خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ شعبہ آ پاشی کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اسے جدید خطوط پرا ستوار کرنے کی خاطر بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی کی ترقیاتی سکیم نارتھ ریجن سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد طاہر اور کزئی سپیشل سیکرٹری آبپاشی وقار شاہ، چیف انجینیئر آبپاشی انجینیئر غلام اسحاق خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں چیف انجینیئر آبپاشی نے محکمہ کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی پیشرفت، اہداف اور کامیابیوں کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی، صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی ملکیتی اراضی کی مکمل تفصیل مہیا کی جائے اور جہاں پر بھی محکمہ کی اراضی پر قابضین ہوں تو ان سے فوری طور یہ اراضی واگزار کروائی جائے، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں سول کینال سے متعلق مکمل طریقہ کار تیار کریں جبکہ محکمہ ٓبپاشی کے استعمال کے پانی کے ضیاء کو روکنے کے لیے بھی موثر بندوبست کریں تاکہ زراعت کے لیے وافر مقدار میں پانی مہیا ہو، انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی زمینوں پر پھیلنے والی غیر قانونی آبادی کے کنٹرول کے لیے بھی اقدامات اٹھائیں، انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبیانہ ٹیکس کی وصولی کے ٹارگٹ کو 100 فیصد مکمل کرے تاکہ صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو،صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ محکمہ کے مسائل کا فوری طور پر حل نکالا جائے گا اور اس میں عملہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، بعد ازاں وزیرآبپاشی نے محکمہ کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور محکمہ کی گاڑیوں، مشینری اور دیگر آلات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں
مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ایک اہم قدم کے طور پر صوبے میں مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میںدینی مدارس کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے 1000 سے 1500دینی مدارس کو سولرائزیشن کے منصوبے میں شامل کرنے کےلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سولرائزیشن میں تمام اضلاع کے رجسٹرڈمدارس شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں زیر تعلیم ہزاروں طلباءرہائش پذیر ہوتے ہیں جن کی سہولت کےلئے مدارس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا ضروری ہے۔وہ پیر کے روز محکمہ توانائی و برقیات کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو محکمہ توانائی کے حکام کی جانب سے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں ، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پن بجلی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کوانتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر اندر تکمیل کو یقینی بنایا جائے ۔ جاری منصوبوں میں غیرضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ کرنے والے ٹھیکداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے ترجیحات کا تعین کیا جائے اور صوبے کےلئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی فنڈنگ کو پہلی ترجیح دی جائے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالی طور پر کمزور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز(ٹی ایم ایز) کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کےلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کواس مقصد کےلئے ڈیڑھ ارب روپے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں اور پنشنز ادا کی جائیں تاکہ ان ملازمین کو رمضان کے دوران اور عید پر کوئی مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز کو گزشہ کئی ماہ سے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اجلاس کے دوران محکمہ بلدیات کے جملہ انتظامی و مالی امور ، ترقیاتی منصوبوںبشمول خیبرپختونخوا سیٹیز امپرومنٹ پروجیکٹ(KPCIP) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری بلدیات داو¿د خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
امراض قلب میں مبتلا نادار اور غریب بچوں کا علاج اب مفت ہوگا،ترجمان پی آئی سی
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور قطر چیرٹی پاکستان ادارے کی مشترکہ کاوش سے بے سہارا اور نادار بچوں کے لیے زندگی اور امید کرن پیدا ہوگئی۔ترجمان رفعت انجم کے مطابق پی آئی سی کے چیف ایگزیکٹیو اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر شاہکار احمد شاہ اور قطر چیریٹی کے نمائندے سجاد خان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر لیے۔معاہدے کے تحت امراض قلب میں مبتلا 150 سے زائد بچوں کے علاج کے لیے قطر چیریٹی پاکستان مالی معاونت فراہم کرے گا۔ مالی معاونت کا منصوبہ ابتدائی طور پر 4 ماہ کے لیے ہوگا جس کی بعد میں توسیع کی جائے گی۔ قطر چیرٹی کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت کے حوالے سے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پیڈ کارڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کا کہنا تھا کہ یہ امداد نادار اور غریب بچوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی۔مالی معاونت سے دل میں سوراخ اور اوپن ہارٹ سرجری والے بچوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قطر چیرٹی پاکستان اور قطر کے عوام کے شکر گزار ہیں جو ان نادار بچوں کا سہارا بنے۔
