Home Blog Page 303

مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کا نشتر ہال پشاور میں زیرتکمیل تزئین و آرائش کے کام میں سست روی اور ناقض میٹیریل کے استعمال پر اظہار برہمی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت، ثقافت، آثارقدیمہ و عجائب گھر زاہد چن زیب نے نشتر ہال پشاور میں زیرتکمیل تزئین و آرائش کے منصوبے میں ناقص میٹیریل کے استعمال اور کام کی سست رفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عظیم الشان ہال پشاور کے قلب میں واقع ایک بڑا ثقافتی مرکز ہے۔ اس کی دیکھ بھال اور تزئین میں کسی قسم کی کمی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس سکیم کی اگلے ماہ تک عالمی معیار کے مطابق فوری تکمیل یقینی بنائی جائے تاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو شیڈول کے مطابق اس کے باضابطہ افتتاح کیلئے مدعو کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر ہال کی تزئین کے منصوبے پر بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے فنانس مینجر حشمت علی نے انہیں اس ترقیاتی سکیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ نشتر ہال میں ترقیاتی سکیم کے آخری مرحلے پر پہلی بار ایک ثقافتی تقریب کے انعقاد کے موقع پر مشیر سیاحت کو بھی مدعو کیا گیا تھا جس کے دوران انہوں نے سکیم میں متعدد خامیوں کا نوٹس لیا۔ ان میں سرفہرست ہال کی چھت کا حالیہ بارشوں میں ٹپکنا تھا جس کی وجہ سے ہال کے فرش اور سٹیج پر چھ کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی ٹائلنگ، قیمتی قالین بچھانے اور کرسیوں کی تنصیب کے کام کو بھی نقصان پہنچا۔ مشیر سیاحت و ثقافت کا پراجیکٹ حکام کو کہنا تھا کہ نشتر ہال سمیت کسی بھی عمارت کی تزئین کا آغاز فرش سے نہیں بلکہ چھت سے ہونا چاہئے۔ مشیر سیاحت نے پراجیکٹ اہلکاروں کے اس استدلال سے بھی عدم اتفاق کیا کہ عمارت کی چھت پہلے معمولی ٹپکتی تھی اسلئے فرش پر کام شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قصے کہانیاں سنا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا وقت اب گذر چکا ہے اور پوچھنے والے اب عوام کے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ آ چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سکیم عالمی بینک سے سود پر حاصل کردہ بھاری بھرکم قرضے سے شروع کی گئی ہے۔ غیرملکی قرضوں کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور یہ حد پھلانگنے سے قرضے آنا بھی بند ہو جاتے ہیں۔ قرضے تب ملتے ہیں جب غیرملکی قرض دینے والے اداروں پر منصوبے کی افادیت بھی اجاگر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی فعال قیادت میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت قرضوں پر انحصار کم سے کم سطح پر لانے اور صوبے کو معاشی خودکفالت کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔ زاہد چن زیب نے پراجیکٹ حکام کو اس عظیم الحیث ثقافتی مرکز میں بیوٹیفکیشن، پارکنگ، واش رومز، باؤنڈری وال اور استقبالیہ دروازے کی تنصیب سمیت تمام ضروری کام ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ مکمل ہوتے ہی اس میں ایک بار پھر ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا جائیگا۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد ممکن بنایا جائے تاکہ صوبے کی رنگارنگ ثقافت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام کو تفریح کے اضافی مواقع بھی مہیا کئے جائیں۔

خیبر پختون خوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائر سجاد بارکوال کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے مالی سال 25-2024 کا اے ڈی پی، اے آئی پی اور پی ایس ڈی پی کی سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختون خوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائر سجاد بارکوال کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے مالی سال 25-2024 کا اے ڈی پی، اے آئی پی اور پی ایس ڈی پی کی سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں 25-2024 کے مذکورہ سکیموں کے اے ڈی پی ڈرافٹ زیر غور لایا گیا، صوبائی وزیر کو اجلاس میں نئے اور جاری سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں سیکرٹری زراعت جاوید مروت اور محکمہ زراعت کے تمام ڈی جیز نے شرکت کی، صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ 25-2024 منصوبے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین گنڈاپور کے ساتھ اجلاس کریں گے اور اجلاس میں وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد محکمہ زراعت کی سکیموں پر کام شروع کریں گے، صوبائی وزیر نے جاری منصوبوں پر کام تیز کرنے اور زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرنے کے احکامات جاری کیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جائے تاکہ صوبے کے فصلی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے جبکہ زرعی زمین کی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن یقینی بنایا جائے، انہوں نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں ریسرچ سنٹرز کو قائم کرے جبکہ جنوبی اضلاع میں ریسرچ سنٹرز کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زعفران کی پیداوار بڑھانے کے لیے موزوں اراضی کا انتخاب کر کے زعفران کی کاشت پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے جبکہ زیتون میں اضافے کے لیے عملی اقدامات اٹھائی جائیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھائیں گے جبکہ نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لیے اصلاحات متعارف کرنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں،

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھائیں گے جبکہ نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لیے اصلاحات متعارف کرنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں، وہ پیر کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ اعلی تعلیم کی ریفارمز کمیٹی کی جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، اجلاس میں سپیشل سیکرٹری سمیت محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو کمیٹی کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ جن کالجوں میں بی ایس پروگرام میں داخلے نہیں ہورہے یا بہت کم داخلے ہو رہے ہیں اور ان مضامین کی موجودہ دور میں افادیت نہیں ہے ان کا ڈیٹا جلدازجلداکٹھا کریں تاکہ ان کالجوں میں ڈیٹا کے تحت مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ڈسپلن کو شروع کیا جاسکے جبکہ مارکیٹ اورینٹیڈ مضامین کو تعلیمی اداروں میں متعارف کرانا موجودہ وقت کا تقاضا ہے، قبل ازیں یونیورسٹی آف ایبٹ اباد کے وائس چانسلر نے صوبائی وزیر کو یونیورسٹی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی میں تیسرے اور چوتھے سمسٹر میں کمپیوٹرسائنس لازمی ہے اور فری لانسنگ کے زریعے طلبہ آمدنی بھی کمارہے ہیں، صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ اس بارے میں سپیشل سیکرٹری کے ساتھ تفصیلی ملاقات کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم نے امسال بہت متوازن اے ڈی پی بنایا ہے۔ جس میں جاری اور نئے منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم نے امسال بہت متوازن اے ڈی پی بنایا ہے۔ جس میں جاری اور نئے منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے جاری 107 منصوبوں میں سے 90 منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جس میں بندوبستی اضلاع کے 58، ضم اضلاع کے 19 اور اے آئی پی کے 30 منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں سکولوں کی تعمیر، درجہ بلندی، ماڈل سکولز کے قیام، آئی ٹی لیبز و سائنس لیبز کی تعمیر اساتزہ کی بذریعہ پی ٹی سی بھرتی اور دیگر کئی اہم منصوبے شامل ہیں جن کی تکمیل سے محکمہ تعلیم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس طرح نئے منصوبوں میں رینٹڈ بلڈنگز میں سکولوں کے قیام، مکتب سکولوں کو ریگولر سکولوں میں تبدیل کرنا، سکولوں کی تعمیر و بحالی،اے ایل پی سنٹرز کے قیام، ڈبل شفٹ سکولز اپگریڈڈ ماڈل اور دیگر کئی اہم منصوبے شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں 50 مسجد سکولوں کو ریگولرائز کرنا، 200 پرائمری سکولوں کی تعمیر، 100 سکولوں کی دوبارہ تعمیر اور مامدگٹ کیڈٹ کالج کی تعمیر بھی شامل ہیں ضم اضلاع میں 150 سکولوں کی دوبارہ تعمیر جبکہ 150 مڈل سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگ میں قائم کرنا بھی شامل ہیں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ اے ڈی پی کے تحت قبائلی اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن دفاتر کا قیام بھی شامل ہے جس میں بالخصوص خواتین آفیسرز کی رہائش کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے محکمہ تعلیم حکام کو ہدایت کی کہ مڈل ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں ٹیکنالوجی کورس شروع کرنے بارے بھی تفصیلی بریفنگ تیار کریں۔ وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت کی کہ صوبہ بھر کے آئی ٹی لیبز اور آئی ٹی ٹیچرز کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق آئی ٹی لیبز کی سولرائزیشن کی جا سکے اور ایکوپمنٹس کو بھی اپگریڈ کیا جائے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی ٹیچر سے ان کی استعداد کے مطابق کام لیا جائے،وزیر تعلیم نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹائم لائن مقرر کریں تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو ں اور شرع خواندگی میں اضافہ ہو سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ سالانہ ترقیاتی منصوبے عوامی رائے سے بنائے گئے ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ سالانہ ترقیاتی منصوبے عوامی رائے سے بنائے گئے ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بیوٹیفکیشن سکیم کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے جبکہ ادھوری بیوٹیفیکیشن سکیموں کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے سالانہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے بارے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ داؤد خان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن اسکیمیں اس سالانہ بجٹ میں شامل کی جائیں گی، تاکہ سرکاری نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔اس بجٹ میں حکومت کی جانب سے عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ارشد ایوب نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے ساتھ شامل منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ ہری پور کے عوام کو بہترین سہولیات مہیا کرنے کے لیے سالانہ بجٹ میں منصوبے متعارف کروا رہے ہیں، جن میں وومن ڈیویلپمنٹ سینٹر،پارکس، فٹ پاتوں اور روڈوں کی تعمیر سمیت مختلف منصوبے شامل ہے۔پورے صوبے میں اسی طرح مختلف سکیمز اس سالانہ بجٹ میں متعارف کروا رہے ہیں جس سے عوام کثیر تعداد میں مستفید ہوں گے۔

جنوبی اور ضم اضلاع میں سیاحت کی ترقی کیلئے منصوبہ بندی اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب سے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی نے سی ایم ہاؤس پشاور میں ملاقات کی اور ان سے جنوبی اور ضم اضلاع میں سیاحت و ثقافت اور آثارقدیمہ کے فروغ کیلئے منصوبہ بندی اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس ضمن میں اپنی جانب سے بھی بعض تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ ان میں ڈیرہ اسماعیل خان سے رکن قومی اسمبلی و سابق صوبائی وزیر بلدیات فیصل امین گنڈاپور اور ٹانک سے نومنتخب ایم پی اے عثمان خان بیٹنی شامل تھے۔ زاہد چن زیب نے ان ارکان اسمبلی کی سفارشات کو سیاحتی پلان کا حصہ بنانے کا یقین دلاتے ہوئے انکشاف کیا کہ جون میں پیش کئے جانیوالے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ میں پورے خیبرپختونخوا میں سیاحت کی ترقی کیلئے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں جنوبی اور ضم اضلاع بھی سرفہرست ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صوبہ کے باقی حصوں کی طرح یہ علاقے بھی سیاحت و ثقافت کے خزانوں اور صحت بخش و پرفضا مقامات سے مالامال ہیں جہاں مناسب سرمایہ کاری سے نہ صرف انہیں بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کیلئے پرکشش بنایا جا سکتا ہے بلکہ سیاحت کی صنعت کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دی جا سکتی ہے۔ مشیر سیاحت کا کہنا تھا کہ سیاحت کی ترقی پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کا ویژن بھی ہے جبکہ صنعت سیاحت میں سرمایہ کاری سے صوبہ کی آمدن اور روزگار کے مواقع میں کئی گنا اضافہ کا امکان ہے جبکہ یہاں سیاحتی سرگرمیوں کی ترویج سے پختونخوا کی روایتی مہمان نوازی اور رنگارنگ تہذیب و تمدن کو دیکھتے ہوئے اس خطے کا سافٹ امیج بھی دنیا بھر میں آشکارا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ملاکنڈ اور ہزارہ سمیت صوبے کے دیگر بالائی علاقوں کی طرح کوہاٹ سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ خیبر سے لیکر اورکزئی اور باجوڑ تک ہمارے تمام جنوبی اور ضم اضلاع کو صحت افزاء ماحولیاتی اور مذہبی سیاحت کے خزینوں سے بڑی فیاضی کے ساتھ نوازا ہے جہاں انفراسٹرکچر کی ترقی اور امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے سے انہیں غیرملکی سیاحوں کیلئے پرکشش بنانے کی تجاویز زیرغور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعمیر و ترقی کے اس پہلو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی مگر وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی مدبرانہ قیادت میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران دیگر تمام شعبوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بطور صنعت بھرپور فروغ دیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا پشاور کے مراکز صحت کا دورہ۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے پشاور میں واقع مراکز صحت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور لوکل قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی۔ انہوں نے زیر تعمیر کوہاٹی ہسپتال، پشاور جنرل ہسپتال اور ہشتنگری میں واقع میٹرنٹی سنٹر کا دورہ کیا۔پشاور جنرل ہسپتال پہنچنے پر انتظامیہ نے وزیر صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں دس روپے کی پرچی پر تمام تر سپیشلیٹیز کا علاج اور تشخیص مہیا کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ تکنیکی مشینری سے لیس لیبارٹری میں روزنہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین ہزار ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جبکہ بریسٹ کینسر کی سکریننگ بھی ہسپتال میں دستیاب ہے۔ وزیر صحت نے ہسپتال میں دی جانیوالی صحت سہولیات اور صفائی پر عملے اور انتظامیہ کو شاباش دی۔وزیر صحت نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے ہمراہ مراکز صحت میں دی جانیوالی تمام سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا اہلکاروں سے گُفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوہاٹی ہسپتال کو عوام کے لیے بہت جلد کھول دیا جائے گا،ہمارا مقصد عوام کو بہتر صحت سہولیات مہیا کرنا ہے، تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسزز ودیگر عملہ کی کمی کو پورا کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ 24 گھنٹے عوام کے لیے حاضر رہینگے،ہم عوام کے خادم ہیں اور عوام کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ نگران حکومت نے محکمہ صحت کا برا حال کر دیا ہے، تمام نظام ٹھیک کریں گے، عمران خان کی حکومت نے پچھلے دور میں جو ڈیلیور کیا، محکمہ صحت اب بھی بہتر ڈیلیور کرے گا،بہت سے چیلنجز ہیں لیکن انشاء اللہ ہم تمام چیلنجز کو بہتر طریقے سے عبور کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے عدلیہ کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے عدلیہ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے، مختلف عدالتوں کے ججز کی تعداد میں 100 مزید ججز کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ سالہا سال سے زیر التواءکیسز جلد نمٹائے جاسکیں اور عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی میں وکلاءبرادری کا کردار کلیدی ہے، موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے عمل میں وکلاءسمیت تمام اسٹیک ہولڈرز صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈی آئی بینچ کی تقریب حلف برداری سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈی آئی خان کی اعزازی ممبرشپ بھی دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ امید ہے نو منتخب کابینہ وکلاءبرادری کی فلاح و بہبود اور قانون کی بالادستی کے لئے فعال کردار ادا کرے گی۔ رول آف لاءاور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں سر فہرست ہیں اور صوبائی حکومت اسی وژن کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے کیسز کی نوعیت کے مطابق ان کی ڈسپوزل کے لیے ٹائم لائنز مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم سے کم مدت میں کیسز نمٹائے جائیں، اس سلسلے میں وکلاءاور عدلیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمارا صوبہ غریب نہیں بلکہ وسائل سے مالامال ہے اور موجودہ صوبائی حکومت صوبے کی ترقی کے لئےان وسائل کے موثر اور بہتر استعمال پر کام کر رہی ہے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ سستی بجلی اور گیس پیدا کرکے مہنگی خریدنے پر مجبور ہے، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ بجلی پیدا کررہا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بد ترین لوڈشیڈنگ ہے۔لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے واپڈا کو صوبے کے لوگوں کو ریلیف دینا ہوگا۔ بجلی کی مد میں ہمارے واجبات بھی نہیں مل رہے، ہم وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور صوبے کی وکلاءبرادری اس جدوجہد میں صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دے۔ صوبے کے حقوق کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،تمام شعبوں میں اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے عوام بہت جلد تبدیلی محسوس کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی وکلاءبرادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے وکلاءکی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے انصاف لائرز فورم کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سخت وقت میں پارٹی کا بھر پور ساتھ دینے پر وہ انصاف لائرز فورم کے شکر گزار ہیں۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے سربراہ سے خیبر پختونخوا میں لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے امور پر تبادلہ خیال۔

سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا ڈاکٹرعنبر علی خان سے جمعرات کے روز خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے سربراہ فرخ تویروف نے ملاقات کی اور صوبے میں ایف اے او کے جاری اور نئے منصوبوں، خاص طور پر لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈائر یکٹر جنرل لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ خیبر پختونخواڈاکٹر اصل خان بھی موجود تھے۔ مسٹر فرخ نے ڈاکٹرعنبر علی کو ایف اے او کی سکیموں پربریفنگ دیتے ہوئے زرعی کاروبار کی ترقی، زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اس شعبے کو مرکزی دھارے کی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے سہولت فراہم کرنے اور ان کی تربیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی آرگنائزیشن صوبے کے اندر ڈیری سیکٹر کو بہتر اور جدید خطوط پر تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ یہ شعبہ بہتر نتائج اور زیادہ آمدنی کا حامل ہو۔اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک نے خیبر پختونخوا میں کسانوں کی خوشحالی اورغذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایف اے او کی مسلسل کوششوں کو سرہا۔