Home Blog Page 40

سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر علی خان کی صدارت میں محکمہ زراعت کی آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ زراعت سے متعلق عوامی شکایات، مسائل اور تجاویز کے مؤثر ازالے کے لیے منگل کے روز پشاور میں آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت سیکرٹری محکمہ زراعت خیبر پختونخوا ڈاکٹر امبر علی خان نے کی۔ کھلی کچہری میں سپشل
سیکرٹری زراعت اورایڈیشنل سیکرٹری زراعت سمیت محکمہ زراعت کی مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرل اوردیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف اضلاع سے کسانوں اور شہریوں نے زرعی سہولیات، بیج ا ور کھاد کی فراہمی، آبپاشی، فصلوں کی پیداوار، زرعی توسیعی،خدمات اور دیگر اہم امور سے متعلق اپنی شکایات اور مسائل سے آگاہ کیا جبکہ براہ راست اپنی تجاویز و آراء بھی پیش کیں۔سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر علی خان نے کھلی کچہری کے دوران عوامی مسائل نہایت توجہ سے سنے اور ان کے فوری و مؤثر حل کے لیے متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے بعض شکایات کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت عوامی خدمت، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور کسانوں کو براہ راست اپنی آواز حکام تک پہنچانے کا موقع فراہم کرنا اور مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کرنا ہے۔ سیکر ٹری زراعت نے کہا کہ زرعی مشینری، کھاد اور کاشتکاری کی دیگر سہولیات صوبے کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچانے کے لئے بھی محکمہ زراعت بھر پور اقدامات اٹھا رہا ہے اسی طرح زرعی زمینوں کی آبپاشی کے لئے بھی مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور جس اراضی کا نظام آبپاشی محکمہ زراعت کے تحت حل ہو رہا ہے تو اس کے لئے محکمہ خود اقدامات اٹھائے گا اور جو محکمہ زراعت کے زمرے میں نہیں آتا اسے محکمہ آبپاشی کے ساتھ روابط کے ذریعے حل کیا جائے گا۔انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ ماڈل فارم سروسز میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں تاکہ وہ محکمہ زراعت کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کسانوں کی فلاح و بہبود، زرعی شعبے کی ترقی اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اس طرح کی کھلی کچہریوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔

وزیرِ قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیرِ صدارت مختلف امور کے منصوبوں کے پی سی۔ون پر اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت محکمہ قانون کے تحت اس کے فوجداری اور دیوانی قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے اور اس سے جڑے دیگر منصوبوں کے پی سی۔ون (PC-I) پر تفصیلی پریزنٹیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون، ڈی جی لاء اینڈ ہیومن رائٹس، محکمہ قانون کے حکام اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ قانون کے حکام نے مجوزہ پی سی۔ون کے اغراض و مقاصد، مالی تخمینوں، منصوبے کی افادیت اور متوقع نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور شرکاء کی جانب سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دیوانی اور فوجداری قوانین کا بلا واسطہ اثر سماج پر ہوتا ہے لہذا ان قوانین کو ازسر نو جائزہ لینے کے لئے پی سی ون میں منصوبہ کی شمولیت پر زور دیا گیا۔۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ پی سی۔ون کو جدید تقاضوں، شفاف مالی نظم و نسق اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون کی استعداد کار میں بہتری اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی سی۔ون میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے متعلقہ فورمز سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ آن لائن کھلی کچہری میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے شرکت کی جبکہ انکے ہمراہ سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔آن لائن کھلی کچہری کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور خان نے براہِ راست ٹیلی فون کالز اور سوشل میڈیا کے ذریعے صوبہ بھر سے موصول ہونے والی عوامی شکایات اور مسائل سنے۔ لوگوں نے پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اورجاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔صوبائی وزیر نے عوامی شکایات پر موقع پر ہی متعلقہ افسران کو فوری اور مؤثر حل کے لیے واضح ہدایات جاری کیں اور اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کا بروقت اور شفاف ازالہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔فضل شکور خان نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا، انکے مسائل کے فوری حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جو کہ ایک عوام دوست اقدام ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت عوام کے مسائل کو بھرپور اور سنجیدہ انداز میں حل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو مزید فعال اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق تمام سکیموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کھلی کچہری میں لوگوں کی دلچسپی لینے اور شکایات درج کرانے پر شکریہ ادا کیا انہوں نے مزید کہا کہ بعض مسائل کے حل کے لئے لوگ اپنے متعلقہ منتخب رکن صوبائی اسمبلی سے رابطہ رکھیں کیونکہ ترقیاتی سکیموں کے لئے انکے ایم پی ایز کو فنڈز دئیے ہیں تاکہ ان کے علاقہ کی سکیموں کے لئے فنڈز جاری کئے جا سکیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان کا وادی تیراہ سے نقل مکانی سے متعلق وفاقی حکومت کی بیان پر رد عمل

