Home Blog Page 28

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم محمد عثمان بیٹنی کا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ڈی آئی خان کا دورہ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم و چیئرمین خیبرپختونخوا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اتھارٹی (KP-TEVTA) محمد عثمان بیٹنی نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (GCT) ڈیرہ اسماعیل خان کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں کالج انتظامیہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے میں فراہم کی جانے والی فنی تعلیم و تربیت کی سرگرمیوں کا بذاتِ خود جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ادارے کے حکام نے معاون خصوصی کو فنی تعلیم کے شعبے میں پیشرفت، مختلف ٹیکنالوجیز میں جاری تدریسی سرگرمیوں اور طلبہ کو میسر سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہیں آگاہ کیا گیا کہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ڈیرہ اسماعیل خان میں سول ٹیکنالوجی، الیکٹریکل ٹیکنالوجی، مکینیکل ٹیکنالوجی اور آٹو اینڈ فارم ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں معیاری فنی تعلیم و تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔اس موقع پر
معاون خصوصی کو ادارے میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، داخلے کے طریقہ کار اور مختلف ٹیکنالوجی پروگرامز کے نصاب کے حوالے سے بھی جامع بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد عثمان بیٹنی نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید فنی و تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہنر مند نوجوان معاشی ترقی اور خودکفالت کی ضمانت ہیں، لہٰذا فنی تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

صوبائی وزیر فضل شکور خان کا ضلع چارسدہ میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے ضلع چارسدہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کیلیے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا کے اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا معائنہ کیا۔صوبائی وزیر نے موقع پر متعلقہ افسران اور اہلکاروں سے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، جاری تعمیراتی سرگرمیوں، کام کی رفتار اور مقررہ اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ انہوں نے جاری کام کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی معیار اور منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ منصوبے میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار اور تعمیراتی کام کے تمام مراحل کو مقررہ معیار اور محکمانہ ضوابط کے مطابق یقینی بنایا جائے۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ نکاسی آب کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے جاری منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اسے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے مذید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انکے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لیے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ پائیداری اور معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ افسران منصوبے کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے کام کی پیش رفت سے متعلق بروقت رپورٹ پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا۔

محکمہ ہاؤسنگ کی ای۔ کھلی کچہری، ہاؤسنگ سکیموں سے متعلق عوام اور سرکاری ملازمین نے مختلف سوالات کئے

سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ خیبر پختونخوا محمد انور خان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز محکمہ ہاؤسنگ کے کمیٹی روم میں ای۔ کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ محمد زاہد خان، ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ اور محکمہ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ای۔کھلی کچہری کے دوران عوام اور سرکاری ملازمین نے سوشل میڈیا، ٹیلی فون کالز اور پیغامات کے ذریعے شرکت کی اور مختلف ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق سوالات اور مسائل سے محکمہ حکام کو آگاہ کیا۔ شہریوں کی جانب سے سرکاری پلاٹس کے حصول، پشاور ویلی منصوبے کی تکمیل، جلوزئی، جرما، ملازئی اور ہنگو ہاؤسنگ اسکیموں پر کام کی پیش رفت سمیت دیگر منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی سوالات کیے گئے۔اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان نے کہا کہ ای کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد مسائل کے فوری ازالے کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ویلی ہاؤسنگ منصوبہ صوبے کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور صوبائی حکومت اس کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اس سلسلے میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملازئی ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس اسکیم میں بھرپور دلچسپی لیں، جبکہ محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملازئی ہاؤسنگ اسکیم میں اسٹریٹ لائٹس اور سیکیورٹی کے انتظامات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔سرکاری ملازمین کے لیے پلاٹس کی فراہمی سے متعلق سوال کے جواب میں محمد انور خان نے بتایا کہ بہت جلد پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ میں پانچ سال سے کم عرصہ باقی رہ جانے والے سرکاری ملازمین کو بغیر قرعہ اندازی پلاٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ دیگر سرکاری ملازمین کو سال 2026 میں سینیارٹی کی بنیاد پر تقریباً دو ہزار پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ محمد زاہد خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پلاٹس کے حصول اور دیگر متعلقہ معلومات کے لیے دستک ایپ کے ذریعے اپنی معلومات کو اپڈیٹ رکھیں تاکہ انہیں محکمہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور پیش رفت سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے کیے گئے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ہاؤسنگ اسکیم میں سب سے پہلے گھر تعمیر کرنے والے الاٹیز کو مفت سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔جلوزئی ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان نے واضح کیا کہ اس منصوبے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔محکمہ ہاؤسنگ کے حکام نے اس موقع پر عوام کو یقین دلایا کہ ہاؤسنگ اسکیموں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

