Home Blog Page 262

ضلع کرک کوصوبائی وسائل میں ہرصورت اس کاپورا حصہ ملے گا۔صوبائی وزیر زراعت

ضلع کرک کوصوبائی وسائل میں ہرصورت اس کاپورا حصہ ملے گا۔صوبائی وزیر زراعت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ کرک ہم سب کا ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہم سب کو ہر قسم کی وابستگیوں اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر کام کرنا ہے اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے وسائل پر جتنا حق کسی اور ضلع کا ہے اتنا ہی ضلع کرک کا بھی ہے لہٰذا صوبے کے وسائل میں کرک کو اس کا حصہ دلا کر رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل کرک کے کابینہ کے ساتھ تحصیل میئر عظمت خٹک اور تحصیل کرک صدر عاصم خٹک کی قیادت میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف ضلع کرک کے بانی اور سینئر ترین رہنماء الطاف قادر بھی موجود تھے۔ وزیر زراعت نے اجلاس کو ضلع کرک خصوصاً تحصیل میں جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔سجاد بارکوال نے کہا کہ ماضی میں کرک پر کم توجہ دی گئی اور بر مبنی انصاف وسائل نہیں ملے تاہم اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر ماضی میں نظرانداز کئے گئے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور انشاء اللہ کرک کیلئے ہر وہ چیز لائیں گے جو اس کے عوام کے مفاد میں ہوں۔انہوں نے ترقیاتی منصوبوں اور مفاد عامہ کے حوالے سے ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیر زراعت نے تحصیل میئر عظمت خٹک کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی باہمی تصدیق اور مشاورت سے منصوبے شروع کرنے اور جاری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع اپنے محکمے سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر زراعت نے کہا کہ محکمہ زراعت میں کسی بھی ضلع یا علاقے کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی ہر ایک کو اس کا برابر حق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ زراعت اور جنگلات کے حوالے سے ضلع کرک کا ایک انچ ٹکڑا بھی ایسا نہ رہے جس پر زراعت یا جنگلات نہ ہوں۔سجاد بارکوال نے کہا کہ غنڈی شہباز خان میں ٹریننگ سنٹر کے قیام پر بھی جلد ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا تعلیمی بورڈ کے سربراہان کا اجلاس۔

