Home Blog Page 325

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا چیئرمین ایف بی آر سے رابطہ

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا چیئرمین ایف بی آر سے رابطہ

خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے بقایاجات کیلئے ٹیلیفونک بات چیت

کراس ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی مفاہمت پر ایف بی آر کے ساتھ وفد ملاقات خیبرپختونخوا مزمل اسلم

کل زیر التواء مفاہمت 9.4ارب روپے جس میں سے 4.1ارب فروری 2024 میں ملے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

5.3 بلین ایف بی آر کے ساتھ مفاہمت اور تصفیہ کے لیے زیر التواء ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

ایف بی آر حکام اگلے ہفتے مفاہمت کیلئے کیپرا حکام سے ملاقات کر سکتے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے صوبے میں خسرے کی پھیلتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے لیا

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے صوبہ میں خسرے کی وبائی صورتحال کا نوٹس لے لیا
پشاور : وزیر صحت نے ڈائریکٹر ای پی آئی سے رپورٹ طلب کرلی
پشاور : خسرہ ہمارے معاشرے میں وبا کی صورتحال اختیار کرچکا ہے : وزیر صحت
پشاور : عوام اپنے بچوں کو جلد سے جلد ایم آر ویکسین لگوالیں۔ وزیر صحت
پشاور : ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائینگے تاکہ خسرہ کو کنٹرول کیا جاسکے۔ وزیر صحت
پشاور : ایم ٹی آئیز میں آئسولیشن وارڈز جلد سے جلد قائم کرنے کے احکامات جاری
پشاور : خسرہ سے بچنے کیلئے ویکسین سنٹرز کے اوقات کار بڑھانے ہونگے : وزیر صحت
پشاور : ویکسینیٹرز ایم ایس کے ڈسپوزل سے ہٹاکر ڈی ایچ او کے ماتحت کرنے کے احکامات جاری
پشاور : وزیر صحت کی فوری پراونشل آوٹ بریک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات جاری۔
پشاور : ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر عارف کی متعلقہ حکام کے ہمراہ وزیر صحت کو خسرہ بارے ہنگامی بریفنگ
پشاور : برڈ ڈوز انیشیٹیو کے تحت ہسپتالوں میں لیبر روم کیساتھ ہی ویکسین سنٹر قائم کئے گئے
پشاور : چھوبیس گھنٹے کھُلے ان سنٹرز میں پچھلے دو سال کے اندر ایک لاکھ سے زائد نومولود بچے ویکسینیٹ ہوچکے ہیں : : ڈائریکٹر ای پی آئی
پشاور : صوبہ میں خسرہ کے 3889 مُشتبہ جبکہ 1445 مصدقہ کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں : ڈائریکٹر ای پی آئی
پشاور : اب تک ہونے والے 22 اموات میں سے 13 میں خسرے کی تصدیق ہوچکی ہے : ڈائریکٹر ای پی آئی
پشاور : دو سے پانچ سال کے عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں : ڈائریکٹر ای پی آئی
پشاور : خسرے کو کنٹرول کرنے کیلئے صوبے کے 24 اضلاع کے 118 یونین کونسلز میں آوٹ بریک رسپانس جاری ہے : ڈائریکٹر ای پی آئی
پشاور : ان اضلاع میں ڈی آئی خان 185,پشاور 147, چارسدہ 113، صوابی 92 اور دیر لوئر 83 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے : ڈائریکٹر ای پی آئی

ملک بھر خصوصا خیبرپختونخوا میں بسنے والی مسیحی برادری کو انکے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر مبارکباد۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور

ملک بھر خصوصا خیبرپختونخوا میں بسنے والی مسیحی برادری کو انکے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر مبارکباد۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
2) صوبائی حکومت مسیحی برادری کی خوشیوں میں شریک ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
3) پاکستان میں تمام اقلیتوں کو بحیثیت شہری ہر قسم کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
4) ہمارا مذہب اسلام اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کا درس دیتا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
5) ہمارا آئین سب مذاہب کو مذہبی عبادات، رسومات اور تہواروں کو پوری آزادی سے منانے کی ضمانت دیتا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
6) صوبے میں بسنے والی اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود، ان کی جان و مال اور آئینی حقوق کا تحفظ موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
7) ہر کسی کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
8) ملک کی تعمیر و ترقی میں مسیحی برادری کا بھر پور کردار رہاہے جسے پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
9) موجودہ ملکی و عالمی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ایسٹر کے موقع پر مسیحی برادری کیلئے پیغام

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ایسٹر کے موقع پر مسیحی برادری کیلئے پیغام
2) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکبار و نیک خواہشات کا اظہار
3) خیبر پختونخوا کی ترقی میں مسیحی برادری کا ہمیشہ سے نہایت مثبت اور کلیدی کردار رہا ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا
4) پاکستان کا آئین تمام شہریوں بلا تفریق ذات پات، رنگ و نسل کے مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا
5) ہمارا آئین ہر کسی کو اپنی مذہبی عبادات، رسومات اور تہواروں کو پوری آزادی سے منانے کی ضمانت دیتا ہے۔چیف سیکرٹری
6) صوبے میں بسنے والی اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود، ان کی جان و مال اور آئینی حقوق کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔چیف سیکرٹری
7) موجودہ ملکی و عالمی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔چیف سیکرٹری

پشاور: وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان ملاقات اہم شخصیت سے ملاقات

وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبرپختونخوا پختونیار خان سے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شہریار آفریدی نے ملاقات کی ہے

ممبر قومی شہریار آفریدی نے اپنے حلقے میں صاف صاف پانی کی فراہمی اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا

سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں. صوبائی وزیر پختونیار خان

گھر گھر صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کی بحالی اور دیرپا ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے صحت عامہ کو اعلیٰ معیار کا بنانا ترجیحات میں شامل ہے. پختونیار خان

میرے دفتر کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں تمام عوامی ایشو کو بروقت حل کریں گے. پختونیار خان

خیبرپختونخوا حکومت نے رواں سال ترچ میر سال کے طور منانے اور چترال میں سالانہ ترچ میر فیسٹیول شروع کرنے کا اعلان

مشیر سیاحت کی زیرصدارت اجلاس میں کوہ پیمائی کی رائلٹی اور ٹریکنگ فیس معاف کرنے نیز ترچ میر پہاڑ کو خیبرپختونخوا کے سیاحتی علامات میں شامل کرنے کا بھی فیصلہ
ہینڈ آؤٹ نمبر999۔پشاور۔ساجد شاہ۔ساجد۔28مارچ2024ء
خیبرپختونخوا حکومت نے سال 2024-25 کو صوبہ کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کے سال کے طور پر منانے اور چترال میں سالانہ ترچ میر فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو ٹاسک حوالے کرکے فوری طور پر جاندار اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ اس امر کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی زیرصدارت سیاحت کی ترقی سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے کانفرنس ہال پشاور میں منعقدہ اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت، جنرل منیجر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ محمد علی سید اور جنرل منیجر ٹورازم سجاد حمید کے علاؤہ چترال، سوات، شانگلہ، دیر اور گلیات سمیت سیاحتی علاقوں کے ٹور آپریٹرز اور دیگر سیاحتی سٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی جنہوں نے صوبائی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاحت کی ترقی کیلئے سنگ میل اقدام قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں سال 2024-25 کیلئے کوہ پیمائی کی رائلٹی اور ٹریکنگ فیس معاف کرنے اور ترچ میر پہاڑ کو خیبرپختونخوا کے سیاحتی علامات میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ترچ میر چوٹی سر کرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو مدعو کیا جائے گا جبکہ اگلا اجلاس پشاور کی بجائے چترال میں اور اسکے بعد دیگر سیاحتی اضلاع کے صدرمقامات پر منعقد کئے جائیں گے۔ اس موقع پر سیاحت سے منسلک سٹیک ہولڈرز نے مشیر سیاحت کو اپنے مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ زاہد چن زیب نے انکے معروضات توجہ سے سنے اور انکے ترجیحی بنیادوں پر ازالے کا یقین دلایا۔ انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کو سیاحتی خدمات کی بطریق احسن ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹور آپریٹرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیں ہم سپورٹ کرینگے۔ سیاحوں کے این او سی سے متعلق مسئلے پر انہوں نے کہا کہ اسے متعلقہ حکام کیساتھ ملاقات کے بعد جلد حل کردیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر نتائج کیلئے خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس کو فرسٹ ایڈ بکس کیساتھ اپ گریڈ کرکے مزید تربیت دینے کے علاؤہ اضافی موٹر بائیک سے لیس کیا جا رہا ہے۔ مشیر سیاحت نے واضح کیا کہ سیاحتی مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا جس کیلئے اتھارٹیز کو فعال بنانے کے علاؤہ ضلعی انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔ اسی طرح سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا جس کیلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ زاہد چن زیب نے اعتراف کیا کہ ٹور آپریٹرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سیاحت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور صوبائی حکومت انکی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے سٹیک ہولڈرز کی مناسبت حوصلہ افزائی اور سیاحت کی ترقی کیلئے جراتمندانہ اقدامات پر مشیر سیاحت اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور سیاحتی اہداف کے حصول میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیرصدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کامرس ایجوکیشن ان مینجمنٹ سائنسز کااجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیرصدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کامرس ایجوکیشن ان مینجمنٹ سائنسز کااجلاس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری مظہر علی، ڈی جی کامرس ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر امجد رفیق ودیگرنے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو خیبر پختونخوا بشمول قبائلی اضلاع میں کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنس کالجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈی جی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت صوبے میں کل 43 کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنس کالجز ہیں جن میں 31 بندوبستی اضلاع اور 6 قبائلی علاقوں میں ہیں جبکہ چھ فی میل کالجز ہیں ان کالجز میں کل 24430 سٹوڈنٹس اینرول ہیں جن میں 20775 بندوبستی اضلاع، 1971 ضم اضلاع اور 1684 فی میل سٹوڈنٹس شامل ہیں صوبائی وزیر کو اے ڈی پی 24-2023 کی سکیموں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا تخت بھائی کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنس کالج کا پی سی ون پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ جمع کیا گیا ہے لیکن سکیم ابھی تک منظور نہیں ہوئی ہے صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ ضم اضلاع کے کالج میں فرنیچر، کمپیوٹر، لائبریری کی کتابیں اور آلات نہیں ہیں جبکہ جی سی ایم ایس سنگوٹہ اور ہری پور کے بی ایس بلاک پر فنڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیراتی کام کو روک دیا گیا ہے صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ بی ایس کامرس پروگرام کو تمام کالجز بشمول قبائلی علاقوں تک کامیابی کے ساتھ توسیع۔دی گئی ہے اس کے علاوہ شبقدر اور بشام میں جی سی ایم ایس کی قیام، تحت بھائی میں جی سی ایم ایس کی فعالیت، قبائلی اضلاع کے تمام کالجز کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات مہیا کی گئی ہے صوبائی وزیر کو ڈائریکٹوریٹ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر میناخان آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف تعلیمی اداروں کا قیام نہیں بلکہ ان تعلیمی اداروں سے طلباء کو معیاری تعلیم میسر ہو جو عملی زندگی میں طلباء کے لیے کارآمد ثابت ہو اور کسی کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد بے روزگاری کا سامنا نہ ہو۔

مشیر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مشال اعظم یوسفزئی کا اسپیشل ایجوکیشن کیمپلکس حیات آباد کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں بطور مہمان حصوصی شرکت, طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے ذکوۃ، عشر، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ سپیشل ایجوکیشن اور وومن ایمپاورمنٹ کے الگ الگ ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں گے جبکہ خصوصی افراد کیلئے سرکاری ملازمتوں میں مقرر کردہ کوٹے میں دس فیصد تک اضافے کے لیے اقدامات کریں گے۔ سپیشل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹس میں زیر تعلیم بچوں کے لیے وظائف مقرر کررہے ہیں۔بہت سے سپیشل بچے سکولوں سے باہر ہیں انکو سکولوں میں داخل کرنے کیلئے کرایہ پر بلڈنگ حاصل کریں گے جہاں پر انکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپیشل ایجوکیشن کیمپلکس حیات آباد پشاور میں منعقدہ سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے بطور مہمان حصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا اور تعلیمی سال کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں انعامات و شیلڈ تقسیم کیے۔انہوں نے سپیشل بچوں کے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان والدین پر فخر ہے جو اپنے بچوں کو پڑھارہے ہیں اور انھیں حوصلہ دیتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کے ساتھ چل سکیں۔مشیر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی کامیابی میں بھی والدین اور اساتذہ کی محنت اور دعائیں ہیں۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا بھی نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنے اور خیبر پختونخوا میں سماجی اور فلاحی امور کی ترقی میں گہری دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا۔ سید علی بخش ڈائریکٹر اسپیشل یجوکیشن کمپلکس حیات آباد نے مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی کو سپیشل ایجوکیشن کمپلکس کا دورہ کر نے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں اسپیشل ایجوکیشن کے 57 کے قریب ادارے قائم ہیں جن میں پشاور اور مردان میں دو بڑے سپیشل ایجوکیشن کمپلکس بھی شامل ہیں۔سپیشل ایجوکیشن کمپلکس حیات آباد کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈائریکٹر سید علی بخش کا کہنا تھا کہ اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس میں 650 سے زیادہ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں جن میں 72 بچے ہاسٹل میں زیر رہائش ہیں۔ ڈائریکٹر سید علی بخش نے ادارے کو درپیش مسائل و چیلنجز سے مشیر وزیراعلی کو آگاہ کیا۔ مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی نے ہر قسم کی تعاون کا یقین دہانی کروائی۔تقریب کے دوران اسپیشل بچوں نے مختلف قسم کے ٹیبلوز پیش کیا جن پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔ مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی نے تقریب کے دوران بہترین کارکردگی دیکھنے والے طلباء و طالبات میں انعامات و شیلڈز تقسیم کیے۔ جبکہ ڈائریکٹر سید علی بخش نے ادارے کی جانب مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر نجی سکول کے طلباء وطالبات نے سپیشل بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے تقریب میں شرکت کی۔قبل از مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی کی اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس حیات آباد پہنچانے سپیشل بچوں نے خوش آمدید کہا اور پھول کے گلدستے پیش کیے۔ مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی نے کمپلکس کے ووکیشنل ٹریننگ سنٹر میں طلباء و طالبات کی جانب سے بنائے گئے اشیاء کے اسٹالز کا بھی معائنہ کیا اور انکی دستکاریوں کے کام کو سراہا۔ دورے کے دوران مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے مہمانوں کی کتاب میں ادارے کے حوالے سے اپنے تصورات بھی درج کیے.۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد لطیف خان مروت کی نیٹ سول (NETSOL) کے نمائندوں سے ملاقات

ملاقات میں ڈیجیٹل ٹرانسفر میشن سفر کو صوبے میں مزید فروغ دینے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ملاقات میں نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد لطیف خان نے کہا کہ پیپرلیس ماحول کو مزید توسیع دی جائے اور صوبے کے تمام اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں بھی فعال بنایا جائے تاکہ روزمرہ کے سرکاری امور ڈیجیٹل طریقے سے نمٹائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے حوالے سے اضلاع کی سطح پر آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ عوام میں اس کو فروغ مل سکے۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور کی صوبے میں ای۔گورنس اور ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ مرکوز ہے اور ہمارا ہدف ہے کہ صوبے کے تمام آمور کو ٹیکنالوجی پر منتقل کرے تاکہ عام عوام تک اس کے بروقت فوائد پہنچ سکے۔خالد لطیف خان نے کہا کہ صوبے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی وسعت موجود ہے اور مختلف بیرونی سرمایہ کار بھی صوبے کے ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس سے ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے اور صوبے کے معاشی حالات میں بھی بہتری آئے گی۔

شادی ہال اور ریسٹورنٹ پر 8فیصد ٹیکس کی بجائے فیکس ٹیکس لگائیں گے تمام شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رجسٹرڈ اور ٹیکس نیٹ میں لائیں گے

پراپرٹی ٹیکس 23 فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ سے لوگ اسٹامپ پیپرز پر زمین کی منتقلی کرتے ہیں 23 فیصد پراپرٹی ٹیکس میں سے 6 فیصد صوبے کو باقی وفاق کو جاتاہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی ہال اور ریسٹورنٹ پر 8فیصد ٹیکس کی بجائے فیکس ٹیکس لگائیں گے جبکہ صوبے بھر میں تمام شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رجسٹرڈ اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں لائیں گے۔ اجلاس کا انعقاد گزشتہ روز سب نیشنل گورننس پروگرام کے کے تعان سے نجی ہوٹل پشاور میں کیا گیاجس میں وکلاء، ماہرین ٹیکس، سرکاری افسران اور وید ہولڈنگ ایجنٹس کے علاوہ چیمبر اف کامرس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ڈی جی کیپرا کو موقع پر وومن ڈیسک بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے کاروبار کو وسعت دیں گے اور ٹیکس نرخ کی شرح کم سے کم کریں گے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ مقامی ٹیکس آمدنی میں ہر صورت اضافہ کیا جائے گا کیونکہ آبادی کے تناسب سے صوبے میں ٹیکس وصولی کی شرح بہت کم ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں سیاحت سمیت متعدد شعبوں پر ٹیکس صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آبادی کے تناسب سے ٹیکس بہت کم ہے اورپراپرٹی ٹیکس 23 فیصد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے لوگ اسٹامپ پیپرز پر زمین کی منتقلی کرتے ہیں اور اسی 23 فیصد پراپرٹی ٹیکس میں سے 6 فیصد صوبے کو باقی وفاق کو جاتاہے۔ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا 93 فیصد اخراجات کیلئے وفاق پر انحصار کرتا ہے اور صرف ساڑھے چھ فیصد صوبے کی اپنی آمدنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قواعد و ضوابط سے سیلز ٹیکس ان سروسز ایکٹ 2022 میں بیان کردہ اصولوں میں جان آئے گی اور کے پی آر اے کے افسران کے کام میں بہتری آئے گی۔ اس طرح ادارے کی جانب سے جمع کردہ محاصل میں بھی اضافہ ہوگا اور ہمارا ملک اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے ٹیکسز سے آنے والی آمدنی کی بے حد اہمیت ہوتی ہے اور اس سے اس ملک میں خوشحالی اور ترقی آتی ہے۔ ہم اپنے صوبے کو مالی طور پر مستحکم اور خود مختار دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں طویل المیاد سٹریٹجی اور معیاری قانون سازی کی ضرورت ہے۔۔آج اس اجلاس میں جن قواعد و ضوابط پر ہم نے بات کی وہ ہمارے سیلز ٹیکس ان سروسز کے انتظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ صوبائی محاصل اکٹھے کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو کہ خیبر پختون خوا کو ایک خود مختار صوبہ بنانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اکٹھے کیے جانے والے ٹیکسز پر شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاحی منصوبوں جیسا کہ صحت سہولت کارڈ، پشاور بی آر ٹی منصوبہ اور دیگر تریاقیاتی منصوبوں کی مثالیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی کاموں کی سر انجام دہی کے لیے ٹیکسز کی ضرورت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت اور عوام مل کر شانہ بشانہ کام کریں گے،صوبے میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیں گے اور اس صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اپنے خطاب کے دوران خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل محترم فوزیہ اقبال نے اجلاس میں شرکت پر سب نیشنل گورننس پروگرام کے نمائندوں، سرکاری افسران، مہمان خصوصی اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں ان قواعد و ضوابط کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس اینڈ سروسز ایکٹ 2022 کی قانون سازی کے بعد ادارے کو اس قانون کو مکمل طور پر نافذ العمل کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے اس کے مطابق کام کرنے کے لیے قوانین و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ قوانین و ضوابط سے ایک جانب ان کے افسران کے روزمرہ کے کاموں میں مزید بہتری آئے گی تو دوسری جانب افسران کی اکاؤنٹیبلٹی بھی ممکن ہو سکے گی۔ ڈائریکٹر جنرل کے پی اے ار اے کا کہنا تھا کہ ان رولز اینڈ ریگولیشنز کی بدولت عدالت میں جاری مقدمات کو شفاف اور بہتر طریقے سے چلانے میں بھی مدد ملے گی۔ فوزیہ اقبال نے کہا کہ اجلاس کا مقصد تمام سٹیک ہولڈرز کی آرا ء اور تجاویز کو ان قواعد و ضوابط کا حصہ بنانا تھا تاکہ یہ قواعد و ضوابط خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان دونوں کے لیے مفید اور سود مند ہوں۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا ریونیو کے ایڈوائزر برائے ٹیکس انفورسمنٹ جناب فضل امین شاہ اور اس این جی کے ماہرین نے ان رولز اور قواعد و ضوابط پر تفصیلی بریفنگ دی اور لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے