خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ محکموں میں باہمی روابط بڑہانے اور زمینداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی اشدضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ڈیم بن جاتے ہیں تو انکے کمانڈ ایریا میں تعمیرات کی وجہ سے زرعی زمینوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور زمیندار زیر کاشت رقبہ کم ہونے کی وجہ سے زمینداری سے بھرپور طریقے سے مستفید نہیں ہورہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پشاور میں آن فارم واٹر مینجمنٹ کے حوالے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت جاوید مروت، آئی ڈبلیو ایم آئی کے کنٹری نمائندہ ڈاکٹر محسن حفیظ، ڈی جی فیڈرل واٹر مینجمنٹ، ڈی جی زراعت انجینئرنگ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں واٹر مینجمنٹ کی بہتری پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ اجلاس میں قومی آبی پالیسی، انکے مقاصد اور آئی ایم ڈبلیو آئی کے آن فارم واٹر مینجمنٹ کے شعبہ میں منصوبوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ آئی ایم ڈبلیو آئی کے کنٹری نمائندہ نے آئی ایم ڈبلیو آئی کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپس اور دیگر سرگرمیوں سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری زراعت جاوید مروت نے آئی ایم ڈبلیو آئی کے کنٹری نمائندہ کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور منصوبوں کی بہتری کے حوالے سے گفتگو کی۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے آئی ایم ڈبلیو آئی کے کنٹری نمائندہ ڈاکٹر محسن حفیظ کو آن فارم واٹر مینجمنٹ کے لیبارٹریز کی دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مختلف لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔زرعی یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کو مختلف پروگرامز میں انٹرن شپ کے مواقع دئیے جائیں تاکہ وہ عملی کام سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پانی ذخیرہ کرنے کے مواقع موجود ہیں جس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر زراعت نے آئی ڈبلیو ایم آئی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔انہوں نے اجلاس میں ضروری ہدایات اور تجاویز بھی دیں
ایریگیشن واٹر مینجمنٹ سے متعلق مؤثر اقدامات اٹھانا ضروری ہیں، صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام بڑے دریاؤں ا و رنہروں میں پانی کی مقدار سائنسی بنیادوں پر ناپنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے نہ صرف پانی کی مقدار کا صحیح پتہ چلے گا بلکہ درکار متعلقہ اقدامات اٹھانے میں بھی مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹوٹ یوکے ایڈ کی طرف سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایریگیشن، ڈی جی فیڈرل واٹر مینجمنٹ سیل اور آئی ڈبلیو ایم آئی کے پراجیکٹ منیجر کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ یوکے ایڈ کے پراجیکٹ منیجر نے صوبائی وزیر کو بارش، زمین اور زیر زمین پانی کا ٹھیک حساب لگانے اور اس کے دیرپا فوائد سمیت اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات ا ور درکار کوششوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللّٰہ خان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام ٹیوب ویلز کا ریکارڈ ڈیجیٹائزڈ کرانے سے نا صرف زیر زمین پانی سے منسلک مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ اسے موثر انداز سے استعمال میں لانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ یوکے ایڈ کی خیبرپختونخوا میں دلچسپی کے اظہار پر اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرنے پر بھی زور دیا۔ صوبائی وزیر نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو محکمہ کے زیر انتظام امور میں جدت لانے کیلئے بھی ہدایات جاری کیں تاکہ استعداد کار میں مزید بہتری ا ور تیزی لائی جا سکے۔
چوتھے ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام کی پہلے ورکشاپ کا انعقاد پشاور میں کیا گیا جس میں مختلف سرکاری اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت
چوتھی ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام کی افتتاحی ورکشاپ بدھ کے روز پشاور میں ہوئی، جہاں مختلف سرکاری اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے خیبر پختونخوا کے لیے اہداف کے پیش رفت پر غور و خوض کیا۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر گیئر ٹی ٹونسٹول نے ورکشاپ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے لیبر اور دیگر محکموں کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کی سیاسی قیادت ایسے اقدامات کو عملی شکل دینے میں نہایت سنجیدہ ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ٹونسٹول نے چوتھی ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام کی پہلی ورکشاپ کے کامیاب انعقاد اور سبقت لے جانے پر بھی خیبرپختونخوا صوبے کی کارکردگی کو سراہا. ورکشاپ سے ڈائریکٹر لیبر خیبرپختونخوا عرفان خان نے بھی خطاب کیا اور صوبائی محکموں کو اہم سنگ میل حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لیے آئی ایل او کا شکریہ ادا کیا۔ دیگر قابل ذکر مقررین میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن پاکستان سے رابعہ رزاق اور صغیر بخاری شامل تھے، بلال احمد اور شونیلا نے تکنیکی مدد فراہم کی۔ ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام ایک درمیانی مدتی منصوبہ بندی کا فریم ورک ہے جو کسی ملک میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، حکومتوں، ورکروں اور آجروں پر مشتمل سہ فریقی مشاورت کے ذریعے پانچ سال کے لئے تیار کیا جاتا ہے. ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے ممبر ممالک کے ساتھ ملکر ترجیحات کا تعین کرے اور رکن ممالک کی مؤثر طریقے سے مدد کر سکے۔
صوبائی وزیربلدیات ودیہی ترقی ارشد ایوب خان کے زیرصدارت کیبنٹ کمیٹی برائے ایٹا کا اجلاس منعقدہ ہوا۔ جس میں کمیٹی کے ممبران صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، وزیرزراعت میجر (ر) سجاد براکوال، سیکرٹری ایجوکیشن ارشد خان اور چیف ایگزیکٹیو ایٹا امتیازایوب نے شرکت کی۔
کمیٹی کو گذشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ چند اداروں نے مشتہر پوسٹوں کی تفصیلات اور دیگر کوائف جمع کی ہے۔ کمیٹی چیئرمین ارشد ایوب خان نے ہدایات جاری کی کہ ایک ہفتے کے اندر تمام اداررے ان تمام مشتہر پوسٹوں کی تفصیلات فراہم کریں جن پر ابھی پراسس شروع نہیں ہوا اور ساتھ ہی پہلے سے مشتہر پوسٹیں جوکہ ایٹا کے ذریعے مشتہر نہیں ہوئے ان کی بھی تفصیلات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارابنیادی مقصد صوبائی ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کو مزید فعال اور مستحکم بناناہے تاکہ صوبہ بھر کے تمام اداروں کی پوسٹیں بذریعہ ایٹا مشتہر ہو۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ایٹا کے استعداد کار کو بڑھانے کیلئے بھی اہم اقدامات اٹھاررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے اجلاس میں تمام کوائف پیش ہونے کے بعد کیبنٹ کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کو فراہم کرے گی۔ صوبائی وزیرتعلیم فیصل خان خان ترکئی نے فورم کو بتایا کہ محکمہ تعلیم نے سابقہ دور میں بذریعہ ایٹا اساتذہ اور سکول لیڈرز کی تعیناتی کا عمل مکمل کیاتھا جوکہ نہایت کارآمد رہا۔ انہوں نے ایٹاحکام کو ہدایت کی کہ اقلیت اور مخصوص افراد کیلئے الگ سے میرٹ لسٹ جاری کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کی بھرتی کاعمل لیٹ نہ ہو۔
کمیٹی ممبرسجاد براکوال نے فورم کو بتایا کہ ہمیں ایٹا کی افرادی قوت میں اضافہ کی سفارشات کے ساتھ ساتھ اس کو دورجدید کے تقاضوں سے ہم آھنگ ڈیجٹلائزڈ ٹیکنالوجی کے استعمال اورنقل وغیرہ کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایٹا کے مختلف ٹیسٹوں کی لیکج وغیرہ میں قصور وار ثابت ہونے والے لوگوں کوقرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ میرٹ اورشفافیت موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، ایٹا حکام نے کمیٹی کو ٹیسٹ آئٹم بنک، کوالٹی چیک پراسس اوردیگر عوامل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی چیئرمین نے ایٹا حکام کو ہدایت کی کہ صوبائی محکموں میں پوسٹوں کے اشتہار سے لیکر ٹیسٹ انٹرویو اور بھرتی کے دورانیے کو کم سے کم رکھاجائے تاکہ ہمارے ادارے اورمنصوبے متاثر نہ ہو۔ #
نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ کے گریڈ 20 کے آفیسر محمد عمران کی بطور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا باقاعدہ طور پر تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ کے گریڈ 20 کے آفیسر محمد عمران کی بطور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا باقاعدہ طور پر تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ محمد عمران، بطور ڈائریکٹر جنرل نظامت اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا گزشتہ ایک سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی گریڈ 19 سے گریڈ 20 گریڈ میں ترقی ہوئی تھی اور اب ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے عہدے پر ان کی مستقل تعیناتی کا اعلامیہ اسٹبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کیٹیگری ڈی ڈوگرہ ہسپتال کا دورہ، ایم پی اے عبدالغنی، سہیل آفریدی اور ایم این اے اقبال آفریدی، ڈی ایچ او ظفر بھی موقع پر موجود، 90 کے وی اے سولرزائزیشن، فلٹریشن پلانٹ، لیبارٹری اور کانفرنس روم کا افتتاح
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ایم پی اے عبدالغنی، سہیل آفریدی اور ایم این اے اقبال آفریدی کے ہمراہ ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ کیٹیگری ڈی ڈوگرہ ہسپتال کا دورہ کیا۔ وزیر صحت نے ہسپتال کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین اور مقامی قیادت کی جانب سے وزیر صحت کو قبائلی پگڑی پہنائی گئی۔ وزیر صحت نے ہسپتال میں 90 کے وی اے سولرائزیشن منصو، ہسپتال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ، نئے بنائے گئے کانفرنس روم اور لیبارٹری کا بھی افتتاح کیا جبکہ اسپتال میں بچے کو انسداد پولیو کے قطرے بھی پلائے۔ وزیر صحت نے اسپتال میں جاری او پی ڈی کا معائنہ کے دوران مریضوں کے مسائل سنے۔ اس موقع پر وزیر صحت نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈوگرہ ہسپتال میں سٹاف کی کمی کو جلد پورا کرینگے، قبائلی عوام کی تکالیف کا انہیں احساس ہے اور صحت سہولیات کی فراہمی میں قبائلی اضلاع کو مقدم رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل ادویات بھیجی ہیں اور وہ خود چیک کرنے آئے ہیں۔وزیر صحت نے مزید بتایا فنڈز فراہم کرکے تیراہ ہسپتال کو جلد سے جلد فعال کرینگے تاہم مقامی قیادت ہسپتالوں کے دورے کر کے بتائے تاکہ ضروریات کو بروقت پوراکیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی فعالی و بحالی میں ڈونرز کی مدد لے رہے ہیں جو قبائلی اضلاع میں کافی کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پرڈی ایچ او خیبر ظفر علی خان نے وزیر صحت کو ہسپتال سمیت ضلع خیبر کے صحت کے مراکز کی فعالی و بحالی کی صورتحال بارے جائزہ پیش کیا۔ وزیر صحت کو پاک افغان سرحد پر واقع زیرو کراسنگ ہسپتال بارے بھی بتایا گیا۔ وزیر صحت کو آوٹ بریک ریسپانس کمیٹی کی کارکردگی اور نو غیر فعال مراکز صحت بارے بھی تفصیل فراہم کی گئی اور بتایا گیا کہ دو سال میں 12 غیر فعال مراکز صحت کو فعال بنایا گیا ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ دیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ہمارے نوجوان طبقے میں ہر لحاظ سے قدرتی صلاحیتیں موجود ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں انکی ان صلاحیتوں کو سامنے لانے کیلئے انھیں ہم نصابی سرگرمیوں کے موقع فراہم کیئے جائیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے صوبائی حکومت نتیجہ خیز کوششیں کررہی ہے اور صوبے میں احساس نوجوان روزگار سکیم کا ایک بڑا منصوبہ شروع کررہے ہیں جسکا مقصد نوجوان طبقے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز حیات آباد پشاور میں پاک انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے تحت ”لیٹرری ویک” کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔مشیر کھیل نے فیتہ کاٹ کر مذکورہ ادارے میں شروع ہونے والے مختلف ادبی ایونٹس کا افتتاح کیا۔اس موقع پر کالج کے اعلیٰ حکام،تدریسی عملہ اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔لیٹرری ویک کے تحت ان ایونٹس میں ثقافت، علم و ادب و دیگر شعبوں میں مختلف سرگرمیاں منعقد ہونگی۔افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلی کے مشیر کھیل کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں لیٹرری ویک جیسے ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے تاکہ طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھی ہم نصابی مصروفیات میں بھی مشغول کیا جائے جو طلبہ کے ذہنی سکون کیلئے انتہائی ضروری ہے۔انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم و تربیت اور پڑھائی کے یہ قیمتی لمحات ضائع کیئے بغیر سیکھنے پر صرف کریں تاکہ کل وہ معاشرے کیلئے اپنے شعبے میں بہترین اور کامیاب معالج بنیں۔تقریب سے دیگر شرکا نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر مشیر کھیل کو ادارے کی جانب سے شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
مشیر سیاحت کی سیکرٹری ماحولیات سے ان کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت و فاتحہ خوانی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب منگل کے روز حیات آباد پشاور میں صوبائی سیکرٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات شاہد زمان کے گھر گئے اور ان سے انکے والد و سابق آئی جی پولیس گوہر زمان کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ مرحوم کے بھتیجے و سپرنٹینڈنگ انجینئر محکمہ آبپاشی انجینئر باتور زمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ زاہد چن زیب کچھ دیر وہاں رہے اور شاہد زمان اور انکے دوسرے بھائیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے منگل کے روز برطانوی ہائی کمشنر جین میرئیٹ نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے اُمور خصوصی طور پر خیبر پختونخوا میں برطانوی حکومت کے مختلف اداروں کے اشتراک سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیا ۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے برطانوی اداروں کے تعاون اور اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،صوبائی حکومت مستقبل میں باہمی اشتراک کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے اور صوبے میں برطانوی سرمایہ کار اداروں کی طرف سے سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں معدنیات، توانائی اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،صوبائی حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کار کو فروغ دینا چاہتی ہے۔اُنہوںنے کہاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے سرمایہ کاری کے پیچیدہ مراحل کو آسان بنانے پر کام جاری ہے ، صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔علاوہ ازیں صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کر رہی ہے،دہشتگردی سے مستقل نجات کے لیے لوگوں کو تعلیم اور روزگار دینے کی ضرورت ہے اورموجودہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے مختلف ترجیحاتی شعبوں میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے سمال ڈیموں کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں،زراعت کے شعبے کو ترقی دے کر لوگوں کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کوبا روزگاربنانے کےلئے انہیں بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار دینے کےلئے ڈونر اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ علی امین گنڈا پور نے مزید کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے اس صوبے خصوصاً ضم اضلاع کے لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔دہشت گردی سے متاثرہ ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر صوبائی حکومت اور برطانوی اداروں کے درمیان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں اشتراک کار کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے بلدیات،دیہی ترقی و الیکشن ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بورڈ کا ساتواں اجلاس منگل کے روز محکمہ بلدیات کے کمیٹی روم پشاورمیں منعقد ہوا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے بلدیات،دیہی ترقی و الیکشن ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بورڈ کا ساتواں اجلاس منگل کے روز محکمہ بلدیات کے کمیٹی روم پشاورمیں منعقد ہوا۔جس میں ا راکین صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان اور افتخار مشوانی سمیت سیکرٹری بلدیات داؤد خان،منیجنگ ڈائریکٹر یوڈا رشید خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ہری پور،ایبٹ آباد،مردان اور ڈی آئی خان میں یوڈا اتھارٹی کے انتظامی ومالیاتی اور دیگرمسائل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جبکہ حکام نے یوڈا ہری پور کیلئے 50 ملین روپے سے لیکر 120ملین گرانٹ کی منظوری سمیت سٹاف کی تقرری،اراضی کی خریداری،کھلا بٹ،خان پور اور کانگڑہ ٹاون شپ کے انتظامی اختیارات کا تفصیلی جائزہ لیا۔حکام نے ایبٹ آباد یوڈا ٹاون شپ سکیم کے حوالے سے صوبائی وزیر کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایبٹ آباد ٹاون شپ 1600کنال اور 2200پلاٹ پر مشتمل ہے لیکن اندرونی سڑکوں اور انفراسٹکچر کا نظام غیر تسلی بخش ہے اور فنڈز کی کمی کا بھی سامنا ہے۔حکام نے مردان ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں صوبائی وزیر کو آگاہ کیاکہ 5000کنال پر مشتمل شیخ ملتون ٹاون شپ میں 3000کنال رہائشی جبکہ 154کنال کمرشل پلاٹس ہیں۔حکام نے رشکئی کے مقام پر 41 کنال پلاٹ کی نیلامی، UADA ایکٹ 2020 اور فنانشل پاورز رولز بارے تفصیلی بریفنگ دی۔شرکائے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے مردان ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کارگردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایم ڈی یوڈا دو ہفتوں کے اندر ہری پور اور ایبٹ آباد ایریا اتھارٹی کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کرے اور انکو آپریشنل بنانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ خود بھی عنقریب ہری پور،ایبٹ آباد اور مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کا دورہ کریں گے انہوں نے ایبٹ آباد ٹاون شپ سکیم کو ترجیحاتی بنیادوں پر مکمل کرنے اور فنڈز مہیا کرنے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر اس ضمن میں قائم ہونیوالی کمیٹیوں کو جلد از جلد حتمی شکل دینے،ان میں متعلقہ اراکین اسمبلی کو نمائندگی دینے کے ساتھ ان کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کی بھی تاکید کی صوبائی وزیر نے مردان میں 41 کنال پر مشتمل پلاٹ کی نیلامی کے طریقہ کار میں نہایت شفافیت کے لیئے محکمہ اینٹی کرپشن اور میڈیا کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی۔
