Home Blog Page 345

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت کا لوک میلہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور خطاب

نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے لوک ورثہ اسلام آباد میں سالانہ لوک میلہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔صوبائی وزیر نے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ اور فلسطین کے سفیر احمد جواد ربعیی کے ہمراہ صوبوں کی جانب سے لگائے گئے پولینز کا دورہ کیا۔خیبرپختونخوا پولین آمد پر خیبرپختونخوا وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، پاکستان میں فلسطین کے سفیر اور دیگر مہمانوں کا استقبال کیا۔خیبرپختونخوا کلچر و ٹورز اتھارٹی کے حکام نے مہمانوں کا خیبرپختونخوا پولین کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا،مہمانوں نے سٹالز، فوڈ کارنر، فوک میوزک، فن و ادب، ثقافتی ملبوسات، کشیدہ کاری و زیورات میں گہری دلچسپی لی اور لوک موسیقی سے محظوظ ہوئے۔وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے فلسطین کارنر کا بھی دورہ کیا، فیملیز سے ملے اور اظہارِ یکجہتی کیا اور خیبرپختونخوا حکومت اور عوام کا پیغام پہنچایا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ اس طرح کے ایونٹ ہمیں متحد کرنے کا کام کرتے ہیں اور ہماری ثقافت، اقدار اور ایک معاشرے کے طور پر ہماری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ایونٹ اس بات کا عکاس ہیں کہ ہماری مقصدیت کیا ہے اور کس سمت میں ہم جا رہے ہیں اور کونسی وراثت ہم اگلی نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی کاز، فلسطینی عوام ان کی ثقافت اور ورثہ اس وقت قدیم ترین ثقافت ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں انسانیت اور تہذیب کا امتزاج بنتا ہے، فلسطینی کاز کے لیے ہم بحیثیت حکومت، بحیثیت قوم کھڑے ہیں، خاص طور پر خیبرپختونخوا کا پیغام ہے کہ ہمارے خون کے آخری قطرے تک ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم فلسطینی کاز کے لیے کھڑے ہیں، ہم اس کے لیے کھڑے ہیں جس کے لیے آپ کھڑے ہیں، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب اس طرح کی ایک تقریب یروشلم اور غزہ کے قلب میں منعقد ہوگی۔

خیبرٹیچنگ ہسپتال کے ڈائریکٹر کی نگران وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمحمد ظفر آفریدی کی گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، ڈاکٹر محمد ظفر آفریدی نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور صوبے میں دیگر صحت کے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈائریکٹر نے وزیر اعظم کو سوینئر کے طور پر خیبر پاس کا ماڈل تحفہ پیش کیا جبکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ کا کتابچہ بھی پیش کیاگیا، وزیراعظم نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ریکارڈ تبدیلیوں میں اور ترقیاتی کاموں پر گہری خوشی کا اظہار کیا اور انتظامیہ کی انتھک محنت اور کوششوں کو سراہا، انھوں کہا کہ میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے واقف ہوں اور خیبر پختونخوا میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال ایک رول ماڈل ادارے کا کردار ادا کر رہا ہے، کتابچے میں نئے تعمیر شدہ او پی ڈی عمارت، ماڈیولر، ہسپتال کے آپریشن تھیٹر، نئی ایمرجنسی عمارت کی تعمیر کے قیام کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پہلی ہیلیم فری، ایم آر آئی مشین، پاکستان کے پہلے جنرل اور قدیم سرکاری ہسپتال جو آئی ایس او سرٹیفیائیڈ ہے، سے متعلق معلومات درج ہیں۔ ڈاکٹرمحمد ظفر آفریدی نے ان کو مستقبل کے مزید ترقیاتی کاموں کی فہرست و تفصیلات پیش کیں جو بجٹ میں کمی کی وجہ سے پوری نہیں ہو رہیں جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا کی حکومت سے مزید بجٹ کی منظوری کے حوالے سے بات کرینگے۔ مزید برآں ڈاکٹر ظفر آفریدی نے وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال دعوت کی پیشکش کی اور ہسپتال میں نئے تعمیر شدہ ائی سی یو کمپلیکس سمیت کیت لیب اور پاکستان کی پہلی 1.5 ٹیسکلا ہیلیم فری ایم آر ائی مشین کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں جس پر وزیر اعظم نے گہری دلچسپی ظاہر کی اور انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ میں اپنے اگلے پشاور کے دورے میں انشاء اللہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کرینگے اور ہسپتالوں کے درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے کیونکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہی حکومت وقت کی اولین ترجحات میں شامل ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا نگران وزیر اور ایڈوکیٹ جنرل کی ملاقات میں یتیموں کی کفالت اور تعلیم کے امور پر تبادلہ خیال۔

نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل سے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عامر جاوید، ایس او ایس ولیج پشاور کے منیجنگ کمیٹی کے چیئرمین جسٹس (ر) قلندر علی خان نے چیف سیکرٹری آفس پشاور میں گزشتہ روز ملاقات کی،ملاقات کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری بھی موجود تھے،ملاقات میں یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایس او ایس ویلج پشاور کے کردار پر گفتگو کی گئی۔چیئرمین مینجنگ کمیٹی ایس او ایس ولیج پشاور جسٹس (ر) قلندر علی خان نے یتیم بچوں کی کفالت کے لئے ایس او ایس وییج پشاور میں موجود سہولیات اور ادارے کے طریقہ کار پر گفتگو کی۔نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے یتیموں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کو ایک مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ ایس او ایس ویلج جیسے اداروں کا اس ضمن میں بہت ہی اہم کردار ہے، انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کا کردار بھی مسلمہ ہے اور نجی فلاحی ادارے اس ضمن میں بہترین خدمات فراہم کررہے ہیں،باہمی اشتراک اور سرپرستی سے یتیموں کی کفالت جیسے اہم فریضے کو بہتر طریقے سے نبھایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پیغمبرِ اسلام خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی زندگی اور اسوہ حسنہ سے سیکھنا ہوگا اور احکامات پر عمل پیرا ہونا ہوگا اور پیغمبرِ اسلام خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی مبارک زندگی سے ہمیں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کا درس ملتا ہے۔ملاقات میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عامر جاوید نے نگراں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل سے صوبے کے قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

نگران وزیر برائے خزانہ، مال اور اینڈ اینڈٹیکسیشن کی صدارت میں اہم اجلاس کا انعقاد

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خزانہ،مال اورایکسائز اینڈ اینڈٹیکسیشن احمد رسول بنگش نے جمعرات کے روز واٹر اینڈ سنیٹیشن سروسز کمپنی کے دفتر واقع کے ڈی اے کوہاٹ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر،چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ کے سی ای اونے محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء سے خطا کرتے ہوئے صوبائی وزیرنے کہا کہ نگران حکومت عوام کو تمام بنیادی سہولیات اورخدمات کی بلاتعطل فراہمی کویقینی بنانے کیلئے حتی المقدور کوشش کررہی ہے۔انہو ں اجلاس میں پیش کئے گئے مسائل ومشکلات کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سخت مالی مشکلات کے باوجود مسائل ومشکلات کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پرعملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایات کی کہ عوام سے وابستہ خدمات اورذمہ داریوں کوبطریق احسن سرانجام دینے میں کوئی کسرنہ اٹھا ئیں۔ انہوں نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پرعمل درآمد یقینی بنانے کیلئے سختی سے تاکید کی۔

میونسپل آفیسر کے درمیان تنازعہ تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کمیشن کے ذریعے انکوائری کرانے کا حکم

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر بلدیات و آبنوشی انجینئر عامر درانی نے تحصیل ناظم متھرا اور ریجنل میونسپل آفیسر کے درمیان تنازعہ کی تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کمیشن کے زریعے انکوائری کرانے کا حکم دیدیا ہے۔یہ احکامات انہوں نے جمعرات کے روز بلدیات کمیٹی روم میں تحصیل ناظم متھرا اور آرایم او کے مابین تلخ کلامی اور تنازعے کی تحقیقات کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کے دوران جاری کئے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تحصیل ناظم متھرا انعام اللہ خان اور ریجینل میونسپل آفیسر کے درمیان فنڈز کی تقسیم اور لوئر سٹاف کی حوالگی کے سلسلے میں تنازعہ پیدا ہوا جسکے نتیجے میں انکے درمیان نا خوشگوار واقعہ ہوا۔تحصیل چیئر مین نے فنڈز کی عدم دستیابی اور انکی غیر منصفانہ تقسیم اور خوشحال باغ سے کلاس فور ملازمین کی تحصیل چیئرمین آفس حوالگی کے حوالے سے شکایت کی۔تحصیل ناظم کا موقف تھا کہ تحصیل متھرا کی آمدنی انکو نہیں مل رہی جو کہ انکا حق ہے جبکہ سٹاف کی تنخواہیں بھی وہ وہی سے دی جا رہی تھی۔تحصیل ناظم نے خوشحال باغ سے چودہ میں سے چھ ملازمین کی تحصیل ناظم آفس حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جس سے آر ایم او اور انکے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔اس موقع پر نگران وزیر نے بلدیات کمیشن حکام کو معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کرانے اور اگلے اجلاس میں رپورٹ جمع کرانیکی ہدایت کردی۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات داود خان،سپیشل سیکرٹری بلدیات محمد مسعود،سابق سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ حفظ الرحمان اور محکمہ خزانہ اور قانون کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پشاور میں پہلا کارڈیالوجی سمٹ کا انعقاد، مشیر صحت پروفیسر ریاض انور کی خصوصی شرکت۔

ایل آرایچ پشاور میں پہلے کارڈیالوجی سمٹ کا انعقاد، مشیر صحت پروفیسر ریاض انورکی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت، ایل آرایچ پشاور میں پہلے کارڈیالوجی سمٹ کا انعقادہوا جس میں مشیر صحت پروفیسر ریاض انور نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی، کارڈیالوجی سمٹ کے انعقاد کا اہتمام ڈاکٹر ملک فیصل افتخار اور اس کی ٹیم نے کیا اور اس میں کارڈیالوجی کے نامور ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔اس موقع پر ایل آر ایچ کے بورڈ آف گورنرز کے چیرمین پروفیسر محمد ذبیر خان اور انتظامیہ بھی، بورڈ ممبر ڈاکٹر موسیٰ کلیم کے،پروفیسر حفیظ اللہ، ڈاکٹر محمود اور کے ٹی ایچ کے ڈاکٹر عمار اشرف، پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے صدر،پی آئی سی۔ ایچ ایم سی، کے کارڈیالوجسٹ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور نے کہا کہ ایل آر ایچ کا کارڈیالوجی یونٹ بہترین خدمات پیش کر رہا ہے اور اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ ایل آر ایچ کا کارڈیالوجی یونٹ صوبے کا پرانا اور بڑا یونٹ ہے۔ ۔ایل آر ایچ کے کارڈیالوجی یونٹ کے ہیڈ ڈاکٹر ملک فیصل افتخار نے کہا کہ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ایکو، انجیوگرافی اور پرائمری پی سی آئی سمیت دیگر تمام سروسز 24 گھنٹے مہیا کی جا رہی ہیں جبکہ اس حوالے سے نئی ٹیکنالوجی اور جدید مشینری اور آلات کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سی سی یو میں 24 گھنٹے دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ پیڈیاٹرک کارڈیالوجی یعنی بچوں کے دل کے امراض کا یونٹ بھی مکمل طور پر فعال ہے جو دل کے بیمار بچوں کو مسلسل علاج فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ملک فیصل افتخار نے کہا کہ ایل آر ایچ کا پریونٹو کارڈیالوجی سیکشن علاج کے ساتھ ساتھ دل کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے بھی مسلسل کام کر رہا ہے۔

یو ایس ایڈ کی معاشی ترقی و بحالی پروگرام کے تحت مردان کے 250 زمینداروں کو بیج فراہم کیے گئے۔

خیبر پختونخوا حکومت اوریو ایس ایڈنے گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کا آغاز کیا اورپاکستان کے زرعی شعبے کومزید ترقی دینے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت یو ایس ایڈ کی اقتصادی ترقی و بحالی اور خیبر پختونخوا کے زراعت کے توسیعی محکمے اورضلع مردان کے 250 مقامی کسانوں کے ساتھ مل کر، 250 ایکڑ زمین کے لیے بیج فراہم کیے۔ اس موقع پر ماہرین نے بتایا کہ پاکستان عالمی سطح پر 8 واں سب سے بڑا گندم پیدا کرنے والا اور ایشیا میں تیسرا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے، زراعت میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، جو اس شعبے میں 7.8 فیصد اور ملک کے جی ڈی پی میں 1.8 فیصد حصہ ڈالتا ہے (پاکستان کا اقتصادی سروے 2021-2022)۔ گندم کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل سے نمٹنے اور پائیدار حل کو یقینی بنانے کے لیے سیڈ کلسٹر اپروچ نظریے کو اپنایا گیا۔ڈاکٹر شکیل کاکاخیل، یو ایس ایڈ کی اقتصادی ترقی و بحالی کے ڈ پٹی چیف آف پارٹی نے اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “خیبر پختونخوا میں، گندم کی پیداوار دوسری صوبوں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اوسط پیداوار 2.9 ٹن فی ہیکٹر ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گندم کی اوسط پیداوار 1.56 ٹن فی ہیکٹر ہے۔ اعلیٰ پیداوار والی اقسام کی عدم موجودگی، پانی کی کمی، غیر متوازن کیڑے مار ادویات اور کھادوں کی ایپلی کیشنز جیسی مختلف وجوہات کی وجہ سے پیداوار نسبتا کم ہے۔انہوں نے مزید کہا، “بیج کسی بھی دوسرے عنصر سے زیادہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کوئی فصل کیا نتیجہ حاصل کر سکتی ہے۔ فصلوں کے انتظام، ان پٹس اور ان کے معیار کی ایپلی کیشن، اور موسمی حالات جیسے تمام دیگر عوامل دوسرے نمبر پر آ سکتے ہیں۔ بیج کی کم پیداوار کی صلاحیت بہتر مشینری، فصل کی دیکھ بھال، ان پٹس وغیرہ کے باوجود زیادہ پیداوار نہیں دے گی۔خیبر پختونخوا کی سالانہ گندم کے بیج کی ضرورت تقریباً 30,000 ٹن ہے، جبکہ فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اور رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کسانوں کو صرف 7 فیصد (2,100 ٹن) سرٹیفائیڈ گندم کا بیج دستیاب ہے۔ باقی بیج غیر رسمی ذرائع سے آتا ہے، یا تو کسانوں کے اپنے بچائے ہوئے بیج یا ساتھی کسانوں، یا گاؤں کی دکانوں سے حاصل کردہ بیج، جہاں ہمیشہ تخم کے معیارکے بارے معلومات نامکمل ہوتی ہیں۔کلسٹر نقطہ نظر کے تحت، ضلع مردان کے علاقے ساولڈھیر کے 250 کسانوں کو 250 ایکڑ رقبے کے لیے بنیادی گندم کا بیج، مکس کھاد وغیرہ فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد اس خطے میں گندم کاشت کرنے والوں کے بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔

ضلع مہمند میں نئے صنعتی یونٹس کا افتتاح، اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بدھ کے روز ضم ضلع مہمند کا ایک روزہ دورہ کرکے وہاں پر قائم ہونے والے دو صنعتی یونٹس کی فعالیت کا افتتاح اور ایک نئے یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے تحت ضلع مہمند میں قائم صنعتی زون میں نگران وزیر نے نئے گھی یونٹس کا باضابطہ افتتاح کیا جو ایک مہینے کے مختصر عرصے میں فعال کئے گئے ہیں جبکہ نئے قائم ہونے والے آٹا یونٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ان یونٹس کے قیام میں مجموعی طور پر 1.2 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 1100 افراد کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آسکیں گے اور بالخصوص اس سے مقامی افراد کو اپنے ہی علاقے میں بہتر روزگار ملے گا۔نئے یونٹس کے افتتاح کے دوران نگران وزیر کے ہمراہ خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک اور کمپنی کے زون منیجر سمیت،صنعت کار اور مقامی عمایدین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نگران وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ علاقے اپنے باسیوں کی شاندار روایات کیساتھ ساتھ اپنی محنت اور یہاں پر لگی صنعتوں کی وجہ سے پہچانے جائیں گے۔انھوں نے اس موقع پر ہدایت کی کہ علاقے میں ماربل صنعتوں سے نکلنے والے فضلے کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے اسے کارآمد بنایا جائے۔اس فضلے سے ٹائل بنانے کیلئے پلانٹ لگایا جائے یور یہ بال ملز میں بننے والی مصنوعات میں بھی کام آسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کے پی ایزڈمک تکنیکی مدد فراہم کرے۔نگران وزیر نے اس موقع پر کمپنی حکام کو گھی یونٹس میں فوڈ پروسیسنگ کے دوران فوڈ سیفٹی ریگولیشن سے متعلق آگاہی کیلئے مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ مذکورہ گھی صنعتوں پر زور دیا کہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق صفائی کے معیار میں بہتری لائیں۔نگران وزیر نے اس موقع پر بعض صنعتکاروں کی جانب سے زون میں نکاسی آب کے مسلے کا نوٹس لیتے ہوئے اگلے تعمیراتی ترقیاتی پیکج میں اس سکیم کو ڈالنے کی ہدایت کی۔انھوں نے اس موقع پر کمپنی حکام کو ادارہ جاتی سماجی ذمی داری”کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی” کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے صنعتکاروں کی باہمی تعاون سے ایک فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی جو مقامی آبادی کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال میں لایا جاسکے گا۔

پشاور پریس کلب اور محکمہ اطلاعات و تعلقات کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ۔

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لئے صحت مندانہ سرگرمیوں کا ہونا ضروری ہے، سپورٹس ایونٹس اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم میں پشاور کے صحافیوں کے لئے سپورٹس ایونٹ کا انعقاد خوش آئند ہے، محکمہ اطلاعات و تعلقات کے آفیسرز بھی اس ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں، ایسے ایونٹس سے صحافیوں کو ایک نئی توانائی فراہم ہوتی ہے جس سے وہ پیشہ ورانہ فرائض ایک نئے ولولے کے ساتھ انجام دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، پشاور پریس کلب اور جملہ ممبران و صحافیوں کو ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، امید ہے اس میں مزید وسعت لائی جائے گی اور کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کرکٹ لیگ ایونٹ میں پشاور میں پریس کلب اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچ میں بطورِ مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات و تعلقات حکومت خیبرپختونخوا سید جبار شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد عمران خان، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز لیاقت آمین، صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک، سینئر صحافیوں ایم ریاض، شمیم شاہد، شہاب الدین، انیلا شاہین سمیت دیگر صحافی اور نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ کے آفیسرز موجود تھے. صحافیوں اور آفیسرز سے گفتگو میں نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی مشکل صورتحال میں رپورٹنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں اور انہیں سخت ڈیڈ لائن کے تحت کام کرنا پڑتا ہے ایسے میں کھیلوں کی سرگرمیاں ذہنی دباؤ کم کرنے اور فشار سے بچانے میں بہت سود مند ثابت ہوتے ہیں. اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک نے نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا حوصلہ افزائی کرنے کے لئے گراونڈ انے پر شکریہ ادا کیا. نگران صوبائی وزیر نے اس سے پہلے گراونڈ میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملے، بیٹنگ کرتے ہوئے کرکٹ میچ کا آغاز کیا اور کچھ دیر گراونڈ میں موجود رہے اور میچ سے محظوظ ہوئے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع کا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے منگل کے روز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ کرکے وہاں پر فنی علوم وتربیت کی نصابی سرگرمیوں اور عملی تربیت کا جائزہ لیا۔نگران وزیر کو اس موقع پر کالج میں فراہم کئے جانے والے ڈگری کورسز اور عملی تربیت کی مختلف شعبہ جاتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔نگران وزیر نے بریفنگ کے دوران ہدایت کی کہ ادارہ اپنے اعلیٰ معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کیلئے عالمی سطح پر ادارہ جاتی معیارات جانچنے کے ادارے “آئی ایس او”سرٹیفیکیشن کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک مہینے کے اندر تمام لوازمات پورے کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیر نے کالج کے طلبہ کو علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کیلئے ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری سے استفادہ اٹھانے کیلئے کالج کی لائبریری کو اس کے ساتھ منسلک کرانے کی بھی ہدایت کی۔انھوں نے اس موقع پر فنی تربیتی اداروں اور صنعتوں کے مابین موئثر رابطہ کاری کو اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کالج صوبے کا اہم فنی ادارہ ہوتے ہوئے ڈگری کورسز کے اختتامی عرصے میں عملی تربیت پانے کیلئے صنعتوں میں طلبہ کی تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی اور جانچ کیلئے ایپ بنائے جو موبائل اور مرکزی ڈیش بورڈ کے ذریعے صنعتوں میں بھیجے گئے طلبہ کی تربیتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں معاون ثابت ہو۔انھوں نے اس حوالے سے آئندہ دو مہینوں میں اس منصوبے کو عملی طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیر نے کالج کی عملی تربیت میں آٹو لیب اور دیگر جدید مشینی لیبارٹریز کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے انھیں ادارے کے ذرائع آمدن کیلئے بھی استعمال میں لانے پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ادارے کی فراہم کی جانے والی ممکنہ خدمات کے دائرے کو طلبہ کی تربیت سے آگے بڑھا کر مختلف سرکاری و نجی اداروں اور صنعتوں کی ضروریات کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ اس سے نہ صرف ادارہ کے مالی وسائل بڑھیں گے بلکہ دیگر اداروں و صنعتوں اور کالج کے مابین ممکنہ باہمی تعاون کا رابطہ بڑھے گا۔ اس موقع پر نگران وزیر کا کہنا تھا کہ ادارہ اپنے مالی اخراجات کو کنٹرول کرنے اور توانائی ضروریات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے اقدامات شروع کرے کیونکہ موجودہ مالی حالات کے تناظر میں توانائی ضروریات کا پائدار حل مستقبل میں شمسی توانائی کو بروئے کار لانے میں مضمر ہے۔