نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ جب اُنہوں نے وزرات اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبے کو خراب معاشی صورتحال کا سامنا تھا یہاں تک کہ ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں تھے لیکن بہترین ٹیم ورک اور مو¿ثر حکمت عملی کی بدولت نگران حکومت مالی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس وقت صوبائی خزانے میں تقریباً 100 ارب روپے کی رقم موجود ہے جبکہ برآں نگران دور حکومت میں کسی بھی بینک یا ادارے سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے وفاق کے ذمے صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے معاملہ وفاق کے ساتھ پرزور انداز میں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں قلیل مدت میں وفاق سے 64 ارب روپے کے اضافی فنڈز حاصل کئے گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے درمیان مفاہمت کے ذریعے 4.1 ارب روپے جبکہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت 20 ارب روپے کے اضافی فنڈز کا حصول ممکن بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع کیلئے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کی مد میں وفاق سے 28 ارب روپے حاصل کیے گئے جبکہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 12 ارب روپے کا حصول ممکن بنایا گیا ہے۔ پیر کے روز نگراں صوبائی وزراءبیرسٹر فیروز جمال شاہ کا کا خیل، احمد رسول بنگش اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نامساعد حالات میں عام انتخابات کا صاف و شفاف اور پ±ر امن انعقاد یقینی بنایا گیا جس کے لئے وہ اﷲ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔عام انتخابات کے پر امن انعقاد پر سول انتظامیہ، پاک فوج، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کی شبانہ روز محنت سے پر امن انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نگران دور میں تمام شعبہ جات میں خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر میں پاک فوج اور ایف سی کے تعاون سے “علم ٹولو د پارہ’ مہم کا اجراءکیا گیا جبکہ 33ہزار سے زائد بچوں کی انرولمنٹ اور 134 غیر فعال سکولوں کو فعال بنایا گیا ہے۔ اس کے علاو¿ہ مختلف سکولوں میں 10 ڈیجیٹل اسکلز لیب قائم کی گئی ہیں، پی ٹی سی فنڈز کے تحت 250 اساتذہ کی بھرتی کے علاو¿ہ 961طلبہ کو ہاسٹل کہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح شعبہ منصوبہ بندی و ترقیات میں پی ڈی ڈبلیو پی سے 206 ارب روپے مالیت کے 57 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ہوئی ہے جن میں 11 نئے اور 46 جاری منصوبے شامل ہیں۔اسی طرح ایکنک سے 109 ارب روپے مالیت کے میگا پراجیکٹس کی منظوری کرائی گئی ہے۔
نئی صوبائی اسمبلی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، سیشن بلانے کے لئے سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے خیبرپختونخوا نے نئی صوبائی اسمبلی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیشن بلانے کے لئے سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کردی گئی ہے اور سیشن کے لئے تاریخ کا تعین گورنر کی صوابدید ہے، انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے جمعہ کے مبارک دن سمری پر دستخط کئے اور سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کردی گئی ہے، نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے کہا کہ وہ خود بھی اس موقع پر موجود تھے، سمری پر دستخط کرتے ہوئے دعا کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ نئی صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھرپور طریقے سے بہتر قانون سازی کرے اور اس نتیجے میں صوبے میں دیرپا امن و امان ہو اور بھائی چارے کا بول بالا ہو۔انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے اور مالی مشکلات کے باوجود ہر ممکن کوشش کی گئی کہ صوبے کے معاملات احسن طریقے سے تکمیل کو پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نگران حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو صوبائی خزانہ خالی تھا، تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسے نہیں تھے، مگر اللہ کے فضل سے اب خزانے میں صوبائی حکومت کے معاملات چلانے کے لئے تقریباً 100 ارب روپے چھوڑ کر جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مالی معاملات احسن اور مدلل انداز میں اٹھائے گئے، سمگلنگ کی روک تھام کی گئی، ضم اضلاع کے مالی و دیگر امور پر اچھی پیشرفت کی گئی، بی آر ٹی اور صحت عامہ سمیت دیگر اہم منصوبوں کو نہ صرف جاری و ساری رکھا گیا بلکہ امور میں مزید شفافیت لے کر آئے، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم سے کم کر کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے صوبائی معاملات احسن طریقے سے انجام ہوئے اور اس پر ہم سب اللہ تعالیٰ کے مشکور ہیں اور نئی صوبائی اسمبلی کے لئے بھی دعاگو ہیں۔
خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلی جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کا پاکستان سویٹ ہوم اسلام آباد کا خصوصی دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیراعلی جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ نے پاکستان سویٹ ہوم اسلام آباد کا خصوصی دورہ کیا۔ سویٹ ہوم پہنچنے پر ادارے کی انتظامیہ اور بچوں نے نگران وزیر اعلی کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلی نے پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان اور سویٹ ہوم کے بچوں سے ملاقات کی. وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے اس موقع پر سویٹ ہومز کے ذریعے بے سہارا اور یتیم بچوں کی کفالت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے اللہ تعالی اپنے خاص مقصد کا کام لیتا ہے۔ مستقبل میں یہ بچے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ثابت ہونگے۔ اس موقع پر وزیراعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پاکستان سویٹ ہوم کے بچوں کے لیے 20 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان نے سویٹ ہوم کا دورہ کرنے اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے پر نگران وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی مشکور ہیں کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا پاکستان سویٹ ہوم تشریف لائے اور پاکستان سویٹ ہوم کے فرشتوں اور پریوں کے ساتھ وقت گزارا۔ زمرد خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے زندگی کے خوبصورت مشن سے نوازا ہے اور میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ پاکستان سویٹ ہوم کے بچے اور بچیاں آج ملک کی نامور یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں یہ ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ دنیا کی تاریخ کا پہلا کیڈٹ کالج جو صرف یتیم بچوں کے لیے شہیدوں و غازیوں کی سرزمین گوجر خان میں واقع ہے جہاں 200 سے زائد کیڈٹس زیر تعلیم ہیں۔ ۔
صوبائی نظامت اطلاعات اور پی آئی ڈی کے درمیان باہمی تعاون کی کوششوں کو مزید تقویت دی جائے گی، ڈی جی اطلاعات و تعلقات عامہ
منگل کو پشاور میں محمد عمران، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اور اشفاق احمد خلیل ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں میڈیا ڈائنامکس اور تعلقات عامہ کی حکمت عملیوں کے بدلتے ہوئے منظر نامے سے متعلق اہم امور پربات چیت کی گئی۔ ملاقات میں صوبائی نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا اور وفاقی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون، اشتراک، اور باہمی تجربات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے مسلسل رابطہ کاری پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں عوام کی درست معلومات تک بروقت رسائی اور میڈیا کے منظر نامے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد عمران اور ڈی جی پی آئی ڈی اشفاق احمد خلیل نے مشترکہ مقاصد کے حصول میں ہم آہنگی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا اور وفاقی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومتی امور میں شفافیت اور احتساب کے لئے میڈیا کے کردار پر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جدید دور کے تقاضوں اور ڈیجٹل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر میڈیا کے پلیٹ فارمز کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے. میٹنگ میں موثر اطلاعات اور عوامی خدمت کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں سیدہ یسرا گیلانی، سیکشن آفیسر وزارت اطلاعات و نشریات اسلام آباد اور ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات کے پی ابن امین نے بھی شرکت کی۔
نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کا دورہ
نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخواجسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے جمعرات کے روزعام انتخابات 2024 کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیلئے محکمہ داخلہ میں قائم الیکشن کنٹرول روم کا دورہ کیا جہاں اُنہیںایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید کی جانب سے صوبے میں انتخابات کے عمل اور انتظامات کے بارے میں بریفینگ دی گئی۔ نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر عامر عبد اﷲکے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، کمشنر پشاور محمد زبیراور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ کو کنٹرول روم دورہ کے موقع پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ الیکشن کنٹرول روم میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے متعلق کوآرڈنیشن کیلئے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کا عملہ ڈیوٹی پر موجود ہے جبکہ صوبہ بھر کے تمام پولنگ سٹیشنز پر انتخابی مواد اور عملہ بروقت پہنچایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ صوبے کے برفانی علاقوں میں قائم پولنگ سٹیشنز تک رسائی کیلئے رابطہ سڑکوں کو کلیئر رکھا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں انتخابی عمل کے سلسلے میں انتظامی اور سکیورٹی اُمور کی آن لائن مانیٹرنگ کیلئے جدید سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس کے ذریعے تمام پولنگ سٹیشنز سے معلومات بروقت حاصل کی گئی ہیں۔ سافٹ ویئر بارے بتایا گیا کہ انٹر نیٹ سروس معطل ہونے کی صورت میں مینول طریقے سے بھی سافٹ ویئر کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سافٹ ویئر میں تمام پولنگ سٹیشنز اور انتخابی عملے سے متعلق ہر قسم کی معلومات درج ہیں۔تمام پولنگ سٹیشنز کے ساتھ ہمہ وقت رابطے کیلئے ٹیلی فون اور موبائل فون کا متبادل نظام بھی موجود ہے ۔ آخری بیلٹ باکس موصول ہونے تک کنٹرول روم بغیر کسی تعطل کے کام کرتا رہے گا۔ وزیراعلیٰ نے عام انتخابات کیلئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا ہوم ڈیپارٹمنٹ میں پراونشل الیکشن ورک سپیس کا دورہ۔