مسٹر فرخ نے لائیو سٹاک فارمرز فیلڈ سکولز (LFFS) کے قیام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے او چھوٹے پیمانے پر ڈیری فارمرز کے لیے یہ سکولز ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا جو کسانوں کے مسائل کے بارے میں سمجھ اور مہارت میں اضافہ کے ساتھ اجتماعی طور پر انہیں حل کرنے میں مدد ملے گی اور اس شعبے کے اندر بہتری کے لئے متعدد کارروائیاں شروع ہوں گی۔ اس موقع پرمارکیٹ کنیکٹیویٹی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، د شہری منڈیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دے کر مارکیٹنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ج اور کہا کہ یہ چھوٹے پیمانے پر ڈیری کاروبار کی کامیابی کے لیے اہم اقدام ہے اور ایل ایف ایف ایس بنیادی طور پر حکومت کے تعاون سے چھوٹے پیمانے کے ڈیری فارمرز پر مشتمل ہو گا، جس سے آس پاس کے علاقوں میں دیگر ترقی پسند ڈیری فارمرز کو مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی خوراک، چارے اور ٹیکنالوجیز تک بہتر رسائی سے خیبر پختونخوا کے ڈیری سیکٹر کی بہتری کی جانب تبدیلی مزید متحرک ہوگی جس کے نتیجے میں صوبے میں دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ مسٹر فرخ نے فش فارمنگ ایف اے اوکے تحت ٹی سی پی نئے منصوبے کا مقصد صوبے میں مچھلی کی کاشت کے طریقوں کو تقویت دینے کے ساتھ مجموعی معاشی ترقی فروغ دینا ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین کے مسائل کا حل اور ترقی کیلئے اقدامات کی منظوری۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی نسواں مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ بہت جلد کے پی کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی تعیناتی کررہے ہیں جس سے کیمشن مزید فعال ہوگا۔ خواتین کو مختلف قسم کی مشکلات و مسائل کا سامنا ہے جس میں صنفی امتیاز، گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادی سر فہرست ہیں۔ خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے ہیلپ لائن بنارہے ہیں جو ہفتے کے سات دن اور 24 گھنٹے فعال ہوگی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار 22 ویں بین الصوبائی وزارتی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بین الصوبائی وزارتی گروپ کے اجلاس میں چیئرپرسن نیشنل کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت رخشندہ ناز، یو این ویمن، چاروں صوبوں کے نمائندگان سمیت محکمہ سوشل ویلفیئر کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خواتین کو درپیش مسائل اور انکے حل پر بحث ہوئی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کا کہنا تھا کہ صوبے میں مشیر ہونا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے وکیل ہوں صوبے کی خواتین کے حقوق و ترقی کیلئے سب کچھ کروں گی۔ہم صنفی مساوات پر یقین رکھتے ہیں مگر یہاں خواتین کو وہ مواقعے نہیں فراہم کئے جاتے جو انکو ملنے چاہیے۔میں ایک سیاسی ورکر اور وزیراعلیٰ کی نمائندہ کی حیثیت سے آئی ہوں۔ اپنی بہنوں اوربیٹیوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کر وں گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے خواتین و بچوں کے حوالے سے صوبائی شراکت داروں کا اجلاس منعقد کیا گیا جسمیں مختلف قوانین کی اسمبلی سے منظوری کے لیے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا۔ بہت جلد صوبائی اسمبلی سے چائلڈ میرج، گھریلو تشدد، احساس کے حوالے سے قانون سازی کریں گے۔ گھریلو تشدد کے روک تھام کیلئے ہیلپ لائن فار ویمن بنارہے ہیں۔ یو این ویمن خواتین کیلئے بہت کچھ کررہا ہے اور اسکی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ا سکے تعاون سے خواتین کیلئے مزید اقدامات کریں گے۔ یو این ویمن کی فاٹا میں خواتین کیلئے صحت و تعلیم کے شعبے میں اقدامات کے لئے تعاون درکار ہوگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن نیشنل کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس میں شرکت پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں خواتین کی وفاقی و صوبائی کابینہ میں نمائندگی، فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت، خواتین کے لیے صوبوں میں الگ الگ وزارت کے قیام,سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا میں کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے چیئرپرسن کی تعیناتی، صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمنٹری ویمن کاکس کا قیام، چائلڈ میرج بل کے فوری اطلاق کا مطالبہ کیا گیا۔مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے کے پی کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی جلد تعیناتی کی یقین دھانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اکھٹے کام کریں گے تو کامیاب ہونگے اگر خواتین کو مواقع دئیے جائیں تو وہ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ اجلاس میں مشیر وزیر اعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کو چائلڈ میرج بل کا مجوزہ مسودہ پیش کیا گیا۔