KP Information Minister Expresses Grief over Deaths of Newborn Babies in PIMS Hospital Fire Incident

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information and Science Technology and Information Technology Shafi Jan has expressed deep grief and sorrow over the deaths of newborn babies in a fire at PIMS Hospital in Islamabad.
In a statement issued here, the provincial minister extended heartfelt condolences and sympathies to the bereaved parents and families, saying that the Khyber Pakhtunkhwa government stands with the affected families in this hour of grief.
Shafi Jan said that the loss of innocent lives was an extremely tragic and heart-breaking incident. He stressed that hospitals must have effective arrangements for firefighting, emergency evacuation of patients and other essential safety measures at all times.
Expressing serious concern over the lack of basic firefighting and emergency evacuation facilities at PIMS Hospital, he said that negligence in safety arrangements at such a major public-sector hospital was highly regrettable.
The provincial Information Minister said, “What could be a greater incompetence and failure than a government that cannot even properly run two major hospitals in Islamabad? The incompetence, failure and insensitivity of the federal government have now become its hallmark.”
Shafi Jan said the tragic incident at PIMS Hospital had exposed the federal government’s criminal negligence. He called for accountability over the serious negligence and criminal lapse, demanding that those responsible be identified and strict action be taken against them.
He emphasized that negligence in protecting precious human lives could not be tolerated under any circumstances.

Construction work on Swabi Jail should be expedited and the project completed at the earliest: Shakeel Ahmed

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Communications and Works Shakeel Ahmed, on the special directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Ahmed Afridi, visited Swabi district, where he conducted a detailed inspection of the newly constructed Swabi Jail and reviewed the ongoing construction work.
Provincial Minister for Labour Faisal Khan Turkai, Parliamentary Secretary for Agriculture Murtaza Khan Turkai, Members of the Provincial Assembly Abdul Karim Khan Tordher and Rangez Khan, as well as relevant officers of the Communications and Works Department, were also present on the occasion.
During the visit, Provincial Minister Shakeel Ahmed was given a detailed briefing on the construction project of the new Swabi Jail. He was informed that the project covers an area of 250 kanals and is being constructed at an estimated cost of approximately Rs. 3.2 billion. Around 80 percent of the construction work has been completed, while the remaining work is also progressing rapidly and will be completed soon.
Provincial Minister Shakeel Ahmed directed the relevant authorities to further accelerate the pace of construction and complete the remaining work within the stipulated period. He said that the timely completion of projects of public importance is among the government’s top priorities; therefore, no unnecessary delay in the completion of the project would be tolerated.
He further directed the concerned authorities to pay special attention to the quality and quantity of the construction work and ensure that the project is completed in accordance with all necessary requirements. He said that national resources are being spent on development projects, and therefore their transparent, quality-oriented and timely utilization would be ensured in all circumstances.
The Provincial Minister said that the government is strengthening the monitoring of ongoing projects related to public welfare and institutional needs across the province so that better facilities can be provided to the people.

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی آف پشاور میں سیرت النبی ﷺ سیمینار اور نعت خوانی، قرأت و تقریری مقابلوں کا انعقاد

ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا عباس آفریدی نے کہا کہ سیرتِ النبی ﷺ ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان میں اسلامی اقدار، اخلاقِ حسنہ، برداشت، محبت، اخوت اور مثبت معاشرتی کردار کو فروغ دینا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعت خوانی، قرأت اور تقریری مقابلوں جیسے پروگرامز نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر شیخ اسلامک سنٹر، یونیورسٹی آف پشاور تھے۔ تقریب میں مفتی رحیم داد خان، جامعہ البرہان؛ ڈاکٹر اسماعیل، یونیورسٹی آف پشاور؛ مفتی اکبر علی، جامعہ انوار العلوم تہکال اور مفتی سید العارفین؛ مرکز العلوم، راحت آباد سمیت دیگر معزز علماء، اساتذہ، طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز عاطفہ یوسفزئی اور عرفان خان بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران نعت خوانی، قرأت اور تقریری مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں نوجوانوں اور طلبہ نے بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ مقررین نے سیرتِ النبی ﷺ کی تعلیمات کو نوجوان نسل کی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ نوجوان نسل میں اخلاق، برداشت، محبت، اخوت اور مثبت معاشرتی کردار کو فروغ دینے کے لیے ایسے پروگرامز کا انعقاد نہایت اہم ہے۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا عباس آفریدی کی ہدایات کے تحت منعقدہ اس پروگرام میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت کو سراہا گیا، جبکہ نعت خوانی، قرأت اور تقریری مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔

Pakistan’s Moody’s Rating Fell from B3 to Caa3 in One Year Before Returning to B3 After Three and a Half Years: KP Finance Advisor Muzzammil Aslam

Advisor to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, reacting to the current status of Pakistan’s Moody’s credit rating, said that Pakistan maintained a B3 Stable credit rating during the tenure of former Prime Minister Imran Khan from 2018 to 2022. However, he said that the country’s credit rating began to decline in June 2022 during the Pakistan Democratic Movement (PDM) government.

Muzzammil Aslam said that within just one year, Pakistan’s credit rating fell by four notches, reaching Caa3 in February 2023. He noted that Caa3 is considered a category associated with an extremely high risk of default. According to him, it took Pakistan three and a half years to return to the B3 credit rating level, and the country’s rating has now once again reached B3.

The KP Finance Adviser said that throughout this period, the people of Pakistan faced historically high levels of inflation, unemployment and poverty. He said that a large number of Pakistanis were compelled to leave the country in search of better employment opportunities abroad, which, he added, reflected the difficult economic conditions prevailing in the country.

Muzzammil Aslam said it was surprising that the Prime Minister was congratulating his team on what was being described as an economic achievement, despite the severe economic challenges faced by the country during this period.

He said the government needed to apologize to the nation for the extremely difficult situation into which the country’s economy had been pushed.

The KP Finance Adviser also criticized the role of the media, saying that the media should present the complete picture of the country’s economic situation to the public. Unfortunately, he said, the current economic situation was being presented as a major achievement of the government rather than being reported in its complete historical and economic context.

عوامی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرکے انہیں بروقت مکمل کیا جائے، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: شکیل احمد

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے ضلع صوابی میں جہانگیرہ تا صوابی ڈوئلائزیشن روڈ کے جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ تقریباً 12 کلومیٹر طویل اس اہم عوامی منصوبے پر صوبائی وزیر کو محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر محنت فیصل خان ترکئی، ارکان صوبائی اسمبلی رنگیز خان اور عبدالکریم خان طور ڈھیر، محکمہ زراعت کے پارلیمانی سیکرٹری مرتضیٰ خان ترکئی سمیت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ جہانگیرہ تا صوابی ڈوئلائزیشن روڈ منصوبے پر خطیر رقم سے تعمیراتی کام جاری ہے، جس کی تکمیل سے علاقے میں ٹریفک کے مسائل کے خاتمے، سفری سہولیات میں بہتری اور عوام کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔صوبائی وزیر شکیل احمد نے منصوبے کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام کے معیار اور مقدار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔بعد ازاں صوبائی وزیر شکیل احمد نے زیر تعمیر زچہ و بچہ ہسپتال کا بھی معائنہ کیا اور منصوبے کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے انہیں منصوبے پر جاری پیش رفت اور مختلف تعمیراتی مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر شکیل احمد نے کہا کہ زچہ و بچہ ہسپتال ایک انتہائی اہم عوامی منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے علاقے کے عوام خصوصاً خواتین اور بچوں کو جدید اور معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو بہتر سفری، طبی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دونوں منصوبوں پر تعمیراتی کام کی مسلسل نگرانی کی جائے، درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت چار محکموں کے کارکردگی معاہدوں پر دستخط

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم، بلدیات، سیاحت اور سماجی بہبود نے منگل کے روز سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب میں کارکردگی کے فریم ورک معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان معاہدوں کا مقصد چاروں شعبوں میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے واضح اہداف مقرر کرنا ہے۔تقریب میں وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، مشیر سماجی بہبود لیاقت علی خان اور معاون خصوصی برائے سیاحت عادل اقبال کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) عابد مجید، سیکرٹری ہیومن ریسورس مینجمنٹ ذوالفقار علی شاہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات عادل شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات ظفر اسلام، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عنبر علی خان، سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین اور سیکرٹری سیاحت سعادت حسن نے متعلقہ فریم ورکس پر دستخط کئے۔ان معاہدوں میں گڈ گورننس روڈ میپ کو ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لئے اہداف اور مدتیں طے کئے گئے ہیں۔سماجی بہبود کے فریم ورک کے تحت محکمے نے 10 دارالامان اپ گریڈ کرنے اور 3 غیر فعال پناہ گاہوں کو فعال بنانے کا عزم کیا ہے، جس کے تحت 15 مراکز پر روزانہ تین وقت کا کھانا یقینی بنایا جائے گا۔ منصوبے میں پشاور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم کو بہتر بنانا، تین خصوصی تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کرنا اور پانچ دیگر اداروں کو آؤٹ سورس کرنا بھی شامل ہے۔ محکمے کے سروس ڈھانچے میں ترمیم کی نوٹیفکیشن کے علاوہ صوبے بھر کے 124 صنعتی تربیتی مراکز کو جدید بنانے کا کام بھی کیا جائے گا۔سیاحت کے فریم ورک میں صوبے کے بڑے سیاحتی مقامات کی صفائی، منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس میں بڑے سیاحتی علاقوں میں روزانہ کچرا اٹھانے کا کام ٹھیکے پر دینا، گلیات، کاغان اور کمراٹ کے ماسٹر پلان مکمل کرنا اور گلیات میں سیوریج کے پائلٹ منصوبے کا قیام شامل ہے۔ محکمہ ٹھنڈیانی اور گنول میں مربوط سیاحتی زونز (آئی ٹی زیڈز) کے قیام کو بھی تیز کرے گا اور سات آرام گاہیں فعال کرے گا۔بلدیات کے فریم ورک کا مرکز کچرے کے انتظام اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ہے۔ اس میں روزانہ 7 ہزار ٹن کچرے کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ پلیٹ فارم کا آغاز، ڈیجیٹل میپنگ کی تکمیل اور شہری علاقوں میں 6,200 گم شدہ مین ہولز نصب کرنا شامل ہے۔ کوہاٹ، پشاور، ایبٹ آباد اور مردان میں چار جدید لینڈ فل سائٹس کی تعمیر کا آغاز بھی کیا جائے گا۔اعلیٰ تعلیم کے فریم ورک کے تحت پانچ کمزور کارکردگی والے کالجوں کو آؤٹ سورس کرنے اور دو کالجوں کو اپلائیڈ سائنسز کالجز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ ایک ہزار سے زائد بی ایس طلبہ کو صنعتی اداروں میں انٹرن شپ دی جائے گی جبکہ پانچ جامعات میں انکیوبیٹرز کو فعال بنایا جائے گا۔ محکمہ رواں سال کے اختتام تک تحقیق و ترقی کے کمرشلائزیشن فریم ورک کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کرے گا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے ان معاہدوں کو احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اب ہر محکمہ وزیراعلیٰ کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت واضح اور وقت کی پابندی کے حامل اہداف کا پابند ہوگا۔

محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام صوبائی مقابلہ حسنِ قرات و نعت خوانی کامیابی سے اختتام پذیر

محکمہ اوقاف، اقلیتی و مذہبی امور خیبر پختونخوا کی جانب سے عشرہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے منعقدہ صوبائی مقابلہ حسنِ قرات و نعت خوانی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مقابلوں کا بنیادی عنوان “سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور فروغِ امن” تھا، جس میں صوبہ بھر سے نامور قاریوں اور بہترین نعت خوانوں نے بھرپور شرکت کی اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر برائے اوقاف، اقلیتی و مذہبی امور خیبر پختونخوا محمد عدنان قادری تھے۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبے میں مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اصل جوہر امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہے۔ موجودہ دور میں معاشرتی امن کے لیے مذہبی رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر اوقاف نے کامیاب مقابلوں کے انعقاد پر محکمہ اوقاف کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور شرکاء کی کارکردگی کو سراہا۔تقریب سے سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور عطاء الرحمان نے بھی خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے مقابلوں کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نوجوان نسل کو اسلام کے حقیقی اور پرامن پیغام سے روشناس کرانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے پوزیشن ہولڈرز اور مقابلہ جیتنے والے خوش نصیب شرکاء کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر سربراہ متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا مولانا احسان الحق نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور سیرتِ پاک کا پیغام عام کر کے ہی ہم معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں