نگران وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور انسپکٹر جنرل پولیس اخترحیات خان کے ہمراہ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں قائم پراونشل الیکشن ورک سپیس کا دورہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عابد مجید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پراونشل الیکشن ورک سپیس الیکش میں انتظامی امور دیکھنے کے لیے 24 گھنٹے کام کررہا ہے اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر متعلقہ انتظامی امور کی نگرانی کر رہا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی کنٹرول روم صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں قائم ضلعی کنٹرول رومز کے ساتھ ہمہ وقت رابطے میں ہے اور سیکیورٹی، پولنگ سامان اور سٹاف کی موجودگی کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری عابد مجید نے بتایا کہ سیکیورٹی، پولنگ سامان اور سٹاف کی موجودگی کی نگرانی خصوصی ایپ کے ذریعے کی جا رہی ہے اورایپ کو آف لائن نظام سے بھی منسلک کیا گیا ہے،کسی بھی پولنگ سٹیشن پر اگر پولنگ کا عمل جزوی طور پر رکتا ہے تو ایپ ہی پر پولیس کوئیک ریسپانس فورس کو طلب کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ پراونشل الیکشن ورک سپیس میں محکمہ اطلاعات، ہیلتھ، پولیس سمیت دیگر متعلقہ اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہیں اور ہائی الرٹ ہیں۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کاکاخیل میں الیکشن ڈے پر اطلاع سیل کا دورہ۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے الیکشن ڈے پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کے ہمراہ سول سیکریٹریٹ میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کے اطلاع سیل کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن خان سرور وزیر نے الیکشن ڈے کے حوالے سے اطلاع سیل کے مختلف امور پر بریفنگ دی۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ عوام تک حکومتی اقدامات اور بر وقت معلومات کی فراہمی میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کا کلیدی کردار ہے، اطلاعات کا محکمہ حکومت، میڈیا اور عوام کے درمیان اینکر کا کردار ادا کرتا ہے، میڈیا کے ساتھ کوورڈینیشن اور معلومات کی فراہمی اور میڈیا میں رپورٹ کئے جانے والے عوامی مسائل کو حکومت کے مختلف محکموں تک پہنچانے میں اطلاعات کے کمیونیکیشن سیکشن کا اہم رول ہے،الیکشن کے تمام مراحل میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے بھرپور کردار ادا کیا، الیکشن ڈے پر اطلاع سیل نے الیکشن سے متعلق ایونٹس کو ہمہ وقت مانیٹر کیا اور مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچائے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے اس موقع پر سٹاف کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اطلاع سیل کی بروقت رپورٹس کی بدولت محکموں اور انتظامیہ کو ضروری اقدامات اٹھانے میں کافی سہولت ملی ہے، سٹاف میڈیا میں اجاگرکئے جانے والے عوامی مسائل کو متعلقہ حکام تک پہچانے کیلئے اسی مستعدی اور فرض شناسی کے ساتھ کام کرے۔یاد رہے کہ جنرل الیکشن کے حوالے سے اطلاع سیل سے الیکشن کے تمام مراحل میں رپورٹ کئے جانے والے ایونٹس کو مانیٹر کیا گیا اور حکام تک پہنچایا گیا۔
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس میں معاشرتی بہبود، تعلیمی امور، اور مالی معاملات پر فیصلے
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس منگل کی سہ پہر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری اور صوبے کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ نے مختلف اداروں کے ساتھ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے معاہدوں پر مذاکرات کے لیے ٹرانزیکشنل ایڈوائزر/ لیگل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو اختیار دے دیا۔کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 22-A سے استثنیٰ کی منظوری دی جس سے صوبائی محکمہ ثقافت اور سیاحت پی ٹی ڈی سی کی سترہ (17)جائیدادوں کو آؤٹ سورس کر سکے گا۔کابینہ نے مسکان انسٹی ٹیوٹ سوات کے یتیم بچوں کے لئے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دے دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نے مذکورہ ادارے کا دورہ کیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ادارہ مہنگائی بالخصوص اشیائے خوردونوش کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے اور انہوں نے یک وقتی گرانٹ کی تجویز دی تھی۔کابینہ نے امید سپیشل ایجوکیشن سکول پشاور کے لیے سالانہ سسپنس فنڈ/گرانٹ ان ایڈ کی فراہمی کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔ 2015-16سے صوبائی حکومت انسٹی ٹیوٹ کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کر رہی ہے۔کابینہ نے پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ کے سیکشن 14(1) اور خیبر پختونخوا پروبیشن اینڈ پیرول رولز 2023 کے رول 11(2) کے تحت درے شہوار اور عمران ٹکر کو صوبائی پیرول کمیٹی کے ممبران بنانے کی منظوری دی۔ کابینہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں معاونین قاضی کا اعزازیہ 1200 روپے فی ورکنگ ڈے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے نظام عدل ریگولیشن 2009 کے تحت مئی 2019 میں 104 قاضیوں کو 3 سال کی مدت کے لیے تعینات کیا گیا تھا، ان میں سے 74 کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد مزید 3 سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ/امتحانات میں باڈی سرچ ڈیوٹی کے لیے 600 روپے معاوضے کی منظوری دی۔ کابینہ نے تحصیل مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 کے رول 23 میں ترمیم کی منظوری دی، ترمیم سے خیبرپختونخوا مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 مزید مستحکم اوربجٹ اور آڈٹ کو قانونی تحفظ فراہم ہو گا۔کابینہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز آف واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی (WSSC) مردان کیلئے سید محمد جاوید، دلاور فرحان شمس، ظاہر شاہ اور انجینئر قیصر زمان کے ناموں کی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد ایوب کی بطور چیف ایگزیکٹو آفس ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی (KPT&GSE) تقرری کی منظوری دی۔
خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کی روزگار کیلئے گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس پروگرام کا آغاز کیا۔
خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل اسکلز کی ضروریات کو پورا کرنے اور نوجوانوں کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے کیلئے ایک اہم اقدام کے طور پر ٹیک ویلی پاکستان اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی شراکت سے صوبے میں نوجوانوں کیلئے گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس پروگرام کا اجراءکر دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد میں ایک باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈسید ارشد حسین شاہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ٹیک ویلی پاکستان کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ٹیک ویلی پاکستان اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے درمیان خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو مختلف ڈیجیٹل اسکلز میں ٹریننگ کی فراہمی اور پروفیشنل سرٹیفکیشن کیلئے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو 5000 گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس سکالرشپس فراہم کئے جائیں گے۔ مذکورہ مفاہمتی یاداشت پر عملی پیشرفت کے طور پر ایبٹ آباد سے پروگرام کا اجراءکر دیا گیا ہے جسے بتدریج صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی ۔گوگل کیرئیر سرٹیفکیشن پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو چھ ماہ کی مختصرمدت میں مختلف شعبوں میں جاب ۔ ریڈی اسکلز سے آراستہ کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے صوبے میں ڈیجیٹل اسکلز کے فروغ اور نوجوانوںکی پروفیشنل سرٹیفکیشن کیلئے تعاون فراہم کرنے پر ٹیک ویلی پاکستان اور گوگل کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ صوبائی حکومت اس اہم اقدام پر موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر تعاون فراہم کرے گی تاکہ صوبے کے نوجوان اس پروگرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مذکورہ پروگرام کا اجراءصوبے میں آئی ٹی صنعت سے منسلک اسکلز کے فروغ کے سلسلے میں صوبائی حکومت کے عزم کا عملی مظاہرہ ہے جس سے ناصرف نوجوانوں کو پیشہ وارانہ طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی بلکہ یہ پروگرام مجموعی طور پر روزگار کے فروغ اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت اس پروگرام سے خطے میں ڈیجیٹل اکانومی کے نئے راستے ہموار ہوں گے اور صوبے میں ڈیجیٹل اسکلز کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
نگران وزیر اعلیٰ نے پولیس کے شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور امن و امان کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پیر کے روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا ہنگامی دورہ کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر عامر عبداللہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی پی خیبر پختونخوا اختر حیات خان گنڈاپور بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے تحصیل درابن میں پولیس تھانے پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے کمشنر آفس ڈی آئی خان میں امن و امان سے متعلق بریفنگ لی۔ اس موقع پر درابن میں پولیس پر ہونے والے حملے کے تناظر میں امن و امان کی صورتحال کے علاوہ عام انتخابات کے پر امن انعقاد کے لئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر ڈی آئی خان، ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی خان، ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی بریفنگز دیں۔
