وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور کوہاٹ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی سطح پر ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے اور عوام کو معیاری سفری سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ڈی آئی خان، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوہاٹ اور سپرنٹنڈنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ہر ریجنل آفس کی گزشتہ ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں مختلف چالانز، انسپکشنز، غیر قانونی اڈوں کے خلاف کارروائیاں اور عوامی شکایات کے ازالے جیسے امور شامل تھے۔حاجی رنگیز احمد نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو محفوظ، سستی اور باعزت سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے رات کی تاریکی میں حملہ کرکے اپنی بزدلانہ و تعصبانہ سوچ کی عکاسی کردی ہے۔ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ہماری اندرونی اختلافات اپنی جگہ لیکن وطن کی حفاظت کیلئے ہم سب متحد ہیں۔پاکستان کی حفاظت کیلئے اگر خون کی قربانی دینی پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔انڈیا والوں کو پٹھانوں کی تاریخ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم جب بھی آتے ہیں کشمیر فتح کردیتے ہیں۔دیر کوٹ میں ہمارے مشران کی ہڈیوں کی ڈھانچے پڑے ہیں انہوں نے کشمیر کی آزادی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ہم بھارتی جارحیت کی شدید مزمت کرتے ہیں اور مودی کی آر ایس ایس کی جنگی خیالات علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔معاون خصوصی نے کہا ہے کہ جنگ کی اس گھڑی میں ہم اپنے سیکیورٹی اداروں کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔پاکستان ائر فورس نے دشمن کے طیارے گراکر ہماری دفاع ناقابل تسخیر بنادی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی و دفاع کیلئے ہم کسی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر کھیل و آمور نوجوانان سید فخرجہان نے مکار دشمن بھارت کی جانب سے
خیبرپختونخوا کے وزیر کھیل و آمور نوجوانان سید فخرجہان نے مکار دشمن بھارت کی جانب سے رات کو پاکستان کے کئی شہری مقامات پر فضائی اور میزائلوں سے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں بے گناہ اور معصوم سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ہماری خودمختاری پر کھلی جارحیت ہے۔ایک بزدلانہ حرکت جو بے غیرت مودی حکومت کی گرتی سیاست اور آر ایس ایس کی جنونی سوچ کا ثبوت ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف بحیثیت ایک محب وطن اور عوام کی سب سے مقبول جماعت، مسلح افواج اور ہر اس شہری کے ساتھ کھڑی ہے جو وطن کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔انھوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کو بھرپور اور فوری جواب دے کر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ہوشیار ہے، بلکہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا جانتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ہے کہ مودی جیسے فاشسٹ کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ نہ صرف وہ خود، بلکہ آنے والی نسلیں بھی پاکستان کی سا لمیت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کریں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسے نازک وقت میں جب بیرونی خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں، داخلی اتحاد اور قیادت کی اشد ضرورت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بانی چیئرمین عمران خان کو فوری رہا کیا جائے کیونکہ وہ واحد قومی لیڈر ہیں جو قوم کو ایک صف میں کھڑا کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ہر پاکستانی کا فرض ہے اور ہم ہر محاذ پر اپنا فرض نبھائیں گے۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی کا بھارت کی جارحیت پر شدید ردعمل، قومی یکجہتی پر زور
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے بھارت کی جارحیت اور معصوم پاکستانی شہریوں بشمول بچوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے منہ توڑ جواب پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی بھارتی مہم جوئی کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم اور قابل مذمت ہے۔ پاکستان کی دفاعی طاقت اور عوام کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاک فضائیہ نے دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیا ہے، جس پر ہمیں فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی ناگزیر ہے۔ ملک کے اہم فیصلوں میں ان جیسے قائدین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیاکہ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام بھارتی جارحیت کا نشانہ بننے والے شہریوں کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔فضل حکیم خان یوسفزئی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد کو فوقیت دیتے ہوئے تمام سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ ہماری افواج اور عوام کا اتحاد ہی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا بھارتی جارحیت پر سخت ردعمل اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے بھارت کی جارحانہ کارروائیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی بہادری کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور افواج مل کر بھارت کو تاریخی شکست دیں گے۔ بھارت کے مزموم عزائم کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے گا۔اپنے دفتر سے جاری بیان میں میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا مزید کہنا تھا کہ بھارت سمیت پوری دنیا جان لے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور ہر صورت میں اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار کا تحفظ کرے گا۔ ہم نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے اور مستقبل میں بھی یہی عزم دہرائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کو اپنی حدود کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ بھارت کو پاکستان کی طاقت اور عوام کے اتحاد کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی حدوں میں رہنا ہوگا۔صوبائی وزیر نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہمارے جوانوں اور عوام کا جذبہ حوصلہ شکن کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ مستعد رہتا ہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی کارکردگی کو خراج تحسین کیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی و برقیات کا اہم اجلاس چیئرپرسن اور رکن صوبائی اسمبلی
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی و برقیات کا اہم اجلاس چیئرپرسن اور رکن صوبائی اسمبلی داوود شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں دیگر اراکین اسمبلی ملک عدیل اقبال، مصور خان، ریحانہ اسماعیل، شفیع اللہ جان، افتخار علی مشوانی، محبوب شیر،گل ابراہیم خان،محمد ریاض، انور زیب خان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ توانائی و پاور کی مجموعی کارکردگی، جاری اور مستقبل کے منصوبہ جات، اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور کم لاگت والی توانائی کے ذرائع اپنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔کمیٹی نے رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور مختلف امور پر حاصل بحث کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کمیٹی پیر کے روز کوہاٹ میں محکمہ توانائی و برقیات کے دفتر کا دورہ کرے گی تاکہ منصوبوں کا عملی معائنہ کیا جا سکے اور درپیش چیلنجز کا ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر چیئرپرسن داوود شاہ نے بتایا کہ 19 مئی 2025 کو محکمہ توانائی و برقیات اور صنعت و تجارت کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں عوامی مفاد کے منصوبوں پر مزید مشاورت کی جائے گی۔چیئرپرسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو بجلی کی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت مائیکرو ہائیڈرو پاور پلانٹس (MHPPs) کے ذریعے سستی اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار کو فروغ دے رہی ہے تاکہ عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوامی بہبود کے دیگر اقدامات جیسے مقامی روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور پائیدار ترقیاتی منصوبے بھی مربوط انداز میں آگے بڑھائے جائیں گے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک خوشحال اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی سالانہ اے ڈی پی کا جائزہ اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایرا کے زیر تکمیل سکولوں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور 2005 سے لے کر آج تک ان سکولوں کی مکمل رپورٹ فراہم کی جائے۔ ریلیز شدہ بجٹ اور تعمیراتی کام کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے۔ گرلز کیڈٹ کالج مردان کو فوری طور پر زیر تعمیر بلڈنگ میں منتقلی کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ کالج پرنسپل کو ہدایت ہے کہ میٹرک کے نتائج کے فوری بعد فرسٹ ایئر میں داخلوں کے لیے اشتہار شائع کیا جائے اور داخلوں کے تعداد نئے بلڈنگ میں منتقلی کے بعد 600 تک پہنچائی جائے۔ محکمہ تعلیم کے غیر فنگشنل سکولوں کو فنگشنل کیا جائے۔ اور آسامیوں کیلئے محکمہ فنانس سے رابطہ کیا جائے۔ مفت سکول بیگز کی فراہمی کے لئے ٹینڈر شائع ہو چکے ہیں پراسس جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ دیں اور جاری تعمیراتی کاموں کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایات انہوں نے محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹریز قیصر عالم اور عبدالباسط کے علاوہ پلاننگ سیکشن کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ ہمارے کل 34784 سکول ہیں جبکہ 838 ڈبل شفٹ سکولوں کے علاوہ 2219 گرلز کمیونٹی سکولز 1378 اے ایل پی ایل پیسنٹرز 2114 بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سنٹرز اور این سی ایچ ڈی سنٹرز ہیں۔ جن میں کل 6 ملین بچے ان سرکاری اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ اور تقریبا دو لاکھ اساتذہ ہمارے سسٹم کا حصہ ہیں۔ وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ اگلے سال کے لئے اے ایل پی سینٹرز کے قیام، گرلز کی کمیونٹی سکولوں کے قیام، سکولوں کی اپگریڈیشن، ڈبل شفٹ سکولز ماڈل، آن لائن ایجوکیشن پروگرام کے اجراء، سیکنڈری سکولوں کے قیام اور ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن رومز کے قیام کو ڈیولپمنٹ بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح انٹرنشپ پروگرام، تعلیم کارڈ کے اجراء اور سکولز امپروومنٹ پروگرام بھی اگلی سال کے اے ڈی پی کے لئے پلان کی گئی ہے۔ وزیر تعلیم نے ہدایت دی کہ سکولوں میں آئی ٹی اور سائنس لیبز کے قیام، ٹیچرز کی سرٹیفیکیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نان فارمل ایجوکیشن، ٹیکنیکل سکلز پروگرام کے آغاز اور آؤٹ آف سکول بچوں کی سروے کو بھی اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بجٹ میں اضافے کے لئے وہ خود وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ سے بات کریں گے تاکہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جا سکے اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع ان کی دہلیز پر مل سکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وہ منصوبے جن کے پی سی ون تیار ہیں ان کو فوری پلاننگ ڈیپارٹمنٹ بھیج دیا جائے جن میں سکولوں میں 500 اضافی کلاس رومز کی تعمیر، 200 نئے پرائمری سکولوں کی تعمیر، 300 ہائر سیکنڈری سیکنڈری سکولوں میں سائنس سامان کی فراہمی، سمارٹ کلاس رومز کے قیام، 1000 ای سی ای رومز کی تعمیر، 50 امتحانی ہالوں کی تعمیر، 300 پرائمری، 100 میڈل 50 ہائی اور 50 ہائر سیکنڈری سکولوں کی تزئین و آرائش جبکہ ضم اضلاع میں 25 گرلز سیکنڈری سکولز، 500 اضافی کلاس رومز کی تعمیر، 80 پرائمری سکولوں کے قیام، 100 سکولوں کی اپگریڈیشن اور 200 سکولوں میں سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی بہتری کے لیے صوبہ بھر میں انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جتنے بھی سابقہ منصوبے جاری ہیں وہ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کئے جا رہے ہیں جبکہ نئے منصوبے بھی امسال شروع کئے جا رہے ہیں جن کے تکمیل سے آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور سکولوں میں موجود بچوں کو بھی کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
سالانہ آگاہی امر بالمعروف پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور پولیس میں سالانہ آگاہی امرباالمعروف پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چئیرمین پراونشل انسپکشن ٹیم خیام حسن خان، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عدیل شاہ سمیت پولیس، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، پراونشل انسپکشن ٹیم کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عدیل شاہ اور نمائندہ پولیس نے اپنے اپنے محکموں میں سالانہ آگاہی امرباالمعروف پلان پر عملدرآمد کے حوالے ابتک کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی نے محکموں کے اندر کفایت شعاری اور وقت کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکموں میں ایماندار اہلکاروں کو آگے لائیں اور انکی ستائش کریں۔ پولیس محکمے کے اندر شکایات کے حوالے سے سسٹم قائم کریں تاکہ درپیش شکایات کا حل یقینی ہو۔ انہوں نے دئیے گئے ٹاسک پر بروقت عملدرآمد کی ہدایت کی۔کرپشن کی روک تھام کیلئے آگاہی کی اشد ضرورت ہے
مسافر بردار گاڑیوں کو رول موٹر وہیکل رولز کے سب رول 57 (ب) سے مستثنیٰ قرار دینے کے حوالے سے اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت مسافر بردار گاڑیوں کو موٹر وہیکل رولز 1969 کے قاعدہ 57 (ب) سے مستثنیٰ قرار دینے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر مال خیبر پختونخوا نذیر عباسی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات سہیل آفریدی، معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز خان، معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبد الکریم تورڈھیر، سیکرٹری محکمہ قانون آختر سعید ترک، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ مسعود یونس سمیت متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور کئی اہم تجاویز پیش کی گئیں، جن میں دس سال پرانی مسافر بردار گاڑیوں کو موٹر وے پر دو سال کا استثنیٰ دینے، ڈیڑھ سال بعد ان گاڑیوں کی فٹنس کا دوبارہ جائزہ لینے، اور ڈویژنل سطح پر وہیکل ٹیسٹنگ و فٹنس ویری فیکیشن سنٹرز کے قیام جیسے اقدامات شامل تھے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیاکہ صوبائی سطح پر 50 فیصد گاڑیاں بغیر کسی صوبائی پرمٹ کے دوسرے صوبوں کے پرمٹ پر چل رہی ہیں، جس سے خیبر پختونخوا کے مالی وسائل دیگر صوبوں کو منتقل ہو رہے ہیں۔ وزیر مال نذیر عباسی نے زور دیا کہ اپنی خودمختار پالیسی سازی کی ضرورت وقت کا تقاضا ہے۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہماری اولین ترجیح عوامی مفاد اور شفاف پالیسی سازی ہے مسافروں کے تحفظ اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے فٹنس نظام کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے صوبائی خودمختاری کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مؤثر اور قابل عمل پالیسیاں متعارف کروائیں گے۔اجلاس میں موٹر وے اور ہائی وے پر گاڑیوں کی فٹنس سے متعلق عوامی آگاہی مہم شروع کرنے پر بھی تجاویز زیر غور آئیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ سماجی بہبود کے تحت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے اہمیت کے حامل عوامی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام2025-26 میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔جبکہ صوبے میں جاری منصوبوں کو بروقت تکمیل تک پہنچائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے اور اسے فعال بنانے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں معاشرے کے پسماندہ اور مستحق افراد کی خوشحالی کے منصوبے ترتیب دینے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی جائے اور کوشش کی جائے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی سکیموں کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ سماجی بہبود میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رفیق احمدمہمند،ضلعی سوشل ویلفیئر افیسر نور محمد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں محکمے کے جاری اور آئندہ شروع کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضروری عوامی سکیموں کو ترجیحی دیتے ہوئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے اور جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے آراء و تجاویز پیش کی گئیں۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے محکمہ سماجی بہبود کے حکام کو مزید ہدایت کی کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں عوامی مفاد کے منصوبوں کو اولیت دی جائے اور ان کے لئے ایک جامع حکمت عملی وضع کریں تاکہ عوامی خدمت کے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔
