وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پروزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سوات موٹر وے فیز2 اور دیر موٹر وے کے حوالے سے ایک اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، اراکین صوبائی اسمبلی انور خان ایڈوکیٹ اور اعظم خان سمیت سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو محمد اسرار، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اسد خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ عوام کو آمدورفت کی سہولیات دینے اور تجارت و سیاحت کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سڑکوں اور موٹرویز کی تعمیر ضروری ہے جس کے لئے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے اور سوات موٹروے فیز۔ II اور دیر موٹر وے کا منصوبہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے علاقے کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اجلاس میں سوات موٹروے فیز۔II اور دیر موٹر وے منصوبوں کے موجودہ تعمیراتی ڈیزائن اور اس منصوبوں کو عوامی توقعات کے مطابق مفید بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 36.50بلین روپے کی لاگت پر مشتمل سوات موٹر وے فیز۔IIتقریبا 80 کلومیٹر طویل ہوگی اور 9پلوں کی تعمیر کے ساتھ 7انٹرچینج بھی منصوبے میں شامل ہیں جبکہ درکار اراضی کے حصول کے لیے 21.5 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ سوات موٹروے فیز۔I کی کامیابی کے بعد صوبائی حکومت اب سوات موٹر وے فیز۔II اور دیر موٹر وے کی تعمیر شروع کررہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تعمیراتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہوتے ہیں اور سوات موٹر وے فیز۔II اور دیر موٹر وے میں جہاں کہیں بھی مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے تو صوبائی حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ انہیں حل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر حکومتی سطح پرایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو مقامی لوگوں کے منصوبے کے حوالے سے تحفظات دور کرنے، ڈیزائن میں مزید بہتری پیدا کرنے اور اسے عوامی ضرورتوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کرے گی، اجلاس میں حکام نے صوبائی وزیر کو مذکورہ منصوبوں پر اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔
مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں محکمہ صحت کی پرفارمنس ریویو کا پہلا اجلاس
مشیر صحت احتشام علی کی سبربراہی میں محکمہ صحت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ عدیل شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم، ایڈیشنل ڈی جیز اور ڈائریکٹر انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ڈاکٹر اعجاز سمیت تمام ڈی ایچ اوز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بنیادی و دیہی مراکز صحت میں روزانہ کی او پی ڈی، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالی، انتظامی ڈھانچے کی فعالی اور صفائی کی صورتحال پر ڈی ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ماہانہ ہوا کرے گا جس میں محکمہ صحت کے مختلف امور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرناہے۔ ادویات کی فراہمی، بیسک ایمرجنسی آن نیونیٹل کئیر سنٹر کا قیام، ہیومن ریسورس کا صحیح استعمال، امیونائزیشن اور پرائمری کئیر مینجمٹ کمیٹیوں کی فعالی و بحالی سے محکمہ صحت میں گورننس بہتر ہوسکے گی۔ جس ڈی ایچ او اور ایم ایس کے زیر انتظام ہسپتال کی او پی ڈی کم ہو تو ان کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اس سیٹ پر مزید بیٹھے۔ مفت ادویات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری ڈی ایچ او کی ہے کہ ہر میرض کو جو کسی بھی بنیادی مرکز صحت آتا ہے اسے تجویز کردہ ادویات مفت فراہم کی جائیں۔ ڈی ایچ او نے پہلے ہی ادویات کے آرڈر دئے ہیں جس میں ابھی تک صرف چالیس فیصد ادویات پہنچ چکی ہیں باقی ادویات کی جلد سے جلد دستیابی کو ممکن بنائیں۔ سیکرٹری ہیلتھ عدیل شاہ نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت کی کہ جون میں ادویات کی خریداری کے جو آرڈرز دئے گئے ہیں وہ ابھی تک کیوں نہیں پہنچے؟۔ نوے دن کے اندرد اندر ادویات کی سپلائی نہیں ہوتی تو سپلائیر کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے محکمہ صحت کو لکھے۔ پیسے پہلے ہی ریلیز ہوچکے ہیں۔ جن ادویات کا ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کلئیر ہے انہیں فوری طور پر مراکز صحت میں منتقل کیا جائے۔مسلسل غیر حاضر میڈیکل سٹاف کیخلاف فوری کاروائی کیلئے ضلعی افسران فوری خط و کتابت شروع کریں۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو نے اجلاس میں ریجنل اور اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سکورکارڈ کے مطابق ستمبر میں بنیادی مراکز صحت کی روزانہ اوسط او پی ڈی 20 مریض، دیہی مراکز صحت میں اوسط روزانہ او پی ڈی 68 مریض جبکہ 20 ضروری ادویات کی موجودگی 51 فیصد رہی۔ طبی آلات کی فعالی 91 % انتظامی ڈھانچے کی فعالی 81 % اور صفائی کی صورتحال 71 % رہی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی اور جنوبی ریجنز میں او پی ڈی میں بہتری جبکہ ہزارہ اور ملاکنڈ ریجنز میں او پی ڈی میں واضح کمی آئی ہے۔ 90 ضروری ادویات کی دستیابی میں صوبائی سکور 40 فیصد رہا۔ میڈیکل آفیسرز کی دستیابی میں صوبائی سکور 63 فیصد رہا۔ ستمبر میں 356 میڈیکل افسران غیر حاضر پائے گئے۔تمام ہسپتالوں میں پرائمری مینجمنٹ کمیٹیاں فعال کردی گئی ہیں۔ ہسپتالوں کے پرائمری اور ہاسپٹل مینجمنٹ کمیٹیوں میں 87 ملین روپے موجود ہیں۔ ستمبر میں بنیادی مراکز صحت میں 1400 سے زائد زچگیاں ہوئی ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک عدیل اقبال کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ کا تعارفی اجلاس
رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں قائمہ کمیٹی کا ابتدائی اور تعارفی اجلاس منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان صوبائی اسمبلی اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے افسران سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ ارشد خان نے محکمہ کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹری محکمہ اطلاعات ارشد خان نے درپیش مسائل خاص طور پر بجٹ کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا اور ساتھ اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل قریب میں روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے ڈیجیٹل میڈیا ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کی فلاحی منصوبوں کو بہترین انداز میں عوام تک پہنچایا جاسکے۔اس موقع پر مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے محکمہ اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی زر علی نے محکمہ اطلاعات میں اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا خصوصی خلاصہ پیش کیا اور محکمہ میں شفافیت اور نظم و ضبط کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا. چیئرمین قائمہ کمیٹی ملک عدیل اقبال نے صوبائی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی میڈیا میں مؤثر کوریج پر زور دیا اور اس موقع پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ صوبائی اسمبلی میں محکمہ اطلاعات کا خصوصی ڈیسک قائم کرنے پر غور کیا جائے، اجلاس میں صوبائی حکومت کے عوام دوست منصوبوں کی موثر تشہیر کرنے کے لئے لائحہ عمل بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ کو فنڈ کے حوالے سے درپیش مسائل فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اجلاس کے آخر میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ملک عدیل اقبال نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے حوالے تقریب کا انعقاد
جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک کے نظام کو مضبوط کرنے، زرعی پیداواربڑھانیاور محفوظ خوراک تک رسائی یقینی بنانا وقت کی ضرورت ہے، صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کا خطاب
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور میں عالمی یوم خوراک کے موقع پر ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا عنوان ”بہتر زندگی و مستقبل کے لیے بہتر خوراک تک رسائی” تھا۔ تقریب میں صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی واصف سعید، پرو وائس چانسلر ایگریکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر داؤد جان سمیت دیگر حکام اور طلباؤ طالبات بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھوک، غذائیت کی کمی، محفوظ خوراک اور زراعت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان میں 38 فیصد بچے پانچ سال کی عمر تک غذائیت کی کمی اور مناسب نشوونما نہ ملنے کے باعث متاثر ہیں، جبکہ 20 فیصد آبادی کو خوراک کی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک چیلنجنگ مستقبل کی تصویر ہے، جسے بہتر بنانے کے لیے ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک کے نظام کو مضبوط کرنے، زرعی پیداواربڑھانیاور محفوظ خوراک تک رسائی یقینی کی ضرورت ہے صوبائی وز نے یہ بھی کہا محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کیلئے خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا کلیدی کردار ہے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ زرعی یونیورسٹی اور خیبرپختونخوا زرعی تحقیقی نظام اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ہمیں خشک سالی کا مقابلہ کرنے والی فصلوں پر تحقیق، پانی کا موثر استعمال اور دیرپا زرعی پریکٹسز اپنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک تک رسائی کے حوالے سے تمام سماجی و اقتصادی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور بہتر مارکیٹ کی فراہمی ضروری ہے۔تقریب کے دوران مقررین نے طلبہ وطالبات کو عالمی یوم خوراک کی اہمیت پر آگاہی دی گئی اور انہیں مستقبل میں زراعت اور محفوظ خوراک تک رسائی کے حوالے مسائل پر کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔تقریب کے آخر میں مہمانوں کو شیلڈ پیش کی گئیں اور صوبائی وزیر اور دیگر شرکاء نے آگاہی واک بھی کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ وزیر خیبر پختونخوا اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ وزیر خیبر پختونخوا اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر صوبے کی سرکاری جامعات کو معالی طور پر بہتر بنانے اور اکیڈمک ایکسیلنس کی طرف لیجانے کیلیے بھرپور اقدامات اٹھارہے ہیں یونیورسٹیوں کو کیٹیگریز کیا ہے یونیورسٹیوں کو مختلف کیٹیگری میں شامل کیا ہے بہت جلد ان جامعات کو اپنے پاؤں پر کھڑاکرینگے جو مالی بحران کا شکار ہیں صوبائی وزیر کا اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے حوالے سے کہنا تھا کہ مذکورہ کالج تاریخی لحاظ سے اپنا ایک مقام اور حیثیت رکھتا ہے اسلامیہ کالج یونیورسٹی مالی طورپر ہائی رسک کیٹیگری میں نہیں ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک یا دوسال میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی سرپلس پر چلاجائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اسلامیہ کالج پشاورمیں سٹاف کیلئے جناح رہائشی کالونی میں کوارٹرزکے افتتاح کے موقع پرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر جناح رہائشی کالونی کاباقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پررجسٹرارابرارداؤد،ڈپٹی ڈائریکٹر پی این ڈی ظہور، پرووسٹ سیدکمال، ڈائریکٹر سپورٹس علی ہوتی، ایڈمنسٹریٹرحیات آبادسپورٹس کمپلیکس عابدآفریدی، پروفیسرز،سٹاف سمیت دیگر بھی کثیر تعداد میں موجودتھے صوبائی وزیر نے اسلامیہ کالج کی جناح کالونی میں پروفیسرز کوچار کوارٹرزکی چاپیاں حوالے کیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نئی نسل کی بہتررہنمائی اور انکی تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دے رہی ہے،انکی خواہش ہے کہ صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کوبھی بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے کوشاں ہیں اس موقع پر جناح رہائشی کالونی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کو منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جیلخانہ جات ہمایون خان نے صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جیلخانہ جات ہمایون خان نے صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان اور معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیرکے ہمراہ بدھ کے روز ضلع صوابی میں سب جیل اور زیر تعمیر نئی ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا۔انھوں نے سب جیل میں قیدیوں سے ملاقات کی اور انھیں فراہم کی جانے والی سہولیات اور مسائل سے آگاہی حاصل کی۔معاونین خصوصی اور صوبائی وزیر نے نئی زیر تعمیر ڈسٹرکٹ جیل صوابی کے تعمیراتی کام پر پیش رفت کے حوالے سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے مقامی حکام سے تفصیلی پریزنٹیشن بھی لی جبکہ نئی جیل میں قیدیوں کی رہائش اور دیگر سہولیات کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ بھی کیا۔انھوں نے موجودہ سب جیل کے مختلف بیرکس کا دورہ کرنے کے موقع پر قیدیوں سے انکے مسائل سنے جبکہ انکی تعلیم و تربیت کے مختلف تیکنیکی و سکلڈ پروگراموں کے حوالے سے بھی شناسائی حاصل کی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات ہمایون خان نے ہدایات کی کہ نئی ڈسٹرکٹ جیل صوابی میں قیدیوں کو رکھنے کیلئے جاری ضروری منصوبوں کا باقی ماندہ 30 فیصد تعمیراتی کام آئندہ 2 مہینوں میں مکمل کیا جائے تاکہ یہاں پر قیدیوں کی منتقلی جلد از جلد ممکن ہو۔انھوں نے سب جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی خوراک کی مینو میں مزید بہتری لانے کیلئے موجودہ مینو میں ردوبدل کیا جائے گا جبکہ قیدیوں کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کیلئے ویڈیو لنک کی سہولت کا پروگرام بھی زیر غور ہے۔انھوں نے کہا کہ صوابی سب جیل کے قیدیوں کیلئے سکلز پروگرام بھی شروع کیئے جائیں گے اور انکے بنائی ہوئی کشیدہ کاری کی اشیا کی فروخت کیلئے مقامی سطح پر ڈسپلے سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ صوبائی وزیرہمایون خان نے زیر تعمیر نئی ڈسٹرکٹ جیل کیلئے الگ فیڈر ودیگر ضروری منصوبوں کو پی سی ون میں ڈالنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا کہ سب جیل صوابی میں قیدیوں کیلئے مختصر دورانئے کے سکلز شارٹ کورسز شروع کیئے جائیں تاکہ وہ رہائی کے بعد ملک اور بیرون ملک اپنے لیئے باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔اس طرح اخوت فاؤنڈیشن کے تحت انھیں اپنی سکلز کو بروئے کار لاکر روزگار و کاروبار کیلئے پانچ لاکھ تک قرضہ بھی مل سکتا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ نئی زیر تعمیر جیل کے منصوبے میں سولرائزیشن کی سہولت قیدیوں کے بیرکس تک بڑھائی جائے تاکہ انھیں بلا کسی تعطل بجلی کی سہولت میسر ہو۔اس موقع پرایم پی اے رنگیز خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ احسان الدین ا ور دیگر عملہ بھی موجود تھا۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت ضمنی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت خیبرپختونخوا میں 20 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل اور آئی جی پولیس اختر حیات خان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پرضمنی بلدیاتی انتخابات کے شفاف انعقاد کے لئے کئے جانے والے اقدامات، تیاریوں اور سیکورٹی امور کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری محکمہ بلدیات، محکمہ داخلہ اور خزانہ کے سپیشل سیکرٹریز سمیت دیگر متعلقہ افسران اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکورٹی انتظامات کاتفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 20 اکتوبر کو ہوگی۔ انتخابات ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کی سطح پر ہونگے۔ ضمنی بلدیاتی انتخابات 53 ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسلز میں 54 نشستوں پر ہوں گے۔ ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے کل 260 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جبکہ انتہائی حساس قرار دئیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر سکیورٹی کیمرے نصب کئے جارہے ہیں۔چیف سیکرٹری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولنگ سٹیشنز پر سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہماری اولین ترجیح ہے، تمام افسران دیانتداری سے الیکشن کے انعقاد جیسے قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کریں اور الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کریں۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی زیر صدارت محکمہ زراعت کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس
ضلعی سطح پر جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے ضلعی افسران ممبران ہو ں۔ سجاد بارکوال
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ممبران ہو ں۔ کمیٹی ضلعی سطح پر محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے درمیان تعاون کرنے ا و رمشترکہ لائحہ عمل اپنانے میں مددگار ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زغفران کے بیج کی خریداری کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے اوراس کی کامیاب کاشتکاری اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کے لئے موزوں زمین کا انتخاب کیا جائے نیز اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تاکہ زعفران کی کاشت بروقت ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت عطاء الرحمان، محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر نے زرعی شعبے میں آبپاشی کی بہتری کیلئے ریسرچ سینٹر کے قیام اورجاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے فوری اقدامات اٹھا نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن منصوبوں کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ان منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور سکیموں کی تکمیل کے لئے جاری رقوم کے شفاف انداز میں استعمال کو جلد یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو ریلیف ملے اور ان کی فصلوں میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہوسکے۔انہوں نے تاکید کی کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر اور غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایک ہفتہ کے اندرانہیں فنڈز کے استعمال اور منصوبوں کی تکمیل کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیر زراعت نے صوبے میں زرعی ترقی کے لئے متعلقہ افسران کو بہترین روابط قائم کرنے اور اس کے لئے ضلعی سطح پر جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر تے ہوئے مزید کہا کہ افسران صوبے میں بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لئے بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں صوبے کے اندر زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی فیصلہ کن قیادت میں جمرود جرگہ کامیابی سے منعقد ہوا، مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف
جمرود جرگے کے معاملے پر وفاقی حکومت کی غیر دانشمندانہ رویے نے معاملے کو الجھایا، وفاق اور پنجاب کے جعلی حکمرانوں کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے عوامی مسائل حل کرنے کا سبق لینا چاہیے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ نے کامیابی سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا اور ایک حقیقی لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک و صوبے کو سنگین حالات سے نکالا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی مخلص قیادت میں جمرود جرگہ خوش اسلوبی سے منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے کامیابی سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا اور ایک حقیقی لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک و صوبے کو سنگین حالات سے نکالا اور اپوزیشن کو بھی جرگے کی میز پر بٹھا کر مسائل کا حل تلاش کیا۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو صرف ایک سچے عوامی نمائندے میں ہوتی ہے، اور علی امین گنڈا پور نے اسے بھرپور طریقے سے ثابت کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جعلی فارم 47 والی حکومت نہ تو سیاسی بصیرت رکھتی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت۔ ان کی سیاست صرف تصادم پر مبنی ہے، عوام کی فلاح اور بہبود کا ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ جمرود جرگے کے معاملے پر بھی وفاقی حکومت کی غیر دانشمندانہ رویے نے معاملے کو الجھایا جس سے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی، جو پہلے علی امین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے تھے، اب ان سے سیکھیں کہ حقیقی قیادت کیسے عوام کے مسائل حل کرتی ہے۔شریف خاندان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے، بیرسٹر سیف نے ماڈل ٹاؤن کا ذکر کیا، جہاں حاملہ خواتین تک کو نشانہ بنایا گیا۔ آج پنجاب میں مریم نواز کی حکمرانی میں پرامن احتجاج پر لاٹھیاں اور گولیاں برسانا روز کا معمول بن چکا ہے۔ یہ جعلی حکمران گولی اور لاٹھی کے زور پر عوامی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی حقیقی قیادت کو جعلی مقدمات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر بھی مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان کے وکلاء، طبی عملے، خاندانی افراد، سیاسی قائدین اور کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جوکہ انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستانی عوام اب ان حکمرانوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور اپنے مینڈیٹ چوری کرنے والوں سے ضرور حساب لیں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف آبادکاری نیک محمد خان نے چارج سنبھالنے کے بعد
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف آبادکاری نیک محمد خان نے چارج سنبھالنے کے بعد مختلف دفاتر کے دوروں کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں معاون خصوصی نے پشاور میں واقع مختلف ریسکیو سنٹرز کے دورے کئے اور وہاں پر موجود اہلکاروں سے بریفنگ لی۔ سنٹر انچارج نے انہیں ذمہ داری کے علاقے سمیت سنٹر میں موجودہ سہولیات اور سٹاف بارے بریفنگ دی۔ معاون خصوصی نے حاضری ریکارڈ چیک کرتے ہوئے غیر حاضر اہلکاروں کو فوری معطل کرنے کے احکامات جاری کئے۔انہوں نے آج حیات آباد میں واقع پی ڈی ایم اے دفتر کا بھی دورہ کیا جہاں ڈی جی پی ڈی ایم اے قیصر خان نے انہیں ادارے کے بارے بریفنگ دی اور ادارے کے افعال اور جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔معاون خصوصی نیک محمد نے ڈی جی پی ڈی ایم اے کو ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں جاری رکھیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں صوبے کے عوام کو ہرممکن امداد کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات کو ممکن بنائیں۔
