Home Blog Page 353

پشاور پریس کلب اور محکمہ اطلاعات و تعلقات کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ۔

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لئے صحت مندانہ سرگرمیوں کا ہونا ضروری ہے، سپورٹس ایونٹس اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم میں پشاور کے صحافیوں کے لئے سپورٹس ایونٹ کا انعقاد خوش آئند ہے، محکمہ اطلاعات و تعلقات کے آفیسرز بھی اس ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں، ایسے ایونٹس سے صحافیوں کو ایک نئی توانائی فراہم ہوتی ہے جس سے وہ پیشہ ورانہ فرائض ایک نئے ولولے کے ساتھ انجام دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، پشاور پریس کلب اور جملہ ممبران و صحافیوں کو ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، امید ہے اس میں مزید وسعت لائی جائے گی اور کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کرکٹ لیگ ایونٹ میں پشاور میں پریس کلب اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچ میں بطورِ مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات و تعلقات حکومت خیبرپختونخوا سید جبار شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد عمران خان، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز لیاقت آمین، صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک، سینئر صحافیوں ایم ریاض، شمیم شاہد، شہاب الدین، انیلا شاہین سمیت دیگر صحافی اور نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ کے آفیسرز موجود تھے. صحافیوں اور آفیسرز سے گفتگو میں نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی مشکل صورتحال میں رپورٹنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں اور انہیں سخت ڈیڈ لائن کے تحت کام کرنا پڑتا ہے ایسے میں کھیلوں کی سرگرمیاں ذہنی دباؤ کم کرنے اور فشار سے بچانے میں بہت سود مند ثابت ہوتے ہیں. اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک نے نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا حوصلہ افزائی کرنے کے لئے گراونڈ انے پر شکریہ ادا کیا. نگران صوبائی وزیر نے اس سے پہلے گراونڈ میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملے، بیٹنگ کرتے ہوئے کرکٹ میچ کا آغاز کیا اور کچھ دیر گراونڈ میں موجود رہے اور میچ سے محظوظ ہوئے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع کا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے منگل کے روز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ کرکے وہاں پر فنی علوم وتربیت کی نصابی سرگرمیوں اور عملی تربیت کا جائزہ لیا۔نگران وزیر کو اس موقع پر کالج میں فراہم کئے جانے والے ڈگری کورسز اور عملی تربیت کی مختلف شعبہ جاتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔نگران وزیر نے بریفنگ کے دوران ہدایت کی کہ ادارہ اپنے اعلیٰ معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کیلئے عالمی سطح پر ادارہ جاتی معیارات جانچنے کے ادارے “آئی ایس او”سرٹیفیکیشن کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک مہینے کے اندر تمام لوازمات پورے کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیر نے کالج کے طلبہ کو علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کیلئے ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری سے استفادہ اٹھانے کیلئے کالج کی لائبریری کو اس کے ساتھ منسلک کرانے کی بھی ہدایت کی۔انھوں نے اس موقع پر فنی تربیتی اداروں اور صنعتوں کے مابین موئثر رابطہ کاری کو اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کالج صوبے کا اہم فنی ادارہ ہوتے ہوئے ڈگری کورسز کے اختتامی عرصے میں عملی تربیت پانے کیلئے صنعتوں میں طلبہ کی تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی اور جانچ کیلئے ایپ بنائے جو موبائل اور مرکزی ڈیش بورڈ کے ذریعے صنعتوں میں بھیجے گئے طلبہ کی تربیتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں معاون ثابت ہو۔انھوں نے اس حوالے سے آئندہ دو مہینوں میں اس منصوبے کو عملی طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی۔نگران وزیر نے کالج کی عملی تربیت میں آٹو لیب اور دیگر جدید مشینی لیبارٹریز کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے انھیں ادارے کے ذرائع آمدن کیلئے بھی استعمال میں لانے پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ادارے کی فراہم کی جانے والی ممکنہ خدمات کے دائرے کو طلبہ کی تربیت سے آگے بڑھا کر مختلف سرکاری و نجی اداروں اور صنعتوں کی ضروریات کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ اس سے نہ صرف ادارہ کے مالی وسائل بڑھیں گے بلکہ دیگر اداروں و صنعتوں اور کالج کے مابین ممکنہ باہمی تعاون کا رابطہ بڑھے گا۔ اس موقع پر نگران وزیر کا کہنا تھا کہ ادارہ اپنے مالی اخراجات کو کنٹرول کرنے اور توانائی ضروریات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے اقدامات شروع کرے کیونکہ موجودہ مالی حالات کے تناظر میں توانائی ضروریات کا پائدار حل مستقبل میں شمسی توانائی کو بروئے کار لانے میں مضمر ہے۔