نگران وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور انسپکٹر جنرل پولیس اخترحیات خان کے ہمراہ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں قائم پراونشل الیکشن ورک سپیس کا دورہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عابد مجید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پراونشل الیکشن ورک سپیس الیکش میں انتظامی امور دیکھنے کے لیے 24 گھنٹے کام کررہا ہے اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر متعلقہ انتظامی امور کی نگرانی کر رہا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی کنٹرول روم صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں قائم ضلعی کنٹرول رومز کے ساتھ ہمہ وقت رابطے میں ہے اور سیکیورٹی، پولنگ سامان اور سٹاف کی موجودگی کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری عابد مجید نے بتایا کہ سیکیورٹی، پولنگ سامان اور سٹاف کی موجودگی کی نگرانی خصوصی ایپ کے ذریعے کی جا رہی ہے اورایپ کو آف لائن نظام سے بھی منسلک کیا گیا ہے،کسی بھی پولنگ سٹیشن پر اگر پولنگ کا عمل جزوی طور پر رکتا ہے تو ایپ ہی پر پولیس کوئیک ریسپانس فورس کو طلب کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ پراونشل الیکشن ورک سپیس میں محکمہ اطلاعات، ہیلتھ، پولیس سمیت دیگر متعلقہ اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہیں اور ہائی الرٹ ہیں۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کاکاخیل میں الیکشن ڈے پر اطلاع سیل کا دورہ۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے الیکشن ڈے پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کے ہمراہ سول سیکریٹریٹ میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کے اطلاع سیل کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن خان سرور وزیر نے الیکشن ڈے کے حوالے سے اطلاع سیل کے مختلف امور پر بریفنگ دی۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ عوام تک حکومتی اقدامات اور بر وقت معلومات کی فراہمی میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کا کلیدی کردار ہے، اطلاعات کا محکمہ حکومت، میڈیا اور عوام کے درمیان اینکر کا کردار ادا کرتا ہے، میڈیا کے ساتھ کوورڈینیشن اور معلومات کی فراہمی اور میڈیا میں رپورٹ کئے جانے والے عوامی مسائل کو حکومت کے مختلف محکموں تک پہنچانے میں اطلاعات کے کمیونیکیشن سیکشن کا اہم رول ہے،الیکشن کے تمام مراحل میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے بھرپور کردار ادا کیا، الیکشن ڈے پر اطلاع سیل نے الیکشن سے متعلق ایونٹس کو ہمہ وقت مانیٹر کیا اور مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچائے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے اس موقع پر سٹاف کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اطلاع سیل کی بروقت رپورٹس کی بدولت محکموں اور انتظامیہ کو ضروری اقدامات اٹھانے میں کافی سہولت ملی ہے، سٹاف میڈیا میں اجاگرکئے جانے والے عوامی مسائل کو متعلقہ حکام تک پہچانے کیلئے اسی مستعدی اور فرض شناسی کے ساتھ کام کرے۔یاد رہے کہ جنرل الیکشن کے حوالے سے اطلاع سیل سے الیکشن کے تمام مراحل میں رپورٹ کئے جانے والے ایونٹس کو مانیٹر کیا گیا اور حکام تک پہنچایا گیا۔
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس میں معاشرتی بہبود، تعلیمی امور، اور مالی معاملات پر فیصلے
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس منگل کی سہ پہر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری اور صوبے کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ نے مختلف اداروں کے ساتھ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے معاہدوں پر مذاکرات کے لیے ٹرانزیکشنل ایڈوائزر/ لیگل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو اختیار دے دیا۔کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 22-A سے استثنیٰ کی منظوری دی جس سے صوبائی محکمہ ثقافت اور سیاحت پی ٹی ڈی سی کی سترہ (17)جائیدادوں کو آؤٹ سورس کر سکے گا۔کابینہ نے مسکان انسٹی ٹیوٹ سوات کے یتیم بچوں کے لئے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دے دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نے مذکورہ ادارے کا دورہ کیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ادارہ مہنگائی بالخصوص اشیائے خوردونوش کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے اور انہوں نے یک وقتی گرانٹ کی تجویز دی تھی۔کابینہ نے امید سپیشل ایجوکیشن سکول پشاور کے لیے سالانہ سسپنس فنڈ/گرانٹ ان ایڈ کی فراہمی کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔ 2015-16سے صوبائی حکومت انسٹی ٹیوٹ کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کر رہی ہے۔کابینہ نے پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ کے سیکشن 14(1) اور خیبر پختونخوا پروبیشن اینڈ پیرول رولز 2023 کے رول 11(2) کے تحت درے شہوار اور عمران ٹکر کو صوبائی پیرول کمیٹی کے ممبران بنانے کی منظوری دی۔ کابینہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں معاونین قاضی کا اعزازیہ 1200 روپے فی ورکنگ ڈے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے نظام عدل ریگولیشن 2009 کے تحت مئی 2019 میں 104 قاضیوں کو 3 سال کی مدت کے لیے تعینات کیا گیا تھا، ان میں سے 74 کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد مزید 3 سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ/امتحانات میں باڈی سرچ ڈیوٹی کے لیے 600 روپے معاوضے کی منظوری دی۔ کابینہ نے تحصیل مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 کے رول 23 میں ترمیم کی منظوری دی، ترمیم سے خیبرپختونخوا مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 مزید مستحکم اوربجٹ اور آڈٹ کو قانونی تحفظ فراہم ہو گا۔کابینہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز آف واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی (WSSC) مردان کیلئے سید محمد جاوید، دلاور فرحان شمس، ظاہر شاہ اور انجینئر قیصر زمان کے ناموں کی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد ایوب کی بطور چیف ایگزیکٹو آفس ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی (KPT&GSE) تقرری کی منظوری دی۔
خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کی روزگار کیلئے گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس پروگرام کا آغاز کیا۔
خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل اسکلز کی ضروریات کو پورا کرنے اور نوجوانوں کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے کیلئے ایک اہم اقدام کے طور پر ٹیک ویلی پاکستان اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی شراکت سے صوبے میں نوجوانوں کیلئے گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس پروگرام کا اجراءکر دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد میں ایک باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈسید ارشد حسین شاہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ٹیک ویلی پاکستان کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ٹیک ویلی پاکستان اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے درمیان خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو مختلف ڈیجیٹل اسکلز میں ٹریننگ کی فراہمی اور پروفیشنل سرٹیفکیشن کیلئے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو 5000 گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس فراہم کئے جائیں گے۔ مذکورہ مفاہمتی یاداشت پر عملی پیشرفت کے طور پر ایبٹ آباد سے پروگرام کا اجراءکر دیا گیا ہے جسے بتدریج صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی ۔گوگل کیرئیر سرٹیفکیشن پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو چھ ماہ کی مختصرمدت میں مختلف شعبوں میں جاب ۔ ریڈی اسکلز سے آراستہ کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے صوبے میں ڈیجیٹل اسکلز کے فروغ اور نوجوانوںکی پروفیشنل سرٹیفکیشن کیلئے تعاون فراہم کرنے پر ٹیک ویلی پاکستان اور گوگل کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ صوبائی حکومت اس اہم اقدام پر موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر تعاون فراہم کرے گی تاکہ صوبے کے نوجوان اس پروگرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مذکورہ پروگرام کا اجراءصوبے میں آئی ٹی صنعت سے منسلک اسکلز کے فروغ کے سلسلے میں صوبائی حکومت کے عزم کا عملی مظاہرہ ہے جس سے ناصرف نوجوانوں کو پیشہ وارانہ طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی بلکہ یہ پروگرام مجموعی طور پر روزگار کے فروغ اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت اس پروگرام سے خطے میں ڈیجیٹل اکانومی کے نئے راستے ہموار ہوں گے اور صوبے میں ڈیجیٹل اسکلز کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
نگران وزیر اعلیٰ نے پولیس کے شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور امن و امان کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پیر کے روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ہنگامی دورہ کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر عامر عبداللہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی پی خیبر پختونخوا اختر حیات خان گنڈاپور بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے تحصیل درابن میں پولیس تھانے پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے کمشنر آفس ڈی آئی خان میں امن و امان سے متعلق بریفنگ لی۔ اس موقع پر درابن میں پولیس پر ہونے والے حملے کے تناظر میں امن و امان کی صورتحال کے علاوہ عام انتخابات کے پر امن انعقاد کے لئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر ڈی آئی خان، ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی خان، ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی بریفنگز دیں۔
نگران وزیر اعلیٰ نے پولیس لائن میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا بھی دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اپنی گفتگو میں پولیس پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ حملہ سفاکانہ اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،اس طرح کے بزدلانہ واقعات سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہونگے، حکومت اور پوری قوم پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لئے پولیس نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور پولیس کی ان قربانیوں پر ہم سب کو فخر ہے۔ پولیس شہداءکے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہدائ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، حکومت شہداءکے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
