خیبرپختونخوا نگران وزیر اطلاعات،ثقافت سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے حضرت کاکاصاحب ‘المعروف شیخ رحمکار صاحب’ کے دربار میں منعقدہ محفل عید میلادالنبیؐ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں کہ ہم خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں اور ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے، اس برکت اور احسان کے ساتھ ہم پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں، کہ ہم فہم القرآن و حدیث مبارکہ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے احکامات، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ کی رضا کے مطابق زندگیاں گزاریں۔انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں حضرت کاکا صاحب کے دربار میں جمع ہوئے ہیں، ان بزرگانِ دین کی تعلیمات و شعور پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان بزرگوں کی راہ پر چلیں، انہوں نے کہا کلمہ شہادت لاالہ اللہ محمد رسول اللہ ہمارے دین کی بنیاد ہے، حضرت کاکاصاحب کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے وہ درویش ہیں جنہوں نے ترک دنیا کی اور دنیا کی لالچ نہیں کی، یہ وہ عاجز اور فقیر لوگ ہیں کہ انہوں نے صرف اللہ اور رسول ﷺ کی رضا اور قرآن کا فہم چنا، یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سلام کرنے آتے ہیں اور آتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے بادشاہ اس دنیا میں گزرے ہیں لیکن لوگ سلام پیش کرنے ان بزرگانِ دین کے پاس آتے ہیں، اور یہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی بھی ہے کہ یہ میرے پسندیدہ لوگ ہیں اور انہوں نے میری راہ میں تمام عمر صرف کی۔نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس سے پہلے حضرت کاکاصاحب کے دربار پر حاضری دی، فاتحہ پڑھی اور دعا کی، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اپنے والد حضرت میاں جمال شاہ کاکاخیل مرحوم و دیگر مرحومین کے مزاروں پر بھی حاضر ہوئے اور ایصال ثواب کے لئے دعا کی۔
ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے اقتصادی ترقی، پیپر لیس گورننس اور میرٹ کی بالادستی یقینی ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر ڈاکٹر سید سر فراز علی شاہ نے کہا ہے کہ کرونا کی وباء نے عالمی سطح پر ایک مضبوط و منظم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، تیز تر روابط، بہتر استعداد کار اور نئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن لازمی ہے۔ان خیالات کا اظہار نگراں صوبائی مشیر برائے معدنیات و معدنی ترقی، منصوبہ سازی و ترقی اور توانائی و برقیات ڈاکٹر سید سر فراز علی شاہ نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا ریونیو موبلائزشن اینڈ پبلک ریسورس مینجمنٹ کے پی ڈی فیصل شہزاد سے ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کے دوران کیا۔ سینئر منیجر ای وائی نسیم ثانی اور پروگرام منیجر نیٹ سول زاہد مشتاق بھی ملاقات میں شریک تھے۔ اس موقع پر نگراں صوبائی مشیر کو خیبرپختونخوا میں ای گورننس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی مد میں اٹھائے گئے اقدامات، جاری منصوبوں، درپیش چیلنجز اور تجاویز کے بارے میں تفصیلی بریفننگ دی گئی۔نگراں مشیر ڈاکٹر سید سر فراز علی شاہ نے اداروں میں اصلاحات اور ڈیجیٹائز یشن کے امور میں دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ اس سے تیز تر سروس کی فراہمی یقینی ہوگی۔ نگراں مشیر نے ای گورننس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی مد میں اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا قیام یقینی بنانے اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز سیکھانے پر بھی زور دیا۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد، نگران وزیر اطلاعات کی خصوصی شرکت
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، کھلی کچہری کی صدارت چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کی، جنہوں نے عوام کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے موقع پر ہدایات جاری کیں، نگران وزیر اطلاعات، ثقافت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بھی کھلی کچہری میں خصوصی طور پر شرکت کی۔کھلی کچہری میں صوبائی دارالحکومت اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے مختلف نوعیت کے مسائل چیف سیکرٹری اور نگران وزیر اطلاعات کے سامنے رکھے۔افتتاحی کلمات میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کھلی کچہری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ کھلی کچہریاں عوام کے مسائل کو براہ راست سننے اور ان کو فوری حل کرنے کا موثر ذریعہ ہیں. انہوں کہا کہ سرکاری محکموں، ڈویژنل اور اضلاع کی انتظامیہ کو کھلی کچہری کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے کی واضح ہدایات پہلے سے ہی جاری کر دی گئی ہیں۔ اور اسی سلسلے میں چیف سیکرٹری آفس میں بھی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ نگران وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بھی کھلی کچہری میں شرکت کرتے ہوئے شہریوں کے مسائل کو غور سے سنا، اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی، انہوں نے عوام کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان کے فوری حل میں کھلی کچہری کو موثر پلیٹ فارم قرار دیا. انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کے لیے عوام کا اطمینان بہت ضروری ہے اور اس طرح کے اقدامات، شفافیت، احتساب اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کھلی کچہری کے دوران اٹھائے گئے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو موقع پر فوری کارروائی کی ہدایات جاری کیں، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے عوام کی بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور چیف سیکرٹری کے دفتر میں کھلی کچہری کے انتظامات کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کی یہ روایت برقرار رکھی جائے گی۔
محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام جمعرات کے روزمتحدہ علماء بورڈ کے تعاون سے سیرت النبی ص کانفرنس کا انعقاد
محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام متحدہ علماء بورڈ کے تعاون سے پشاور میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ سیرت النبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق،اوقاف و مذہبی امور جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات تمام بشریت کے لیے اسوہ حسنہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے اس وقت تنگ نظری اور فرقہ واریت کے دائرہ سے نکل کر امت میں اتحاد پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ مسلمان علمی اور فکری بنیادوں پر عالمی نظم و نسق میں کردار ادا کر سکیں۔ انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل اسوہ حسنہ پر عمل کرنے میں ہے۔انسانیت کا رشتہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔نگران صوبائی وزیر جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے علماء کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ معاشرے میں سیرت کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے محکمہ مذہبی امور سے بھی کہا کہ وہ معاشرے کی اصلاح اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔نگران صوبائی نے کہا کہ علماء معاشرے میں برائی کی روک تھام کیلئے جہاد کررہے ہیں اور انہیں معاشی طور پر مضبوط کریں گے ان کے مسائل کوترجیحی بنیاد پر حل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کتنی بھی ترقی کر لے آپس کی بھائی چارگی، محبت اور پیغام امن کا درس محسن انسانیت کی تعلیمات سے ملتا ہے۔جس میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ پہنچتے ہی پہلا درس تعلیم اور سماج کی ترقی کا دیا۔ صحابہ کرام کو جمع کر کے وہاں کی ماحول سازی کی۔ دینی ترقی ہو یا ملکی، سائنسی ایجادات یا ٹیکنالوجی ہر امور کے لیے ماڈل تعلیم رسول ہے۔ ترقی کی منازل کے لیے معلم کائنات کی زندگی کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی قیام امن اور بھائی چارہ اخوت و محبت انسانیت کی فلاح و بہبودی کا پیغام ہمیں سیرت طیبہ سے ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے سماج، تعلیم و تربیت، تجارت سیاست معیشت و عدالت اور بین الاقوامی نظام کا ڈھانچہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اور طلباء کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف اقدامات اٹھارہے ہیں۔ مختلف مدارس میں کیمپوٹر لیبز تعمیر کی جارہی ہیں۔ جن سے مدارس کے طلباء بہترین طریقے سے مستفید ہوسکیں گے۔ سیرت النبی کانفرنس میں علماء کرام نے اپنی تقاریر میں حیات طیبہ پر روشنی ڈالی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔کانفرنس کے اختتام پر سیکرٹری حج، اوقاف اور مذہبی امور ڈاکٹر اسد علی نے صوبائی وزیر جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کو شیلڈ پیش کی جبکہ محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی جانب سے علماء کرام کو بھی شیلڈ دی گئیں۔
سپورٹس پروجیکٹس میں نقائص پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیر کھیل
خیبر پختونخواکے وزیر کھیل، امور نوجوانان،سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ نے صوبے کے مختلف سپورٹس کمپلیکس میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور سکیموں میں تاخیری حربوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ کھیل کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ جن ٹھیکیداروں نے فنڈز جاری ہونے کے باوجود منصوبوں پر تعمیراتی کام مکمل نہیں کیا ان کے خلاف قانونی کاروائی کر کے ان سے فنڈز کرنے کے ساتھ بلیک لسٹ کیاجائے۔ وہ اپنے دفتر میں بنوں ٹاؤن شپ میں بیڈمنٹن ہال سکیم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ نگران وزیر کو مذکورہ سکیم پر متعلقہ افسران نے تفصیلی بریفنگ دی نگران وزیرنے بنوں بیڈمنٹن ہال سکیم پر اب تک ہونے والے تعمیراتی کام اور ناقص مٹیریل کے استعمال پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ کھیل کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی اور مذکورہ سکیم سمیت دیگر کھیلوں کے منصوبوں کی اصل حقیقت جانچنے کا ٹاسک دیا گیا۔کمیٹی ممبران نگران وزیر کھیل کو تمام سکیموں پر اب تک ہونے والے کام کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں گے اور صوبے میں محکمہ کھیل کی جاری سکیموں کا جائزہ لینے کے لیے دور ہ کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اکثر ٹھیکیداروں کو 70 فیصد فنڈز جاری ہوئے ہیں لیکن تعمیراتی کام 10 فیصد بھی مکمل نہیں ہوا ہے ان کے خلاف فوری کارروئی کی جائے جب تک تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوتا ٹھیکیداروں کو ایڈوانس میں فنڈز ریلیز نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو ہم نے ٹھیک کرنا ہے باہر سے کوئی نہیں آئے گا سرکار کے فنڈز کو غلط طریقے سے استعمال نہیں ہونے دیں گے ان سکیموں پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں تمام منصوبوں کی میں خود نہیں نگرانی کر رہا ہوں اور تمام حقائق کو دیکھوں گا۔انہوں نے بیڈمنٹن ہال سکیم کے حوالے سے بریفنگ کو دس دن بعد دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
پشاور میں روزانہ فی فرد اعشاریہ 46 کلوگرام کوڑا کرکٹ پیدا ہوتا ہے. نئی تحقیق
کوڑا کرکٹ میں ٪52 غذائی فضلے اور پلاسٹک کی شرح ٪16 ہے. ری سائیکلنگ کرکے توانائی حاصل کر سکتے ہیں. ڈاکٹر ضیاد
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نئی ہونے والی تحقیق کے مطابق روزانہ فی فرد اعشاریہ 46 کلوگرام کوڑا کرکٹ پیدا ہو رہا ہے جس میں 52 فیصد فضلے اور پلاسٹک کی شرح 16 فیصد ہے لیکن فضلے کی ری سائیکلنگ کرکے توانائی حاصل کی جا سکتی ہے. انفارمیشن ڈائریکٹوریٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حالیہ تحقیق جامعہ پشاور کے طالبعلم سکالر محمد ضیاد نے اپنی ڈاکٹریٹ مقالے میں کی ہے جنہوں نے گزشتہ روز شعبہ ماحولیاتی علوم پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرلی. تفصیلات کے مطابق، “پشاور میں میونسپل وپلاسٹک فضلے کی توانائی کے لئے ری سائیکلنگ“ کے موضوع پر تحقیقی مقالے میں مہنگا ہونے کے باعث پٹرولیم پر مبنی توانائی کے ذرائع سے متبادل کے طور پر کوڑا کرکٹ سے توانائی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ پلاسٹک فضلے سے نہ صرف توانائی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ اس سے پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی پر بھی قابو پایا جاسکے گا جو ماحول کی صفائی کا ایک پائیدار حل ہے۔ سکالر کی تحقیق میں پشاور میں پلاسٹک کی مقدار کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے اس کی خصوصیات بیان کی ہیں جس کی مختلف اقسام مائع تیل اور گیس میں تھرمل کیٹلسٹک عمل کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق پشاور میں روزانہ فی فرد اعشاریہ 46 کلوگرام کوڑا کرکٹ پیدا ہوتا ہے جس میں 52 فیصد غذائی فضلے اور پلاسٹک کی شرح 16 فیصد ہے، پلاسٹک فضلے میں پولی تھین قسم زیادہ پائی جاتی ہے جس کی شرح 48 فیصد، پولیتھیلین ٹیرفتھلیٹ کی شرح 23.7فیصد ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ پلاسٹک فضلے سے نمٹنے کے لئے پلاسٹک ویسٹ ریفائنری سسٹم قائم کیا جائے جس سے اخراجات میں بچت کے ساتھ ساتھ توانائی پیدا ہوگی، گرین ہاؤس گیس کا اخراج کم ہوگا اور تجارتی بنیادوں پر استعمال سے محاصل پیدا ہوں گے۔ تحقیق کے مطابق پلاسٹک ویسٹ کی تھریل اور کیٹلسٹک پائرولیسس ماحول دوست ہے جس سے کم خرچ کے عوض مائع تیل پیدا کیا جاسکتا ہے جو روایتی ایندھن کا متبادل ہوسکتا ہے، حکومت اس طرف توجہ دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے پلاسٹک پر قابو پاسکتی ہے۔
وادی کمراٹ میں ماحول دوست اقدامات یقینی بنائے جائیں، نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بدھ کے روز محکمہ سیاحت کے کانفرنس روم میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وادی کمراٹ میں سیاحت اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے. آن لائن اجلاس میں سیکرٹری سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ اور میوزیم ڈیپارٹمنٹ مطاہر زیب، چیئرمین کے ڈی اے سفید شاہ، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے عرفان خان، اور دیگر ممبران سمیت اہم حکام نے شرکت کی، جس کا مقصد کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اقدامات کو تیز کرنا تھا۔ نگران وزیر نے وادی کمراٹ کی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے جامع کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے حکام کو وادی کمراٹ میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وادی کے قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ اس کے نباتات اور حیوانات کا تحفظ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اجلاس میں سیاحت کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے، فضلے کا انتظام اصولوں کے مطابق کرنے، سیاحوں میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دینے اور علاقے میں حیاتیاتی تنوع کا تحفظ یقینی بنانے جیسے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا. اجلاس میں مروجہ قوانین کے تحت کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ کار کا جائزہ لیا گیا اور اس میں بہتری لانے پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں کے ڈی اے کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات بھی تجویز کیے گئے۔ نگراں وزیر سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیں اور اقدامات کی شفافیت اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ رپورٹ پیش کریں۔
خیبرپختونخوا میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے آگے بڑھنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
چائنہ سٹڈی سنٹر، پشاور یونیورسٹی، اور پاکستان چائنہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن، کے پی چیپٹر نے مشترکہ طور پر سینٹ چائنہ میں پیپلز ریپبلک آف چائنہ کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹنے کی تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرڈاکٹر نجیب اللہ نے چینی عوام کو ان کے قومی دن پر مبارکباد دی اور اعلیٰ تعلیم اور عوام سے عوام کے رابطے کے ذریعے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے چائنہ سٹڈی سنٹر UoP کی کوششوں کی تعریف کی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ چینی ثقافت، تاریخ اور تہذیب کو سمجھنے پر توجہ دینے اورسائنس اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں پاکستان کوچین کی مہارت سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)، ہنر مند ی ومحنت اور اعلیٰ تعلیم۔ اقتصادی ترقی کے مختلف عوامل ہیں چین براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے اسٹریٹجک استعمال کے ذریعے صنعتوں اور اور دیگرشعبوں میں عالمی رہنما بن گیا ہے۔ کثیر القومی کارپوریشنز کو اپنی مارکیٹ میں خوش آمدید کہنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سازگار پالیسیاں قائم کرنے سے، چین نے اہم سرمائے اور مہارت سے استفادہ کیا ہے جس نے اس کی اقتصادی ترقی میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین کا 74 واں یوم تاسیس مناتے ہوئے ہمیں اپنے وقت کے آزمائے ہوئے دوست کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے آگے بڑھنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں چینی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔اس موقع پروفیسر ڈاکٹر کوثر تکریم، ڈائریکٹر چائنہ سٹڈی سنٹر، پشاور یونیورسٹی نے کہا کہ آج ہم یہاں عوامی جمہوریہ چین کا یوم تاسیس منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، ایک ایسی قوم جس کی ایک بھرپور اور گہری تاریخ ہے اور اس نے گزشتہ دہائیوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس اہم دن کو مناتے ہوئے اس ناقابل یقین سفر پر غور کرنا ضروری ہے جو چین نے اپنے قیام کے بعد سے شروع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی بنیاد سوشلزم، اتحاد اور اپنے عوام کی خوشحالی کے اصولوں پر استوار ہے۔سید علی نواز گیلانی، سیکرٹری جنرل، پاکستان چائنہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے پی نے چین کی بھرپور تاریخ کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کی پائیدار جدوجہد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ چین کی مسلسل کوششوں نے اسے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھایا ہے۔
خیبر پختونخوا میں شہری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر نگران وزیر کا اطمینان