نگران وزیر کے رہائی پلوسئی اور تہکال پایاں سپورٹس کمپلیکس کی ترقی کے لئے اقدامات کا حکم

0

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ مروت سے سابق ممبر صوبائی اسمبلی یاسین خان خلیل کی قیادت میں تہکال پایاں اور پلوسئی پشاور کے مشران نے پشار میں ملاقات کی اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس حمیداللہ خٹک، ڈپٹی سیکرٹری سپورٹس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے وفد نے نگران صوبائی وزیر کھیل کو تہکال پایاں اور پلوسئی میں سپورٹس کمپلیکس کیلیے اراضی کی حد بندی، زمین مالکان کو فنڈز کی ادائیگی سمیت دیگر مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ دونوں علاقوں کے مشران پر مشتمل وفد نے نگران صوبائی وزیر کو بتایا کہ تہکال پایاں اور پلوسئی میں سپورٹس کمپلیکس کی قیام کیلئے پچھلے دو سالوں سے صوبائی حکومت کی طرف سے ترقیاتی کام میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور دونوں سپورٹس کمپلیکس تاخیر کا شکار ہیں۔ انہوں نے نگران صوبائی وزیر کھیل سے مطالبہ کیا کہ تہکال پایاں اور پلوسئی سپورٹس کمپلیکس کے قیام میں حائل تمام رکاوٹوں اور مسائل کو جلد حل کرنے کے احکامات جاری کرکے دونوں سپورٹس کمپلیکس پر فوراً کام کا آغاز کیا جائے نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر نجیب اللہ مروت نے وفد کے مسائل سننے کے بعد محکمہ کھیل کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ صوبے میں کھیلوں سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کے اراکین جمعہ کے روز پلوسئی اور تہکال پایاں سپورٹس کمپلیکس کا دورہ کرکے فیزیبیلٹی بنائیں انہوں نے دونوں علاقوں کے مشران کو بھی ہدایت کی کہ سپورٹس کمیٹی کے ممبران سے تعاون اور تمام مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائیں انہوں نے نگران حکومت میں عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھانے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ حقدار کو حق ملنا چاہئے انہوں نے سپورٹس کمیٹی کے اراکین کو مزید ہدایت کی کہ پلوسئی اور تہکال پایاں سپورٹس کمپلیکس کی جگہ کا دورہ کرنے کے بعد جلد ان کو مکمل رپورٹ پیش کریں۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر سوشل ویلفیئر، ریلیف اور جیل خانہ جات نے چارسدہ میں اہم دورہ۔

خیبر پختونخوا کی نگراں وزیر برائے سوشل ویلفیئر، ریلیف اور جیل خانہ جات جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے منگل کے روز ضلع چارسدہ میں محکمہ سوشل ویلفیئر، سب جیل اور ریسکیو 1122 کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے مذکورہ اداروں کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اورعملے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر کے اچانک دورے کااہم مقصد دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کی حاضری، کام کی نوعیت اور درپیش مسائل سے متعلق آگہی حاصل کرنا تھا نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر، جیل اور ریسکیو 1122 کے تمام ملازمین کو صفائی کے بہترین معیارکو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت عوام کو بہترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیئے کو شاں ہے۔ چارسدہ سب جیل کے دورہ کے موقع صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ چارسدہ سب جیل میں 220 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت جیل میں 423 قیدی ہیں جس پر صوبائی وزیر نے قیدیوں کی کم کنجائش کے مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر نے خصوصی بچوں کی بہتری کے لیے محکمہ سوشل ویلفیئر کے اقدام کو بھی سراہا تے ہوئے صوبے کے دیگر سوشل ویلفیئر افسران کو سولرائزیشن سمیت اس طرح کے دیگر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تاکہ انہیں مالی طور پر فائدہ ہو۔

خیبر پختونخوا کے فضل حق کالج مردان میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے ابتدائی وثانوی اور اعلیٰ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں نے حالیہ بورڈ نتائج میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماڈل سکولز اور کالجز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی مزید بہتری کے لیے ہم اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضل حق کالج مردان کی مالی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے اجلاس میں مستقل ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاونس کی منظوری کے ساتھ ساتھ کنٹریکٹ تدریسی ملازمین کی تنخواہیں 40 ہزار روپے مقرر کرنے اور غیر تدریسی کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں 28 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ منظوری انہوں نے فضل حق کالج مردان کے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی معتصم باللہ شاہ اور بورڈ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ نگران وزیر پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا کہ ترقی کے لیے سینیارٹی کے ساتھ ساتھ کارکردگی اور تربیت بھی مشروط ہوگی تاکہ قابل اور محنتی ملازمین کو آگے آنے کے مواقع ملیں انہوں نے کہا کہ فضل کالج مردان ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم ادارہ ہے جہاں کے طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور فارغ التحصیل طلباء وطالبات نمایاں پوزیشنز پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج کی مزید بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران کالج عملے کو چھٹیوں کے دوران کنوینس الاوننس جاری نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اسی طرح مختلف ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سروس رولز میں تبدیلی کی سفارشات بھی کی گئیں، اجلاس میں عمر میں رعایت کے حوالے سے پیش کیے گئے ایجنڈا پوائنٹ پر فیصلہ ہوا کہ رولز میں ترمیم کر کے بورڈ کو با اختیار بنایا جائے گا تاکہ امیدواروں کو عمر میں رعایت دی جا سکیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کے پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ممبران کو سفری اخراجات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا، وزیر تعلیم نے ضرورت کے تحت بورڈ اجلاس جلدی بلا نے اور تمام ممبران کو منٹس بھی بروقت بھجوانے کی ہدایات جاری کیں۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کی زیر صدارت ریگی ماڈل ٹاون کی ترقی کے منصوبے پر اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر بلدیات، الیکشن،دیہی ترقی و آبنوشی انجینئر عامر درانی کی زیر صدارت منگل کے روز ریگی ماڈل ٹاون کے حوالے سے ایک اجلاس بلدیات کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ریگی ماڈل ٹاون میں جاری ترقیاتی کام،مسائل چیلنجز اور انکے حل کیلئے ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات داود خان،سپیشل سیکرٹری بلدیات محمد آصف،ایڈیشنل ڈی جی پی ڈی اے ریاض علی،چیف انجینئر پشاور ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں حکام نے نگران وزیر کو ریگی ماڈل ٹاون کا تاریخی پس منظر کیساتھ موجودہ مسائل اور چیلنجز سے آگاہ کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ زون تھری اور فور ڈویلپ ہوچکے ہیں جبکہ کچھ زون میں کوکی خیل قبائل کیساتھ دیرینہ اراضی کا تنازعہ بھی چلا آرہا ہے۔حکام نے ریگی ماڈل ٹاون کا آمدنی و اخراجات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔تین سو پچاس کنال پر مشتمل سپورٹس کمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس پر بھی گفتگو ہوئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر نے ہدایت کی کہ اس مسئلے کے فوری حل کیلئے بورڈ کا اجلاس بلانے کیساتھ کابینہ میں اس کو زیر غور لانے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر اس پراجیکٹ کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا ئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے ایک زون میں زیادہ تر سرکاری ملازمین نے پلاٹس لئے ہیں اور انکے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔نگران وزیر نے مزید کہا کہ اس پراجیکٹ کی آگاہی اور تشہیر کے سلسلے میں عوام کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جائے۔عامر درانی نے اس پراجیکٹ کو ترجیحاتی بنیادوں پر مکمل کرنے اور مسائل کے فوری حل کیلئے اگلے اجلاس میں کمشنر پشاور اور ڈی سی خیبر کو اگلے ہفتے بلانے کا فیصلہ بھی کیا۔نگران وزیر نے سپورٹس کمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس کی جلدی تعمیر پر بھی زور دیا۔دریں اثناء نگران وزیر کی زیر صدارت رنگ روڈ ناردرن بائی پاس کی تعمیر کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں ناردرن بائی پاس کے حوالے سے ٹینڈرنگ اور پری کوالیفیکیشن کے عمل کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی۔نگران وزیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی اور عالمی سطح کا میگا پراجیکٹ ہے جس سے وسطی ایشیا ئی ممالک کیساتھ ہماری تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور شہر پر ٹریفک لو ڈ میں بھی کمی آئیگی۔

غیر قانونی افراد کو بارڈر تک رسائی اور ڈیپورٹ کرنے کا عمل جاری۔

خیبرپختونخوا کینگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم وہ غیر ملکی جو رضاکارانہ طور پر پاکستان سے جارہے ہیں ان کو صوبائی نگران حکومت سہولت کے ساتھ بارڈر تک رسائی دے گی، ایسے افراد کے ساتھ تعاون کیا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر نہ جانے والے افراد کو آج (یکم نومبر) سے پروسسنگ زون میں منتقل کر کے ڈیپورٹ کیا جائے گا، ایسے افراد کے خلاف ریاست حرکت میں آئے گی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا، اب تک 82000 سے زائد غیر قانونی افراد رضاکارانہ طور پر بارڈر کراس کرکے اپنے ممالک جاچکے ہیں،صرف گزشتہ روز ہی 11000 افراد باڈر کراس کر کے اپنے ممالک واپس گئے، صوبے کے مختلف اضلاع میں 52000 غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی میپنگ کی گئی ہے جن کے انخلاء کے لئے پلان بھی تیار ہے، محکمہ داخلہ میں مربوط طریقہ کار اپنا کر تمام صورتحال کی سنٹرل کنٹرول روم سے مانیٹرنگ جاری ہے، کنٹرول روم دیگر صوبوں، اضلاع اور محکموں کے درمیان رابطے کا کام کررہا ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو منظم طریقے سے اپنے ممالک بھیجا جاسکے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ داخلہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم عابد مجید اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، پریس کانفرنس سے پہلے میڈیا نمائندوں کو کنٹرول مختلف سیکشنز اور طریقہ کار پر بریف بھی کیا گیا. نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی ان کے اپنے ممالک واپسی کو تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے لئے اتوار پیر اور منگل کا دن مقرر کیا گیا ہے جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو پنجاب اور بدھ جمعرات کو اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے مختص کیا گیا ہے، غیر قانونی افراد کو مختص کردہ پروسسنگ زون میں رکھا جائے گا جہاں سے وہ اپنے ممالک ڈیپورٹ ہونگے، یکم نومبر سے سنگل ڈ اکومنٹ پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے اور پاکستان آنے والوں کو پاسپورٹ ویزہ پر ہی ویلکم کیا جائے گا. نگران صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اولین ترجیح ہے، شہریوں کو پر امن ماحول فراہم کرنے اور بہتر معاشی استحکام کے لئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں جس میں سمگلنگ کا خاتمہ، بھتہ خوری و غیر قانونی سم کارڈ کی روک تھام، اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ شامل تھے، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ملک میں معاشی استحکام آنا شروع ہو گیاہے اور اقدامات کے اس تسلسل کو جاری رکھا جائے گا.

خیبر پختونخوا میں ملاکنڈ تھری پن بجلی گھر کا دلچسپ اور منافع بخش منصوبہ تیار

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے توانائی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ ملاکنڈ تھری پن بجلی گھر کا منصوبہ صوبائی حکومت کا ایک مثالی اور منافع بخش آمدن کا ذریعہ ہے جو سستی بجلی پیدا کرنے والی توانائی کے ساتھ ساتھ تقریبا25000ایکڑ ز اراضی سیراب کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاکنڈ IIIتوانائی منصوبے کے دورے کے پر منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے اپنے وسائل سے قلیل عرصے میں انتہائی کم لاگت سے تعمیر ہونے والی سستی بجلی پیدا کرنے والی ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے جس سے صوبائی حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ منصوبہ سال 2002ء میں تقریبا چار ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا اور 2008تک چھ سال کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور اب تک اس منصوبے سے صوبائی حکومت کو 32ارب روپے آمدن حاصل ہو چکی ہے اور اسطرح یہ منصوبہ نیشنل گرڈ میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں روزگار کے مواقع بھی فراہم ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قابل تجدید توانائی کا ایک اہم ذریعہ کے طور پر کھڑا ہے یہ بجلی کی پیداوار اور زرعی ترقی دونوں کے لئے آبی وسائل کے کامیاب استعمال کی مثال دیتا ہے جو خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے ایک اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بناتا ہے۔ ہائیڈرو پاور کمپلیکس میں اختراعی اقدامات اور کامیابیاں پلانڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مجموعی طور پر ملاکنڈ آپریشنز کو بہتر بنانے او رپیداواری صلاحیت کو حاصل کرنے کے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان کی زیرِ نگرانی لکی سپورٹس کمپلیکس کی تشکیل کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ مروت نے لکی سپورٹس کمپلیکس ضلع لکی کی قیام کیلیے تشکیل کردہ کمیٹی کے اراکین کو ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ سپورٹس کمپلیکس کی اراضی کی انتخاب کیلیے آج (منگل) کو سائٹ کا وزٹ کریں اور ایک ہفتے کے اندار اندر کلیئرنس رپورٹ پیش کرکے جلد سے جلد سپورٹس کمپلکس پر کام کا آغاز کریں یہ ہدایت نگران صوبائی وزیر نے اپنے دفتر میں لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیا اجلاس میں سیکرٹری سپورٹس حمیداللہ خٹک، ڈپٹی سیکرٹری سپورٹس نائلہ، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ شاہ فاضل، سی پی او عارف اللہ، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ضلع لکی مروت محمد اسماعیل وزیر نے شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر لکی مروت رحمت علی نے اجلاس میں ویڈیو کے لنک کے زریعے آئن لائن حصہ لیا اجلاس میں لکی سپورٹس کمپلیکس کے مختلف پہلوؤں کا جائرہ لیا گیا اور نگران صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی نگران صوبائی وزیر نےمذکورہ سپورٹس کمپلیکس کیلیے بنائی گئی کمیٹی ممبران کو ہدایت کی کہ لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام کیلیے سائٹ وزٹ کر کے موزوں جگہ کا انتخاب کے بعد منصوبے پر فوراً کام کا آغاز کیا جائیں انہوں نے کہا کہ لکی سپورٹس کمپلیکس کی قیام سے وہاں کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل اور کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلیے ذیادہ سے ذیادہ مواقع میسر ہونگے لوگوں کو مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلیے سپورٹس کمپلیکس کا قیام نہایت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے ضلع لکی مروت کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جو اس پسماندہ علاقہ کو دینی چاہیے تھی بطور نگران صوبائی وزیر ضلع لکی مروت سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کی ترقی اور انکی پسماندگی کو دور کرنے کیلیے کوشش کرونگا نگران صوبائی حکومت اپنی اپنی زمہ داریاں مینڈیٹ کے مطابق نبھا رہی ہے

خیبرپختونخوا کے آئندہ چار ماہ کے بجٹ کی منظوری کے بعد نگران وزیر خزانہ کے ہمراہ وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی سربراہی میں منعقدہ کابینہ کے خصوصی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے آئندہ چار ماہ کے بجٹ کی منظوری کے بعد نگران وزیر خزانہ احمد رسول بنگش کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ صوبے میں مالی مشکلات کے باوجود ایک متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں گوڈ گورننس کے رہنما اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری اپنا کر مفاد عامہ کے منصوبوں کو جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اس مشکل صورتحال میں عمدہ بجٹ تجاویز تیار کرکے محکمہ خزانہ نے بہترین کام کیا ہے، نگران حکومت بغیر کسی اوور ڈرافٹ اور قرضہ لئے حکومتی مالی انتظام اگے بڑھا رہی ہے، نگران وفاقی حکومت سے بہتر سپورٹ ملنے پر صوبے کے مالی امور میں مزید بہتری آنے کی امید ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے متعدد بار وفاقی حکومت کے سامنے مالی مشکلات سے متعلق امور رکھے اور نگران وزیر اعظم کے دورہ پشاور کے موقع پر بھی ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی جس پر انہوں نے حل کرنے کی امید دلائی ہے، انہوں نے کہا کہ وفاق کے مالی امور میں بہتری ارہی ہے جس کا صوبے پر بھی مثبت اثر ہوگا. پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ احمد رسول بنگش نے کہا کہ محکمہ قانون نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی مشاورت سے رائے دی کہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے صوبائی حکومت 31 اکتوبر 2023 کے بعد حکومتی امور کے لئے بجٹ پیش کرسکتی ہے، نتیجتاً، صوبائی حکومت نے 1 نومبر 2023 سے 29 فروری 2024 تک مزید چار ماہ کے لیے بجٹ کی منظوری کابینہ سے لی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 121، آرٹیکل 122، اور آرٹیکل 126 اور سپریم کورٹ آف پاکستان ریگولیشن نمبر 1998 سے متعلق فیصلے کے عین مطابق ہے. پریس کانفرنس میں بجٹ اعدادوشمار بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم نومبر 2023 سے 29 فروری 2024 کے چار ماہ کے لئے کل بجٹ کا تخمینہ 529 ارب روپے ہے جو گزشتہ چار ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے، کل ترقیاتی اخراجات 112 ارب روپے رکھے گئے ہیں. بجٹ کی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کی فراہمی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، بجٹ کا 29 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا ہے، صحت اور فلاح و بہبود کی سہولیات اور خدمات کو بڑھانے کے لئے صحت کے شعبے کے لئے بجٹ کا 19 فیصد مختص کیا گیا ہے اسی طرح امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس فورس کے لئے بجٹ کا 10 فیصد مختص کیا ہے، کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری بھرتیوں اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی رہے گی۔