Home Blog Page 27

وفاقی حکومت نے ترقیاتی سکیموں میں خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔مشیر خزانہ مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسی پر کڑی تنقید کی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے 43 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے صرف پنجاب اور سندھ کے لیے منظور کئے جبکہ خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ شرم کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا کو بلوچستان سے بھی نیچے رکھا گیا۔مزمل اسلم نے مزید کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 43 ارب روپے میں سے شیر (پی ایم ایل ن) کا حصہ 23.5 ارب روپے ہے جو پنجاب کے ممبرانِ قومی اسمبلی کی اسکیموں کے لیے مختص کیا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے زیرِ انتظام صوبہ کل رقم کا 54.5% حاصل کرے گا، اور 17.6 ارب روپے کا بڑا حصہ حکومتِ پنجاب کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔ جبکہ وفاقی حکومت پنجاب کے دیہی علاقوں کی بجلی فراہمی منصوبوں پر بھی 5.9 ارب روپے خرچ کرے گی۔ فیصلے کے مطابق مزید 40کروڑ روپے ڈیفنس ڈویژن کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔مزمل اسلم نے کہاکہ سندھ کے ممبرانِ قومی اسمبلی کو 15.3 ارب روپے ملیں گے، اس میں سے 10.3 ارب روپے سندھ حکومت کے ذریعے اور باقی 4.3 ارب روپے پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے خرچ ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو صرف 1.3 ارب روپے ملیں گے اور خیبرپختونخوا کے فنڈز براہِ راست PIDC اور واپڈا کے ذریعے خرچ ہوں گے، جبکہ بلوچستان حکومت کو 2.3 ارب روپے اور اسلام آباد کو 750 ملین روپے دیے جائیں گے۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری و ترقی کے لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے- شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان اور سیاست بعد میں ہونی چاہیے۔ ملکی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے۔ ان دونوں اہم شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات جاری ہیں تاکہ عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے میں گڈ گورننس کے لئے موثر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شفیع جان نے صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک کی طالبات کے لیے وظائف کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ایم ڈی کیٹ پاس کرنے والے یتیم طلبہ و طالبات کے میڈیکل کالجز کے تمام تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ جو تعلیم دوست پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔صوبے میں گرین انرجی کے فروغ کے حوالے سے شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں کو ترجیحی بنیادوں پر سولر انرجی پر منتقل کرنے جارہی ہے۔ جس سے ان اداروں کو لوڈشیڈنگ کے مسائل سے نجات ملے گی۔ تقریب میں معاونِ خصوصی شفیع جان نے سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ میں سولر سسٹم لگانے کا بھی اعلان کیا۔ شفیع جان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جس طرح عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدواروں کو کامیاب کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ماؤں اور بہنوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ تعلیمی شعبے میں خدمات پر معاونِ خصوصی نے سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ کے کردار کو سراہا اور اسے ایک مثالی تعلیمی ادارہ قرار دیا۔

بونیر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے جدید کھیلوں اور تربیتی سہولیات کا قیام تیزی سے جاری