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی اور آبنوشی انجنیئر عامر درانی نے خیبر پختونخوا سیٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ (کے پی سی آئی پی) کے تحت صوبے کے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز شہروں میں جاری منصوبوں پر کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے ان شہروں کے عمومی ماحول اور وہاں کے شہریوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کے پی سی آئی پی آفس کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات محمد داؤد خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر سیٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ سید ظفر علی شاہ،ڈائریکٹر کمپلائنس کے پی سی آئی پی امیر عالم خان، دائریکٹر ٹیکنیکل میاں محمد شکیل اور ڈائریکٹر فنانس قاضی رئیس بھی موجود تھے، نگران وزیر عامر درانی کو متعلقہ حکام نے صوبے میں جاری واٹر سپلائی سکیموں،گرین بیلٹ،گرین پارکس،سپورٹس کمپلیکس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت اور چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا سیٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ سید ظفر علی شاہ نے نگران وزیر کو صوبے کے پانچ ڈویژنل شہروں پشاور، مردان، کوہاٹ، مینگورہ اور ایبٹ آباد میں جاری پانی سپلائی، سیوریج اور سینی ٹیشن کے ساتھ پارکوں کی تعمیر کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے مذکورہ شہروں میں پانی اور صفائی کا ایک جدید نظام عمل میں آئیگا جس سے انسانی صحت اور شہروں کے عمومی ماحول پر مثبت اثر ات مرتب ہونگے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مینگورہ اور ایبٹ آباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں دریا اور چشموں کا پانی صاف کرکے لوگوں کو فراہم کیا جائیگا۔ لوگوں کا صاف پانی تک رسائی سے کئی بیماریوں کا خاتمہ ہوگا۔ دریاؤں کا پانی استعمال کرنے سے ان شہروں میں زیرزمین پانی کے ذخائر آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ ہونگے۔ اسی طرح ان شہروں میں پارکس تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں تمام جدید سہولیات جیسے اوپن ائیر جم، کار پارک، اربن فارسٹ، باربی کیو سپاٹس، سائیکلنگ ٹریکس، باسکٹ بال اور ولی بال کورٹس اور بچوں کے کھیلنے کے لئے الگ جگہیں ہونگی۔ نہروں اور دریاؤں کو آلودگی سے بچانے کے لئے سیوریج سسٹم کو بحال کیا جارہا ہے جس میں سیوریج اور بارش کے پانی کے لئے الگ نظام کا بندو بست کیا جارہا ہے۔ تمام منصوبوں کو کلائمیٹ چینج اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات خیبرپختونخوا کو فعال بنانے اور قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان۔
خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے ماحولیات، زراعت، لائیو سٹاک و خوراک آصف رفیق نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت محکمہ ماحولیات کو فعال بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اس کی تشکیل نو کر رہی ہے جبکہ اگلے مرحلے میں عنقریب ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے والے مافیا پر ہاتھ ڈالا جائے گا اور قانون شکن عناصر کو بلاامتیاز کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اس کا انکشاف انہوں نے پختونخوا ریڈیو کے پروگرام پختونخوا آن لائن میں میزبان ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ پختونخوا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر غلام حسین غازی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ ماحولیات و جنگلات کی فورس بھی دراصل شہداء کی فورس ہے جسے مزید منظم کیا جا رہا ہے جبکہ عنقریب وزیراعلی سے ملاقات میں اس فورس کیلئے شہداء پیکیج کی سفارش بھی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے نگران دور حکومت میں ہم ماحولیات سمیت تمام محکموں کی واضح سمتوں کا تعین بھی کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات کی بقاء قومی جذبے سے شجر کاری میں مضمر ہے جبکہ صوبائی حکومت نے جنگلات میں کاربن کریڈٹ کے ذریعے قومی خزانے اور عوام کی آمدن میں اضافے کیلئے متعدد یورپی اور خلیجی ممالک سے رجوع کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آصف رفیق کا مزید کہنا تھا کہ بلیٹن ٹری منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔ ایک دوسرے سوال پر صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ پشاور چڑیا گھر کو سیاحوں کیلئے پرکشش بنانے کی غرض سے جنگلی حیات کا عجائب گھر قائم کیا جا رہا ہے جبکہ سوات اور دیگر ٹھنڈے و سیاحتی مقامات پر بھی چڑیا گھر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔انہوں نے نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس سے متعلق سوال پر مزید واضح کیا کہ اس شعبے کے تحت جنگلات والے علاقوں میں آمدن کے ذرائع بڑھائے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے میں پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور کوئی بھی جاری منصوبے بند کرنے یا روکنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