نگران وزیر اعلیٰ نے پولیس لائن میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا بھی دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اپنی گفتگو میں پولیس پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ حملہ سفاکانہ اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،اس طرح کے بزدلانہ واقعات سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہونگے، حکومت اور پوری قوم پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لئے پولیس نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور پولیس کی ان قربانیوں پر ہم سب کو فخر ہے۔ پولیس شہداءکے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہدائ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، حکومت شہداءکے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عام انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ اور بجلی کی زیرو لوڈشیڈنگ کے لئے وزیر اعلیٰ کا اعلان۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پیر کے روز ایبٹ آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عام انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری اور انسپکٹرجنرل پولیس اختر حیات خان گنڈاپور بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن ظہیر الاسلام اور ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ اعجاز خان کے علاوہ ہزارہ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو عام انتخابات کی تیاریوں خصوصاً سکیورٹی انتظامات کے بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں عام انتخابات کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں، ہزارہ ڈویژن کے آٹھ اضلاع میں 2862 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 392 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 982 پولنگ اسٹیشنز حساس جبکہ 1488 پولنگ اسٹیشنز نارمل قرار دئے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ہزارہ میں عام انتخابات کے لئے 14322 سکیورٹی اہلکار درکار ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مختلف محکموں کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ہزارہ ڈویژن کے برفانی علاقوں میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔وزیر اعلی نے عام انتخابات کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو انتخابات کے اختتام تک ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ انتظامیہ اگلے دو تین دن سخت محنت کرے تو انتخابات کا سارا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ان دنوں ہم کسی بھی غفلت، کوتاہی یا سستی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وزیر اعلی نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ وہ تمام معاملات کی خود نگرانی کریں، پولنگ اسٹیشنز تک انتخابی عملے اور سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنائیں، خواتین عملے کی رہائش اور سکیورٹی کا خاص خیال رکھیں اور عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے احکامات اور قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو تمام وسائل اور معاونت کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہزارہ ڈویژن میں غیر ملکیوں کی سکیورٹی پر خاص توجہ دی جائے، یہ غیر ملکی قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، ان کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ایک اہم اقدام کے طور پر انتخابات کے دنوں میں صوبے میں بجلی کی زیرو لوڈشیڈنگ کے لئے معاملہ وفاقی سیکرٹری توانائی کے ساتھ اٹھالیا جس پر انہوں نے انتخابات کے دنوں میں صوبے میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کے سخت موسمی حالات کے پیش نظر 7 فروری تا 9 فروری بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں باضابطہ مراسلہ ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یوم یکجہتی کشمیر کے تقریبات میں شرکت، طلباء کا خاموش احتجاج اور رجسٹرار کا اظہارِ یکجہتی۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے حفیط اللہ ہال میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک لمحے کی پورے ہال میں خاموشی اختیار کی گئی۔ تقریب میں طلباء و طالبات نے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی کے حوالے سے خاکے اور ملی ترانے بھی پیش کئے۔ بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار کے ایم یوانعام اللہ خان وزیر نے کہا کہ کشمیر ی پچھلے 76سال سے اپنے خون سے آزادی کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انھوں نے طلباء، طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اس چھوٹی سی کاوش کا کشمیریوں کی تحریک کو بہت فائدہ پہنچے گا کیونکہ آپ کی یہ آواز میڈیا کے ذریعے دور تک پہنچے گی اور اس سے اگر ایک جانب کشمیر یوں کو یہ پیغام جائے گاکہ اہل پاکستان ان کی پشت پر کھڑے ہیں تو دوسری طرف آپ کی یہ آواز عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑنے کا باعث بھی بنے گی۔ انھوں نے کہا کہ آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے بھارتی سامراج کشمیر یوں کو پچھلی سات دہائیوں سے محروم رکھ رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت آخر کب تک یہ مظالم ڈھاتا رہے گا اسے ایک نہ ایک دن کشمیری جدو جہد آزادی کے اگے گھٹنے ٹیھکنے ہوں گے۔ انعام اللہ خان نے کہا کہ کشمیری بھارتی ظلم و جبر اور بربریت کے ہاتھوں جس آزمائش سے گزر رہے ہیں پاکستانی قوم مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں انکے ساتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو اقتصادی تعلقات کی بہتری کی کئی مرتبہ پیشکش کر چکا ہے لیکن کشمیریوں کوحق خود ارادیت دیئے بغیرپاکستان بھارت کی کسی بھی معاشی پیشکش کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو پاکستان کے اصولی موقف کی جیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیرکے منانے کا مقصد کشمیریوں اور عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہے اور وہ انکی جدو جہد میں انہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انھوں نے کے ایم یو کےطلبا ء کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ وہ آخر دم تک اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
خیبر پختونخوا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الخدمت فاونڈیشن کے درمیان مفاہمت سے نوجوانوں کو روزگاری کی فراہمی۔
صوبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت میں اضافے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کےلئے ایک اہم اقدام کے طور پر خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور الخدمت فاونڈیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر نجیب اللہ، انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر عثمان غنی، مینیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر علی محمود، الخدمت فاونڈیشن کی ٹیم اور دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ مفاہمت کی یادداشت کے تحت خیبر پختونخوا کے تین لاکھ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل اسکلز کورسز کروائے جائیں گے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ مفاہمتی یاداشت کے تحت الخدمت فاونڈیشن کے “بنو قابل” پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مڈ لیول اور ایڈوانس لیول کورسز کروائے جائیں گے۔ مجوزہ کورسز میں آفس آٹومیشن، آرٹ آف کرافٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، گرافک ڈیزائننگ، موشن گرافک، ایمازون، ای-کامرس ایوولوشن، سیلز اینڈ لیڈ جنریشن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اینڈ فری لانسنگ، موبائل ایپ ڈویلپمنٹ، ویب ڈیویلپمنٹ، سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا سائنسز شامل ہیں۔یہ تمام کورسز الخدمت فاونڈیشن اور خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کی تین سالہ شراکت کے تحت کروائے جائیں گے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، نوجوانوں کی ان صلاحیتوں کو موثر انداز میں استعمال میں لانے کےلئے قابل عمل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ نگران صوبائی حکومت نے اسی ضرورت کے تحت ہیومین ریسورس ایکسپورٹ اسٹریٹجی وضع کی ہے جس کے تحت متعلقہ محکموں اور اداروں کے تعاون سے نوجوانوں کو جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تربیتی کورسز کروائے جائیں گے۔ الخدمت فاونڈیشن کے ساتھ مذکورہ مفاہمتی یاداشت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کی تربیت یافتہ افرادی قوت میں خاطر خواہ اضافہ وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تربیت یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید واضح کیا کہ نگران صوبائی حکومت کی ہیومن ریسورس ایکسپورٹ اسٹریٹجی کے تحت اگلے ایک سال میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ کورسز کروانے کا ہدف رکھا گیا ہے، ان نوجوانوں کو روزگار کےلئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید اسکلز سکھانے کےلئے نجی اداروں کو بھی حکومتی کوششوں کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے، یہ ایک قومی کاز ہے جس میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سید ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں الخدمت فاونڈیشن کا کردار قابل تحسین ہے، الخدمت فاونڈیشن اس نیک مقصد کو عملی جامہ پہنانے کےلئے صوبائی حکومت کی شراکت دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ الخدمت فاونڈیشن اور خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے درمیان اس شراکت سے صوبے میں ڈیجیٹل اسکلز کی ضروریات کو پورا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے مفاہمت کی یادداشت پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ہاؤسنگ کا جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کا دورہ: تعمیرات کام مکمل
