Home Blog Page 304

خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ ہے، پیر مصور خان

ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لئے صوبائی حکومت ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے، معاون خصوصی برائے ماحولیات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ماحولیات، جنگلات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے، خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ ہے، پالیسی پر عملدرآمد کے لئے کلائمیٹ چینج کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کے دورے کے موقع پر منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات سمیع اللہ سمیت تمام ریجنل اور ڈویژنل افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ماحولیات نے معاون خصوصی کو ادارے میں جاری اصلاحات اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، معاون خصوصی برائے ماحولیات پیر مصور خان کو بتایا گیا کہ صوبے میں ماحولیاتی تحفظ کے لئے بنائے گئے قوانین کا نفاذ ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے،ادارے کے صوبے میں چار ریجنل دفاتر قائم ہیں، ادارہ صنعتی یونٹس اور ہسپتالوں میں فضلہ جات کو جلانے کے حوالے سے باقاعدگی سے مانیٹرنگ کرتا ہے، پیر مصور خان کو بتایا گیا کہ صوبے میں قائم بھٹہ خشت یونٹس بھی فضائی آلودگی کا بڑا سبب ہیں یہی وجہ ہے کہ بھٹہ خشتوں کو زیگ زاگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کا عمل بھی جاری ہے جبکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے، معاون خصوصی کو مزید بتایا گیا کہ اب تک 9 سیمنٹ انڈسٹریز اور 50 سٹیل انڈسٹریز میں پالوشن کنٹرول سسٹم اپنایا جا چکا ہے جبکہ 3600 صنعتی یونٹس کی جی آئی ایس مییپنگ بھی ہوچکی ہے،بریفنگ میں معاون خصوصی کو مزید بتایا گیا کہ ہید کواٹر دفتر پشاور میں انفارمیشن ڈیسک سمیت عوام کی شکایات کے ازالے کے لئے خصوصی سیل بھی بنایا گیا ہے، صنعتی یونٹس میں ای پی اے کی جانب سے بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی اور اس حوالے سے موثر کارروائی کے لئے سنٹرئیلایزڈ مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اسی طرح ماحولیاتی تحفظ ٹربیونل بھی فعال کر دئیے گئے ہیں جنہوں نے اب تک ادارے کی جانب سے بھجوائے گئے 3800 کیسز کو نمٹایا ہے،پیر مصور خان کو بتایا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے سکول اور کالجز کی سطح پر گرین کلبز بھی قائم کیے گئے ہیں، ہیڈ آفس پشاور میں منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا قیام آخری مراحل میں ہے،جبکہ ایبٹ آباد،مینگورہ اور ڈی آئی خان میں ریجنل لیبارٹریز بھی جلد قائم کئے جائینگی،معاون خصوصی کو کرش پلانٹس سمیت دیگر صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا،معاون خصوصی برائے ماحولیات پیر مصور خان نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت حال ہی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے پشاور سمیت دیگر شہروں میں ائر کوالٹی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے ہیں، انھوں نے صنعتی یونٹس کو این او سی کے اجراء کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور متعلقہ حکام کو این او سی کے اجراء میں تاخیر کی وجوہات، اس سلسلے میں پورا ریکارڈ پیش کرنے اور این او سی کے اجراء میں لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں، انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز اور ڈونرز سے روابط قائم کئے جائیں،انھوں نے دفتر میں قائم انفارمیشن ڈیسک پر کیمرہ لگانے اور انھیں انکے دفتر سے منسلک کرنے،فضائی آلودگی کاسبب بننے والے یونٹس کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے اور ادارے کے زیر انتظام لیبارٹریز کو فعال کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں، پیر مصور خان نے کہا کہ ادرے کے ساتھ موجود فنڈز کو استعمال کرنے کے لئے جلد طریقہ کار بنایا جائے تاکہ فنڈز کی وجہ سے درپیش مسائل کو جلد حل کیا

جعلی حکومت نے 26ویں ترمیم کی طرح پیکا ایکٹ بھی ریکارڈ تیزی سے پاس کیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے 26ویں آئینی ترمیم کی طرح پیکا ایکٹ بھی ریکارڈ تیزی سے پاس کیا ہے۔اتنی تیزی سے ایکٹ پاس کرانے کا مقصد ظاہر کرتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے پشتو کی کہاوت ہے کہ ”نئے کارنامے نہ کرتے تو پرانے کون یاد کرتا؟”جعلی حکومت کی اس برق رفتار قانون سازی کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا چاہیے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ26ویں ترمیم اور پیکا ایکٹ میں کی گئی ترمیم ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دینے کے مترادف ہے کالے قوانین جعلی حکومت کے خاتمے کو نہیں روک سکتے۔ جعلی سلطنت کو بچانے کی کوشش میں اداروں کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کالے قانون کے خلاف جدوجہد میں ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت نے 26ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی سلب کی اور اب پیکا ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی سلب کی۔ اس کالے قانون کا مطلب میڈیا سے جعلی حکومت کے کارنامے چھپانا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ کرسی کی خاطر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کررہاہے۔ جعلی حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے صرف اپنی کرسی بچانے کی پڑی ہوئی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت کو ایک دن اپنے تمام غیر قانونی کاموں کا حساب دینا ہوگا۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ جعلی حکومت اقتدار کی مزے لینے کے لئے اداروں سے ٹکرا رہی ہے۔

پشاور شہر میں ٹریفک مسائل پر قابو پانے کے لئے انٹیلجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) لانچ کر رہے، حاجی رنگیز احمد

محکمہ ٹرانسپورٹ میں اصلاحاتی ترامیم سے اپنی فورس لا رہے ہیں, معاون خصوصی ٹرانسپورٹ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد نے کہا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے تمام امور کو ڈیجیٹائز کرنے جارہے ہیں جس سے محکمہ میں بدعنوانی کے عنصر کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ پہلی فرصت ڈرائیونگ لائسنس کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جائے گا اس حوالے سے کے پی ائی ٹی بورڈ کے ساتھ پہلے سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس کو چار مہینوں میں ڈیجیٹائز کیا جائے گا، جس سے صارفین گھر بیٹھے ڈرائیونگ لائسنس کے لئے اپلائی کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 07 ضم اضلاع میں بڑے بڑے ٹرک ٹرمینل بنانے جارہے ہیں جبکہ بکاخیل بنوں اور غلام خان شمالی وزیرستان میں ٹرک ٹرمینل پر تقریباً کام مکمل ہوچکا ہے بکا خیل ٹرمینل کا افتتاح اگلے مہینے یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ غلام خان ٹرک ٹرمینل طورخم ٹرمینل کے مقابلے میں 350 کلومیٹر کم فاصلے پر پڑھتا ہے جس سے ٹرانسپورٹرز کو کافی فائدہ ہوگا۔ پشاور شہر میں ٹریفک مسائل پر مکمل قابو پانے کے لیے انٹیلجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم لانچ کر رہے جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی اپنی فورس بھی لا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز محکمہ ٹرانسپورٹ کی کارکردگی اور مستقبل لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی، سی او ٹرانس پشاور، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ، سیکرٹری پی ٹی اے و دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس اپنے مقررہ وقت یعنی رولز میں جتنا وقت متعین ہے اس میں کوئی معافی نہیں کی جائے گی ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا اپنے مقررہ وقت میں ہی ہوگا،مختلف وجوہات کی بنا پر ایک سال سے پروکیورمنٹ زیر التوار رہا جس سے کارڈ پرنٹنگ کی پینڈنسی بہت زیادہ ہوئی تھی عوام کو ڈرائیونگ لائسنس کی حصول میں مشکلات تھیں جعلی پرنٹنگ کارڈ بند رہے تھے جس سے رشوت خوری کا بازار گرم تھا جیسے ہی میں نے چارج لیا پروکیورمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ لیول پر مکمل کیا، انہوں نے کہا کہ فوری طور پر مختلف اضلاع میں 31 ہزار کارڈز کی پرنٹنگ کی ،رنگیز خان نے کہا ہ ڈرائیونگ لائسنس ڈیجیٹائزیشن کے لیے کے پی آئی ٹی بورڈ کے ساتھ معاہدہ طے پا یا ہے جس سے 11 سروسز ان لائن ہو جائیں گے جس میں نادراکے ساتھ انٹیگریشن،آن لائن پیمنٹ، جعلی میڈیکل کا خاتمہ، گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے اپلائی، انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس جی ایف ایز وغیرہ بھی شامل ہے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ آکشن روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ اسا سجاد کی چھ سال بعدآکشن ہوئی جو کہ بہت ہی صاف اور شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کی گئی اس آکشن میں لاہور اڈا پشاور کے مختلف اثاثہ جات اور 10 کنال اراضی کی نیلامی کی گئی جس کی ٹوٹل رقم تقریبا 44 کروڑ بنتی ہے اور اس رقم کو پہلی بار بینک آف خیبر کے ساتھ انویسٹ کیا گیا۔ڈرائیونگ لائسنس کی گھر بیٹھے حصولی اور فراہمی کے لیے بہت جلد پوسٹ ماسٹر جنرل پاکستان پوسٹل خیبر پختونخواکے ساتھ معاہد ہ کر ر رہے ہیں جس صارفین کو گھر بیٹھے کارڈز ملیں گے، انہوں نے کہا کہ بکاخیل بنو اور غلام خان شمالی وزیرستان میں دو ٹرک ٹرمینل بنانے کے لیے تمام لوازمات مکمل ہیں غلام خان ٹرک ٹرمینل سے یہ فائدہ ہوگا کہ کابل براستہ غلام خان ٹرمینل کا راستہ طورخم کے مقابلے میں 350 کلومیٹر نزدیک ہوگا،سات ضم اضلاع کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں سٹیٹ آف دی آرٹ ٹرک ٹرمینل بنانے جا رہے ہیں جس کی فیزیبلٹی سٹڈی تقریبا مکمل ہے جس کو سی پیک روٹ سے منسلک کیا جائے گا یہ ٹرک ٹرمنل سب سے بڑے ٹرک ٹرمینل کہلائیں گے۔معاون خصوصی رنگیز خان کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی ترامیم میں سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا ء کر رہے ہیں اورسیز پاکستانیوں کی آن لائن سہولیات کی فراہمی جس سے وہ آن لائن اپنے لائسنس کی رینیول کر سکیں گے، محکمہ ٹرانسپورٹ کی تاریخ میں پہلی بار ٹرانسپورٹ انفورسمنٹ یونٹ ایکٹ لا رہے ہیں جس سے محکمہ ٹرانسپورٹ کی اپنی فورس ہوگی۔ان اصلاحاتی ترامیم میں ٹرانسپورٹ آفیسرز کو مجسٹر یٹ پاور بھی دیا جائے گا،پشاور میں ٹریفک مسائل کی روک تھام کے لیے پہلی دفعہ آئی ٹی ایس یعنی انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم لا رہے ہیں جو کہ اے ڈی پی 2025-26 میں پہلے سے پروپوز ہے، انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت9 اضلاع میں پرنٹنگ مشین وغیرہ کی سہولیات فراہم کرنے جا رہے ہیں۔فٹنس اور ایمیشن سرٹیفیکیٹ کو آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں جس سے پرائیویٹ سیکٹر کو روزگار کے مواقع میسر ہو سکیں گے۔صوبہ بھر میں دو قسم کے ڈرائیونگ سکول بنانے جا رہے ہیں۔سرکاری سطح پر ڈرائیونگ سکول پرائیویٹ ڈرائیونگ سکول جبکہ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے الگ ڈرائیونگ سکول ہوں گے، پرائیویٹ ڈرائیونگ سکول کے فروغ سے عوام کو بھی اپنا روزگار شروع کرنے کے مواقع ملیں گے۔مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رنگیز خان نے کہا ہے کہ چمکنی ڈپو کو جلد شمسی توانائی پر منتقل کیا جائیگا جبکہ چمکنی بزن سنٹر کو اگلے ماہ لیز پر دیا جائیگا۔اسی طرح ڈبگری اور مال آف حیات آبات کے کاروباری مراکز کو ایک سال کے اندر لیز پر دیا جائیگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابنوشی ملک پختون یار خان نے کہا ہے کہ موجودہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابنوشی ملک پختون یار خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر عوام کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے، سرکاری محکموں کے افسران عوام کو خدمات کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے سیکرٹری لوکل بلدیات کے دفتر میں بنوں کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزی بلدیات ارشد ایو ب خان، سیکرٹری بلدیات ڈاکٹر عنبر علی خان، ڈبلیو ایس ایس بی کے چیف ایگزیکٹیو عمران خان،ٹی ایم او بنوں یوسف خان، آر ایم او کے علاوہ، حاجی گل خان،بنوں منڈی کا صدر عمران خان، چیئرمین حکم زاد خان جنرل سیکرٹری حاجی فلک نیاز، جنرل سیکرٹری جاوید خان، حاجی فرخ سیار خان اور، پیر محمد رحمان شاہ حاجی شوکت خان، حاجی بشیر اللہ خان، پیر مراد خان، احمد اللہ خان، یوسف خان، رحمت آیاز خان اور ہارون خان بھی موجود تھے۔وفد نے صوبائی وزرا کو بنوں فروٹ اور سبزی منڈی میں درپیش مسائل اور مشکلات سے آگاہ کرتے بتایا کہ بنوں فروٹ اور سبزی منڈی تقریبا21سال پہلے بنی ہے اور آج تک اس میں تعمیر و مرمت کا کوئی کام نہیں ہوا جس سے منڈی میں گونا گوں مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے بنوں کی اس منڈی کا روزگارنارتھ اور ساؤتھ وزیر ستان تک پھیلا ہوا ہے جبکہ عبد نے سٹریٹ لائٹس کے حوالے سے بھی انھیں آگاہ کیا جس پر صوبائی وزرا کی ہدایت پر جلد ہی مسائل کے حل کے لئے اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں بلدیات سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران بھی شریک ہونگے، صوبائی وزراء نے کہا کہ محکموں کی کارکردگی پر ہماری نظر ہوگی اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی جبکہ خراب کارکردگی پر ملازمین کو سزا دی جائے گی، انہوں نے کہا واسا کا دائرہ کار سولہ یونین تک بڑھائیں گے جس سے صاف پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر حل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اچھے اقدامات کے لئے اکھٹے ہو کر کام کرنا ہے۔ککی اڈاہ میں سٹریٹ لائٹس جو عرصہ دراز سے خراب پڑے ہیں انکی درستگی کی جائیگی، ایف سی لائن کرم پل سے فقیر پلازہ تک کی وجوہات بھی معلوم کریں۔ ملک پختون یار خان نے کہا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر منڈی میں پولیس نفری کی تعداد میں اضافہ کر یں گے۔ انہوں نے ٹی ایم اوز اور آر ایم اوز کو سختی سے تاکید کی کہ اپنا قبلہ درست کریں اور عوامی خدمات پر توجہ دیں، ملک پختون یار خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ اس کے تعاون سے ماضی میں نظر انداز کئے ہوئے علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ غلام خان بارڈر پر بھی طورخم بارڈر کی طرح سہولیات فراہم کی جائیگی۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ضلع لوئر چترال پریس کلب کی نومنتخب کابینہ سے حلف لیا۔ اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد اور سازگار صحافتی ماحول کے فروغ، صحافیوں کی فلاح و بہبود، ترقی، اور صحافتی معیار کو بلند کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ چترال کی صحافتی برادری اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی مسائل کے حوالے سے آگاہی پیدا کرے گی اور ترقیاتی مقاصد کے حصول میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے چترال کے صحافیوں کے مثبت اور عملی کردار کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہمیشہ گڈ گورننس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ صحافتی معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور میڈیا کے پیشہ ور افراد کی استعدادِ کار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اس موقع پر چترال پریس کلب کے صدر نے صوبائی حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے مشیرِ اطلاعات کو ضلع چترال کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔تقریب میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا، ارشد خان، اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، سلیم خان بھی شریک تھے۔

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم سے ملاقات

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم سے پشاور میں ملاقات کی، جس میں محکمہ لائیو اسٹاک کے مختلف جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران مردان میں لائیو اسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں، ان کے اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لائیو اسٹاک سیکٹر کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مقامی کسانوں اور مویشی پال حضرات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ محکمہ خوراک اور لائیو اسٹاک کے شعبے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اور ان کی بہتری سے صوبے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ فضل حکیم نے بھی محکمے کے جاری منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ملاقات میں محکمہ لائیو سٹاک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جنہوں نے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

نواز شریف اور مریم نواز مذاکرات کی ناکامی کے مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز مذاکرات کی ناکامی کے مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں اورنواز گروپ مذاکرات کی ناکامی پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ نواز شریف نے عرفان صدیقی کو مذاکرات کی ناکامی کا ہدف دیا تھا اور عرفان صدیقی اور رانا ثناء اللہ کے بیانات سے حکومت کی غیر سنجیدگی بھی واضح تھی۔ جوڈیشل کمیشن نہ بنانے سے واضح ہو گیا کہ ”چور کی داڑھی میں تنکا” ہے۔ وفاقی حکومت کو خدشہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن سے جعلی حکومت کی حقیقت سامنے آ جائے گی اور حقیقت کھل جانے کے بعد جعلی حکومت کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سیاسی عدم استحکام میں ہی اپنی بقا نظر آ رہی ہے. بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک کی وسیع تر مفاد میں مذاکرات میں شرکت کی تھی تاہم وفاقی حکومت شروع دن سے غیر سنجیدہ تھی جسکا اندازہ عرفان صدیق اور رانا ثنائاللہ سمیت دیگر وزراء کے بیانات سے لگ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے سے گریز کریں۔ وفاقی حکومت سنجیدہ ہوتی تو مذاکرات کے دوران حامد رضا کے گھر پر چھاپے نہ مارتی اور نہ ہی پی ٹی آئی کارکنان کی غیر قانون پکڑ دھکڑ کرتی۔ جعلی حکومت نے خود مذاکرات کو سبوتاژ کی اور اب پی ٹی آئی پر مذاکرات کی ناکامی کا ناٹک کررہی ہے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے

وزیر اعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے بدھ کے روز حیات آباد پشاور میں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور کمپنی کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔کمپنی کے حکام نے معاون خصوصی کو تمام شعبوں کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔افیشیٹنگ چیف ایگزیکٹو آفیسر عادل صلاح الدین اور دیگر اہم انتظامی افسران اس موقع پر موجود تھے۔معاون خصوصی کو اس موقع پر صنعتکاری کے فروغ کی جانب حاصل کی گئی اہم کامیابیوں، درپیش چیلنجز اور صوبے میں صنعتی ترقی کو تیز کرنے کیلئے اپنانے والی حکمت عملی و اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے متعدد چیلنجز کے باوجود انفراسٹرکچر کی ترقی، سرمایہ کاری کی سہولت اور صنعتی ترقی میں اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا۔معاون خصوصی نے بریفنگ کے دوران کمپنی کی کوششوں کو سراہا اور حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے عزم کو دہرایا۔انھوں نے کہا کہ معاشی خوشحالی سے ہم کنار ہونے کیلئے صوبے میں صنعتی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات انتہائی ضروری ہیں جس کیلئے صوبائی حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے تاکہ صوبے کو اقتصادی لحاظ سے مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے ہدایت کی کہ کمپنی حکام تیاری کرکے جلد از جلد مشیر برائے خزانہ اور معاون خصوصی برائے توانائی و باقیات کیساتھ کمپنی کے مالی استحکام اور صنعتی زونز میں توانائی امور کے حل کیحوالے سے ملاقاتیں کریں۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے مصنوعی نسل کشی کے ذریعے مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کردیا

صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کی لائیو سٹاک ادویات کی سرکاری ڈسپنسریوں میں دستیابی کو یقینی بنانے اور جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت

دو سالہ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 495 ملین روپے ہیں۔جس سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ فضل حکیم خان یوسفزئی

صوبائی وزیر لائیو سٹاک فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے ڈائریکٹوریٹ آف لائیو سٹاک توسیع میں مصنوعی نسل کشی کے ذریعے مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے دو سالہ منصوبے کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں جس کا مقصد بہترین نسل کے گائے کی افزائش ہے۔ مصنوعی نسل کشی کے اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 495 ملین روپے ہے اور یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت اس مختلف نسلوں کے ملاپ سے بہترین نسل حاصل کرنا ہے۔ جبکہ اس مصنوعی نسل کشی سے 95 فیصد مادہ گائے کی افزائش ہوگی۔ صوبہ بھر میں 799 مصنوعی نسل کشی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔جس کے تعداد میں مستقبل میں مزید اضافے کریں گے تاکہ مویشی پال زمینداروں کو مصنوعی نسل کشی کی سہولت میسر ہو۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد وزیر، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر وحید مراد، محکمہ لائیو سٹاک کے افسران سمیت مویشی پال زمینداروں کی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد وزیر نے شرکاء کو منصوبے کی افادیت اور مویشی پال زمینداروں کو اس منصوبہ سے پہنچانے والے فوائد سے آگاہ کیا۔ تقریب سے اپنے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبے کے مویشی پال زمینداروں کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں جس سے انکے مویشیوں کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے انکے آمدن میں اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت کینیڈا سے sexed semen لائی گئی ہے۔ صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو نے ہدایت کی کٹاو کی بچاؤ پر حصوصی توجہ دی جائے جہاں پر کٹاو کے ذبح کی حوالے سے شکایت ملی انکے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔اس سلسلے میں لائیو سٹاک افسران روزانہ کی بنیاد پر ذبح خانوں کے دورے کریں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے لائیو سٹاک ادویات کی سرکاری ڈسپنسریوں میں دستیابی کو یقینی بنائے جبکہ جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کریں۔معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

گجوخان میڈیکل کالج میں جدید آن لائن امتحانی سینٹر قائم

وی سی کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے افتتاح کردیا

گجوخان میڈیکل کالج صوابی نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایم بی بی ایس پروفیشنل امتحانات کے لیے ایک جدید آن لائن امتحانی سینٹر قائم کر دیا، جس کا افتتاح خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کیا۔واضح رہے کہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تمام میڈیکل کالجز کو سالانہ ایم بی بی ایس امتحانات آن لائن لینے کی ہدایت دی تھی، جس کے تحت گجوخان میڈیکل کالج نے یہ امتحانی سینٹر قائم کیا۔ سینٹر میں بیک وقت 80 سے زائد طلبہ امتحان دے سکیں گے، جو کہ جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر کے ایم یو اور کنٹرولر امتحانات کے یم یو کے ہمراہ ڈین و چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر شمس الرحمن اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی شریک تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وی سی کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آن لائن امتحانی نظام وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ پیپرلیس ماحول فراہم کرے گا، جو جدید تعلیمی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجوخان میڈیکل کالج کی مسلسل کامیابیاں قابل ستائش ہیں اور اس کامیابی پر کالج انتظامیہ، فیکلٹی اور امتحانی سینٹر کے منتظمین کو مبارکباد کے مستحق ہیں۔ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ یہ امتحانی سینٹر کے ایم یو کے تحت صوابی میں ایک مرکزی امتحانی مرکز تصور کیا جائے گا، جہاں کے ایم یو سے الحاق شدہ دیگر میڈیکل کالجز کے امتحانات بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈین و چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر شمس الرحمن نے کہا کہ وقت کے ساتھ امتحانی نظام میں جدت آ رہی ہے، اور گجوخان میڈیکل کالج نے جدید تقاضوں کے مطابق یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اب تمام امتحانات کو آن لائن لینا مزید آسان ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ امتحانی سینٹر میں 80 سے زائد کمپیوٹر سسٹمز، تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لائبریری اور جدید ریسرچ سہولیات دستیاب ہیں، جو طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کریں گی۔