Home Blog Page 269

صوبائی وزیرتعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاہے کہ سرکاری سکولوں کے طلباء وطالبات کو بروقت مفت دریسی کتابوں کی فراہمی اولین ترجیح

صوبائی وزیرتعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاہے کہ سرکاری سکولوں کے طلباء وطالبات کو بروقت مفت دریسی کتابوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے، انہوں نے کہاکہ بروقت منصوبہ بندی کے تحت اب تک تقریباً 58 فیصد سپلائی مکمل کی گئی ہے جبکہ ہماری کل سپلائی 3 کروڑ 39 لاکھ ہے، جن طلباء کو سابقہ طلباء کی کتابیں ملنی ہے، وہ بھی تقریباً تکمیل کے مراحل میں ہے جس سے امسال بچوں کو بروقت درسی کتابیں مل جائیگی۔ وزیر تعلیم نے کہاکہ بروقت محکمہ خزانہ سے ریلیز کے حوالے سے مشاورت کے اچھے نتائج آئے ہیں اور ہم نے پرنٹرز کو ڈیڑھ ارب روپے بروقت جاری کردیے ہیں، مزید ادائیگی کے لئے بھی وزیرخزانہ سے بات چیت کی جائیگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مفت درسی کتب کی سپلائی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبدالاکرم، چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ محمد فرالثقلین، ممبرٹیکسٹ بک بورڈ محمد ولی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

بریفنگ کے دورن صوبائی وزیر کو بتایاگیا کہ نرسری کی 100 فیصد سپلائی مکمل ہے اور سپلائی شیڈول بھی اچھی ہے، چند اضلاع کی سپلائی محکمل ہوگئی ہے جبکہ چند کی عید سے پہلے مکمل ہوجائیگی۔ مکمل اضلاع میں ٹانک، ملاکنڈ، ہنگو، کوہاٹ اور صوابی شامل ہیں۔ جبکہ منصوبہ بندی کے مطابق پرائمری لیول پر 453 سرکلز، اور سیکنڈری کے 80 سرکلز ہیں جن میں 50 سرکلز کی سپلائی مکمل ہے۔
وزیرتعلیم نے ہدایات جاری کی کہ دورافتادہ اور پہاڑی علاقوں کو خصوصی توجہ دیں تاکہ وہاں پر سپلائی بروقت مکمل ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسز او ڈائریکٹوریٹ کی ٹیمیں تشکیل دی جائے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر سپلائی بروقت مکمل ہوسکیں۔ وزیرتعلیم نے مزید ہدایات جاری کہ انرولمنٹ مہم میں موجودہ ٹارگٹڈ طلباء کوبھی شامل کریں تاکہ ان کو بھی بروقت کتابین مل سکیں۔
دریں اثناء وزیرتعلیم کو داخلہ مہم سال 2024 کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایاگیا کہ صوبہ بھر میں کامیاب داخلہ مہم جاری ہے اور امسال طلباء کے تمام تر ریکارڈ آن لائن دستیاب ہیں۔ وزیرتعلیم نے ہدایت جاری کی کہ لڑکیوں کی تعلیم اولین ترجیح ہے، اس پرخصوصی توجہ دی جائے۔ گراس روٹ لیول پر داخلہ مہم چلایاجائے۔ آئمہ مساجد، ناظمین، مشران علاقہ اور سب اس داخلہ مہم میں حصہ لیں تاکہ ہم اپنے بچوں کو داخلہ کروا کر ان کو زیور تعلیم سے اراستہ کرسکیں۔#

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں سب انسپکٹر اور جے یو آئی رہنما کے قتل کے واقعہ پر متاثرہ حاندانوں سے دلی تعزیت

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں سب انسپکٹر اور جے یو آئی رہنما کے قتل کے واقعہ پر متاثرہ حاندانوں سے دلی تعزیت کی اور مقتولین کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی ہے،مشیر اطلاعات نے مذکورہ واقعات پر شدید دلی رنج وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمان سے بدھ کے روز ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمان سے بدھ کے روز ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں شہری غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس اور اس کی ڈیجیٹائزیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورلڈ بنک کے وفد نے صوبائی وزیر خلیق الرحمان کو آگاہ کیا کہ ورلڈ بنک پالیسی سازی اور مالی طور پر محکمہ ایکسائز کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں ورلڈ بنک کے وفد نے جدید ٹیکس ایڈمنسٹریشن سسٹم کی شفافیت، ٹیکس نظام میں بہتری اور محصولات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ ٹیکس کی نگرانی کو بہتر بنانے، ٹیکس دہندگان کی سہولت کے مرکز کو اپ گریڈ کرنے اور عوام کے لئے سمارٹ سپورٹ پالیسی کو لاگو کیے جانے میں ورلڈ بینک محکمہ ایکسائز کو مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔صوبائی وزیر نے محکمہ ایکسائز کو اپ گریڈ کرنے میں ورلڈ بینک وفد کی دلچسپی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ مستقبل میں ورلڈ بینک اور محکمہ ایکسائز کا مشترکہ تعاون صوبے کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ جنگلات قوم کا حقیقی قیمتی اثاثہ ہیں

