خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان نے دورہ بونیر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کے ہمراہ ضلع میں زیتون کی شجر کاری کا باضابطہ افتتاح کیا۔دوران افتتاح چیئر مین ڈیڈک بونیر و رکن صوبائی اسمبلی عبدالکبیر خان،تحصیل چیئرمین سید سالار جہان باچہ و دیگر عمایدین و معززین بھی موجود تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر اور چیئر مین پی ٹی آئی کو زرعی تحقیقاتی مرکز ترناب کے سینئر ڈائریکٹر محمد یونس،ضلعی ڈائریکٹر زراعت عدالت خان و دیگر ماہرین نے زیتون کی شجر کاری کے حوالے سے بریفنگ دی اور علاقے میں اس کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ صوبائی وزیر اور چیئرمین پی ٹی آئی نے بونیردورے کے دوران ڈگرہسپتال کے تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا۔دونوں رہنماؤں نے ہسپتال کے جاری کام کا تفصیلی معائنہ کیا اور ہسپتال کی تعمیر کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ اس اہم ہسپتال کے تعمیراتی کام میں معیار کا ہر لحاظ سے خیال رکھا جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے علاقے کے عوام کو صحت کی تمام سہولیات کی مقامی سطح پر فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیر اور چیئرمین پی ٹی آئی نے دورہ بونیر کے دوران بونیر ہاکی لیگ کی منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی۔انھوں نے ہاکی لیگ کے ونرز اور رنرز ٹیموں کو ٹرافیاں و انعامات سے نوازا۔مزید برآں صوبائی وزیر نے پارٹی چیئرمین کے ہمراہ حلقہ نیابت میں منعقدہ گرینڈ پارٹی کنونشن میں بھی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔کنونشن میں ضلع بھر سے پارٹی کے عہدیداران،ورکرز،یوسی چیئرمین و عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں آئین و قانون کی پاسداری اور انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک میں عوام کا اعتماد پاکستان تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی کیساتھ ہے۔انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور عدل وانصاف اور حقیقی جمہوریت کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات مصورخان نے اتوار کے روزکہنیا پلانٹیشن، گدرپور فاریسٹ رینج، اگروڑ تناول فاریسٹ ڈویژن مانسہرہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ بہار شجرکاری مہم 2025 کے تحت منعقد کیا گیا تاکہ جنگلات کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔دورے کے موقع پر چیف کنزرویٹر ہزارہ کفایت اللہ بلوچ، کنزرویٹر اپر ہزارہ فرخ سیر، کنزرویٹر لوئر ہزارہ فرہاد علی، پرنسپل گورنمنٹ تھائی سکول طارق علی شاہ، ڈی ایف او اگروڑ تناول فاریسٹ ڈویژن امان اللہ خان، ڈی ایف او سیران جواد ممتاز اور ڈی ایف او پیٹرول سکواڈ سعید انور شامل تھے۔معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات مصورخان نے چیڑھ کا پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے شجرکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور ماحولیاتی بہتری میں مددگار ثابت ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ درخت لگانا صرف زمین کو سرسبز بنانا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا تحفظ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔یہ ماحول کوخوبصوت بناتے ہیں ‘ آب و ہوا کو صاف رکھتے ہیں بلکہ انسانوں کے علاوہ پرند’ چرند اور جانوروں کے لیے خوراک کا باعث بھی بنتے ہیں۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی جنگلاتی تحفظ اور بحالی کے لیے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ ہر شہری کو اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ وزیر کی لاہور میں لائیو سٹاک ایکسپو میں شرکت، لائیو سٹاک کے صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتیں
ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ وزیر نے لاہور میں لائیو سٹاک ایکسپو میں شرکت کی جہاں پر لائیو سٹاک صنعت سے وابستہ افراد و کمپنیوں سے لائیو سٹاک سے متعلقہ امور پر ملاقاتیں کیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع مویشیوں کی صحت کے حوالے سے (FMD) کے انتظام میں تعاون کی ممکنہ راہیں تلاش کرنے کے سلسلے میں روسی وفد کے ساتھ بات چیت کی۔ یہ بات چیت دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی موجودہ یادداشت (ایم او یو) پر مبنی ہے، جس میں شراکت کو مضبوط بنانے اور ایف ایم ڈی مینجمنٹ میں تعاون بڑھانے کی حکمت عملیوں پر توجہ دی گئی۔ ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر وحید وزیر نے متعدد معزز شخصیات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے مباحثے میں گراں قدر تعاون کیا، ان میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے سابق لائیو سٹاک سپیشلسٹ ڈاکٹر ایم افضل، مصطفی برادرز کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر منظور حسین اور مصطفی برادرز کے منیجنگ ڈائریکٹر کرنل ڈاکٹر طارق مصطفی شامل تھے۔لائیو سٹاک ایکسپو کے کامیاب نتائج نے پاکستان اور روس کے درمیان FMD مینجمنٹ کے اہم شعبے میں تعاون بڑھانے کی راہ ہموار کی ہے، جو بالآخر خطے میں مویشیوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔
خیبرپختونخوا میں پانی کے شعبے میں نظم و نسق کو بہتر بنانے کا منصوبہ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے وفد کی سیکرٹری آبپاشی سے ملاقات، منصوبے بارے پیش رفت سے آگاہ کیا
ڈاکٹر محسن حفیظ کی قیادت میں انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) کے ایک تکنیکی وفد نے سیکرٹری آبپاشی ایاز خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تاکہ انہیں UK کی امداد سے پاکستان میں پانی کے وسائل کے احتساب (WRAP) پراجیکٹ کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔اجلاس میں تمام چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ آئی ڈبلیو ایم آئی کے پی واٹر ایکٹ 2020 کے نفاذ میں صوبے کی مدد کر رہا ہے جہاں پنجاب کے سرپرست پر ضروری قواعد و ضوابط بنائے جا رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ IWMI صوبے میں مناسب زمینی پانی کے انتظام کے انفارمیشن سسٹم (GWMIS) کی ترقی میں مدد کرے گا۔اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا کے لیے مجوزہ واٹر ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (WRMIS) پر خصوصی توجہ دی گئی جس میں صوبے کے پورے نظام آبپاشی کے ڈیٹا بیس کو کمپیوٹرائز کیا جائے گا۔ یہ سسٹم محکمہ کی ویب سائٹ پر کے پی ایریگیشن سسٹم کی تمام متعلقہ معلومات کی عکاسی کرے گا۔یہ نظام نہ صرف کے پی کے محکمہ آبپاشی کو ان کے نہری نظام کی حقیقی وقت کی نگرانی میں سہولت فراہم کرے گا بلکہ نہروں کو ان کے ٹیل کے اختتام تک ان کے ڈیزائن کے اخراج کے ساتھ مناسب طریقے سے چلانے کو بھی یقینی بنائے گا۔ اس نظام میں شکایات کے ازالے کا ایک مضبوط طریقہ کار بھی ہوگا جو آبپاشی کرنے والوں کو ان کے مسائل کو فیلڈ کی سطح پر فوری حل کرنے میں آسانی فراہم کرے گا۔یہ نظام پہلے ہی پنجاب کے دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی کے نظام میں قائم ہو چکا ہے اور کے پی کی سطح پر اس کی نقل صوبے میں پانی کے شعبے کی مجموعی نظم و نسق کو بہتر بنائے گی۔ سیکرٹری آبپاشی نے نظام کی تعریف کی اور صوبے میں اس کے جلد نفاذ کے لیے IWMI سے درخواست کی۔ انہوں نے اپنے محکمے کی فیلڈ فارمیشن کو بھی ہدایت کی کہ وہ سسٹم کی جلد تکمیل کے لیے ضروری ڈیٹا کے ساتھ IWMI کی مدد کرے۔
صوبائی وزیر زرزعت کاکرک کے امن کیلئے اپنی ذات ورپارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر متحدرہنے کا عزم
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی ہی سے ضلع میں امن ممکن ہے لہذا کسی کو بھی کرک کا امن خراب نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کے لحاظ سے صوبے کا سب سے پرامن ضلع ہے اور یہاں کے لوگ بھی سب سے بڑھ کر پرامن اور امن سے محبت کرنے والے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ضلع کرک میں قومی سطح پر منعقدہ امن پاسون سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امن پاسون سے شاہد خان خٹک ایم این اے، سابق سینیٹر مشتاق احمد، چیئرمین ڈیڈاک کرک خورشید خٹک ایم پی اے، سابق اراکین اسمبلی اور چیدہ چیدہ قومی مشران نے بھی خطاب کیا۔امن پاسون میں اختیارات سی ٹی ڈی کو دینے، مغوی افراد کو جلد از جلد بازیاب کرانے اور کرک کے پرامن ماحول کو خراب ہونے سے بچانے کے مطالبات کئے گئے۔وزیر زراعت نے کہا کہ امن ہم سب کی ضرورت ہے اور امن کیلئے اپنی ذات اورپارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر متحد رہیں گے اور امن دشمنوں کے ساتھ سب ملکر نمٹیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سرزمین اور اس کے عوام مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔کرک کے امن کا ذکر کرتے ہوئے سجاد بارکوال نے کہا کہ خٹک قبیلہ نے ہرمعاملے میں ہمیشہ کیلئے ریاست کو سپورٹ کیا ہے لہذا یہاں کے عوام کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔وزیر موصوف نے امن پاسون کی انتظامی کمیٹی کے فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ امن کیلئے ہم سب ایک ہیں اور کوئی ہمیں اس اہم کازپر ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتا۔