈیمانڈز محکمہ کو بھیجوائے سرکاری کالجز کو شمسی نظام پرمنتقل کرنے کیلیے اقدامات کررہے ہیں۔

صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی زیر صدارت صوبائی سیڈ کونسل کا خصوصی اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ تحقیقی مراکز ایسے بیج متعارف کروائے جس سے زمینداروں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جائے تاکہ زمیندار خوشحال اور صوبہ خودکفالت کی جانب گامزن ہو۔ تحقیقی مراکز اپنے اپنے علاقوں کے فصلوں کی مناسبت سے تحقیق کریں۔تاکہ اس علاقے کیلئے اعلی قسم کے فصلوں کے بیج متعارف کروائے جائیں۔ بیج کے حوالے سے زمینداروں میں آگاہی پھیلائی جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار صوبائی سیڈ کونسل کے خصوصی اجلاس کے صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس اجلاس میں سیکرٹری زراعت سمیت صوبائی سیڈ کونسل کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی سیڈ کونسل کے عرض و مقاصد، تشکیل نو، بیجوں کی سرٹیفکیشن و پیداوار بڑھانے سمیت اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس میں پنجاب کے گندم کے چار اقسام کے بیچ اکبر-2019، عروج- 2022، فخر بھکر – 2017 اور بھکر سٹار کی خیبرپختونخوا میں کاشت پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان بیجوں پر مزید تحقیق، پیداوار، بیماریوں سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لے کر اگلے ہفتے دوبارہ صوبائی سیڈ کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کونسل میں زمینداروں کی نمائندگی بڑھانے اور چترال،پاڑہ چنار سمیت دیگر زمینداروں کے نمائندے کونسل کے رکن بڑھانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتک گندم کے 41 مختلف اقسام کے بیچ متعارف کروائے گئے ہیں۔صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے ہدایت کی سیڈ کے حوالے سے زراعت کے مختلف ڈائریکٹوریٹ کو روابط قائم کیے جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمینداروں کی فلاح و بہتری ترجیح ہیں۔ جوار میں کپتان بیج کی پیداوار بہترین ہیں۔کسی قسم کی کوتاہی و لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ اپنے ذمہ داریوں و فرائض کی انجام دہی بہتر انداز میں کریں۔محکمہ زراعت کی فوڈ سیکیورٹی میں اہم کردار ہے۔صوبائی سیڈ کونسل میں زمینداروں کے نمائندگان نے صوبائی وزیر زراعت کے اقدامات کو سراہا۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت انسدادِ ڈینگی اقدامات کا جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے صوبہ بھر میں انسدادِ ڈینگی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پشاور، نوشہرہ اور خیبر سمیت ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہونے والے دیگر اضلاع میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ صحت کے حکام، ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ انسدادِ ڈینگی اقدامات تیز کریں اور ڈینگی کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں۔اجلاس کے دوران، جس میں محکمہ صحت، تعلیم، اطلاعات، لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، اریگیشن کے سیکرٹریز اور محکمہ فنانس حکام نے شرکت کی، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم نے ڈینگی سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور، ہزارہ اور مردان ڈویژنوں میں کیسز زیادہ ہیں اور ماہ اکتوبر اور نومبر میں ڈینگی لاروا کی افزائش کے لیے بدستور سازگار درجہ حرارت ہونے کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔نوشہرہ میں ڈینگی سے متعلق دو اموات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو جلد از جلد تفصیلی تحقیقی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور صحت حکام کو انسدادِ ڈینگی کے لئے ڈینگی کے مریضوں کی دیکھ بھال کی سہولیات کا معائنہ کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کے لیے ایس او پیز کے تحت آئسولیشن وارڈ اور علاج کی دیگر سہولیات ہسپتالوں میں موجود ہونے چاہئیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ کئی علاقوں میں ڈینگی کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد صحت عامہ کے فوری اور مربوط ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔چیف سیکرٹری نے محکمہ خزانہ کو صحت کے شعبے کو فنڈز کے اجراء میں تیزی لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ صحت عامہ خدمات کی فراہمی ترجیح ہے اور اس ضمن میں فنڈ ضرورت کے مطابق بروقت فراہم ہونے چاہئیں.
انہوں نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی ڈینگی رسپانس سرگرمیوں کے بارے میں روزانہ کی پیش رفت پر مبنی رپورٹ پیش کریں۔صوبائی دارالحکومت کے ناصر باغ، ریگی، سفید ڈھیری، شیخان، پشتخرہ، پلوسی، تہکال بالا، اور بڈھ بیر میں کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کے پیش نظر، چیف سیکرٹری نے محکمہ صحت کے حکام کو پشاور میں سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ان علاقوں میں ڈینگی کنٹرول کے لئے فوگنگ اور لاروا کش اسپرے، سائٹ کا باقاعدہ معائنہ، اور آگاہی واک کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ڈینگی کی روک تھام میں عوام کی شمولیت کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے چیف سکریٹری نے وسیع پیمانے پر عوامی بیداری مہم کی ضرورت پر زور دیا اور بھر پور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے خصوصی طور پر شرکت کی۔