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سی ای او اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہکار احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پی آئی سی بہترین علاج معالجے کی سہولیات اور خدمات کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اور پذیرائی حاصل کر رہا ہے جس کے باعث انٹرنیشنل اداروں کا اعتماد بڑھا ہے جو ہسپتال کے تمام عملے کے لیے فخر کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی سی میں امراض قلب کے ہر مریض اور خصوصا بچوں کو ہر ممکن اور اعلٰی معیار کے علاج معالجے کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں امراض قلب میں مبتلا بچوں کے لیے کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے اسٹیٹ آف دی آرٹ شعبے اور بہترین انٹرنیشنل کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے۔
قبائلی علاقوں میں زراعت کی ترقی، خوشحالی اور فروغ کیلئے کوشاں ہے۔باجوڑ میں ورلڈ بینک پراجیکٹ کے افتتاحی تقریب
قبائلی علاقوں میں زراعت کی ترقی، خوشحالی اور فروغ کیلئے کوشاں ہے۔باجوڑ میں ورلڈ بینک پراجیکٹ کے افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت اور پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طاہر کا خطاب۔ زراعت کے فروغ اور ترقی سے ملک ہی میں روزگار اور کاروبار کے مواقع ملینگے۔پروگرام کا بنیادی مقصد زمینداروں کو آگاہی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ سے فصلوں کے پیداواری صلاحیت بڑھانا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری اور پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طاہر، ڈپٹی کمشنر باجوڑ انور الحق، محکمہ زراعت،ورلڈ بینک اور دیگر محکموں کے اہلکاراور زراعت آفیسر ڈاکٹر سبحان الدین بھی موجود تھیں،افتتاحی تقریب میں کسانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور پروگرام کو چار چاند لگایا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ضم شدہ اضلاع میں کسانوں کے سہولت اور زراعت کے فروغ، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور علاقائی ترقی کیلئے جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کا وعدہ کیا جس سے جدید ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز،ٹنل فارمنگ اور ورٹیکل نیٹ فارمنگ کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت زمینداروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ، زراعت میں آسانیاں پیدا کرنا تاکہ جدید ٹیکنالوجیز سے زیادہ فائدہ اور پیداوار حاصل کرسکیں۔پروگرام کے اختتام پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل سیکرٹری زراعت محمد طاہر اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے پھلدار پودے لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔
حکومت کا مقصد قانون کی بالادستی اور عوام کی فلاح ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین خان گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت ملک میں قانون کی بالادستی ، جمہوریت کے استحکام ، انصاف و شفافیت کے فروغ اور حقدار کو حق کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔ ہم پاکستان میں ایسے نظام کے خواہاں ہیں جس میں حقیقی معنوں میںقانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ہو ۔ ہم اپنے منشور اور نظرئیے کے مطابق جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور ہماری آنے والی نسلیں محفوظ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علی امین خان گنڈاپور نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔ تحریک انصاف اپنے لیڈر کی قیادت میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہم نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ہم حکومت کے لئے نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور جمہوریت کے استحکام کے لئے کھڑے ہیں۔ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے لئے ہمارے آباواجداد نے جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے وہ صوبے کے حقوق کےلئے آواز اٹھائیں گے کیونکہ عوام نے اسی مقصد کے لئے انہیں مینڈیٹ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نظریاتی و سیاسی اختلافات کے باوجود وہ صوبے کے حقوق سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کریں گے، ہم اپنے آئینی حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ علی امین خان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی، اس وقت کے معاشی حالات او رآج کے معاشی حالات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ آج ملک کوجس سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار یہی سیاسی جماعتیں ہیں جو اب مرکز میں بیٹھی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ اس کے علاوہ غربت کا خاتمہ ، روزگارکا فروغ ، عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی ، قانون و انصاف کی بالادستی ، صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ یکم رمضان سے صحت انصاف کارڈ کو مکمل طور پر بحال کرنے جارہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق شفاف طریقے سے ساڑھے آٹھ لاکھ مستحقین گھرانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے دینے جارہے ہیں جس کا یکم رمضان سے آغاز کردیا جائیگا۔
نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مانیٹرنگ کی گئی محکمیں اور ترقیاتی اقدامات کے دورانیے میں کامیابی کا اظہار
