Home Blog Page 33

Shafi Jan Responds to Maryam Nawaz’s Statement Against PTI

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has reacted to the recent statements issued by Maryam Nawaz against Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), stating that the success of the nationwide peaceful strike and shutter-down protest has clearly reflected public sentiment and has unsettled those in power.

He said that the widespread public response to the protest has demonstrated that attempts to undermine public opinion have failed, and that the people are expressing their disapproval through democratic means. According to Shafi Jan, PTI remains the country’s most popular and peaceful political party, which has consistently pursued its struggle within the framework of the Constitution and the rule of law.

He emphasized that PTI has always advocated democratic norms and reminded that political history of PML (N) reflects contrasting approaches to dissent and institutions. He noted that the narrative of PML (N) portraying PTI as disruptive has been rejected by the public, as citizens are fully aware of the party’s commitment to peaceful and constitutional politics.

The Special Assistant stated that the electorate had already expressed its political choice through the ballot in favor of PTI and its founding chairman , Imran Khan, while rejecting traditional dynastic politics two years back. He added that slogans of PML (N) advocating respect for the vote lose credibility when the public mandate itself is perceived to be disregarded.

Shafi Jan further remarked that history bears witness to repeated instances where public opinion was overlooked for the sake of retaining power, but he stressed that public awareness has significantly increased and such practices no longer remain unquestioned.

He maintained that political developments in Punjab indicate growing public dissatisfaction of Maryam’s government and that political pressure tactics cannot suppress the democratic voice of the people. According to him, any excesses against PTI and its supporters will be remembered as a dark chapter in political history, as governments in Punjab and Federal lacking public legitimacy cannot silence popular opinion through coercive measures.

Concluding his statement, Shafi Jan reiterated that Pakistan Tehreek-e-Insaf firmly believes in an constitutional, legal, and democratic struggle for the protection of public rights. He expressed confidence that the public stands with Imran Khan.

چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس کا انعقاد، اضلاع اور محکموں کی کارکردگی کی تعریف

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پیر کے روز صوبے میں سروس ڈیلیوری اور اہم حکومتی اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے انتظامی سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کو سراہا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کارکردگی کے اشاریوں کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ کو بہترین کارکردگی پر سرفہرست قرار دیا گیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ فیاض شیرپاؤ دوسرے نمبر پر رہے۔ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اور ڈپٹی کمشنر لکی مروت حمیداللہ کی عمدہ کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔ اسی طرح ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سہیل خان کی مؤثر نگرانی اور کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے گڈ گورننس روڈ میپ پر نمایاں کردار ادا کرنے والے محکموں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ظفر الاسلام، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، سیکرٹری سیاحت سعادت حسن اور سیکرٹری زراعت عنبر علی خان کو اصلاحاتی اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تمام اعزاز حاصل کرنے والوں کو تعریفی اسناد کے ساتھ بہترین کارکردگی والے آفیسرز کو اعزازیہ بھی دیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 24 انسداد تجاوزات آپریشنز کیے گئے۔ شہری انتظام بہتر بنانے کے لیے نالوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں پولیو مہم کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں کے کنٹرول کے لیے بروقت انتظامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں آؤٹ سورسنگ سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ 500 سرکاری سکولوں کے لئے 15 فروری تک معاہدے ترتیب پانے کا امکان ہے، جبکہ 72 میں سے 34 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ضروری تقاضے مکمل کئے جاچکے ہیں اور 26 فروری تک ان کی اؤٹ سورسنگ ممکن ہوگی۔ آوٹ سورسنگ کا مقصد ان سکولوں اور ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔چیف سیکرٹری کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور بس ٹرمینل منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور جلد افتتاح کیا جائے گا، جس سے صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مسائل میں کمی اور شہری ٹرانسپورٹ سروس میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔صوبائی کیش لیس ایکشن پلان کے تحت فروری میں 84 عوامی خدمات کو ڈیجیٹل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن میں سے 73 مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحتی مقامات پر صفائی اور ماحولیاتی معیار بہتر بنانے کے لیے 478 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سیوریج اور صفائی کے انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔چیف سیکرٹری نے اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے تمام محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوامی خدمات، شفافیت اور عوام دوست طرزِ گورننس پر توجہ جاری رکھی جائے۔

معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان کی زیرِصدارت کوہاٹ میں ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات سے متعلق اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کی زیرِصدارت ڈپٹی کمشنر آفس کوہاٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں کوہاٹ شہر میں جاری اور آئندہ مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی شہری سہولیات اور مجموعی انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) عامر علی شاہ، خیبرپختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ کے چیف انجینئر، سوئی ناردرن گیس کے نمائندگان، اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام اور رکنِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی کے فوکل پرسن قاسم زبیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوہاٹ شہر میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، گیس لائنوں کی تنصیب، نکاسی آب، شہری خوبصورتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار و معیار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے جاری منصوبوں میں حائل رکاوٹوں، بین الاداراتی مسائل اور عوامی شکایات پر بھی غور کیا۔ معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے، مکمل ہم آہنگی اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر سے بچا جا سکے اور عوام کو درپیش مسائل کا بروقت، مؤثر اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق شہری سہولیات کی بہتری صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کوہاٹ جیسے اہم شہر کی ترقی میں کسی قسم کی غفلت، سستی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے منصوبوں کے معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر خصوصی زور دیا۔اجلاس کے دوران مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا جبکہ متعلقہ محکموں کو واضح ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ کوہاٹ کے شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں اور شہر کی مجموعی ترقی کا عمل مزید تیز ہو۔

آر ٹی ایس کمیشن میں سات عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں سات عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ پشاور سے محمد شفیع نے فرد کے حصول کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی، شہری کا کہنا ہے کہ حلقہ پٹواری فرد مہیا نہیں کر رہا۔ کمیشن نے اگلی سنوائی پر حلقہ پٹواری کو بذات خود ریکارڈ سمیت کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے احکامات جاری کیے۔ چارسدہ سے فضل دین نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ ڈی سی چارسدہ نے کمیشن کو لکھا کہ عدالتی احکامات پر حد براری ہو چکی ہے۔ شہری نے کمیشن کو بتایا کہ حد براری نہیں ہوئی، کمیشن نے اگلی تاریخ پر پٹواری کو تمام ضروری ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ سوات سے خالدہ بی بی کی ایف آئی آر کی درخواست پر ڈی پی او سوات کو خاتون کا مسئلہ حل کرنے کے لیے یاد دہانی نوٹس جاری کر دیا۔ ث پاگول خان نے بٹگرام سے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی سی کو شہری کا مسئلہ مقررہ مدت میں حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مردان سے عبدل رازق نے فرم رجسٹریشن کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ دو دفعہ عدم پیروی کے بناء پر کمیشن نے شکایت خارج کر دی۔ نوشہرہ سے وزیر گل نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ شہری حاضر نہ ہو سکا اگلی سنوائی پر دوبارہ طلب۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔

نورالبشر نوید کے اعزاز میں رنگا رنگ مازیگرے

پشاور میں نیاز ادبی سنگر کے زیرِ اہتمام پشتو ادب کے نامور شاعر، ادیب، صحافی، ڈرامہ نگار اور ترقی پسند فکری رہنما نورالبشر نوید کے اعزاز میں“رنگا رنگ مازیگرے”کے عنوان سے ایک شاندار اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ پشتو محض ایک زبان نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات اور طرزِ زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتو زبان اور ادب کی خدمت کرنے والے افراد ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور نورالبشر نوید جیسی شخصیات خصوصی قدر و منزلت کی مستحق ہیں۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے مزید کہا کہ نورالبشر نوید پشتو ادب کا ایک عظیم اور لازوال کردار ہیں۔ پریذیڈیم میں نیاز ادبی سنگر کے چیئرمین پروفیسر اسیر منگل، نامور پشتو شاعر رحمت شاہ سائل، پاکستان ٹیلی وژن پشاور کے سابق سینئر پروڈیوسر و ہدایتکار صلاح الدین، سابق سینئر پروڈیوسر و پروگرام منیجر مسعود احمد شاہ، سابق کمشنر و صوبائی سیکرٹری سید محمد جاوید، پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ لیاقت، نیاز ادبی سنگر کے کابینہ رکن محمد زبیر خان اور سنگر کی “آرٹ ونگ” کے سربراہ نورالبشر نوید موجودتھے۔نورالبشر نوید نے اپنی گفتگو میں نیاز ادبی سنگر کے سرپرست ڈاکٹر کاظم نیاز سمیت سنگر کی پوری کابینہ، کلچر ونگ، ہنری ونگ اور تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے روزنامہ وحدت کے ایڈیٹر سید ہارون شاہ اور دیگر دوستوں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں شیلڈز، گلدستے اور تحائف پیش کیے۔ نورالبشر نوید نے کہا کہ شرکاء کی محبت اور خلوص نے ان کے دل میں سب کے لیے محبت اور دوستی کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔پروفیسر اسیر منگل نے کہا کہ نورالبشر نوید ایک اعلیٰ معیار کے قوم پرست ادیب، فکری جدوجہد کرنے والے دانشور اور ترقی پسند شاعر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کا اتحاد اور اتفاق بشر نوید کی شاعری، صحافت اور سیاسی فکر کا مرکزی پیغام ہے اور ان کا نظریہ ایک آفاقی انسانی نظریہ ہے۔
نامور شاعر رحمت شاہ سائل نے کہا کہ نورالبشر نوید فکر و عمل کے میدان وسیع ہیں اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا، محبت اور اخلاص کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے نیاز ادبی سنگر کو زندہ شخصیات کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پرصلاح الدین نے کہا کہ نورالبشر نوید گہرے فکری شعور کے حامل ڈرامہ نگار ہیں اور ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کے بعد وہ پشتو کے نمایاں ڈرامہ نویس ہیں۔مسعود احمد شاہ نے کہا کہ نورالبشر نوید سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں اقسام کی ڈرامہ نگاری میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل نے کہا کہ نورالبشر نوید کی فکری و عملی خدمات شاعری، افسانہ، ڈرامہ، کالم نگاری، ادبی صحافت اور قومی ترقی پسند سیاسی فکر پر مشتمل ہیں، اور وہ ان تمام میدانوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔نورالبشر نوید کے صاحبزادے منصور نوید نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ آج ان کے والد کے اعزاز میں یہ شاندار تقریب منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ادب، صحافت اور سیاست میں مقام حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی اور وہ ان کے استاد، دوست اور رہنما ہیں۔تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر حسرت، فرید اللہ شاہ حساس اور نیاز ادبی سنگر کے میڈیا سیکرٹری صادق امن زئی نے نورالبشر نوید کی زندگی اور فن پر مقالے پیش کیے، جبکہ معروف ادیب و صحافی روخان یوسفزئی نے ان پر خاکہ پیش کیا۔نامور شعرا رحمت شاہ سائل، ڈاکٹر کاظم نیاز، فضل سبحان عابد، نمروز قیس، جوہر خلیل اور حمیدالرحمان نادان جبکہ نیاز ادبی سنگر کے وائس چیئرمین امجد علی خادم نے معروف ادیب و شاعر نورالبشر نوید کو منظوم عقیدت پیش کی۔اس سے قبل ذہین بچوں حسن منیر اور فریال منیر نے مکالماتی انداز میں نورالبشر نوید سے اپنی محبت اور ان کی شفقت کا خوبصورت اظہار کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔رنگا رنگ مازیگرے کی دوسری نشست میں ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیاز ادبی سنگر کے کلچر ونگ کے سربراہ فیاض خان خیشگی، سنگر کی کابینہ کے رکن وقار لائق، کلچر ونگ کے اراکین واجد لائق اور شمال نیاز نے موسیقی کے ساتھ نورالبشر نوید کا منتخب کلام پیش کیا، جس سے تقریب کی خوبصورتی اور رنگینی میں مزید اضافہ ہوا۔اس موقع پر کلچر ونگ کے معاون سربراہ شاکر زیب نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور نوید کی خوبصورت کلام موسیقی کے ساتھ پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر نیاز ادبی سنگر کی جانب سے نورالبشر نوید کو پشتو زبان، ادب اور ثقافت کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر مختلف ادبی حلقوں کی جانب سے شیلڈز، گلدستے اور خصوصی تحائف بھی پیش کیے گئے۔تقریب میں نیاز ادبی سنگر کے جنرل سیکرٹری فریدون خان, سنگر کابینہ کے اراکین قیصر کاکاخیل, آرٹ ونگ کے معاون سربراہ جمشید علی خان, ستار خان, کشر ہارون الرشید سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی زیر صدارت ماہانہ ریکوری،کارکردگی اور محکمہ میں جاری ریفارمز بارے جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس کی زیر صدرات رواں مالی سال 2025-26 کے سات ماہ (جولائی تا جنوری) محصولات ریکوری اور مقررہ اہداف کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان، ڈائریکٹر ایڈمن شہریار قمر خٹک، متعلقہ ڈائریکٹرز، اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز موجود تھے۔اس موقع پر سیکریٹری ایکسائز کو تمام ضلعی ایکسائز دفاتر کے مقررہ اہداف اور محصولات ریکوری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ محکمہ میں جاری مختلف انتظامی اور عوامی سہولیات کے ریفارمز پر پیش رفت سے بھی سیکریٹری ایکسائز کو آگاہ کیا گیا۔ سیکریٹری ایکسائز نے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے اور محصولات ریکوری کیلئے کوششیں مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کئے۔ انھوں نے اس موقع پر مزید احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں بڑے ٹیکس نادھندان کے خلاف قانون کے مطابق خصوصی مہم کا آغاز کیا جائے، ٹوکن ٹیکس نادہندہ گان اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں /موٹر سائیکلوں کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائے۔انھوں نے کہا کہ ریجنل ڈائریکٹرز ایکسائز اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز محکمہ کی کارکردگی اور محاصل ریکوری مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے اور عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور کسی قسم شکایت کا موقع نہ دیا جائے۔سیکریٹری ایکسائز نے کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی اور ڈیوٹی میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی، خلاف ورزی کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل لائی جائیگی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و ممبر صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں اراکین قائمہ کمیٹی وممبران صو بائی اسمبلی محمد عبدالسلام افریدی، عدنان خان، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ شہلا بانو اور محترمہ نیلوفر بابر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، محکمہ قانون، چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں 7 فروری 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بعض اسکولوں کی زمینوں پر مالکان کی جانب سے قبضے کیے گئے ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ انہوں نے زمین اس شرط پر دی تھی کہ ایک کلاس فور ملازم ان کے خاندان سے رکھا جائے گا۔ اس پر کمیٹی اراکین نے ہدایت کی کہ ایسے تمام سکولوں کا ضلعی تفصیلی ڈیٹا آئندہ اجلاس میں اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے۔محترمہ نیلوفر بابر کے سوال پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع چترال میں اسکولوں کی ضروری مرمت اور نئے کمروں کی تعمیر کا کام جاری ہے، جن میں سے پانچ اسکولوں کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ محترمہ ثوبیہ شاہد نے ضلع دیر میں 1960 میں تعمیر ہونے والی اسکول عمارتوں کی خستہ حالی اور طلبہ کی کم گنجائش کا مسئلہ اٹھایا اور ان کی فوری ازسرنو تعمیر کے احکامات جاری کرنے پر زور دیا۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی کے سوال پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے وضاحت کی کہ گریڈ 12 سے 18 تک کے اساتذہ اور دفتری عملے، جو ایک ہی سکول یا ضلع میں دو سال مکمل کر چکے ہیں، کو طے شدہ ٹرانسفر فارمولے کے تحت تبادلہ کیا جائے گا۔سیکرٹری نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 200 سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 500 اسکولوں کو اس نظام کے تحت لایا جا رہا ہے تاکہ انرولمنٹ میں اضافہ اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ رواں سال درسی کتب کی چھپائی میں تین کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا فائدہ پہنچا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی افتخار علی نشوانی نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں تمام خستہ حال اسکول عمارتوں اور کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے نئی محفوظ عمارتیں تعمیر کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور موجودہ شقوں، مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی۔ خاص طور پر صوبے میں مالی نظم و ضبط، قرضہ جاتی حدود، بجٹ خسارے اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر غور کیا گیا، جن میں قرض لینے کے مقاصد کو محدود کرنا، عارضی کیش ضروریات کے لیے قرض لینے کی شق ختم کرنا، غیر مالی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی شرح بڑھانا اور قرضوں کی ادائیگی کی حد کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد صوبے میں مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا، قرضہ جات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا اور مالی شفافیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی عوامی قرضوں اور گارنٹیز کی حد کم کرنے، پنشن واجبات سے متعلق شق ختم کرنے اور سرکاری اداروں کے قرضوں کو مجموعی حد کے تحت منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں قرضہ جاتی نظم و نسق سے متعلق قانون کی شق 11 میں ترمیم پر بھی غور کیا گیا۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ذمہ دارانہ مالی پالیسی، شفاف حکمرانی اور آئینی تقاضوں کے مطابق قانون سازی پر یقین رکھتی ہے، اور ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دے کر صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ کوئی بھی محکمہ قرض لینے سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری کا پابند ہوگا جبکہ گرانٹس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دیں گے، اور خودمختار ادارے صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر قرض نہیں لے سکیں گے۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد محکموں کو کم سے کم قرض لینے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے صوبے کے خسارے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے گی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قانون سازی سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم قابلِ عمل اور صوبے کے مالی مفاد کے مطابق ہوں۔

پاکستان کی پڑوسی ممالک سے تجارت تقریباً ختم ہے افغانستان کے ساتھ تجارت پچھلے تین ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت تقریباً ختم ہو گئی ہے بھارت کے ساتھ پہلے سے ختم ہے ایران کے ساتھ تجارت امریکا کی وجہ سے نہیں ہو رہی اور پچھلے تین مہینوں سے افغانستان کے ساتھ بھی تجارت تعطل کا شکار ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جنوری میں برآمدات مثبت سرپرائز تھی کیونکہ تین ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات ریکارڈ کی گئی اگر یہ مومینٹم برقرار رھا تو پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایک تقریب میں ایکسپورٹرز کیلئے اعلانات کیے جن میں ایک اعلان یہ تھا کہ ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ریفنانس میں ساڑھے چار فیصد کے حساب سے برآمدات پر قرض ملے گا مطلب تین فیصد ریلیف ایکسپورٹرز کو دیا گیا جو ایکسپورٹرز کیلئے اچھی خبر تھی اور یہ ریلیف حکومت نے بینکوں کے کھاتے میں ڈال دیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت نے صنعتی بجلی کی یونٹ تقریباً چار روپے کم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے صنعتکار خوش ہوگئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 200 یونٹس اور 500 یونٹس بجلی والے صارف تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ ہیں جس کے فکسڈ چارجز میں 200 سے 650 روپے تک اضافہ کیا جائے گا جس سے تقریباً 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے جس سے صنعتکاروں کو 4 روپے فی یونٹ بجلی میں ریلیف دی جائیگی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صنعتکاروں کو بلکل ریلیف دینی چاہیے لیکن جس ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس سے پیسے لیکر صنعتکاروں کو دینا ظلم ہے کیا عام عوام کی آمدن بڑھ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 200 یونٹس تک اور پھر 500 یونٹس تک کے صارفین کو بجلی آمدن کے لحاظ سے بہت مہنگی ہے اسلئے بہت سارے چھوٹے صارفین سولر بجلی پر آگئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کر رہی اور نہ ہی اسکادھیان اپنے غلط کیے گئے معاہدے پر جاتا ہے بلکہ غریب کے ساتھ مزید زیادتی کرنے پر اتر آئی ہے۔ کم بجلی والے صارفین پر فکسڈ چارجز میں اضافے سے مزید بوجھ آئے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے متحدہ عرب امارات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ویزہ پر سختی عائد کی ہے اور جو دو ارب ڈالر پاکستان کو بطور قرض دئیے تھے وہ پہلے سال کیلئے رول اوور کرتے تھے اب ایک مہینے کیلئے کیے ہیں اور جس پر سود شرح کی ساڑھے چھ فیصد ڈیمانڈ کی ہے۔ ساڑھے چھ فیصد شرح سود 130 ملین ڈالر بنتے ہیں جو پاکستانی روپے میں 36 ارب روپے بنتے ہیں۔حکومت کو خودداری دیکھا کر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ملک بھر میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال مینڈیٹ چور حکومتوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال مینڈیٹ چور حکومتوں کے خلاف عوامی ریفرننڈم ہے،دو سال قبل عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو بھاری اکثریت سے مینڈیٹ دیا، مگر بدقسمتی سے اس عوامی مینڈیٹ کو چوری کر کے وفاق، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں کٹھ پتلی حکمران عوام پر مسلط کیے گئے،انہوں نے کہا کہ اتوار کی کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جعلی حکومتوں کے خاتمے کی جانب عوام کا پہلا واضح پیغام ہے، صوبے بھر میں کارکنان نے تاریخی ریلیاں نکال کر مینڈیٹ چوری کے خلاف پُرامن احتجاج کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جعلی، مینڈیٹ چور اور عوام دشمن حکومتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ان جعلی حکومتوں سے جلد نجات دلائی جائے گی۔شفیع جان نے کہا کہ عوام کے منتخب حقیقی وزیراعظم عمران خان کو غیر قانونی اور جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ آج بھی عوام کے دلوں میں بستے ہیں،انہوں نے کامیاب شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال پر تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھرپور حمایت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ بھی وفاقی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس نہ تو ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کا کوئی واضح روڈمیپ ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر پالیسی،معاون خصوصی نے پنجاب میں سرکاری سطح پر بسنت منانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعے کے باوجود اس تہوار کو جاری رکھنا پنجاب حکومت کی سنگین بے حسی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پر مسلط جعلی وزیراعلیٰ نے بسنت کی آڑ میں سرکاری وسائل کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا، جبکہ جعلی پنجاب حکومت کی کارکردگی سے عوام شدید نالاں ہیں۔ بسنت کے نام پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ بے دریغ ضائع کیا گیا، جو ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے،خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی اور سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث کسان رُل گئے ہیں اور جعلی حکومت عوام کے حقیقی مسائل سے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ وفاق اور پنجاب کی غیر قانونی اور غیر آئینی حکومتیں عوام کی حقیقی خیرخواہ نہیں ہو سکتیں،صرف عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت ہی عوامی مسائل اور مشکلات کا حقیقی ادراک رکھتی ہے،شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ذاتی تشہیر نہیں کرتی اور سرکاری اشتہارات میں وزیراعلیٰ کی تصویر لگانے پر بھی پابندی ہے۔ سرکاری وسائل کا استعمال سیاسی شوز اور جعلی تشہیری مہمات کے بجائے شفاف انداز میں عوامی فلاح کے لیے ہونا چاہیے۔ قوم وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