خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں ضروری ہیں طلباء کو کھیلوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے کھیل سے انسان کے اعصاب مضبوط اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے کھیل کے میدان اور عملی زندگی میں انصاف کیلیے لڑنا ہوتا ہے صوبے میں ایک ہزار گراؤنڈز بنانے کے کام کے سلسلے کو دوبارہ وہیں سے کام شروع کرینگے جہاں پر روکا تھا۔ وہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام انٹرزونل صوبائی سپورٹس مقابلوں کی تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے تقریب گورنمنٹ سپرئیر سائنس کالج پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس ہائیر ایجوکیشن، کالج پرنسل، مختلف کالجز کے پروفیسرز، اساتذہ اور سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والے ٹیموں کے کھلاڑیوں اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی صوبائی وزیر انے خطاب میں کہا کہ محکمہ کھیل کے ساتھ مل کر کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے خیبر پختونخوا میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ کے پی کے کھلاڑیوں کو پالش کرنے اور سہولیات دینے کی ضرورت ہے خیبر پختونخوا نے کھیل کی دنیا میں اچھے کھلاڑی پیدا کئے ہیں کے پی کے کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اس وقت قومی کرکت ٹیم میں 7 کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ولی بال ٹیم کے 12کھلاڑیوں میں سے 11 کا تعلق کے پی سے ہے انہوں نے مذید کہا کہ انڈر16, 19, 21, اور انڈر 23 گیمز کو بہت جلد دوبارہ شروع کررہے ہیں کھلاڑیوں کے انعامات اور وظائف کو دگناہ کرینگے انہوں نے سپرئیر سائنس کالج کے پرنسپل کے مطالبہ پر ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن کو موقع پر ہدایت جاری کی کہ کالج میں سٹاف کی کمی کو فوری طور پر پورا کریں جبکہ انہوں نے یقین دلایا کہ کالج سے پولیس چوکی کو دوسری جگہ پر منتقل کرینگے انہوں کہا کہ ہماری حکومت کا مشن ہے کہ صوبے کے سرکاری کالجز اور جامعات کو سولرائزیشن، آٹومیشن اور ڈیجیٹالائزیشن کی طرف لے جارہے ہیں جبکہ بہت جلد محکمہ کو پیپرلیس کی طرف لے جارہے ہیں جس سے نہ صرف شفافیت ہوگی بلکہ وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہوگی انہوں نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں پروفیسرز اور اساتذہ کو ایمانداری سے خدمات سر انجام دینی ہیں نظام میں بہتری لانے کیلیے ہر ایک نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے انٹرزونل صوبائی سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے ٹیموں اور کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، سرٹیفیکیٹس اور انعامات تقسیم کئے۔
ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے بروقت مکمل کرنے کے لئے تمام وسائل برئے کا ر لائیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کی کانسٹریکشن فرم کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وفدنے بدھ کے روز پشاور میں وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان سے ملاقت کی اور مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تبادلہ خیا ل کیا۔ وفد میں پراجیکٹ مینجر رین اور ڈپٹی ٹیم لیڈ وانگ سمیت پروجیکٹ ڈائریکٹر روح الامین اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروجیکٹ محمد عامر شامل تھے۔وفد نے صوبائی وزیر سے ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم کے پراجیکٹ میں پیش رفت اور دیگر امور پر تفصیلی گفتگو کی۔عاقب اللہ خان نیاس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم پروجیکٹ صوبے میں آبپاشی اور آبنوشی کے حوالے سے نہایت اہم منصوبہ ہے اور اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کے لئے اقدامات تیز ترکردیئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لئے بلا تعطل فنڈ کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور سیکرٹری خزانہ سے انہوں نے بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پی ایس پی پروجیکٹ ہے جس میں پانچ کلومیٹر طویل ٹنل بھی شامل ہے، جس کے ذریعے 700 کیوسک پانی لے جایا جائے گا اور اس میں سے 300 کیوسک پینے اور 400 کیوسک آبپاشی کے لئے استعمال میں آئے گا انہوں نے کہا کہ ماہ مارچ سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ چھ ارب 67 کروڑ روپے کی لاگت سے چار سالوں میں مکمل ہوگا۔
وزیر ایکسائز کی زیر صدارت محصولات کی وصولیوں، کارکردگی اور محکمہ ایکسائز میں جاری اصلاحات کے بارے میں اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکاٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن کی زیر صدارت بدھ کے روزمالی سال 24-2023 کے محصولات کی وصولیوں، محکمہ کی کارکردگی اور جاری اصلاحات کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاورمیں منعقد ہوا جس میں سیکریٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اکمل خان خٹک، ڈائریکٹر ریوینوصلاح الدین، ڈائریکٹر لیٹیگیشن ڈاکٹر انجینئر عید بادشاہ، ریجنل ڈائریکٹرز اور آفیسرز نے شرکت کی. اس موقع پر صوبائی وزیر کو ریجنل اور ضلعی دفاتر کے محصولات کی وصولیوں، مقررہ اہداف اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیر ایکسائز نے اچھی کارکردگی دکھانے والے ڈائریکٹرز اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز کے کردار کو سراہا اور دیگر کو کارکردگی بہتر بنا نے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ عوام کی سہولت کے پیش نظر پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس سے متعلق آنلائن نظام کے تحت تمام معلومات اور ٹیکس کالکولیٹر کے علاوہ ٹیکسز آنلائن جمع کرنے کی سہولت بھی جلد سے جلد فراہم کی جائے تاکہ نظام میں شفافیت پیدا ہو،انہوں نے کہا کہ ایک ٹیم بن کر محکمہ ایکسائز کو ایک ماڈل محکمہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ریجنل ڈائریکٹرز ایکسائز اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز محکمہ کی کارکردگی اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائیں، اور مقررہ محاصل کاہدف پورا کرنے کے لئے محنت ولگن کے ساتھ کام کریں، انہوں نے کہا کہ منشیات خاص طور پر آئس نوجوانوں اور طلباء میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا تدارک ناگزیر ہے، صوبائی حکومت منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے پر عزم ہے، منشیات کے خلاف کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے اینٹیلیجنس کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور کسی قسم کی شکایت کا موقع نا دیا جائے۔اس موقع پر وزیر ایکسائز کو انتظامی اور قانونی امور میں درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا، صوبائی وزیر نے تمام ضلعی افسران کو درپیش مسائل بارے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے شفاف سروے اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی پر کام تیز کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی جاری کردہ ہدایات پر پیش رفت اور کام کو یقینی بنایا جائے، اور کارکردگی رپورٹ مرتب کر کے صوبائی حکومت کو پیش کی جائے۔ وزیر ایکسائز نے مزید کہا کہ ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکس کی بجائے نئے ریٹنگ ایریاز ٹیکس نیٹ میں شامل کیئے جائے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی ملاقات
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ پشاور میں مجوزہ جیمز پروسسنگ اینڈ ایکسپورٹ سنٹر کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں اس ضمن میں اپنی ایسوسی ایشن کی جانب سے آرا پیش کیں۔ معاون خصوصی نے وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں جیمز سٹون کو فروغ دینا ہے اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تمام ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیکر اپنے اہداف کو حاصل کریںنگے۔انھوں نے کہا کہ جدید جیمز سنٹر کا قیام ملک اور صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔اس سے ہماری ایکسپورٹ بھی بڑھے گی جبکہ اس شعبے سے وابسطہ ہزاروں افراد کو روزگار کے موقع میسر آسکیں گے اور ملک کو روینیو کی مد میں خاطر خواہ اضافہ میسر آسکے گا۔انھوں نے کہا کہ پشاور اس خطے میں قیمتی پتھروں کے کاروبار کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس نئے مرکز کے قیام سے یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا جو ہمارے صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم ذریعہ بنے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک نے گندم خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے بدھ کے روز گندم خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا، اس موقع پر انھیں متعلقہ حکام نے سی سی ٹی وی کنٹرول روم پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ صوبے کے22 خریداری مراکز نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں،کیمرے جو نائٹ وژن بھی ہیں، سے 24/7 خریداری مراکز کی نگرانی کی جا رہی ہے، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کسی بھی شکایت کیلئے ٹیلی فون نمبر 091-9225379 پر شکایات سیل بھی قائم کیا گیا ہے، بعد ازاں ظاہر شاہ طورو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تقریباً 29 ارب روپے کی لاگت سے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری 7 مئی سے شروع کی ہے جو دو ماہ تک جاری رہی گی، پہلے دس دن یعنی 7 مئی سے 17 مئی تک خیبرپختونخوا کے مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری کی جائیگی، انھوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے مقامی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے فیصلے کو کسان دوست قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے صوبائی حکومت کو12 ارب روپے کی بچت بھی ہوگی، ظاہر شاہ طورو کا مزید کہنا تھا کہ پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول پر کاشتکاروں سے خریداری جاری ہے،آٹا مہنگا نہیں ہوگا گندم کی کافی مقدار موجود ہے، انھوں نے گندم کی خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہا اور کہا کہ اس حوالے سے خریداری ایپ بھی متعارف کرایا گیا ہے جس سے موقع ہی پر پر تمام ریکارڈ کا اندراج آنلائن کیا جا رہا ہے، 24 گھنٹے کے اندر بینک آف خیبر کے ذریعے کاشتکاروں کو ادائیگی کی جا رہی ہے، ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق صوبے میں معاشی مشکلات کے باوجود عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، گندم خریداری میں شفافیت اور کسی بھی قسم کی خرد برد روکنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گئے ہیں، انھوں نے تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث ہونے پر متعلقہ افراد کو مثالی سزا دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خوراک کے پراونشل ریزو سنٹر کا دورہ اور گندم کی خریداری کے عمل کا افتتاح کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور نے بدھ کے روز محکمہ خوراک کے پراونشل ریزو سنٹر ڈی آئی خان کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے رواں سیزن کیلئے گندم کی خریداری کے عمل کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔ صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو بھی وزیر اعلی کے ہمراہ تھے جبکہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ متعلقہ حکام کی طرف سے وزیر اعلی کو گندم خریداری اور سٹوریج سے متعلق اُمور پر بریفنگ دی گئی۔اس سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے مقامی کسانوں سے تین لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی جس میں ڈی آئی خان کے مقامی کسانوں سے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری بھی شامل ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ مجموعی طور پر 29 ارب روپے مالیت کی گندم خریدی جار ہی ہے، گندم کی خریداری 3900 روپے فی 40 کلو کے حساب سے کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کسانوں کی خوشحالی، حوصلہ افزائی اور اُن کو سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں،اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسان کو اس کا حق بغیر سفارش کے ملے۔علاوہ ازیں گندم کی خریداری میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں، خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ڈسٹرکٹ کی سطح پر کمیٹیاں بنائی گئی ہیںاور اس مقصد کے لئے کنٹرول روم کے قیام کے علاوہ آن لائن ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔اُنہوںنے کہاکہ مقامی کاشتکاروں سے گندم خریدنے سے 12 ارب روپے کا فائدہ ہوا جو کہ گوداموں کی تعمیر و مرمت میں استعمال کریں گے۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ مقامی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر ہوگی۔اُنہوںنے اس موقع پر گندم کی خریداری کیلئے محکمہ خوراک کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور کہاکہ بے شک اُن کاکام لائق تحسین ہے ۔ علی امین خان گنڈا پور نے اس موقع پر کسان برادری سے اپیل کی کہ وہ شفاف انداز میں گندم کی خریدو فروخت یقینی بنانے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ گندم کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور رشوت دینے اور لینے والے دونوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت تمام محکموں میں کرپشن اور رشوت ستانی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ تبادلوں ، تعیناتیوں سے لے کر تمام سرکاری اُمور میں ہرلحاظ سے شفافیت یقینی بنائی جائے گی ۔ عوام بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے جائز حق کے حصول کیلئے ہر گز رشوت نہ دیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں کو سزاد ی جائے گی۔ اُنہوں نے مزید واضح کیاکہ اگر کسی شخص نے رشوت کے ذریعے کوئی تبادلہ وغیرہ کرابھی لیا تو معلوم ہو جائے گا، رشوت لینے والے کو تو فارغ کیا ہی جائے گا مگر اُس کے ساتھ رشوت دینے والے کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام اداروں پر کڑی نظر رکھے گی ۔ اُنہوںنے کہا کہ کرپشن اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کا نا سور بن چکی ہے ،ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہو گااور اس سلسلے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ پشاور میں مجوزہ جیمز پروسسنگ اینڈ ایکسپورٹ سنٹر کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں اس ضمن میں اپنی ایسوسی ایشن کی جانب سے آرا پیش کیں۔ معاون خصوصی نے وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں جیمز سٹون کو فروغ دینا ہے اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تمام ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیکر اپنے اہداف کو حاصل کریںنگے۔انھوں نے کہا کہ جدید جیمز سنٹر کا قیام ملک اور صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔اس سے ہماری ایکسپورٹ بھی بڑھے گی جبکہ اس شعبے سے وابسطہ ہزاروں افراد کو روزگار کے موقع میسر آسکیں گے اور ملک کو روینیو کی مد میں خاطر خواہ اضافہ میسر آسکے گا۔انھوں نے کہا کہ پشاور اس خطے میں قیمتی پتھروں کے کاروبار کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس نئے مرکز کے قیام سے یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا جو ہمارے صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم ذریعہ بنے گا۔
مینجنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن عین اللہ کی دعوت پر، قبائلی علاقوں میں تعلیمی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات
مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن عین اللہ نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں شرح خواندگی بڑھانے، بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی اور سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کے لیے فاؤنڈیشن نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہمارے کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سینٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں موجود طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم اور دیگر تمام سہولیات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے نئے پروگرامز میں مڈل اور ہائی لیول پر تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو اپنے ہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میسر آسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرجڈ ایریا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے جاری و نئے پروگرامز اور کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ کے موقع پر کیا۔ ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شوکت حیات اور فاؤنڈیشن کے دیگر اہلکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نو تعینات مینجنگ ڈائریکٹر کو مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مختلف پروگرامز، کارکردگی، بجٹ اور دیگر مختلف سیکشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔مینجنگ ڈائریکٹر عین اللہ نے حکام کو ہدایت کی کہ نئے مالی سال کے لیے قبائلی اضلاع میں تعلیمی بہتری، شرح خواندگی بڑھانے اور آؤٹ آف سکول بچوں پر قابو پانے کے لیے نئے پروگرامز شامل کیے جائیں اور تمام قبائلی اضلاع میں ضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے کھولنے اور پہلے سے قائم سکولوں کو اپگریڈ کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ترقی کا واحد ذریعہ ہے اور بذریعہ تعلیم ہم ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اے ایل پی پروگرامز، سیکنڈ شفٹ سکولز پروگرام، سکالرشپس کی فراہمی اور اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنے کے لیے نئے پروگرامز شروع کیے جائیں گے۔ اور جاری پروگرامز کو دیگر تمام اضلا ح تک توسیح دی جائے گی۔ بریفنگ کے موقع پر انہیں بتایا گیا کہ جاری پروگرامز میں لٹریسی فار آل، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز اور این سی ایچ ڈی سنٹرز کے علاوہ سباون سکولز، مڈل کمیونٹیز سکولز اور اساتذہ کی تربیت کے دیگر پروگرام شامل ہیں لٹریسی فار آل پروگرام کے سینٹرز میں 17 ہزار 625 طلبہ و طالبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ 267 اساتذہ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کمیونٹی سکولوں کی کل تعداد 337 ہیں۔ کل 639 اساتذہ ہیں اور 27 ہزار 293 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور سباون پروگرام کے تحت مزید 25 سکول بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔ جن میں بچوں کو وظائف فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر عین اللہ نے مرجڈ ایریا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کارکردگی کو سراہا اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعلیٰ کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی خواتین کی خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے تقریب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ خصوصی بچے معاشرے اور حکومت کی توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ صوبائی حکومت خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ وہ سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس مردان میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہی تھیں۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی طفیل انجم، سابق رکن صوبائی اسمبلی ساجدہ حنیف، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رفیق مہمند، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر جنید خالد نے شرکت کی۔ جبکہ تقریب سے ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفئیر جمال شاہ اور ادارے کے ڈپٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر انیق احسن نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سماعت گویائی سے محروم، جسمانی معذوری کے شکار اور نابینا بچوں نے حمدونعت، ٹیبلوز اور ملی نغمے پیش کیے۔ انیق احسن نے بتایا کہ ادارے میں مختلف قسم کی معذوریوں کے شکار 421 بچے زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے ادارے کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ کی مشیر مشال اعظم یوسفزئی نے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے ایسے بچوں کے والدین اور خاص طور پر ٹیچرز کو خراج تحسین پیش کیا جو ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا مشکل فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کا وژن غریب اور پسے ہوئے طبقات کی خدمت ہے۔دکھی انسانیت کی خدمت میرا بھی مشن ہے اور سماجی بہبود کا محکمہ میں نے اپنی خوشی سے چنا ہے تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے سے میٹرک کرنے والے 23 طلباء و طالبات کو حیات آباد میں خصوصی بچوں کے ادارے میں سال اول میں داخلہ اور ہاسٹل کی سہولت دیں گے۔ جبکہ ایک سال کے اندر مردان میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔بہت سے اسپیشل بچے سکولوں سے باہر ہیں انکو سکولوں میں داخل کرنے کیلئے کرایہ پر بلڈنگ حاصل کریں گے جہاں پر انکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا۔ اسی طرح معذور افراد کے حوالے سے تفصیلی اعداد وشمار اکھٹا کررہے ہیں۔ جس سے پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔مشیر وزیراعلیٰ نے اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی دونوں ہاتھوں اور پیروں سے محروم بچی کی بطور خاص حوصلہ افزائی کی اور ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کو اس بچی کو الیکٹرانک وہیل چیئر کی فراہمی کی ہدایت کی۔ مشال اعظم یوسفزئی نے خصوصی بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت رستم تک بڑھانے کی ہدایت کی جبکہ سوشل ویلفیئر کے ڈسٹرکٹ آفیسر کو مردان میں موجود بس فوری طور پر سپیشل بچوں کی آمد و رفت کے لیے سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کو دینے اور اسپیشل ایجوکیشن کیمپلکس کی بسوں میں خواتین اٹڈینٹ بھرتی کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کی مشیر مشال اعظم یوسفزئی نے مختلف کلاسز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے خصوصی بچوں میں انعامات اور شیلڈز تقسیم کیں جبکہ ادارے کی جانب سے مشیر وزیر اعلیٰ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اور دیگر مہمانوں کو بھی شیلڈز دی گئیں۔
خیبر پختونخوا کابینہ کا پانچواں اجلاس
خیبر پختونخوا کابینہ کا پانچواں اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی صدارت میں پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس کے فیصلو ں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے پانچویں اجلاس میں اہم فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے وزراء جن کا تعلق پشاور سے نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس سرکاری رہائش گاہ ہے کو کرائے کی مد میں دو لاکھ روپے دئیے جائیں گے اور اگر وزراء پشاور میں دو لاکھ تک گھر لے لیں تواس کے کرائے کی ادائیگی حکومت کرے گی جبکہ گھر کے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی اسی دو لاکھ روپے میں شامل ہوگی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 2014 سے لیکر اب تک جن وزراء کے پاس سرکاری رہائش کی سہولت مو جود تھی ان کی تنخواہ سے 70 ہزار روپے کی کٹوتی ہوتی تھی اوروہ وزراء جن کے پاس سرکاری رہائش نہیں تھی انہیں انکی تنخواہ میں 70 ہزار روپے گھر کے کرائے کے لیے دئیے جاتے تھے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 2024 میں گھر کے کرایوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور مناسب گھر ڈیڑھ لاکھ تک مل سکتاہے اور وزراء کے لیے دو لاکھ روپے کی کابینہ کی منظوری کے بعد وہ اپنے لیے پشاور میں مناسب گھر کرائے پر لے سکیں گے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے آئندہ تین سالوں کے لیے ضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے لیے 503 ملین روپے کی منظوری بھی دی ہے اورضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو دی جانے والی یہ رقم خفیہ نہیں ہے۔ڈپٹی کمشنرز کو یہ فنڈز بنک کے ذریعے جاری ہوں گے اور ان کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ2021 سے 24 20تک قبائلی اضلاع اور ایف آر میں 1303 ملین روپے ڈپٹی کمشنرز کے لیے مختص کیے گئے تھے۔خیبرپختونخوا کابینہ نے مئی کے مہینے کے لیے صوبے کے ضروری اخراجات کی منظوری دے دی جبکہ تمام محکموں کو آئندہ مالی سال کے لیے اپنی بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ ضروری اخراجات کی منظوری اس لیے ضروری تھی کہ اسمبلی کی عدم موجودگی میں رواں مالی سال کے بجٹ کی نگران کابینہ نے مختلف وقفوں سے منظوری دی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بروقت بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولر اتھارٹی کی شق میں نرمی کرتے ہوئے مارکیٹ ویلیو کی ادائیگی پر دفتر و رہائشی رہائش کی تعمیر کے لیے ضلع جمرود میں تحصیل بلڈنگ کے اندر واقع 02 کنال سرکاری اراضی وفاقی حکومت کو الاٹ کرنے کی بھی منظوری دی۔