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ جب اُنہوں نے وزرات اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبے کو خراب معاشی صورتحال کا سامنا تھا یہاں تک کہ ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں تھے لیکن بہترین ٹیم ورک اور مو¿ثر حکمت عملی کی بدولت نگران حکومت مالی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس وقت صوبائی خزانے میں تقریباً 100 ارب روپے کی رقم موجود ہے جبکہ برآں نگران دور حکومت میں کسی بھی بینک یا ادارے سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے وفاق کے ذمے صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے معاملہ وفاق کے ساتھ پرزور انداز میں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں قلیل مدت میں وفاق سے 64 ارب روپے کے اضافی فنڈز حاصل کئے گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے درمیان مفاہمت کے ذریعے 4.1 ارب روپے جبکہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت 20 ارب روپے کے اضافی فنڈز کا حصول ممکن بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع کیلئے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کی مد میں وفاق سے 28 ارب روپے حاصل کیے گئے جبکہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 12 ارب روپے کا حصول ممکن بنایا گیا ہے۔ پیر کے روز نگراں صوبائی وزراءبیرسٹر فیروز جمال شاہ کا کا خیل، احمد رسول بنگش اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نامساعد حالات میں عام انتخابات کا صاف و شفاف اور پ±ر امن انعقاد یقینی بنایا گیا جس کے لئے وہ اﷲ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔عام انتخابات کے پر امن انعقاد پر سول انتظامیہ، پاک فوج، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کی شبانہ روز محنت سے پر امن انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نگران دور میں تمام شعبہ جات میں خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر میں پاک فوج اور ایف سی کے تعاون سے “علم ٹولو د پارہ’ مہم کا اجراءکیا گیا جبکہ 33ہزار سے زائد بچوں کی انرولمنٹ اور 134 غیر فعال سکولوں کو فعال بنایا گیا ہے۔ اس کے علاو¿ہ مختلف سکولوں میں 10 ڈیجیٹل اسکلز لیب قائم کی گئی ہیں، پی ٹی سی فنڈز کے تحت 250 اساتذہ کی بھرتی کے علاو¿ہ 961طلبہ کو ہاسٹل کہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح شعبہ منصوبہ بندی و ترقیات میں پی ڈی ڈبلیو پی سے 206 ارب روپے مالیت کے 57 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ہوئی ہے جن میں 11 نئے اور 46 جاری منصوبے شامل ہیں۔اسی طرح ایکنک سے 109 ارب روپے مالیت کے میگا پراجیکٹس کی منظوری کرائی گئی ہے۔
نئی صوبائی اسمبلی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، سیشن بلانے کے لئے سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے خیبرپختونخوا نے نئی صوبائی اسمبلی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیشن بلانے کے لئے سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کردی گئی ہے اور سیشن کے لئے تاریخ کا تعین گورنر کی صوابدید ہے، انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے جمعہ کے مبارک دن سمری پر دستخط کئے اور سمری گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کردی گئی ہے، نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے کہا کہ وہ خود بھی اس موقع پر موجود تھے، سمری پر دستخط کرتے ہوئے دعا کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ نئی صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھرپور طریقے سے بہتر قانون سازی کرے اور اس نتیجے میں صوبے میں دیرپا امن و امان ہو اور بھائی چارے کا بول بالا ہو۔انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے اور مالی مشکلات کے باوجود ہر ممکن کوشش کی گئی کہ صوبے کے معاملات احسن طریقے سے تکمیل کو پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نگران حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو صوبائی خزانہ خالی تھا، تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسے نہیں تھے، مگر اللہ کے فضل سے اب خزانے میں صوبائی حکومت کے معاملات چلانے کے لئے تقریباً 100 ارب روپے چھوڑ کر جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مالی معاملات احسن اور مدلل انداز میں اٹھائے گئے، سمگلنگ کی روک تھام کی گئی، ضم اضلاع کے مالی و دیگر امور پر اچھی پیشرفت کی گئی، بی آر ٹی اور صحت عامہ سمیت دیگر اہم منصوبوں کو نہ صرف جاری و ساری رکھا گیا بلکہ امور میں مزید شفافیت لے کر آئے، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم سے کم کر کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے صوبائی معاملات احسن طریقے سے انجام ہوئے اور اس پر ہم سب اللہ تعالیٰ کے مشکور ہیں اور نئی صوبائی اسمبلی کے لئے بھی دعاگو ہیں۔
خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلی جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کا پاکستان سویٹ ہوم اسلام آباد کا خصوصی دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیراعلی جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ نے پاکستان سویٹ ہوم اسلام آباد کا خصوصی دورہ کیا۔ سویٹ ہوم پہنچنے پر ادارے کی انتظامیہ اور بچوں نے نگران وزیر اعلی کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلی نے پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان اور سویٹ ہوم کے بچوں سے ملاقات کی. وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے اس موقع پر سویٹ ہومز کے ذریعے بے سہارا اور یتیم بچوں کی کفالت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے اللہ تعالی اپنے خاص مقصد کا کام لیتا ہے۔ مستقبل میں یہ بچے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ثابت ہونگے۔ اس موقع پر وزیراعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پاکستان سویٹ ہوم کے بچوں کے لیے 20 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان نے سویٹ ہوم کا دورہ کرنے اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے پر نگران وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی مشکور ہیں کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا پاکستان سویٹ ہوم تشریف لائے اور پاکستان سویٹ ہوم کے فرشتوں اور پریوں کے ساتھ وقت گزارا۔ زمرد خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے زندگی کے خوبصورت مشن سے نوازا ہے اور میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ پاکستان سویٹ ہوم کے بچے اور بچیاں آج ملک کی نامور یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں یہ ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ دنیا کی تاریخ کا پہلا کیڈٹ کالج جو صرف یتیم بچوں کے لیے شہیدوں و غازیوں کی سرزمین گوجر خان میں واقع ہے جہاں 200 سے زائد کیڈٹس زیر تعلیم ہیں۔ ۔
صوبائی نظامت اطلاعات اور پی آئی ڈی کے درمیان باہمی تعاون کی کوششوں کو مزید تقویت دی جائے گی، ڈی جی اطلاعات و تعلقات عامہ
منگل کو پشاور میں محمد عمران، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اور اشفاق احمد خلیل ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں میڈیا ڈائنامکس اور تعلقات عامہ کی حکمت عملیوں کے بدلتے ہوئے منظر نامے سے متعلق اہم امور پربات چیت کی گئی۔ ملاقات میں صوبائی نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا اور وفاقی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون، اشتراک، اور باہمی تجربات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے مسلسل رابطہ کاری پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں عوام کی درست معلومات تک بروقت رسائی اور میڈیا کے منظر نامے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد عمران اور ڈی جی پی آئی ڈی اشفاق احمد خلیل نے مشترکہ مقاصد کے حصول میں ہم آہنگی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نظامت اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا اور وفاقی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومتی امور میں شفافیت اور احتساب کے لئے میڈیا کے کردار پر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جدید دور کے تقاضوں اور ڈیجٹل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر میڈیا کے پلیٹ فارمز کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے. میٹنگ میں موثر اطلاعات اور عوامی خدمت کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں سیدہ یسرا گیلانی، سیکشن آفیسر وزارت اطلاعات و نشریات اسلام آباد اور ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات کے پی ابن امین نے بھی شرکت کی۔
نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کا دورہ
نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخواجسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے جمعرات کے روزعام انتخابات 2024 کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیلئے محکمہ داخلہ میں قائم الیکشن کنٹرول روم کا دورہ کیا جہاں اُنہیںایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید کی جانب سے صوبے میں انتخابات کے عمل اور انتظامات کے بارے میں بریفینگ دی گئی۔ نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر عامر عبد اﷲکے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، کمشنر پشاور محمد زبیراور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ کو کنٹرول روم دورہ کے موقع پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ الیکشن کنٹرول روم میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے متعلق کوآرڈنیشن کیلئے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کا عملہ ڈیوٹی پر موجود ہے جبکہ صوبہ بھر کے تمام پولنگ سٹیشنز پر انتخابی مواد اور عملہ بروقت پہنچایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ صوبے کے برفانی علاقوں میں قائم پولنگ سٹیشنز تک رسائی کیلئے رابطہ سڑکوں کو کلیئر رکھا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں انتخابی عمل کے سلسلے میں انتظامی اور سکیورٹی اُمور کی آن لائن مانیٹرنگ کیلئے جدید سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس کے ذریعے تمام پولنگ سٹیشنز سے معلومات بروقت حاصل کی گئی ہیں۔ سافٹ ویئر بارے بتایا گیا کہ انٹر نیٹ سروس معطل ہونے کی صورت میں مینول طریقے سے بھی سافٹ ویئر کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سافٹ ویئر میں تمام پولنگ سٹیشنز اور انتخابی عملے سے متعلق ہر قسم کی معلومات درج ہیں۔تمام پولنگ سٹیشنز کے ساتھ ہمہ وقت رابطے کیلئے ٹیلی فون اور موبائل فون کا متبادل نظام بھی موجود ہے ۔ آخری بیلٹ باکس موصول ہونے تک کنٹرول روم بغیر کسی تعطل کے کام کرتا رہے گا۔ وزیراعلیٰ نے عام انتخابات کیلئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ۔