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی و آپریشن کا سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا قوم جانتی ہے کہ وادی تیراہ میں آپریشن سے متعلق وفاقی وزراء کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈی سی کی جانب سے جاری لیٹر اور تیرہ کی مقامی 24 رکنی کمیٹی کا موقف بھی سب کے سامنے ہے۔ عاقب اللہ خان نے کہا کہ وادی تیراہ کے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پہلے وفاقی حکومت اپنے فیصلے قوم پر مسلط کرتی ہے جبکہ پھر مشکل وقت میں متاثرین کو بھی تنہا چھوڑ دیتی ہے اور وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ وزیر برائے ریلیف عاقب اللہ خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے انخلاء کرنے والے متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے، جبکہ فنڈز کے اجراء کا مقصد متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا تھا اور اس معاملے میں صوبائی حکومت نقل مکانی پر مجبور ہونے والے متاثرین کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد، من گھڑت، حقائق کے منافی اور عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں سالانہ بھل صفائی مہم کا آغاز

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے شامی روڈ پشاور میں نہروں کی سالانہ بھل صفائی اور سالانہ مرمت و بحالی مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی خان، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ آبپاشی کے حکام نے صوبائی وزیر کو جاری بھل صفائی اور مرمت و بحالی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا صوبے بھر میں 4,060کلومیٹر طویل نہری نظام کی نگرانی اور دیکھ بھال کر رہا ہے جبکہ موجودہ مہم کے دوران2,030کلومیٹر نہروں کی بھل صفائی کی جا رہی ہے جو مجموعی نہری نظام کا 50 فیصد بنتا ہے۔ بھل صفائی کے لئے 441.27ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نہروں کے پشتوں، لائننگ اور دیگر متعلقہ ڈھانچوں کی مرمت کے لئے 285.64 ملین روپے، ٹیوب ویلز اور لفٹ اریگیشن سکیموں (الیکٹریکل و مکینیکل ورک) کی بحالی کے لیے89.63ملین روپے جبکہ فلڈ پروٹیکشن اور ڈرینیج سے متعلق کاموں کے لئے83.47ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ محکمہ آبپاشی صوبے بھر میں نہروں، ڈسٹری بیوشن سسٹمز، ہیڈ ورکس، ٹیوب ویلز، لفٹ اریگیشن سکیموں اور فلڈ پروٹیکشن ڈھانچوں پر مشتمل اہم انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کر رہا ہے، جو 25 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو سیراب کر کے کسانوں کو روزگار اور صوبے کی غذائی تحفظ کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور وژن کے مطابق ایک بھرپور انداز میں مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال جنوری تا فروری نہری بندش کے دوران مرمت و بحالی پروگرام کے تحت بھل صفائی، پشتوں کی مضبوطی اور ساختی مرمت کے کام انجام دیا جاتا ہے تاکہ کاشت کے موسم میں پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ بھل صفائی کا مقصد نہروں میں پانی کی گنجائشی صلاحیت کو بحال رکھنا، پانی کے ضیاع کو کم کرنا اور آخری سرے کے کسانوں تک منصفانہ پانی کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہروں سے نکالی جانے والی بھل عارضی طور پر دو سے تین دن نہری کناروں پر رکھی جاتی ہے، جس کے بعد اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت منتقل کیا جاتا ہے جبکہ ماحولیاتی اصولوں اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں نہری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دیکھ بھال کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور ماحولیاتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی و مرمتی کام شفاف، بروقت اور مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صوبے میں پانی کے بہتر انتظام، زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کے مسائل کے پائیدار حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر وہ اقدام کرے گا جس سے عوام کو حقیقی سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے جانب سے صوبے بھر کے ہر سیکٹر میں بلاامتیاز ترقیاتی کام کئے جائیں گے تاکہ عوام کو بلا تفریق یکساں سہولیات فراہم ہوں۔

پشاور میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں،جعلی کولڈ ڈرنکس کی بڑی کھیپ اور خشک خمیر بنانے والے یونٹ بے نقاب، بھاری جرمانے عائد

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پشاور میں جعلی، غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی کولڈ ڈرنکس اور خشک خمیر تیار کرنے والے یونٹ بے نقاب کر دیے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کی اور کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور ذیشان محسود کی نگرانی میں خفیہ اطلاع پر پھندو روڈ اور پشاور انڈسٹریل زون میں چھاپے مارے۔ پھندو روڈ پر واقع ایک گودام سے تقریباً 2000 لیٹر جعلی کولڈ ڈرنکس برآمد کر کے سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔اسی طرح پشاور انڈسٹریل زون میں قائم ایک پروڈکشن یونٹ پر چھاپے کے دوران یونٹ کو رنگے ہاتھوں جعلی خشک خمیر تیار کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ کارروائی کے دوران تقریباً 1000 کلوگرام خام اور تیار شدہ جعلی خشک خمیر قبضے میں لے لیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ معروف برانڈز کے نام پر جعلی خشک خمیر پیک کرنے اور تیار کرنے میں استعمال ہونے والی مشینری بھی سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔ ملوث مالکان پر بھاری جرمانے عائد کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ جعلی، غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ کاشف اقبال جیلانی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کی فوری نشاندہی کریں جو غیر معیاری خوراک یا جعلی مشروبات تیار یا فروخت کر رہے ہوں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

سینئیر ممبر بورڈ آف ریوینیو عامر سلطان ترین کا پراجیکٹ ڈائیریکٹر ضم اضلاع واصل خٹک کے ہمراہ ضلع خیبر کا اچانک دورہ، ایس ڈی ایل آر منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوعامر سلطان ترین نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سیٹلمنٹ اینڈ ڈیجیٹائزیشن آف لینڈ ریکارڈز پراجیکٹ کے ہمراہ ضلع خیبر میں سیٹلمنٹ آفیسر کے دفتر کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ضلع خیبر میں جاری سیٹلمنٹ کارروائیوں کے بارے میں ایس ایم بی آر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ایس ڈی ایل آر منصوبے کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا جن میں اب تک کی پیش رفت، فیلڈ سرگرمیاں، ڈیٹا کی تصدیق کے مراحل اور زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات شامل تھے،ایس ایم بی آر نے خاص طور پر مستفیدین کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز کے اندراج اور تصدیق کے طریقہ کار کے بارے میں استفسار کیا اور اس کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ اصل ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے، جعلی اندراجات کا خاتمہ ہو اور ڈیجیٹل زمین کے ریکارڈ کی ساکھ مضبوط بنائی جا سکے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے آگاہ کیا کہ سخت تصدیقی نظام نافذ ہے اور سی این آئی سی کا اندراج منظور شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنایا جا رہا ہے ایس ایم بی آر نے سیٹلمنٹ کارروائیوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیٹلمنٹ سٹاف اور ایس ڈی ایل آر پراجیکٹ ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایل آر منصوبہ ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے جس کا مقصد عوام کو محفوظ، شفاف اور چھیڑ چھاڑ سے پاک زمین کا ریکارڈ فراہم کرنا ہے، دورے کے اختتام پر ایس ایم بی آر نے فیلڈ سٹاف کو کام کی رفتار برقرار رکھنے کی تلقین کی اور مقررہ طریقہ کار کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے سیٹلمنٹ سرگرمیوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایس ڈی ایل آر منصوبے کے تحت زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے زمین کے انتظامی نظام کو جدید بنایا جائے اور عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد

پشاور ہائیکورٹ کے کورٹ روم۔1 میں پیر کے روز ججز کی حلف برداری کی تقریب من عقد ہوئی جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے چھ ایڈیشنل ججز سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔حلف اٹھانے والے ججز میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ شامل ہیں۔حلف برداری کے حوالے سے منعقدہ پر وقار تقریب میں متعلقہ حکام اور وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کے دفتر پشاور میں محکمہ آبپاشی سے متعلق آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کے دفتر پشاور میں محکمہ آبپاشی سے متعلق آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کے دوران صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے بذریعہ ٹیلیفون صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے عوام کی فون کالز سنیں اور انہیں درپیش مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی تمام شکایات کو باقاعدہ ریکارڈ پر لیا گیا جبکہ تمام شکایت کنندگان کے موبائل نمبرز نوٹ کیے گئے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے مکمل حل کے لیے ایک سے دو ہفتوں پر مشتمل واضح ٹائم لائن کے اندر عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور شکایت کنندگان کو پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھا جائے۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ محکمہ آبپاشی ایک عوامی خدمت کا ادارہ ہے اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ داری میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا انعقاد قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کا عملی مظہر ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرنا اور ان کے مسائل فوری طور پر سن کر حل کرنا ہے۔ ریاض خان کا کہنا تھا کہ قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ہمیشہ عوامی مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں اور کھلی کچہری کا نظام اسی عوام دوست پالیسی کا تسلسل ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کھلی کچہری جیسے اقدامات سے نہ صرف عوام کو اپنی شکایات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی میں شفافیت اور بہتری بھی آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا جا رہا ہے۔ ریاض خان نے عوام کی جانب سے کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد، شفافیت اور باہمی رابطے کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ آبپاشی میں میرٹ اور انصاف کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ محکمہ آبپاشی میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی، اقربا پروری یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور محکمہ کو مزید شفاف، فعال اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیربرائے خزانہ مزمل اسلم نے بی آر ٹی پشاور کارنامہ سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانس پشاور کو ایک بار پھر ڈی کاربنائزنگ ٹرانسپورٹ ایوارڈز 2026 میں فائنلسٹ کے طور پر شارٹ لسٹ کردیا گیا ہے

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیربرائے خزانہ مزمل اسلم نے بی آر ٹی پشاور کارنامہ سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانس پشاور کو ایک بار پھر ڈی کاربنائزنگ ٹرانسپورٹ ایوارڈز 2026 میں فائنلسٹ کے طور پر شارٹ لسٹ کردیا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے مزید بتایا کہ عالمی ماحولیاتی تناظر میں یہ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم خبر ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ بی آر ٹی پشاور پہلے ہی 5 بین الاقوامی ایوارڈز جیت چکی ہے جو پاکستان میں کسی بھی میٹرو بس سروس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