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ جنگلات قوم کا حقیقی قیمتی اثاثہ ہیں جنگلات کا تحفظ بحیثیت قوم ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اسلئے ہم سب کو جنگلات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا بلین ٹری پلس اور شجر کاری مہم کو موثر انداز میں کامیاب بنانے کیلئے عوام کے تمام طبقوں بالخصوص نوجوانوں کے علاؤہ محکمہ جنگلات و ماحولیات کو اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار فضل حکیم خان یوسفزئی نے محکمہ جنگلات کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری جنگلات نظر حسین شاہ نے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کو شجر کاری مہم، بلین ٹری پلس اور محکمہ کے کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ اوراسکے اضافے کو یقینی بنانا ضروری ہے اسلئے جنگلات کے تحفظ کے لیے مقامی لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام بھی اس قیمتی اثاثہ کی حفاظت کریں کیونکہ بحیثیت قوم درخت کونقصان سے بچانا اور جنگلات میں اضافہ ہم سب کا مشترکہ قومی فرض بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ اور دین کا تقاضا ہے جنگلات کی اہمیت سے متعلق عوام کو آگاہی دینا ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کی شمولیت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری افسران و اہلکاران عاجزی کے ساتھ لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لئے ہمیشہ کھلے رکھیں انصاف، انسانیت اور خودداری سے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کریں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد لطیف خان مروت سے ورلڈ بینک کے نمائندوں نے بدھ کے روز پشاور میں کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی سربراہی میں ملاقات کی

ملاقات میں کنٹری ڈائریکٹر ارم، ایڈیشنل سیکرٹری سائنس ٹیکنالوجی عارف حبیب، ڈائریکٹر جنرل سجاد حسین شاہ، مینجنگ ڈائریکٹر کے پی آئی ٹی بورڈ محمد عاکف، پروجیکٹ ڈائریکٹر فیصل شہزاد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ملاقات میں صوبے میں ٹیکنالوجی کے مد میں ورلڈ بینک کے معاونت سے شروع کئے گئے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خالد لطیف خان نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے شروع کئے گئے تمام منصوبوں کو بلا تاخیر جلد مکمل کروائے جائیں اور ان مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کی سہولیات اور فوائد بروقت حاصل ہوسکیں انہوں نے کہا کہ فارن ڈونرز کے لئے صوبے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں سرمایہ کاری کرنے کے نادر مواقع موجود ہیں اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ہر طرح کے معاونت کیلئے بھی تیار ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے میں جدید ٹیکنالوجی جیساکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور کوانٹم کمپوٹنگ کو پروان چڑھایا جائے تاکہ عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کو اس کے براہ راست فوائد حاصل ہوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بیروزگاری کا خاتمہ کروایا جاسکے۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ ورلڈ بینک صوبے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے جس پر ان کی بات چیت ورلڈ بینک کے ہیڈ آفس سے بھی ہوچکی ہے اور بہت جلد مزید نئے منصوبوں کو شروع کروایا جائے گا۔

مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا عمران خان کی اہلیہ بشری ٰبی بی کی زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق پنجاب و وفاقی حکومت سے طبی معائنہ کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ سے ہماری پریشانی اور خدشات روز بروز بڑھ رہے ہیں،بشری بی بی کو خوراک میں زہریلا کیمیکل ہارپک دیا جارہا ہے جو سلو پوائزننگ کا کام کرتا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اگرخدانخواستہ ان کو کچھ ہوا تو براہ راست ذمہ داری مریم نواز اور شہباز شریف پر عائد ہوگی اور قانون کا شکنجہ انکے گرد تنگ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی و پنجاب حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکڑ عاصم اور ملک کے دیگر مستند ڈکٹرز پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان کا علاج کرے اور عدالت کو رپورٹ کرے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس سے قبل بھی ہم نے عمران خان اور چوہدری پرویز الہی کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ کہتے ہیں کہ عمران خان،پرویز الٰہی اور بشریٰ بی بی جو انتظامیہ کے زیر حراست ہیں اور اگر انکو کچھ نقصان پہنچا تو براہ راست ذمہ داری شہباز شریف اور مریم نواز پر عائد ہوگی۔مشیر وزیر اعلیٰ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی فارم 47کے وزیر اعظم اور جعلی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسکا سدباب نہ کیا گیا تو یقینا قانون کا ہاتھ ہوگا اور ان کا گریبان۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان کے درمیان آئی جی پی آفس میں ایک اہم ملاقات ہوئی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان کے درمیان آئی جی پی آفس میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں معاون خصوصی ملک لیاقت علی خان نے سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے شہریوں کی بازیابی اور ان کی حالت زار پرتبادلہ خیال کیا۔ملک لیاقت علی خان نے کہاکہ سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد خیبرپختونخوا کے ان شہریوں کو کمین گاہوں میں رکھنے کے ساتھ ان پر تشدد کیا جا رہاہے جس کے باعث یہ معاملہ فوری توجہ اور حل کا متقاضی ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ دیر کے جن علاقوں سے ان شہریوں کا تعلق ہے وہاں کے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتاہے اور متاثرہ خاندان صوبائی حکومت سے مسئلہ کے حل کیلئے مطالبات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کس بھی ناخوشگوار واقع کو رونما ہونے سے پہلے اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے کے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت وقت کا اولین فرض ہے۔ معاون خصوصی کی جانب سے توجہ مبذول کرانے پر انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سے موقع پر رابطہ کیا اور اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بات کی جس پرانسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

زیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس کے تمام پیشہ ورانہ اور عمومی امور کو ڈیجیٹائز کرنے میں تیزی لانے کی ہدایت

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس کے تمام پیشہ ورانہ اور عمومی امور کو ڈیجیٹائز کرنے میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے جبکہ حقوق صارفین کے حوالے سے محکمہ کی جانب سے خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں بہتری لانے پر زور دیا ہے۔انھوں نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے منسوب خصوصی وسائل اور پیداواری اشیا کا ریسورس میپنگ کلسٹر بنایا جائے تاکہ ہر علاقے کی خصوصی مصنوعات اور پیداواری اشیا کا پورا ڈیٹا موجود ہو۔ انھوں نے گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کو ایک فعال اور منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے بھی متعلقہ حکام کو مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات انھوں نے بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انڈسٹریز اینڈ کامرس کا دورہ کرنے کے موقع پر ادارے کے حوالے سی لی گئی بریفنگ کے دوران جاری کیں۔ڈی جی انڈسٹریز کبیر آفریدی،ڈائریکٹر انڈسٹریز محمد حنیف اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاون خصوصی کو ادارے کی کارکردگی،حاصل کردہ اہداف اور پیشہ ورانہ زمہ داریوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔انکو بتایا گیا کہ محکمہ 26 اضلاع میں علاقائی دفاتر کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کرہا ہے جبکہ حقوق صارفین کے حوالے سے 5086 کیسز کے فیصلے ہوئے ہیں جس میں 4700 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں۔انکو بتایا گیا کہ58147 انسپکشن کرائے گئے ہیں جبکہ جولائی 2023 سے مارچ 2024 تک مالی سال کے محاصل کا 86 فیصد ہدف بھی پورا کیا گیا ہے۔انکو مزید بتایا گیا کی خیبر پختونخوا رجسٹریشن گودام ایکٹ 2021 کے رولز کو حتمی شکل دی گء ہے اور اسے کابینہ سے منظور ی کیلئے متعلقہ حکام کو ارسال کیا گیا ہے۔اسی طرح انڈسٹریز کامرس اینڈ ٹریڈ سٹیٹسٹکس ایکٹ کے رولز بھی فائنل کئے گئے ہیں۔ انکو بتایا کیا گیا ریسورس میپنگ ڈیٹا کو اکٹھا کرکے اس کو رپورٹ کی شکل میں حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔انکو بتایا گیا کہ محکمہ کیساتھ 1932 فرمز کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ ایم آئی ایس سسٹم کے قیام سے محکمہ کی فیلڈ سرگرمیوں کو سسٹم پر ڈال کر اسے ڈیش بورڈ پر محکمہ کیساتھ شئر کیا جاتا ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ میں روایتی طریقے کے بجائے سارے امور کو آن لائن بنایا جائے اور محکمہ کیساتھ رجسٹریشن اور آپریشنل سرگرمیوں کے سارے عوامل کو بھی عوام کی آسانی کیلئے ڈیجیٹل طریقے پر ڈالا جائے۔انھوں نے محکمہ کے ایم آئی ایس سسٹم میں ضرورت کے مطابق مزید امکانی خصوصیات کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی۔

عید سے قبل فوڈ اتھارٹی کے چھاپے، گندے انڈے، دودھ، مشروبات اور مٹھائی برآمد کر کے تلف کیں

کاروبار سیل، بھاری جرمانے عائد، ترجمان فوڈ سیفٹی اتھارٹی

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیمیں صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کیخلاف سرگرم ہیں اس سلسلے میں ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل واصف سعید کی نگرانی میں پشاور اندرون شہر میں بیکریز، دودھ، تکہ، کولڈ ڈرنکس اور دودھ شاپس پر چھاپے مارے گئے اور جدید موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے موقع پر خوردنی اشیاء کے نمونوں کی چیکنگ کی گئی، اس دوران ایک دودھ دوکان سے200 لیٹرسے زائد مضرصحت دودھ برآمد ہونے پر تلف کر دیا گیا اور دکان کو فوراً سیل کر دیا گیا، ایک اور کاروائی کے دوران ایک بیکری یونٹ سے تقریباً 100 کلو گرام مضر صحت اور غیر معیاری سویٹس، 5 سو گرام نان فوڈ گریڈ کلر اور بوسیدہ آنڈے پکڑ کر تلف کیے گئے اور ناقص صفائی کی صورت حال پر دوکان بھی سیل کردی گئی۔ اس کے علاوہ دو بیکری یونٹس اور تین تکہ شاپس کو حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا۔دوسری جانب سوات ٹیم نے بھی مٹہ بازار میں بیکری یونٹس کے معائنے کیے اور ایک بیکری یونٹ سے2 ہزار چار سو باسی انڈے پکڑکرموقع پر تلف کیے اور مالکان پر بھاری جرمانے عائد کر کے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق مزید کاروائی کا آغاز کیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم صوابی نے بھی مشروبات کی ڈسٹری بیوشن یونٹ پر اچانک چھاپہ مارا اور انسپکشن پر گودام سے تقریباً 4 ہزار لیٹرز جعلی اور مضر صحت مشروبات ضبط کرتے ہوئے گودام سیل کردیاگیا،ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر ٹیموں کو داد دیتے ہوئے انسپکشن ٹیموں کو صوبہ بھر میں سویٹس پروڈکشن یونٹس کی باقاعدگی سے چیکنگ کرنے کی ہدایت کی۔انکا کہنا تھا کہ خوردونوش اشیاء میں ملاوٹ کیخلاف زیرو ٹالرنس پر یقین رکھتے ہیں، خوراکی اشیاء میں ملاوٹ کا خاتمہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے۔

غیرحاضر طبی عملے کی اُلٹی گنتی شروع، بغلوں میں نوکری کرنے والوں کیلئے ہیلتھ میں کوئی جگہ نہیں: وزیر صحت

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ہدایت پر ڈیوٹی سے غیر حاضر طبی عملے کیخلاف کاروائی شروع کردی گئی ہے۔ وزیر صحت کی ہدایت پر ڈی جی ہیلتھ نے ڈیوٹی سے غیر حاضر پندرہ ڈینٹل سرجنز کو تین سال سے زائد عرصے کیلئے ڈیوٹی سے غائب رہنے پر آخری نوٹسز جاری کردیے ہیں جس کے بعد انہیں نوکری سے برخاست کرنے کا آغاز ہوگا۔ یہاں سے جاری اپنے بیان میں وزیر صحت نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کو عوام مسیحا کا کردار نبھانا ہوگا، نہیں تو تادیبی کاروائی سے گُریز نہیں کرینگے۔ جو بھی ڈیوٹی سرانجام نہیں دیتا ان کو ہیلتھ سے چلتا کردیں گے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ مراکز صحت میں طبی عملے کی غیر حاضری بارے شکایات موصول ہورہی ہیں اس لئے بائیو میٹرک اٹینڈنس نہ لگانے والے طبی عملے کیخلاف کاروائی فوری شروع کی جائے۔ انہوں نے ڈی ایچ اوز اور ایم ایس کو بھی تاکید کی کہ اپنے عملہ کی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات بروقت مہیا ہوں۔