وزیر زراعت نے کرک کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو موجودہ صورتحال سے ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے ورنہ تباہی ہماری منزل ہوگی۔ہم سب نے آج امن دشمن قوتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم غافل قوم نہیں بلکہ امن کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو تعلیمی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہئیے، کھیلوں میں حصہ لینے سے انسان اپنے آپکو تندرست اور صحت مند رکھ سکتا ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاجاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور صوبے کا نام روشن کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار عابد خان کرکٹ گراؤنڈ ضلع چارسدہ میں مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کی اختتامی تقریب کے موقع پر بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کے کپتان کو ٹرافی دی جبکہ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو میڈلز پہنائے۔ صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھیل انسان میں ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیداکرتے ہیں،کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے نوجوان اپنے آپکو بہت سی منفی سرگرمیوں سے بچاسکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ صوبے
خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ صوبے میں منعقد ہونے والے خیبر پختونخوا گیمز 2025 اپنی نوعیت کا بڑا ایونٹ ہے جس میں مجموعی طور پر صوبہ بھر سے دو ہزار پانچ سو کھلاڑی حصہ لیں گے۔انھوں نے ان کھیلوں کے انعقاد کے حوالے سے جاری تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو تمام تر انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایات کی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے دفتر میں خیبر پختونخوا گیمز 2025 کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان محمد ضیاالحق اور ایڈیشنل سیکریٹری پیر عبداللہ شاہ کے علاؤہ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصرخان ودیگر ڈائریکٹرز اور افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو اس اہم ایونٹ میں کھیلے جانے والے کھیلوں اور دیگر تفریحی سرگرمیوں و تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔یہ ایونٹ جس میں اب تک کے سب سے بڑے گیمز ہوں گے اور زیادہ تعداد میں کھلاڑی اس میں شرکت کریں گے، 20 فروری سے شروع ہو رہا ہے جس میں مردوں کے17 اور خواتین کی 12 کھیلیں شامل ہیں۔یہ کھیلیں 20 فروری سے 23 فروری تک جارہی رہیں گی جبکہ پہلی دفعہ ان میں ووشو کا کھیل بھی شامل کرایا گیا ہے۔ان کھیلوں میں صوبے کے ساتوں ریجنز سے کھلاڑی شرکت کریں گے جن کے ٹرائلز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ بعض کے مکمل ہونے والے ہیں۔بریفنگ کے مطابق یہ کھیلیں مختلف مقامات پر منعقد ہوں گی جن میں خواتین کے مقابلے زیادہ تر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے گراؤنڈ اور چارسدہ میں منعقد ہوں گے۔اس طرح کھلاڑیوں کیلئے سفری سہولت اور قیام کا بھی بندوبست کیا جائے گا۔ان کھیلوں میں ونر کیلئے ایک لاکھ اور رنر اپ کیلئے 50 ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا۔کھیلوں کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس میں 20 فروری کو منعقد ہوگی جس میں موسیقی،روایتی ڈانس و دیگر تقریبات کے علاؤہ مختلف دستوں کا مارچ پاسٹ ہوگا۔اجلاس میں وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ بانی چیرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی قیادت میں نوجوانوں کو صحت مند کھیلوں کی سرگرمیاں فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نسل کیلئے مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع مہیا کررہے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے سب سے بڑے ایونٹ کا انعقاد صوبے کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے۔
وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے بہبودی آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ
وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے بہبودی آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک اور دنیا کیلئے خطرہ ہے، آبادی کو کنٹرول کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔فیملی پلاننگ پر عمل درآمد کے لئے وفاق اور بین الاقوامی ادارے تعاون کریں۔صوبائی حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کی تدارک اور روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ فیملی پلاننگ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے کیا۔اس موقع پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن سنیٹر روبینہ خالد، پنجاب سوشل پروٹکشن اتھارٹی کی سربراہ جہان اراہ وٹھو، فیملی پلاننگ حکومت پنجاب کے نمائندے، ورلڈ بینک، برطانوی ہائی کمیشن اور پاپولیشن کونسل کے حکام نے شرکت کی۔، پاپولیشن کونسل کے جانب سے منعقدہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکا نے خاندانی منصوبہ بندی،ماں اور بچے کی صحت،بچوں کے غذا کی نشونما،آگاہی کا فقدان،تعلیم کی کمی غربت اور دیگر محرکات کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ملک لیاقت خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکا سے کہا کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لے ہم سب کو ملک کر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ فیملی پلاننگ کی مد میں وفاق اپنا تعاون کی وعدے پورا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی دیگر محکموں کی طرح محکمہ بہبودی آبادی کو خصوصی توجہ نہیں دی گئی اور اسے مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ایک بین الاقوامی مسلہ ہے اور اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بین الاقوامی معیار کے آئی ٹی منصوبوں کا جلد آغاز کیا جارہا
خیبر پختونخوا میں بین الاقوامی معیار کے آئی ٹی منصوبوں کا جلد آغاز کیا جارہا ہے،ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز ڈاکٹر شفقت ایاز نے سعودی عرب میں منعقدہ لیپ ٹیکنالوجی سمٹ میں شِرکت کے موقع پر کیا- معاونِ خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بین الاقوامی اے آئی اور گیمنگ کمپنیوں کے ساتھ متعدد مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے، تاکہ تعاون اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔ سمٹ کے دوران ڈاکٹر شفقت ایاز نے مختلف پویلینز کا دورہ کیا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی ترقی اور جدید ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا۔انہوں نے غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور فرمز کو خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی اور ساتھ یہ یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرے گی، اس سے صوبے میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔ سمٹ میں ان کی شرکت نے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کے ویژن کے تحت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کو اجاگر کیا۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے وزیر تعلیم کو جاری ترقیاتی سکیموں پر بریفنگ۔
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کو ترقیاتی سکیموں پر پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال تعلیمی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ آئندہ سال کے ترقیاتی بجٹ میں 17 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری ڈیویلپمنٹ قیصر عالم، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین کے علاؤہ پلاننگ ونگ اور ڈائریکٹریٹ کے افسران بھی موجود تھے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ جو ترقیاتی سکیمیں مکمل ہونے کے قریب ہیں ان کو اضافی فنڈز دے کر فوری آپریشنل کیا جائے۔ ان کی جانب سے محکمہ تعلیم کو آؤٹ آف سکول چلڈرن کے حوالے سے ڈیٹا کلیکشن کی ہدایات بھی جاری کی گئی جس کی بنیاد پر پائلٹ بیسز پر کچھ اضلاع کو زیرو آؤٹ آف سکول چلڈرن بنانے پر کام شروع کیا جائے گا۔ میٹنگ کے دوران طلبہ کے لیے پائلٹ بیسس پر سکول بیگ خریدنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر تعلیم کو پلاننگ ونگ کی جانب سے بتایا گیا کہ اس وقت تک ریلیز شدہ بجٹ میں سے 99 فیصد استعمال ہو چکا ہے۔ صوبہ بھر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے جس کو مزید تیز کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نان فنکشنل سکولوں کو فنکشنل کرنے کے ماڈل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ جتنے تعلیمی منصوبے مکمل ہورہیہیں ان کی فوری طور پر افتتاح کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ جاری تعمیراتی کاموں میں اعلیٰ کوالٹی مٹیریل کے استعمال اور کام کی مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔
