خیبر پختونخواکے وزراء ارشد ایوب اور شکیل احمد نے ضلع مالاکنڈ بٹ خیلہ کے بلدیاتی نظام کے انتظامی امور،فنڈ ز کی کمی اور وہاں پر سرکاری اراضی اور املاک کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کے بلدیاتی نظام کو مزید موثر بنانے اور اس کے اخراجات میں کمی کرنے اورسرکاری املاک سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے لئے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ان کے کرایے مقررکئے جائیں تاکہ ٹی ایم اے کی مالی مشکلات حل ہوں۔ اسی طرح مالاکنڈ ٹی ایم اے کو چار کروڑ روپے ری شیڈول کر دیئے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع مالاکنڈ کے ٹی ایم ایز کو درپیش مسائل کے حل کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف انجنیئر لوکل گورنمنٹ، آر ایم او، ٹی ایم او، اے ڈی سی مالاکنڈ، تحصیلوں کے چیر مین اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں بٹ خیلہ اورتھانہ تحصیل بائزئی کو محکمہ بلدیات کے حوالے سے ان کے مسائل کے حل کے لئے اور بلدیاتی نظام کو عوامی امنگوں کے مطابق مزیر کارآمد بنانے اور اس کی آمدن بڑھانے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ صوبائی وزراء نے ضلع مالاکنڈ کے بلدیاتی نظام کی کار کردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل اتنے زیادہ نہیں بلکہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہیں اگر ان کو صحیح طریقے سے استعمال میں لایا جائے تو ان اقدامات سے صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع مالاکنڈکے لئے سنٹرلائیز سولرائزیشن کا پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے جس سے وہا ں کے ٹی ایم اے پر بجلی کا زیادہ بل جیسے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہ اکہ محکمہ بلدیات آئی ٹی بورڈ کے ساتھ مل کر ایک ایسا ڈیش بورڈ بنارہا ہے جس سے آسانی سے ہر جگہ کام کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔اسی طرح خیبر پختونخوا کی حکومت لیز پالسی متعارف کر رہی ہے جس سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب کے تحت عوامی منصوبوں پر کام ہو گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری گاڑیوں میں چپ(Chip) لگائی جائیں اس کے علاوہ ٹی ایم اے میں پرانی مشینری اور ناکارہ گاڑیوں کی فوری نیلامی کا بندوبست کیا جائے اور جہاں جہاں پرسرکاری دکانیں اور عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں ان کو فوری طور پر مسمارکر دیا جائے اور وہاں پر جدید طرز کی عمارتیں اور دکانیں تعمیر کی جائیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے ہیڈ آفس پشاور میں مختلف اکنامک زونز کو سستی بجلی کی فراہمی کے امور کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پی ایزڈمک جاوید اقبال خٹک،چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن لائنز اینڈ گرڈ کمپنی محمد ایوب سمیت ایس آئی ڈی بی،پیڈو،بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور بجلی کے ترسیلی لائنز کے نجی ادارے ”سواتی کارپوریشن” کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اسی طرح چترال میں شیشی پاور ھاؤس سے 12 کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن چترال اکنامک زون تک لانے جبکہ پیہور ھاؤس سے گدون اکنامک زون کو ایک کلومیٹر طویل علحیدہ ٹرانسمشن لائن کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں چکدرہ اور مانسہرہ میں مجوزہ طور پر نئے اکنامک زونز کے امکانات بھی زیر بحث ائے جن کے سلسلے میں ممکنہ طور پر چکدرہ میں مزکورہ زون کے قیام کی صورت میں علاقائی پاور ہاؤسز سے 1035 میگاواٹ اور مانسہرہ میں مجوزہ زون کو مانسہرہ میں مقامی بجلی سے 728 میگا واٹ بجلی فراہم ہوسکتی ہے۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ چترال اکنامک زون کو مقامی پاور ہاؤس سے بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر بطور پائلٹ پروجیکٹ فوری طور پر کام شروع کیا جائے اور اس کو دیگر زونز کیلئے سستی بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں بطور ماڈل منصوبہ قرار دے کر شرع کیا جائے۔اس حوالے سے معاون خصوصی نے ہدایت کی کہ پیڈو،کے پی ایزڈمک اور خیبر پختونخوا ٹرانسمشن لائنز اینڈ گرڈ کمپنی کے حکام مل بیٹھ کر اس منصوبے پر جلد از جلد کام شرع کرنے کیلئے تمام درکار مراحل طے کریں۔ اس موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کی صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی سے صوبے میں صنعتکاری کے فروغ میں مدد ملے گی اورصنعتوں کی فعالیت سے یہاں پر لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔انھوں نے کہا کہ توانائی کے مقامی پیداواری منصوبوں سے صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی معاشی ترقی کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس وقت صنعتوں کو توانائی کے مسلے کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم صوبے میں صنعت کاری کے فروغ کیلئے ہر پہلو سے کوشش کررہے ہیں تاکہ یہاں پر صنعتوں اور سرمایہ کاروں کو اسانیاں اور سہولیات فراہم ہوسکیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ریسکیو1122 ہیڈکوارٹر کا دورہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا ریسکیو1122 ہیڈکوارٹر کا دورہ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر محمد آیاز خان نے خوش آمدید کہا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، اس موقع پر ریسکیو1122 کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ریسکیو1122 کی جانب سے لگائے گئے ایمبولینس، فائر ویکل، ڈیزاسٹر ویکل، سنارکل، میڈیکل و فائر موٹر سائیکل سمیت دیگر آپریشنل آلات و مشینری کا جائزہ لیا، جس پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 نے تفصیلی بریفنگ دی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ریسکیو1122 کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو1122 سروسز کا کوئی نعم البدل نہیں جس کے ملازمین کسی بھی قدرتی و ناگہانی آفات کے ساتھ ساتھ روزمرہ ایمرجنسیز میں خیبرپختونخوا کے عوام الناس کو شب وروز پیشہ وارانہ خدمات فراہم کررہے ہیں، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریسکیو1122 کو جدید ترین آپریشنل آلات سے لیس کیا جارہا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات پر ان کے زیر استعمال ہیلی کو ایمبولینس بنانے کے لیے طریقہ کار واضح کیا جاہیگا، جو دور دراز علاقوں کے اضلاع میں کسی بھی نا خوشگوار واقعات کے دوران فورا پہنچ کر مریض و زخمی کو بروقت خدمات فراہم کریں گے۔ ریسکیو1122 کو اندرون شہر اور بے ہنگم ٹریفک سے بچاؤ اور جلد از جلد پہنچنے کے لیے مزید میڈیکل بائیکس فراہم کیے جائیں گے تاکہ جلد از جلد جائے حادثہ پر پہنچ کر بروقت امدادی کاروائیاں ممکن بنائی جائیں، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے دوران ایمرجنسی ایگزٹس (ہنگامی راستے) کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور ایسی عمارتوں میں خدمات اور رسائی کے لیے سنارکلز فراہم کیے جائیں گے اور ریسکیو1122 ادارے کو موجود تمام مسائل اور ضروریات کو فی الفور حل کیا جائیگا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر محمد آیاز خان نے کہا کہ ریسکیو1122 خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں عوام الناس کو بلا تفریق اور یکساں خدمات فراہم کررہا ہے، ریسکیو1122 نے قیام سے اب تک کم و بیش 12 لاکھ ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں ہیں جبکہ کم و بیش 2 لاکھ بیس ہزار ریفریل ایمرجنسیز میں مریضوں و زخمیوں کو چھوٹے ہسپتالوں سے بڑے ہسپتالوں اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور صوبے منتقل کرکے علاج و معالجے کو یقینی بنایا۔ اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔
خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں امن و امان کی بحالی کیلئے اہم فیصلے
ایپکس کمیٹی کی نشست کا بنیادی مقصد حکومت خیبرپختونخوا اور دیگر اداروں بشمول پاک فوج اور پولیس کی دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں امن قائم کرنے کی مشترکہ کوششوں کا احاطہ کرنا ہے۔
صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے، حالات اور واقعات کے پس منظر میں وزیراعلیٰ نے ایک جامع پالیسی پر کام کی ہدایات جاری کی ہوئی ہےں۔ اس پالیسی کی سفارشات ایپکس کمیٹی میں پیش کی جارہی ہےں۔ اس دوران بنوں میں دو ناخوشگوار واقعات پیش آئے جس کے بعد مقامی مشران نے انتظامیہ اور اداروں کے ساتھ بات چیت اور تعاون کرتے ہوئے حالات کو سدھارنے میں مدد کی جو کہ قابل قدر ہے۔
حکومت اور تمام اداروں کی یہ سعی ہے کہ خیبرپختونخوا میں دیر پا امن اور خوشحالی ہو جس مقصد کےلئے وزیراعلیٰ، سول ، پولیس وعسکری اداروں کے نمائندگان آج اکھٹے ہوئے۔ انہی مقاصد کیلئے مندرجہ ذیل فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
دہشتگرد ہر روپ میں قابل مذمت ہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پولیس کو وزیراعلیٰ نے احکامات دئیے ہیں کہ اگر کوئی بھی مسلح غیر سرکاری شخص پایا گیا تو اسے گرفتار کر کے اس کے خلاف بھر پور قانونی کاروائی کی جائے گی۔ مزید براں، کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروہ کے دفاتر، اڈے یا چیکنگ غیر قانونی ہے اور ان کے خلاف پولیس بلا تفریق ایکشن لے گی۔ یہ امر تمام صوبے کیلئے ہے۔
آپریشن کے متعلق عسکری اداروں نے واضح بتادیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں اس لئے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ مقامی طور پر دہشتگرد عناصر کے خلاف کاروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کرے گی جس مقصد کیلئے انکی استعداد بشمول نفری، گاڑیاں ، بکتر بند، آتشیں ہتھیار بڑھائی جارہی ہے۔ البتہ کچھ علاقوں کی نوعیت ، جغرافیہ اور بارڈر سے نزدیکی ایسی ہے کہ افواج پاکستان کی مدد کے بغیر کاروائی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں حالات کے مطابق کاروائی کی جائے گی تاوقتہ کہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی استعداد اس قابل ہوسکے۔
پولیس کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ فوری طور پر باقاعدہ اور ہمہ وقت گشت کو یقینی بنائے اور موجودہ نفری اور گاڑیوں کے تمام صوبہ بشمول جنوبی اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کرے۔ نئی آسامیوں کی تخلیق میں بھی ان تمام علاقوں کو ترجیح دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
مشکوک علاقہ جات و مدارس پر کاروائی سی ٹی ڈی کی ذمہ داری ہے اور یہ کاروائی سی ٹی ڈی کرے گی۔
چونکہ سرحدی قبائلی اضلاع کے عوام مقامی قبائل کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے ہیں جس کےلئے مختلف سرحدوں پر نقل و حرکت ہوتی رہی ہے۔ جیسے کہ طورخم، خرلاچی، انگوراڈہ۔ اسی طرح غلام خان اور باجوڑ و مہمند کے روایتی بارڈرز پر بھی تجارت کی اجازت دی جائے( اس سلسلے میں کیس وفاقی حکومت کے پاس پہلے سے پیش ہے)۔ اس سے مقامی روزگار ملے گا اور خوشحالی بھی آئے گی اور قانونی کاروبار سے سمگلنگ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور محصولات میں بھی آمدن ہوگی۔
عوام اور اداروں کے مابین بعض اوقات غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا فوری اور مقامی حل نہایت ضروری ہے۔ ہر کمشنر کی سطح پر کمیٹیاں مقرر ہونگی جن میں عوامی نمائندے ، سول، عسکری اور پولیس کے نمائندے ہونگے جو ایسے کسی بھی واقعہ یا مسئلہ پر فوری جرگہ بلائیں گے اور قابل عمل حل نکالیں گے۔ تاکہ عوام اور تمام ادارے ملکی امن اور ترقی کیلئے ہم آہنگی سے مشترکہ لائحہ عمل بناکر آگے بڑھ سکیں۔ ایسی کمیٹیاں ضلعی سطح پر بھی تشکیل دی جائیں گی۔
بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔ تاہم حکومت اپنی انکوائری بھی کرائے گی اور ذمہ داران کا تعین کر ے گی۔
ایپکس کمیٹی کی رائے میں پر امن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سب کا یہ فرض ہے کہ قانون اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری ہو۔ لاقانونیت اور پر تشدد احتجاج سے گریز کیا جائے۔ تاکہ دیگر عناصر اس کو کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہ کریں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی لیز پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے محکمہ سیاحت کے ریسٹ ہاﺅسز کے بہتر انتظام و انصرا م کو یقینی بنانے اور صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کیلئے سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی لیز پالیسی کو تبدیل کرنے کا اُصولی فیصلہ کیا ہے اور لیز پالیسی میں ضروری ترامیم کیلئے متعلقہ کابینہ اراکین اور دیگر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اندر موجودہ لیز پالیسی میں ضروری ترامیم تجویز کرے گی ۔ یہ فیصلہ اُنہوںنے منگل کے روز محکمہ سیاحت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی کابینہ اراکین زاہد چن زیب ، مزمل اسلم، بریگیڈئر ریٹائرڈ مصدق عباسی کے علاوہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری سیاحت بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی تاشفین حیدر اور محکمہ سیاحت کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں محکمہ سیاحت کے زیر انتظام سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کے بہتر انتظام و انصرام سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور و خوص کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ سیاحت کے ریسٹ ہاﺅسزمیں بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کیلئے طویل المدتی لیز پالیسی بنائی جائے گی اور نئی پالیسی میں سرمایہ کاری کے حساب سے ریسٹ ہاﺅسز کی لیز کا دورانیہ رکھا جائے گا۔ اجلاس میں محکمہ سیاحت کے ریسٹ ہاﺅسز کی لیزز سے متعلق جملہ معاملات کی نگرانی کیلئے محکمہ سیاحت کے تحت قائم کمپنی کو بھی فعال بنانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کی ٹیکنیکل کمیٹی کی تشکیل کیلئے متعلقہ قوانین میں ترامیم اور خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کے زیر انتظام کیمپنگ پاڈز کو جلد ازجلد آوٹ سورس کرنے اور سرکاری اثاثوں کی انونٹری کو ڈیجیٹائز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہاکہ شعبہ سیاحت میں خاطر خواہ استعداد موجود ہے اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، اس شعبے کوجدید خطوط پر ترقی دے کر صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس، خیبر پختونخوا میں سمال ڈیمز منصوبوں کی تیز تر تکمیل کی ہدایت
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کا اہم اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں جاری سمال ڈیمز کے منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو سمال ڈیمز کے مجوزہ پوٹینشل پراجیکٹس، بعض منصوبوں پر پیشرفت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ بھی دی گئی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں مجموعی طور پر 26.7 ارب روپے کی لاگت سے 56 سمال ڈیمز مکمل کیے گئے ہیں۔یہ ڈیمز مجموعی طور پر 281410 ایکڑ فٹ سٹوریج استعداد کے حامل ہیں جن کا قابل کاشت کمانڈ ایریا 3 لاکھ ایکڑ سے زائد ہے۔اجلاس کو صوبے میں جاری منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں سمال ڈیمز کے 30 جاری منصوبوں پر کام جاری ہے جو 43.6 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیے جائیں گے۔ان جاری منصوبوں میں سے 18 منصوبے بندوبستی اضلاع جبکہ 12 منصوبے ضم اضلاع میں واقع ہیں۔علاوہ ازیںاجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں سمال ڈیمز کے چودہ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جو رواں سال میں مکمل کئے جائیں گے،ان منصوبوں میں خٹک بانڈہ ڈیم کوہاٹ، مخ بانڈہ ڈیم کرک، لتمبر ڈیم کرک، جڑوبہ ڈیم نوشہرہ، پیزو ڈیم لکی مروت اور دیگر شامل ہیںجن میں پانی جمع کرنے کی مجموعی استعداد 46400 ایکڑ فٹ ہے، ان سمال ڈیمز کی تکمیل سے مجموعی طور پر 34000 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو سمال ڈیمز کے ترجیحی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوںنے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے درکار فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ سمال ڈیمز کے تکمیل کے قریب منصوبوں کو پہلی فرصت میں مکمل کر کے فعال بنایا جائے،اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت کی گنجائش موجود نہیں،آگے دوڑ پیچھے چھوڑ والا معاملہ نہیں چلے گا، ہم نے دیر پا اور واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہے اور سمال ڈیمز کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے سمال ڈیمز کے جاری دیگر منصوبوں پر ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سمال ڈیمز کے جاری منصوبوں کی تکمیل کے اگلے مرحلے کے لئے ترجیحات کا واضح تعین کیا جائے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سمال ڈیمز کے یہ منصوبے زراعت کی ترقی اور صوبے کی فوڈ سکیورٹی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے اور سمال ڈیمز کے جن منصوبوں پر 90 فیصد کام مکمل ہو ان کے لیے ایس این ایز کی منظوری دے دی جائے۔مستقبل میں صوبے کے موزوں مقامات پر سمال ڈیمز کی تعمیر کے لئے فیزیبلٹی اسٹڈیز کرائی جائیں۔علی امین گنڈا پور نے صوبے میں چھوٹے ڈیموں کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے سمال ڈیمز ڈائریکٹوریٹ کی استعداد کو بڑھانے کیلئے ڈائریکٹوریٹ میں مزید دو ڈائریکٹرز اور دیگر ضروری عملہ تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سمال ڈیمز کے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کے لیے مزید فوکسڈ اپروچ کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آبپاشی اور زراعت موجودہ صوبائی حکومت کے ترجیحی شعبے ہیں، صوبائی حکومت ان شعبوں پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے، ان کے ثمرات بھی عوام تک بروقت پہنچنے چاہیئں۔صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اﷲ خان، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ امجد علی خان، سیکرٹری آبپاشی طاہراورکزئی، سپیشل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ وقار علی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔
وفاق کی طرز پر صوبے کیلئے الگ بجلی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی خاطر عملی طور پر کام شروع کرنے کیلئے اہم ٹاسک محکمہ توانائی و برقیات خیبرپختونخوا کو سونپ دیا گیا ہے۔ مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا
وفاق کی طرز پر صوبے کیلئے الگ بجلی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی خاطر عملی طور پر کام شروع کرنے کیلئے اہم ٹاسک محکمہ توانائی و برقیات خیبرپختونخوا کو سونپ دیا گیا ہے۔ مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا
خیبرپختونخوا کی پیداواری بجلی میں وفاق کی طرز پر نااہل ترین IPPs جیسے معاہدوں سے گریز کیا جائے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وفاق کی طرز پر صوبے کیلئے الگ بجلی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کیلئے عملی طور پر کام شروع کرنے کیلئے اہم ٹاسک محکمہ توانائی و برقیات خیبرپختونخوا کو سونپ دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے محکمہ توانائی و برقیات اور خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن کمپنی کے حکام سے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی و برقیات خیبرپختونخوا نثار احمد خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر خیبرپختونخوا ٹرانسمشن کمپنی محمد ایوب خان، انجنئیر طلا محمد سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کس طرح خیبرپختونخوا کی پیداواری بجلی کو مین گریڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ صوبے کی صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی اور آمدنی میں اضافہ ہو۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے محکمہ توانائی و برقیات کو وفاق کی طرز پر صوبے کیلئے الگ بجلی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کیلئے عملی طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس بارے تمام لوازمات اگلے ہفتے اجلاس میں پیش کئے جائیں تاکہ اس اہم ٹاسک پر عملی اقدامات تیز کئے جائیں۔ مزمل اسلم نے محکمہ توانائی اور خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گریڈ کمپنی حکام کو مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پیڈو کے زیر انتظام 84 میگاواٹ گورکن مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو مین گریڈ کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے تخمینہ لاگت پر کام کیا جائے تاکہ فیصلہ کیا جائے کہ صوبائی حکومت اس ٹرانسمیشن لائن کو اپنے وسائل یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے کرے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اجلاس کو بتایا کہ خیبرپختونخوا وسائل سے مالا مال ہے اور بجلی پیداور کے بے پناہ ذخائر کو بروئے کار لایا جائے تاکہ نہ صرف صوبے کی آمدنی میں اضافہ ہو بلکہ صنعت و پیداوار کو خیبرپختونخوا میں لگانے کیلئے سرمایہ کاروں کو دعوت دی جائے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں سستی ترین بجلی پیداوار خیبرپختونخوا کی ہے اور وفاق کی طرز پر نااہل ترین IPPs جیسے معاہدوں سے گریز کرتے ہوئے خطے کی کم ترین قیمت پر صنعتکاروں کے لئے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کی ترقی ممکن ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔عمران خان کے ویژن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے لوگوں نے جس مقصد کے لیے ووٹ دیا ہے اس مقصد کے حصول کے لیے شبانہ روز تگ ودو کرتا رہونگا۔ پارٹی ورکرز اور ووٹرز کی عزت اپنی عزت کی طرح عزیز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود اور پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں سے ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر دیر سے صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندگان ہمایوں خان، عبید الرحمن، شفیع اللہ اور اعظم خان بھی موجود تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے تحصیل ممبران اور ویلج کونسل کے چیئرمین نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔معاون خصوصی نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان قوم کو غلامی سے آزادی اور ہماری آنے والی نسلوں کے بہترین اور آزاد زندگی دلانیکے لیے بے گناہ جیل کاٹ رہے ہیں عمران خان کی رہائی کے لیے اگر جان کی قربانی بھی دینا پڑی تو جان بھی دے دینگے کیونکہ یہ عمران خان کی ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری نسلوں کے بہتر مستقبل کا بھی سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو خوشحال، مستحکم اور پر امن بنانے کے عمران خان کی ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ کام اور بھر پور تگ ودو کے لیے سب نے بھرپور ساتھ دینا ہو گا اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کے ساتھ بھی کمپرومائز نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور ووٹرز کی عزت مجھے اپنے عزت کی طرح عزیز ہے جہاں پر ووٹرز اور کارکن کی عزت نہیں ہوتی وہ پارٹی کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے سختی سے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کی نشاندھی اور ان کے حل، عوامی فلاح و بہبود کے کام اور لوگوں کی خوشحالی کے لیے پارٹی تنظیم بھر پور طریقے سے اپنا کردار ادا کرے اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجوں کی بھرپور تیاری شروع کی جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ہری پور اور باچاخان یونیورسٹی چارسدہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ہری پور اور باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے سال 25-2024 بجٹ کے الگ الگ سینیٹ اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوئے اجلاس میں محکمہ خزانہ، اسٹبلشمنٹ، اعلی تعلیم کے افسران، ہائیرایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندوں یونیورسٹی کے وائس چانسلرز سمیت سینیٹ کے دیگرا اراکین نے شرکت کی یونیورسٹی آف ہری پور کے سال 25-2024 کے لئے بجٹ پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں یونیورسٹی کی تنخواہوں کی مد اور دوسرے اخراجات کے بارے میں تفصیل سے بحث ہوئی جبکہ اراکین کی طرف سے غیرضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں یونیورسٹی کے سینیٹ اراکین نے متفقہ طور پر ہر ی پوریونیورسٹی کے لئے سال 25-2024 کے لئے1411ملین روپے کے بجٹ کی منظوری دی۔ صوبائی وزیر نے ہری پور یونیورسٹی کی پچھلے سال کے بجٹ کاتھرڈپارٹی آڈٹ 6مہینوں میں کرانے کی ہدایت جاری کی اسی طرح باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے بجٹ پر بھی صوبائی وزیر کوتفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں یونیورسٹی کے دوسرے اخراجات سمیت تنخواہوں اور کنٹریکٹ سٹاف کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا صوبائی وزیر نے باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے کنٹریکٹ سٹاف کی ریشنلائزیشن کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی،کمیٹی کے کنوینئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہونگے جبکہ دیگر اراکین محکمہ خزانہ، اعلی تعلیم، یونیورسٹی کے رجسٹرار اور خزانچی ہونگے کمیٹی 31اکتوبر 2024 تک کنٹریکٹ سٹاف کی ریشنلائزیشن کے حوالے سے اپنی سفارشات جمع کریگی سینیٹ اجلاس میں اراکین نے باچاخان یونیورسٹی کے سال 25-2024 کے لئے 888.09 ملین روپے کی متفقہ طور پر منظوری دیدی جبکہ صوبائی وزیر نے یونیورسٹی کے پچھلے سال کی بجٹ کی تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور صوابی میں بڑی کاروائیاں، ہزاروں لیٹرز جعلی وغیر معیاری برانڈڈ مشروبات ضبط، بھاری جرمانے بھی عائد
ملاوٹ مافیا کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ایسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں، ڈائریکٹر جنرل واصف سعید کی شہریوں سے اپیل
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوراکی اشیاء کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے پشاور اور صوابی میں بڑی کاروائیاں کیں اور جعلی اور مضر صحت مشروبات کی بڑی کھیپ برآمد کرکے ضبط کر لی
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع ملنے پر فوڈ سیفٹی ٹیمیں ٹاؤن-3اور ٹاؤن ٹاؤن-4 نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پشاور میں رنگ روڈ چغلپورہ میں واقع ایک گودام پر اچانک چھاپہ مارا، جہاں سے تقریباً 5 ہزار لیٹر جعلی برانڈڈ مشروبات برآمد کر لی گئیں۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ جعلی اور مضر صحت مشروبات شہر میں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے صوابی کے شیوہ بازار میں بھی کاروائی کرتے ہوئے ایک سٹور سے 810 لیٹر جعلی مشروبات برآمد کیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق مزید کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر انسپکشن ٹیموں کی کار کردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ مافیا کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ایسے گھناؤنے کاروباروں میں ملوث افراد کو فوڈ اتھارٹی کے نوٹس میں لائیں تاکہ ان کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔