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی کوششوں سے سواڑئی بونیر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے جدید، معیاری اور کثیر المقاصد کھیلوں و تربیتی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں زیر تعمیر سپورٹس کمپلیکس اور جوان مرکز ضلع بونیر کے نوجوانوں کو قومی معیار کی گِرومنگ، تربیت اور مثبت سرگرمیوں کیلئے ایک ہمہ جہت ماحول فراہم کریں گے۔صوبائی وزیرسید فخر جہان نے ہفتہ کے روز سپورٹس کمپلیکس سواڑئی اور جوان مرکز کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ وزیر موصوف نے انڈور جِمنازیم، سوئمنگ پول، پویلین، کرکٹ اکیڈمی، گراؤنڈز اور دیگر تعمیراتی حصوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے کہا کہ معیار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ منصوبے بونیر کے نوجوانوں کے مستقبل کی سرمایہ کاری ہیں، اس لیے تعمیراتی معیار ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ایسے مواقع فراہم کر رہی ہے جن سے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر صوبے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بونیر جیسے علاقے میں کھیلوں کی جدید سہولیات کا قیام صوبائی حکومت کی نوجوان دوست پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے گا اور انہیں اپنے ہی ضلع میں عالمی معیار کے کھیلوں اور تفریحی مواقع میسر ہوں گے۔سید فخر جہان نے مزید کہا کہ بونیر کے نوجوانوں میں کھیلوں کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔ مقامی سطح پر معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی سے نوجوان اپنے ٹیلنٹ کو بہتر انداز میں پروان چڑھا سکیں گے اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں جگہ بنا کر اپنے علاقے کا وقار بڑھائیں گے۔جوان مرکز کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کیلئے ایک ہمہ جہت سروس سینٹر کا کردار ادا کرے گا جہاں ایک ہی چھت کے نیچے اسکلز ڈویلپمنٹ، ٹریننگ، کیریئر گائیڈنس اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بونیر میں عوامی ضروریات کے مطابق مزید ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ دیرینہ مسائل کا حل اور سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔سید فخر جہان نے کہا کہ وہ بونیر کے عوام کے خادم ہیں اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے ہر مرحلے پر ان کے درمیان موجود رہیں گے اور انکے مسائل کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا پاکستان سکاؤٹس کیڈٹ کالج بٹراسی میں سالانہ تقریب سے خطاب

 پاکستان سکاؤٹس کیڈٹ کالج بٹراسی میں سالانہ یومِ والدین کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر وجیہہ قمر بھی موجود تھیں۔ تقریب میں طلباء، اساتذہ اور والدین نے بھرپور شرکت کی۔اپنے خطاب میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے طلباء کی شاندار کارکردگی، نظم و ضبط اور اعلی تربیت کو سراہا اور کہا کہ یہ نوجوان مستقبل میں ملک کی قیادت سنبھالیں گے۔ انہوں نے کیڈٹس کو نصیحت کی کہ جب وہ ملکی نظام کا حصہ بنیں تو اپنے منصب، عہدے اور ذمہ داریوں کے ساتھ دیانت داری، وفاداری اور ایمانداری کو اولین ترجیح دیں۔ آئین و قانون کی پاسداری کریں اور انصاف کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ ملک و قوم کی خدمت ہی ان کا اصل ہدف ہونا چاہیے۔اسپیکر نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک کے لوگ خود کو پہچانیں۔ جعلی تقاریر اور کھوکھلے نعروں سے ملک کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات، ایمانداری، اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال اور نیک نیتی پر مبنی قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ نوجوان ہی وہ قیمتی اثاثہ ہیں جو ملک کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔وفاقی وزیر وجیہہ قمر کی موجودگی اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وفاق کی جانب سے اس ادارے کے لیے جو تعاون درکار ہوگا، وہ وجیہہ قمر کی موجودگی میں مزید مؤثر انداز میں فراہم کیا جائے گا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے نائب صدر کمال سلیم خان بھی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے بھی کیڈٹس اور ادارے کی تربیتی خدمات کو سراہا۔اختتامی کلمات میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کالج انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس ادارے کی ترقی، معیارِ تعلیم اور تربیتی نظام کے لیے بھرپور حمایت کرتے رہیں گے۔تقریب کے آخر میں اسپیکر نے اساتذہ اور والدین کو مبارکباد پیش کی اور ادارے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہفتہ کے روز پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ ملک پور پیر بابا بونیر میں مختلف وفود، معزز علاقہ، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور پارٹی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں

0

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہفتہ کے روز پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ ملک پور پیر بابا بونیر میں مختلف وفود، معزز علاقہ، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور پارٹی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ پبلک ڈے کے موقع پر لوگوں نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل، تجاویز اور عوامی نوعیت کے مختلف معاملات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے ہر فرد کا مؤقف سنا۔ درجنوں شکایات اور مسائل موقع پر ہی حل کر دیے گئے جبکہ بعض اہم نوعیت کے امور کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ہدایات جاری کی گئیں۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت اور عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی مقصد عام شہری تک سہولیات پہنچانا اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں ہر فرد کی آواز سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی روزمرہ عوامی مسائل سے آگاہ رہنے کے لیے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں تاکہ کسی بھی شکایت کے حل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ صوبائی وزیر نے پارٹی کارکنان اور عہدیداران کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ مضبوط تنظیمیں ہی عوامی رابطے کو مؤثر بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کی محنت، جذبہ اور عوامی خدمت کا عزم پاکستان تحریک انصاف کی اصل طاقت ہے۔ ریاض خان نے اس عزم کو دہرایا کہ خیبرپختونخوا خصوصاً بونیر کی مجموعی ترقی، عوامی فلاح و بہبود، آبپاشی نظام کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عوام کو ان کے حقوق اور سہولیات ان کی دہلیز پر میسر ہوں

قومی مالیاتی کمیشن اور ضم شدہ علاقوں کا مسئلہ

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

قومی مالیاتی کمیشن پاکستان کے آئین کے تحت ایک اہم آئینی ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ادارہ وفاقی ڈھانچے میں مالیاتی مساوات لاتا ہے تاکہ تمام علاقوں کو آبادی، غربت اور پسماندگی کی بنیاد پر مساوی ترقی کے مواقع میسر آ سکیں۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 2015 میں ختم ہو چکی ہے، اور نئے ایوارڈ کی عدم موجودگی میں اسی کو صدارتی آرڈرز کے ذریعے توسیع دی جا رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ضم شدہ علاقوں (سابقہ فاٹا) کا سنگین مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ جب 2010 میں ساتواں ایوارڈ بنا، تو اُس وقت فاٹا وفاقی زیر انتظام علاقہ تھا، لہٰذا اسے این ایف سی کے وسائل سے خارج رکھا گیا، جس کے نتیجے میں یہ علاقہ مالیاتی طور پر نظرانداز ہوا۔

وقت گزرنے کے بعد، 31 مئی 2018 کو 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا (کے پی) میں ضم کر دیا گیا۔ اس انضمام سے صوبے کی آبادی اور جغرافیہ میں اضافہ ہوا۔ چونکہ ساتویں ایوارڈ میں ان علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا یہ ایوارڈ اب آئینی طور پر نامکمل ہے۔

اس انضمام کے نتیجے میں، حکومت خیبر پختونخوا پر 6.4 ملین سے زائد افراد کی ترقی کی تاریخی ذمہ داری تو عائد ہو گئی، مگر اس کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ یہ عمل “مالیات فنکشن کے تابع” کے عالمی اصول کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اسی مالیاتی غفلت کے باعث ان علاقوں میں غربت کی شرح (73.94%) قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا کو 2010-11 سے 2023-24 تک دیگر صوبوں کے مقابلے میں تقریباً 1,335.1 ارب روپے کم فنڈنگ ملی، جو ایک بڑا مالیاتی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے، حکومت خیبر پختونخوا نے این ایف سی میں عارضی اصلاحات کی تین تجاویز دی ہیں

خصوصی ’پاکستان بلڈنگ گرانٹ‘: تاریخی کمی کو پورا کرنے کے لیے دس سالہ خصوصی گرانٹ دی جائے۔

 دہشت گردی فنڈ میں اضافہ: موجودہ 1 فیصد حصہ بڑھا کر کم از کم 3 فیصد کیا جائے تاکہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے لیے وسائل بہتر ہوں۔

 کے پی کے حصے کا دوبارہ شمار: ساتویں ایوارڈ کو آئینی طور پر درست کرنے کے لیے ضم شدہ علاقوں کی آبادی اور رقبہ شامل کر کے کے پی کا حصہ دوبارہ شمار کیا جائے، جو صوبے کی آبادی کے تناسب سے 19.64% ہونا چاہیے

ان تجاویز کا مقصد صرف ان علاقوں کو معاشی دھارے میں لانا نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک مستحکم خیبر پختونخوا کو یقینی بنانا ہے۔

عوامی آگاہی اور مسئلے کے حل کے لیے، حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے کی جامعات میں سیمینارز اور آگاہی مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ان سیمینارز کا باقاعدہ آغاز پیر، 1 دسمبر 2025 سے ہوگا۔ اس مہم میں کوہاٹ، ہری پور، شانگلہ، کرک، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر، اور فاٹا یونیورسٹی شامل ہیں۔

ایک موذی وائرس اور زندگی بچانے والی ویکسین

تحریر:ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

اکثر ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پولیو کیا چیز ہے، یہ کہاں سے آئی ہے؟ یہ بیماری کا وائرس زیادہ تر صرف پاکستان اور افغانستان میں کیوں موجود ہے؟ یہ غیر فعال شدہ قطرے اور زبانی قطرے کیا چیز ہے؟ یہ ویکسین کہاں تیار کی جاتی ہیں، اس میں ہے کیا، اس کا فارمولا کیا ہے، اور یہ ویکسین کہاں سے آتی ہے؟ آج اس آرٹیکل کو پڑھ کر بہت سے دوستوں کو ان کے سوالات کا جواب مل جائے گا۔

پولیو مائیلائٹس جسے عام زبان میں صرف پولیو کہہ کر پکارا جاتا ہے، ایک ایسا نام ہے ایک ایسی بیماری ہےجو گزشتہ دہائیوں تک والدین کے دلوں میں فالج اور دائمی معذوری کا خوف بن کر رقص کرتا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی متعدی وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو سیدھے انسانی اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے زیادہ تر افراد میں ہلکی علامات پیدا ہوتی ہیں، لیکن چند فیصد کیسز میں اس کا نتیجہ مستقل معذوری یا یہاں تک کہ موت کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ تاہم، بیسویں صدی کی نصف سے، سائنس اور عزم نے اس خوف کو کچلنے کا ایک طاقتور اور حتمی ہتھیار فراہم کیا ہے جیسے پولیو کی ویکسین کہتےہیں۔

پولیو وائرس بنیادی طور پر ایک انسان سے دوسرے انسان میں فضلہ کے ذریعے آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر آنتوں میں اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ زیادہ تر انفیکشن تو آنتوں میں رک جاتے ہیں، لیکن کچھ بدقسمت صورتوں میں، وائرس ریڑھ کی ہڈی اور دماغ کے حصوں تک پہنچ کر حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیوں (حرکتی عصبے) کو تباہ کر دیتا ہے۔ ان اعصابی خلیوں کی تباہی پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے جو چند گھنٹوں سے چند دنوں میں مکمل فالج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ فالج زیادہ تر ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔

پولیو پر قابو پانے کے لیے دو سائنسی شاہکار تیار کیے گئے جن کے فارمولے مختلف ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے دونوں کا کام قوت مدافعت پیدا کرنا ہے۔

 پہلی ویکسین زبانی پولیو ویکسین ہے، جو کمزور کیے گئے لیکن زندہ وائرس پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسے منہ کے ذریعے قطروں کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ یہ جسم میں جا کر ایک قدرتی انفیکشن کی نقل کرتی ہے، جس سے نہ صرف خون میں بلکہ آنتوں میں بھی وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ آنتوں کی مدافعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائرس کو جسم سے خارج ہونے اور پھیلنے سے روکتی ہے۔

دوسری ویکسین غیر فعال شدہ پولیو ویکسین ہے، جس میں مارے گئے وائرس کے ذرات شامل ہوتے ہیں۔ یہ خون میں طاقتور دفاعی ذرات (اینٹی باڈیز) پیدا کرتی ہے جو فالج کو روکنے میں انتہائی مؤثر ہیں۔

یہ دونوں ویکسینز دنیا بھر میں سانوفی پاسچر، اور گلیکسو سمتھ کلائن جیسی بڑی دواساز (فارما) کمپنیوں کے انتہائی جدید تحقیقی اور مینوفیکچرنگ مراکز میں تیار ہوتی ہیں، جہاں عالمی ادارہ صحت کے سخت معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ ویکسینز پھر عالمی اداروں جیسے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے ذریعے ضرورت مند ممالک کو فراہم کی جاتی ہیں۔

پولیو ویکسین کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1988ء میں عالمی پولیو کے خاتمے کا اقدام شروع ہونے کے بعد سے، دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک پولیو سے پاک قرار دیے جا چکے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، جغرافیائی رکاوٹوں، سکیورٹی مسائل، اور غلط معلومات و افواہوں کی وجہ سے چند ممالک (جیسے پاکستان اور افغانستان) میں وائرس اب بھی موجود ہے۔ ان علاقوں میں فرنٹ لائن ورکرز (پولیو کارکنوں) کی خدمات قابل تعریف ہیں جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پولیو وائرس کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی حقائق کے بجائے افواہیں اور غلط فہمیاں ہیں۔ والدین اور کمیونٹی کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سائنسی شواہد پر بھروسہ کریں جو ثابت کرتے ہیں کہ پولیو ویکسین محفوظ اور زندگی بچانے والی ہے۔

پولیو سے پاک دنیا کا حصول اب صرف چند قدم دور ہے۔ ہر بچہ جو قطرے پیتا ہے یا انجکشن لیتا ہے، وہ اس عالمی جدوجہد میں ایک اور مضبوط قدم ہے۔ پولیو بیماری کا دنیا سے مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ یہ معجزہ صرف ویکسینز کی تیاری پر ہی منحصر نہیں، بلکہ ہر والدین کی بیداری، حکومت کے عزم، اور فرنٹ لائن کارکنوں کی بے لوث محنت پر منحصر ہے۔ آئیے، آئندہ نسلوں کو فالج کے خوف سے آزاد ایک صحت مند دنیا کا تحفہ دیں۔

گداگری کی روک تھام، کنٹرول اور بحالی سے متعلق کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس۔

خیبرپختونخوا میں گداگری کی روک تھام اوراس حوالے سے مؤثر قانون سازی کے لیے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اہم اجلاس وزیر قانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، ڈپٹی سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ عثمان جیلانی، سماجی بہبود، ایڈووکیٹ جنرل آفس سمیت مختلف متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مجوزہ خیبرپختونخوا ویگرینسی (کنٹرول اینڈ ری ہیبیلٹیشن) ایکٹ 2025 پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ گداگری کی مؤثر روک تھام کے لیے ایسے قانونی اور انتظامی اقدامات ضروری ہیں جن کے ذریعے گداگری کو روکا جا سکے۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قانون میں ایسے عملی اور قابلِ عمل طریقہ کار شامل کیے جائیں جن کے تحت گداگروں کو ہنر مندی، سماجی معاونت اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں، تاکہ انہیں معاشرے کے مفید، باعزت اور خود کفیل شہری کے طور پر زندگی گزارنے میں مدد ملے۔مزید برآں، اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گداگری کے باعث نہ صرف معاشرتی توازن متاثر ہوتا ہے بلکہ قومی تشخص اور صوبے کی مجموعی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ شرکاء نے ایسے مؤثر اور پائیدار اقدامات تجویز کیے جو گداگری کے رجحان کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ہونے والے منفی معاشرتی اثرات کا تدارک بھی یقینی بنا سکیں۔وزیر قانون نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام دوست اور شفاف قانون سازی کے ذریعے سماجی مسائل کے مستقل حل کے لیے پُرعزم ہے اور گداگری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل قانون ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانون سازی کے عمل میں زمینی حقائق اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو اولین ترجیح دی جائے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا پنجاب حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو آٹھویں مرتبہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے روکنے پر وزیراعلیٰ نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنوں کے ہمراہ رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر علامتی دھرنا دیا۔پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا پنجاب حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے جبکہ وزیراعلیٰ کو عمران خان سے ملاقات سے روکنا آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔اپنے دفتر سے جاری بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پوری رات دھرنا دینے کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کے لیے بھی گئے۔ بانی چیئرمین عمران خان سے فیملی سمیت 27 اکتوبر کے بعد کسی کی ملاقات نہیں ہوئی، جس پر ہمیں شدید تشویش ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے لیکن افسوس ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور پنجاب حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ پنجاب حکومت جمہوریت کی دعوے دار جماعت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) مسلسل آمرانہ طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے جس سے ملک میں جمہوریت مزید کمزور ہو رہی ہے،وفاق اور پنجاب حکومتوں کے اقدامات سے واضح ہے کہ وہاں جمہوریت نہیں بلکہ آمریت کا ماحول ہے۔شفیع جان نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے وزیراعلیٰ نے ہر پرامن، جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا لیکن اب ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا اب ہم عوامی عدالت میں جائیں گے اور اپنا موقف عوام کے سامنے رکھیں گے۔بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطا تارڑ کا بیان حقائق کے برعکس، من گھڑت اور الزام تراشی پر مبنی ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ آئینی اور قانونی حق ہے اسے غیرقانونی قرار دینا بدنیتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات یا آئین و قانون سے لاعلم ہیں یا جان بوجھ کر غلط بیانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عطا تارڑ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر الزام تراشی سے پہلے 5300 ارب روپے کرپشن سے متعلق آئی ایم ایف رپورٹ پر جواب دیں۔ وفاقی حکومت الزام تراشی کی بجائے خیبرپختونخوا کے واجبات ادا کرے،شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا میں گورننس اور ترقی کا سفر جاری ہے۔ وفاق اور پنجاب کے وزراء کی صبح و شاممیڈیا پر جھوٹ بولنے کی ڈیوٹیاں لگ چکی ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری جعلی وزیراعلیٰ پنجاب کی “سہیلی گینگ” کا مرکزی کردار ہے۔اخر میں انہوں نے واضح کیا کہ وفاق اور پنجاب کی حکومتیں اپنی ناقص کارکردگی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے خیبرپختونخوا پر مسلسل الزام تراشی کر رہی ہیں بہتر ہوگا کہ وفاق و پنجاب کے وزراء اپنی ناکامیاں چھپانے کی بجائے کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبرپختونخوا حکومت نے نیا لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل دے دیا۔ وزیر بلدیات مینا خان آفریدی چیئرمین نامزد

حکومت خیبرپختونخوا نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی سیکشن 54(1) کے تحت نیا لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل دے دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی نے جاری کر دیا ہے۔ نئے کمیشن کو مقامی حکومتوں کی نگرانی، جانچ پڑتال اور متعلقہ قوانین کے تحت فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری تفویض کر دی گئی ہے نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی کو لوکل گورنمنٹ کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ کمیشن میں مختلف سرکاری محکموں اور منتخب نمائندوں کو بطور ممبران شامل کیا گیا ہے، جن میں پی کے 86 سے ایم پی اے محمد ادریس، پی کے 112 سے ایم پی اے احمد کُنڈی، مرد ٹیکنوکریٹ حفیزالرحمان اور خاتون ٹیکنوکریٹ عائشہ بانو شامل ہیں۔علاوہ ازیں، سیکرٹری لاء، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے کو بھی بطور ممبر شامل کیا گیا ہے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کو کمیشن کا سیکرٹری نامزد کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن فوری طور پر اپنے فرائض سنبھالے گا جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل لوکل گورنمنٹ کمیشن کو مکمل سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گا۔خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کمیشن کے تشکیل پر اپنی تاثرات شریک کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کا مقصد مقامی حکومتوں کی کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط، امور کی نگرانی، اور بلدیاتی نظام کے موثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کمیشن کی تشکیل سے لوکل گورننس کے نظام میں شفافیت، اصلاحات اور بہتر نگرانی کو مزید تقویت ملے گی، جس کا براہ راست فائدہ صوبے کے عوام تک پہنچے گا۔