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے امتحانی نظام میں مثبت اصلاحات کی ہیں سرکاری اور نجی سکولوں کے طلبہ و طالبات ایک ہی ہالز میں امتحانات دے رہے ہیں۔ تمام بورڈز میں نگران عملے کی تعیناتی بذریعہ قرعہ اندازی کی گئی ہے، مانیٹرنگ کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے تمام امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جو کہ متعلقہ بورڈز کے ساتھ منسلک ہیں۔ امتحانی ہالوں کے احاطے میں دفعہ 144 نافذ ہے اور نقل کے مکمل خاتمے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کی معاونت لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امسال میٹرک امتحانات شفافیت اور میرٹ کے لحاظ سے بہترین تھے اور 7 مئی سے شروع ہونے والے ایف اے، ایف ایس سی امتحانات کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہیں نگران عملے کی بذریعہ قرعہ اندازی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں اور ساتھ ہی ان کی تربیت بھی کی گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈ سربراہان آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری قیصر عالم اور تمام بورڈ سربراہان نے آن لائن شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے بورڈ سربراہان کو ہدایت کی کہ تمام طلباء و طالبات کو نزدیکی علاقوں میں امتحانی سینٹرز دیئے جائیں۔ ریزیڈنٹ انسپیکٹرزپر لازم کروائیں کہ امتحانی ہال اور سکول کے باہر نظم و ضبط ٹھیک رکھیں اور کوئی غیر متعلقہ شخص وہاں موجود نہ ہو۔ تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، ضلعی انتظامیہ اور مانیٹرنگ اتھارٹی حکام امتحانات کے انعقاد اور مانیٹرنگ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ بورڈ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کو ہدایت ہے کہ امتحانات کے دوران پیپرز لیک کرنے یا دوسری قسم کے غلطی کرنے والوں کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے مطابق کاروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک امتحانات میں کی گئی کاروائیوں کی بورڈ وائز تفصیلات فراہم کی جائیں اور شروع ہونے والے ایف اے ایف ایس سی امتحانات کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہر بورڈ فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ پاکٹ گائیڈ کے خلاف کاروائی کرے۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ بشمول دیگر مانیٹرنگ آفیسرز کو ہدایت ہے کہ امتحانی ہالز کے اندر گن مین، اسلحہ اور تصاویر پر پابندی ہے۔ اس عمل سے گریز کریں۔ انہوں نے بورڈ سربراہان کو بھی ہدایت کی کہ امتحانی عملے پر یہ لازم کریں کہ وہ طلباء و طالبات کو اعتماد دیں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے ساتھ شفقت کریں تاکہ وہ بہترین پیپرز دے سکیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام بورڈز ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ لیں اور بہترین اصلاحات اپنے متعلقہ بورڈز میں نافذ کریں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز متعلقہ بورڈ کے ساتھ روابط رکھیں اور نگران عملے کی تعیناتی میں معاونت کریں۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ مارکنگ کے مرحلے میں شامل اہلکاروں کو بھی تربیت فراہم کی جائے تاکہ میرٹ پر طلبہ و طالبات کو ان کا حق مل سکے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی زیر صدارت ہوٹل انڈسٹری سے متعلق اہم اجلاس، صنعت کو درپیش مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ سیاحت کے شعبے اور ہوٹل انڈسٹری کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ سیاحوں کو قیام، آرام اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہوٹل کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ایک مؤثر ہوٹل انڈسٹری سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں وادی کاغان سے آئے ہوٹل انڈسٹری کے نمائندہ وفد کے ساتھ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی، سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈی جی کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی حبیب اللہ عارف، محکمہ خزانہ، محکمہ ایکسائز، خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے حکام اور ہوٹل انڈسٹری کے نمائندگان سیٹھ مطیع اللہ، سرور خان، محمد اشفاق اور وحید الرحمان نے بھی شرکت کی۔ہوٹل انڈسٹری کے وفد نے اجلاس میں صنعت کو درپیش مسائل بشمول دوہری ٹیکس، ٹیکس ریٹس میں تبدیلی، قانونی سیاحتی دورانیے میں کمی اور قدرتی آفات کی صورت میں ٹیکس چھوٹ سے متعلق مطالبات پیش کیے۔ اس موقع پر ایم پی اے منیر حسین لغمانی نے کہا کہ وادی کاغان کی معیشت سیاحت پر انحصار کرتی ہے، اور اسمبلی کے فورم پر ہوٹل انڈسٹری کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔زاہد چن زیب نے کہا کہ وہ ہوٹل انڈسٹری کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ اگرچہ وادی کے ہوٹلوں کا تعمیراتی ڈھانچہ 90 فیصد تقاضے پورے نہیں کرتا، پھر بھی حکومت ان کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے مہانڈری پل کے سانحے کے دوران ہوٹل انڈسٹری کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ پل کی از سر نو تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی کاغان میں شاتے روڈ کی تعمیر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ اجلاس کے اختتام پر مشیر سیاحت نے متعلقہ حکام کو ہوٹل انڈسٹری کے جائز مطالبات پر قانونی دائرے میں فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی، اور محکمہ خزانہ، ایکسائز اور ریونیو اتھارٹی کو اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے۔

‘بونیر گل دہ نمیر 2025 ” خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون سے بونیر میں رنگارنگ تین روزہ ثقافتی و روایتی کھیلوں

‘بونیر گل دہ نمیر 2025 ” خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون سے بونیر میں رنگارنگ تین روزہ ثقافتی و روایتی کھیلوں کاایونٹ کا انعقاد،افتتاح پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی اور صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان نے کیا۔خیبرپختونخوا حکومت کی خصوصی ہدایت پر ضلع بونیر میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ بونیر کے تعاون سے تین روزہ شاندار اور رنگارنگ ثقافتی و روایتی کھیلوں کے مقابلوں کا ایونٹ ”بونیر گل دہ نمیر 2025 ” کامیابی سے جاری ہے۔اس ایونٹ میں علاقائی ثقافت، روایتی کھیل، موسیقی، شاعری، مشاعرہ، فوڈ کوٹ، آتش بازی اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف نوجوانوں کو مثبت تفریح فراہم کر رہا ہے بلکہ مقامی ثقافت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ ”بونیر گل دہ نمیر 2025 ” کا افتتاح گزشتہ روز گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر بونیر میں ایک پروقار اور پرجوش تقریب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی اور صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان خیبرپختونخوا سید فخر جہان نے کیا۔افتتاحی تقریب میں سیکرٹری محکمہ کھیل و امور نوجوانان، ڈپٹی کمشنر بونیر، دیگر اعلیٰ سرکاری حکام، مقامی عمائدین اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی،ایونٹس میں آتش بازی، میوزک شو، مارشل آرٹس کی پرفارمنس، قومی پرچم کے ساتھ کھلاڑیوں کے دستوں کی پریڈ، صوفی موسیقی اور مختلف دلچسپ کھیلوں کے مقابلے شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں۔تقریب سے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر خیبر پختونخوا سید فخر جہان برائے کھیل و امور نوجوانان نے کہا کہ ہم نے پہلی دفعہ بونیر میں خواتین کے لئے مینا بازار کا انعقاد کیا ہے صوبائی حکومت کھیلوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اسی تناظر میں خیبر پختونخوا کی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ ایلمنٹری ایجوکیشن کے گراؤنڈ سیکنڈ ٹائم میں ایم او یو کے ذریعے محکمہ کھیل و امور نوجوانان عام لوگوں کے استعمال میں لائے گی۔ مقامی عوام نے اس ایونٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تین روزہ ایونٹس نہ صرف تفریح کا بہترین ذریعہ ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع اور حوصلہ افزائی کا سبب بھی بنیں گی، محکمہ کھیل و امور نوجوانان خیبرپختونخوا صوبائی وزیر سید فخر جہان کے قیادت میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ صوبے کے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مزید ایسے ایونٹس کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔یہ تین روزہ ایونٹ 6 مئی 2025 تک جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ ”بونیر گل دہ نمیر 2025 ”کے تحت مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ مردوں کے کھیلوں کے مقابلے گورنمنٹ ڈگری کالج ڈگر بونیر میں جبکہ خواتین کے مقابلے گورنمنٹ ہاشم سر گرلز ڈگری کالج بونیر میں کامیابی سے جاری ہیں۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی علاقائی سطح پر ایسے ایونٹس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مثبت سرگرمیوں سے نہ صرف نوجوانوں کو تفریحی مواقعے ملیں گے بلکہ علاقائی سطح پر کھیلوں اور ثقافت وروایتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

رواں مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کی کارکردگی شاندار رہی، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مالی سال کے پہلے دس ماہ میں 41.9 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کیے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کی کارکردگی شاندار رہی اور مالی سال کے پہلے دس ماہ میں 41.9 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کیے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 29.9 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کیے گئے تھے اور رواں سال ادارے کے محاصل میں 12 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جولائی سے اپریل تک سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 32.4 ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سس کی مد میں 9.51 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کیے گئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گزشتہ سال دس ماہ میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 25.5 ارب روپے جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کے 4.38 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ سیلز ٹیکس آن سروسز میں 27 فیصد جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس میں 117 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ زیادہ محصولات جمع کرنے پر ڈائریکٹر جنرل اور کیپرا ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں کامیابی کی طرف گامزن ہے۔

پی ٹی آئی کے خلاف واویلا کرنے والی حکومت پہلے اپنی جماعت کے صدر سے مودی کے خلاف بیان دلوائے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت میں حکمران جماعت سے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف واویلا کرنے کی بجائے پہلے اپنی جماعت کے صدر نوازشریف سے مودی کے خلاف بیان دلوائے اپنے ایک بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نوازشریف وضاحت کریں کہ مودی ان کی کمزوری ہے یا مجبوری، جاتی عمرا میں دعوت کھانے والے کشمیریوں کے قاتل مودی کے خلاف نواز شریف بیان دینے سے کترا رہے ہیں۔مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ عوام اور فوج بھارت کے خلاف متحد اور ایک پیج پر ہیں جبکہ موجودہ صورتحال میں مودی کے خلاف نوازشریف کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ نواز شریف اور مودی ایک پیج پر ہیں اور مودی کے خلاف نہ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کے خلاف متحد پاکستانی قوم کی نوازشریف اور اس کے طرف دار حوصلہ شکنی کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اور فوج مودی کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔

وزیر سماجی بہبود کی زیر صدارت ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد، بین الادارہ جاتی اقدامات پر غور

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کی زیر صدارت خیبر پختونخوا میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت، تعلیم، نادرا، سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد ٹرانسجینڈر افراد کو درپیش مسائل کے پائیدار حل، ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور معاشی و سماجی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی قانون سازی اور بین الادارہ جاتی اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کی زیر نگرانی تیار کردہ تجاویز اور قوائد و ضوابط کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں تعلیم، صحت، شناختی دستاویزات، معاشی شمولیت اور سیکیورٹی کے پہلو شامل ہیں۔ ان گائیڈ لائنز کوتمام متعلقہ محکموں کی مشاورت سے حتمی شکل دی جا رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں ان پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹرانسجینڈر افراد سے متعلق ایک اہم قانونی مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی ارسال کیاگیا ہے تاکہ اس پر شرعی رہنمائی حاصل کی جا سکے اور تمام مشاورت کے بعد قوانین کو حتمی شکل دی جائے گی۔صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا ٹرانسجینڈر افراد کو معاشرے کا باعزت اور فعال حصہ سمجھتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جن میں مفت تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور سیکیورٹی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک مربوط نظام کے ذریعے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور تمام محکمے اپنے دائرہ کار کے اندر ان تجاویز پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ جلد از جلداس مثبت تبدیلی کے نتائج سامنے آ سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کا شاہین کالونی کا اچانک دورہ، عوامی مسائل کے فوری حل کے اعلانات

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے شاہین کالونی پشاور کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین اعجاز صراف، عمر فاروق اور عظمت اللہ جان بھی انکے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر نے علاقے میں صفائی کی صورتحال، ٹرانسفارمرز اور گلیوں کے معائنے کیے۔دورے کے دوران علاقہ مشران نے صوبائی وزیر کو شاہین کالونی کے مکینوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے سید قاسم علی شاہ نے فوری اقدامات کے لیے احکامات جاری کیے، جن میں چار گلیوں کی مرمت و تعمیر، مسجد اقصیٰ کے لیے ایک نیا ٹیوب ویل بور، خراب ٹرانسفارمرز کی فوری مرمت اور گیس پائپ لائن سے متاثرہ سڑک کی بحالی شامل ہیں۔صوبائی وزیر نے ڈبلیو ایس ایس پی کو ہدایت کی کہ ٹیوب ویل کے قریب فوری طور پر کچرا کنٹینر نصب کیا جائے اور شاہین کالونی میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر عوامی امنگوں کے مطابق مکمل کر رہی ہے اور ان کی معیار پر ہر گز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ تمام عوامی منصوبے اپنی مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔شاہین کالونی کے عوام اور علاقہ مشران نے صوبائی وزیرکی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور عوامی مسائل سننے اور فوری حل کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

صوبائی مشیر کا دیروجی ٹوپی کا ثقافتی دن منانے پر محکمہ سیاحت و ثقافت اور دیر ویلفیئر آرگنائزیشن کو خراج تحسین

سفید دیروجی ٹوپی پختون ثقافت کی پہچان، غیرت کی نشانی ہے، ملک لیاقت علی خان
دیر موٹر وے کی تعمیر سے سیاحت کا نیا باب کھلے گا، مشیر بہبود آبادی کا ثقافتی دن کی تقریب سے خطاب

محکمہ سیاحت و ثقافت خیبر پختونخوا اور دیر ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام پشاور میں ”دیروجی ٹوپی کا ثقافتی دن” بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا جس میں پشاور میں مقیم اہلیانِ دیر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد سفید دیروجی ٹوپی کو ثقافتی ورثے کے طور پر اُجاگر کرنا اور نئی نسل میں اپنی روایات سے جُڑے رہنے کا شعور پیدا کرنا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اپنے خطاب میں دیروجی ٹوپی کے ثقافتی دن کے انعقاد کو بہترین اقدام قرار دیتے ہوئے مشیر بہبود آبادی نے محکمہ ثقافت اور دیر ویلفیئر آرگنائزیشن کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یقین دلایا کہ وہ وزیراعلی سے بات کرکے یہ دن حکومتی سطح پر منانے کی منظوری لیں گے اور آئندہ ہر سال 2 مئی کو ثقافتی میلے کے اہتمام کے علاؤہ سفید دیروجی ٹوپی اور ثقافتی دن کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیروجی ٹوپی صرف لباس کا حصہ نہیں بلکہ پشتون غیرت، شرافت اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔ انہوں نے اہلیانِ دیر کو اپنی شاندار ثقافتی اور دینی روایات کا امین قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ ”اپنی سفید دیروجی ٹوپی کی لاج رکھیں ” اور آنے والی نسلوں تک اپنی شناخت اور سنہری روایات منتقل کریں۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ دیر کے عوام نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی خداداد صلاحیتوں اور کردار کی بدولت پہچان بنائی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اضلاع دیر بیش بہا قدرتی خزانوں اور سیاحتی وسائل سے مالا مال ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ محکمہ سیاحت و ثقافت ان خزانوں کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کیلئے پوری سنجیدگی سے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں اضلاع دیر میں انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہاں سیاحت کی ترقی کے نئے دروازے کھلیں اور عوام کے معاشی حالات بہتر ہوں۔ وزیراعلی کے مشیر نے بتایا کہ 60 ارب روپے کی لاگت سے چکدرہ تا لواری ٹنل 30 کلومیٹر موٹر وے پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت عنقریب تعمیراتی کام کا آغاز ہو گا جس میں رباط تک چھ کلومیٹر لڑم ٹنل کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اسی طرح دیر یونیورسٹی کے قیام اور تیمرگرہ میڈیکل کالج میں آلات کی تنصیب پر بھی جلد عملی کام شروع ہوگا۔ مشیر بہبود آبادی نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے دفتر کے دروازے اہلیانِ دیر کیلئے ہر وقت کھلے ہیں اور وہ سیاست سے بالاتر ہو کر صرف عوامی خدمت کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔ تقریب سے دیر سے تعلق رکھنے والے ایس پی پولیس فقیر آباد سرکل ارشد خان، دیر ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیئرمین حاجی محمد سعید، صدر حاجی سلطان یوسف دیر لالہ جی، سینئر نائب صدر غلام حسین غازی، جنرل سیکرٹری ماسٹر ظاہر شاہ، دیر قومی محاذ چارسدہ کے چیئرمین شمس شیرپاؤ، سابقہ جنرل سیکرٹری پروفیسر شیریں رحمان روغانی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے سفید دیروجی ٹوپی اور ثقافتی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی جبکہ اس ضمن میں سرکاری معاونت پر مشیر بہبود آبادی اور محکمہ سیاحت و ثقافت کا شکریہ ادا کیا نیز صوبہ میں سیاحت و ثقافت کے فروغ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ تقریب میں دیروجی ٹوپی پہنے اہلیان دیر نے کثیر تعداد میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر پختون ثقافت اور دیروجی ٹوپی پر ٹیبلو اور خاکہ بھی پیش کیا گیا۔

مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں چوتھی ڈی ایچ او کانفرنس کا انعقاد، ڈی ایچ اوز کی کاردگی میں مزید بہتری، پرفارمنس سکور پچاس سے ستر پر چلا گیا، میڈیسن اور ہیومن ریسورس ریشنلائزیشن پر توجہ مرکوز: مشیر صحت کا کانفرنس سے خطاب

مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی کی سربراہی میں چوتھی ضلعی ہیلتھ افسران (ڈی ایچ اوز) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ، سپیشل سیکرٹری پولیو عبدالباسط، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز، ریجنل ڈائریکٹرز اور تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوز نے شرکت کی۔کانفرنس میں ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز نے اضلاع کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور انسانی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اضلاع اور ریجنز کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور بہتری کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔مشیر صحت احتشام علی نے بتایا کہ کانفرنس کے باقاعدہ انعقاد سے ڈی ایچ اوز کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، اور مجموعی پرفارمنس سکور 50 سے بڑھ کر 70 تک پہنچ گیا ہے۔ ادویات اور ہیومن ریسورس کی منصفانہ تقسیم سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ادویات کی خریداری میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے سی ایم میڈیسن آرڈرنگ پورٹل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اب تک 88 فیصد بجٹ استعمال ہوچکا ہے، اور یہ سسٹم 28 اضلاع میں فعال ہے۔ مشیر صحت نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت دی کہ سٹینڈرڈ میڈیسن لسٹ سے انحراف نہ کریں، بصورت دیگر نظام خود نشاندہی کرے گا۔سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ نے کہا کہ میڈیسن ریشنلائزیشن سے پرائمری ہیلتھ کی خدمات میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے پی سی ایم سیز کے بجٹ کے بہتر استعمال اور معمول کے اخراجات مقامی سطح پر کرنے کی ہدایت کی۔