وزیر اعلی خیبر پختونخواکے مشیر برائے ہاؤسنگ محمد اشفاق خان نے جمعرات کے روزے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ کا دورہ کیا اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ ڈاکٹرامبر علی، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ روشن محسود ڈپٹی سیکرٹری ہاؤسنگ نعمت اللہ آفریدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورہ کے دوران مشیر ہاؤسنگ کو جلوزئی ہاؤسنگ سکیم سے متعلق ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ نے تفصیلی بریفنگ دی اور سکیم میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کے بارے میں بھی آگاہ کیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ جلوزئی ہاؤسنگ سکیم پر تقریبا 95 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور رہائشی سکیم میں رہائش کے لیے تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ مشیر ہاؤسنگ نے دورے کے دوران جلوزئی رہاشی سکیم کی تعمیر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ رہائشی منصوبہ اپنی نوعیت کا ایک اہم اور اچھا عوامی منصوبہ ہے اور عوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے جو کہ عمدہ اور منفرد ہے۔انہوں نے کہا کہ جلوزئی رہائشی منصوبے میں سرکاری ملازمین کے لئے بھی رہائشی پلاٹ مختص کئے گئے ہیں جو کہ خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کے مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیوریج سسٹم، توانائی کی ترسیل، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، سولر ٹیوب ویل تنصیب، زیر زمین سیوریج سسٹم، پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی اور عوامی قبرستان کی جگہ مختص کرنے کے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا: چترال اکنامک زون میں نئے دور کا آغاز، صنعتی ترقی کیلئے نیا سنگ میل۔
خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی کی جانب سفر میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے نئے قائم ہونے والے چترال اکنامک زون میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور زون کے اندر جدید ترین انڈسٹریل فیسیلیٹیشن دفتر کی عمارت کا افتتاح کیا گیا۔خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے چترال کا دورہ کرکے جمعرات کے روز دروش کے قریب واقع گانگ گہیریت کے مقام پر نئے زون کے تعمیراتی کاموں کی تکمیل اور سہولیاتی آفس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے نگران وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ منصوبہ چترال کی تاریخ میں گیم چینجر ثابت ہوگا اور اس اکنامک زون کی تکمیل کے بعد یہاں کے جوانوں کو روزگار کی تلاش میں ملک کے دوسرے حصوں میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ چترال کا سب سے قیمتی سرمایہ یہاں کی محنتی اور ہنر یافتہ افرادی قوت ہے۔انہوں نے صنعت کاری کے فروغ کو معاشی ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے صوبے میں اقتصادی زونز کی ترقی اور کامیابی کو مزید آسان بنانے پر زور دیااوراس سلسلے میں انھوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت بھی صنعتی ترقی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔نگران وزیر نے کہا کہ چترال کا صنعتی زون مقامی سطح پر مخصوص صنعتوں کی ترقی کیلئے ایک اہم کامیابی ہے اور اس سے یہاں پر معاشی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔نگران وزیر نے کہا کہ چترال صنعتی زون کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں اسے خصوصی صنعتی زون کی حییثت دی جائے گی۔انہوں نے افتتاحی تقریب میں صنعتی زون میں صنعتیں لگانے والے صنعتکاروں کو پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز بھی حوالہ کئے اور انھیں مبارکباد دی۔قبل ازیں چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی جاوید اقبال خٹک نے زون کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے نگران وزیر کو بتایا کہ 40 ایکڑ اراضی کے رقبے پر پھیلا ہوا نیا چترال اکنامک زون دو سال کے قلیل عرصے میں تیار کیا گیا ہے۔زون کے اندر مکمل ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی کاموں میں سڑکیں، نالیاں، پانی کی فراہمی،ریٹیننگ والز اور کمپنی کے دفتر کی عمارت شامل ہیں۔مزید برآں اس کیلئے 1.72 ایکڑ مزید اراضی بھی حاصل کی گئی ہے جس میں سرمایہ کار صنعتیں لگانے اور سرمایہ کاری کیلئے گہری دلچسپی لے رہے ہیں جو اس صنعتی بستی کی کامیابی کا مظہر ہے۔انھوں نے بتایا کہ چترال صنعتی زون کی مکمل آپریشن کے بعد اس سے روزگار کے کافی مواقع پیدا ہوں گے اور اس سے مقامی معیشت کی بہتری میں کامیابی ملے گی۔
