خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے وادی کالاش میں سیاحت کے فروغ اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے. یہ ہدایت انہوں نے محکمہ سیاحت میں منگل کے روز کالاش ویلیز ڈولپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف اتھارٹی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر دی. کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف اتھارٹی کا اجلاس چیئرمین شہزادہ مقصودالملک کی زیرصدارت منعقد ہوا. اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کے وی ڈی اے منہاس الدین، محکمہ سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و میوزیم کے اعلیٰ حکام اور بورڈ ممبران نے شرکت کی، اجلاس کا مقصد کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں اتھارٹی کے مالی امور، رولز، مختلف کمیٹیوں کی تشکیل، سٹاف اور آفس کی دستیابی اور فیلڈ فارمیشن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا. ڈی جی کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی منہاس الدین نے اب تک کی پیشرفت، مسائل اور مختلف تجاویز کے حوالے سے اجلاس کو بریف کیا. اجلاس میں کالاش ویلیز میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی امور کے حوالے سے مجوزہ قواعد و ضوابط پر تفصیلی پریزینٹیشن بھی دی گئی. نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت نے وادی کالاش کی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے موجودہ وسائل بروئے کار لانے کے لئے جامع کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی آرکیٹیکچر، منفرد ثقافت کا تحفظ نہایت ضروری ہے. اجلاس میں سیاحت کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے، فضلہ کا انتظام اصولوں کے مطابق کرنے، سیاحوں میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دینے اور علاقے کی حیاتیاتی تنوع کا تحفظ یقینی بنانے جیسے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا. میٹنگ میں مروجہ قوانین کے تحت کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ کار کا جائزہ لیا گیا اور اس میں بہتری لانے پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں کے وی ڈی اے کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے۔ نگران وزیر سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ دستیاب وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لائیں، فیصلوں پر پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیں اور شفافیت اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ اجلاس کا انعقاد یقینی بنائیں. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اتھارٹی کے فعال کردار میں کمیٹیوں کے کردار پر بھی بات کی اور کمیٹیوں کو جلد فعال کرنے کی ہدایت کی تاکہ اتھارٹی کے تحت اقدامات باہم مشاورت کے ساتھ اگے بڑھائے جاسکیں۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زمینوں کے انتقالات میں بدعنوانی کی روک تھام کی ہدایت۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے بورڈ آف ریونیو سے صوبہ بھر میں گذشتہ دو مہینوں کے دوران ہونے والے زمینوں کے انتقالات اور لین دین کی تفصیلات طلب کی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ بورڈ آف ریونیو فوری طور پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں زمینوں کے انتقالات کی تفصیل فراہم کرنے کیلئے مراسلہ ارسال کرے اور موصول ہونے والے یہ تمام ریکارڈز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں جمع کرائے جائیں تاکہ وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل میں ان ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل زمینوں کے انتقالات کرانے والے افراد سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے معلومات حاصل کرے گا کہ آیا انتقال کے عمل میں ان سے کوئی اضافی رقم تو نہیں لی گئی ہے۔ زمینوں کے انتقالات میں شہریوں کو بے جا تنگ کرنے یا ان سے زائد رقم وصول کرنے والے متعلقہ پٹوار عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کے اس اقدام کا مقصد زمینوں کے انتقالات میں مبینہ بدعنوانی کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کو مختلف ذرائع سے صوبے کے بعض مقامات پر زمینوں کے انتقالات میں متعلقہ عملے کی طرف سے لوگوں کو بے جاتنگ کرنے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جن کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے زمینوں کے انتقالات کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے شہریوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ خود بھی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کمپلینٹ سیل میں اپنی شکایات درج کرائیں اور شکایات درست ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نگران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خلاف نگران صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، شہریوں کو بے جا تنگ کرنے اور رشوت لینے والے سرکاری اہلکاروں کے لئے کوئی جگہ نہیں، ایسے عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔
اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان محمد فصیح اسحاق عباسی کا پٹوار خانہ ڈیرہ کا دورہ۔
اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان محمد فصیح اسحاق عباسی کا پٹوار خانہ ڈیرہ کا دورہ، عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق محمد فصیح اسحاق عباسی اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ نے پٹوار خانہ ڈیرہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے محکمہ مال کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ریونیو اسٹاف کو بہترین ریونیو خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے آنے والے لوگوں کا خاص خیال رکھا جائے، کسی کو بے جا تنگ نہ کیا جائے، فرد، گوشوارے اور ڈومیسائل سے متعلق خدمات مقررہ وقت کے اندر فراہم کی جائیں۔ مزید کہ متعلقہ پٹواری حضرات پٹوار خانوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں اور لوگوں کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کئے جائیں۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی رہنمائی میں پشاور پریس کلب کے وفد سے ملاقات
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ سے جمعہ کے روز پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک کی قیادت میں پریس کلب ممبران کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ملاقات کی۔ صوبائی نگران وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل اور نگران وزیر اعلیٰ کے ترجمان بریگیڈیئر(ر) سیدمجتبیٰ ترمذی کے علاوہ سیکرٹری اطلاعات سید جبار شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات محمد عمران اور دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پشاور پریس کلب کے لئے خصوصی گرانٹ کا چیک وفد کے حوالے کیا۔ یاد رہے وزیراعلیٰ ارشد حسین شاہ نے پشاور پریس کلب کے دورے کے موقع پر پریس کلب کے لئے خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا تھا۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کا خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام صوبے کی عوام کی بھلائی اور فلاح و بہبود کا پروگرام ہے، میڈیا اس پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں صوبائی حکومت کے ایک اہم پارٹنر کی حیثیت رکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے میڈیا کا فیڈ بیک انتہائی اہم اور ضروری ہے جس کی روشنی میں پروگرام پر عملدرآمد میں بہتری لائی جائے گی۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ نگران صوبائی حکومت دور حاضر میں میڈیا کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے جبکہ صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی سولرائزیشن کے منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے گا جبکہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے درکار فنڈز کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک نے ملاقات کے لئے وقت دینے اور پشاور پریس کلب کے مسائل حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت سیاحت، ثقافت، اور تعمیرات کے امور پر اہم اجلاس۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف صوبائی محکموں سیاحت ، ثقافت، آرکیالوجی اور میوزیم ، محکمہ مواصلات و تعمیرات ، لائیوسٹاک ، فشریز اور کوآپریٹیو ڈیپارٹمنس کے جملہ امور بشمول جاری ترقیاتی منصوبوں ، انتظامی امور، محکموں کو درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ کے ترجمان بریگیڈئیر (ر) سید مجتبیٰ ترمذی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ سیاحت کے مختلف منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ پی ٹی ڈی سی کی املاک وفاقی حکومت سے صوبائی محکمہ سیاحت کے حوالے کردی گئی ہیں جبکہ ان املاک کو بہتر انداز میں چلانے اور انہیں صوبے کے لئے آمدن کا ایک موثر ذریعہ بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت آوٹ سورس کرنے پر کام جاری ہے۔ اجلاس کے شرکاءکو محکمہ سیاحت کے تحت قائم کئے جانے والے انٹیگریٹڈ ٹوورازم زونز پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایاگیا کہ مانسہرہ میں 480 کنال پر گنول ، سوات میں 754 کنال پر محیط منکیال اورچترال میں 540 کنال پر محیط مداکلشت ٹووارزم زونز قائم کئے جارہے ہیں جن پر باالترتیب 5.5 ارب ، 3 ارب اور 3.8 ارب روپے لاگت آئے گی۔ مزید بتایاگیا کہ یہ ٹووارزم زونز آٹھ سال کے عرصے میں مکمل کئے جائیں گے۔ اجلاس کو محکمہ سیاحت کے تحت دیگر ترقیاتی منصوبوں بشمول ہنڈ پارک ، کمراٹ مداکلشت کیبل کار، صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پارٹس کی تنصیب پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو محکمہ سیاحت کے تحت مختلف ثقافتی تقریبات ، سیاحوں کو فراہم کی جانے والی خدمات و سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ لائیو سٹاک و فشریز کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ محکمے کے تحت 41 منصوبے ترقیاتی پورٹ فولیو میں شامل ہیں جن کے لئے 1.18 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی محکموں کو عوامی فلاح و بہبود کے جاری منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت یقینی بنانے، ان منصوبوں کے جملہ امور میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان منصوبوں پر کام کی معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات بغیر کسی تاخیر کے عوام تک پہنچائے جاسکیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے اقوام متحدہ ادارہ برائے مہاجرین کی نمائندہ فلپا کونڈلر کی ملاقات۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے جمعرات کے روز فلپا کونڈلر کی قیادت میں اقوام متحدہ ادارہ برائے مہاجرین کی نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور محمد عابد مجید اور کمشنر پشاور ڈویژن محمد زبیر بھی موجود تھے جبکہ وفدا لزبتھ ٹین (ڈائریکٹر ڈویژن آف انٹرنیشنل پروٹیکشن) شوکو شیموزاوا(ڈائریکٹر ڈویژن آف ایمرجنسی سیکیورٹی اینڈ سپلائی) اور دیگر پر مشتمل تھا ملاقات میں غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبے میں غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کے حوالے سے سپورٹ، کوآرڈینیشن اور تعاون پر بھی تفصیلی گفتگوکی گئی۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہاکہ غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کے حوالے سے ایک واضح اور مربوط پالیسی اپنائی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اس ضمن میں وفاق کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر بہترین انداز میں عمل کر کے اس عمل کو آسان بنا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس تمام عمل کو شفاف بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ ادادہ برائے مہاجرین سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے عمل کے دوران ان کے لیے طبی امداد اور خوراک کا بھی بندو بست کیا جاتا ہے تاکہ انھیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے لوگ حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے مطمئن ہیں اور انھیں کسی قسم کی شکایات نہیں ہیں۔ نمائندہ اقوام متحدہ ادارہ برائے مہاجرین نے کہا کہ حکومت کا غیرقانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء اوراس عمل کو شفاف، باقاعدہ بنانا اور اُسے دستاویزی شکل دیناایک اچھا قدم ہے۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر نے کاروبار اور سرمایہ کاری میں گورننس میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرف،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے گورننس کے نظام میں وقت کیساتھ ساتھ مفید اصلاحات لانا انتہائی ضروری ہوتا ہے اور اس سلسلے میں عوامی مفاد اور حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے قواعد وضوابط میں بہتری لانی چاہے۔انھوں نے کہا کہ اصلاحات لانے میں معیشت کی ضرورت اور عوامی مفاد کے مابین توازن کے اصول کاخاص خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس سلسلے میں عدم توازن سے شہریوں کے حقوق نظر انداز ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے۔نگران وزیر نے مزید کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے دوستانہ ماحول کی فراہمی اور قواعد وضوابط لانے میں دنیا بہت آگے جا چکی ہے اسلئے ہمیں بھی اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھا کر عالمی معیارات تک پہنچنے کیلئے سعی کرنی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کے روز پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں کاروبار اور سرمایہ کاری کےشعبے کیلئے قواعد وضوابط میں ممکنہ اصلاحات لانے کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے بحیثت مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔ورکشاپ کا اہتمام خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور وفاقی سرمایہ کاری بورڈ (وزیر اعظم آفس ) نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس میں خیبر پختونخوا کے سیکریٹری صنعت سید ذوالفقار علی شاہ،چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا آئیل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ ناصر خان،وفاقی سرمایہ کاری بورڈ کے حکام محمد علی، علی وحید اور محمود طفیل سمیت صوبے کے کئی سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسران اور فوکل پرسنز نے شرکت کی۔ورکشاپ میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں خدمات کی فراہمی کے نظام کو دوستانہ بنانے کیلئے مختلف آرا پیش کیں گئیں جبکہ ممکنہ قواعد وضوابط میں ان آرا کو شامل کرنے کی تجاویز دی گئیں۔اس موقع پر نگران وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری ترقی کیلئے حکومتی اصلاحات اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں مثبت تبدیلیاں لانا ایک ضروری امر ہے اور اس اہم اقدام کو بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔انھوں نے کہا کہ ایسے اصلاحات میں سٹیک ہولڈرز کی آرا اور نقطہ نظر کو توجہ دینا چاہئے جبکہ عوام کے مفاد اور معیشت کی ضرورت کے مابین متوازن نظام کو بحال رکھنا بھی ان قواعد وضوابط کی عملداری اور افادیت کیلئے ناگزیر ہے۔انھوں نے کہا کہ کے پی بی او آئی ٹی اور وفاقی سرمایہ کاری بورڈ کے اشتراک سے ریگولیٹری رفارمز اور استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے مشاورتی ورکشاب کا انعقاد ایک مثالی کاوش ہے۔موجودہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی اور امید ہے کہ آئندہ منتخب حکومت بھی اس تسلسل کو جاری رکھے گی۔ ورکشاپ میں کے پی بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے حکام نے شرکا کو صوبے میں کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے فراہم کی گئی آسانیوں اور سہولیات سے آگاہ کیا جبکہ منتظمین نے نگران وزیر اور سیکریٹری صنعت کو شیلڈز سے بھی نوازا۔
ڈپٹی کمشنر ٹانک کی ہدایات: ڈبرہ بازار میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع۔
ڈپٹی کمشنر ٹانک کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ٹانک امین اللہ خان نے پولیس اور ٹی ایم اے اہلکاروں کے ہمراہ ڈبرہ بازار میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیا جس کے دوران مرکزی ٹانک وانا روڈ پر ڈبرہ بازار میں تجاوزات ہٹا دی گئیں جبکہ علاقے کے عمائدین کی درخواست پر آپریشن معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے درخواست کی کہ دکاندار 3 دن کے اندر اپنی تمام تجاوزات ہٹا دیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر ٹانک امین اللہ خان نے بعد ازاں مانزئی کیمپ کا دورہ بھی کیا اور لوگوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ سرکاری اراضی پر تجاوزات نہ کریں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بعض تجاوزات کو موقع پر ہی ہٹا دیا گیا۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت ایبٹ آباد میں ٹریفک مسائل پر اہم اجلاس۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ایبٹ آبادکے ٹریفک مسائل سے متعلق اُمور پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ)سید مجتبیٰ ترمذی کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور خیبرپختونخوا اربنموبیلیٹی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو ایبٹ آباد کیلئے مجوزہ اربن موبیلیٹی پلان کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اربن ٹرانسپورٹ پیکج II کے تحت صوبے کے تین بڑے شہروں پشاور، ایبٹ آباد اور مینگورہ کیلئے سسٹین۔ایبل اربن موبیلیٹی پلانز ترتیب دینے کیلئے کنسلٹنسی جاری ہے جبکہ سسٹین۔ ایبل موبیلیٹی پلانز میں ان شہروں میں ٹریفک مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے مختلف منصوبوں کی نشاندہی کی جائے گی ۔اجلاس کو پشاور کے طرز پر ایبٹ آباد میں بھی بی آر ٹی سروس کیلئے مختلف آپشنز پر بریفینگ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اربن موبیلٹی اتھارٹی حکام کو ایبٹ آباد کا دورہ کرکے ٹریفک کیلئے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ شہر کے زمینی حقائق ، معروضی حالات اور درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ٹریفک پلان کا ابتدائی خاکہ تیار کیا جائے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ پلان کو قابل عمل بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے کمشنر ہزارہ ڈویژن کی سربراہی میں تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کا جلد اجلاس بلا کر پلان کو حتمی شکل دی جائے ۔ ایبٹ آباد شہر میں ٹریفک کا مسئلہ دن بدن گھمبیر ہوتا جارہا ہے اسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ شہر کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے جبکہ پلان کی تیاری میں اربن موبیلیٹی کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔
خیبر پختونخوا میں پھلدار پودوں کی نرسریوں کو فروغ دینے کے لئے 35 گرانٹس فراہم کی گئیں۔
خیبر پختونخوا اور خاص طور پر ضم اضلاع میں پھلدار پودوں کی نرسریوں کے لیے یو ایس ایڈ پر وگرام برائے اقتصادی ترقی و بحالی کے تحت 35 گرانٹس فراہم کی گئی ہیں۔یوایس ایڈ کے پروگرام کے تحت یہ گرانٹس باجوڑ، مہمند، خیبر، دیر، اورکزئی، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، ملاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرم کے اضلاع میں فراہم کی گئی ہیں۔گرانٹ کی فراہمی کے حوالے سے دستویزات پر دستخط کرنے کی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیق عبدالباری،یو ایس ایڈ پر وگرام برائے اقتصادی ترقی و بحالی اور زرعی توسیع خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور گرانٹ کی فراہمی کی دستویزات پر دستخط کیئے گئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ گرانٹس خیبر پختونخوا اور ضم شُدَہ اضلاع میں پھلدار پودوں کی نرسریوں کے کاروبار کو فروغ دینے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیئے فراہم کی جارہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زرعی توسیع خیبر پختونخواجان محمدنے پھلدار پودوں کی نرسریوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پھلدار نرسریوں کا قیام خیبر پختونخوا میں زرعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔یوایس ایڈ گرانٹس کی فراہمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے پھلدار پودوں کی موجودہ کمی کو پوری کرنے میں مدد ملے گی اور صوبے کے کسانوں کو معیاری اور بیماریوں سے پاک پودے فراہم کرکے باغبانی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے گا۔یو ایس ایڈ کے پروگرام اقتصادی ترقی و بحالی کے چیف آف پارٹی شاد محمد نے کہا کہ پراجیکٹ کا مقصد پھلدار نرسریوں کو مستحکم کرنے اور وسعت دینے کے ساتھ مقامی زمینداروں کی معیاری پھلوں کے پودوں تک آسان رسائی کو یقینی بناناہے۔پھلدار نرسریوں سے وابستہ کسانوں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس گرانٹ سے زرعی کاروبار میں اضافہ ہوگا اور پھلدار پودوں کی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ نرسری کے کاروبار کے لیے مارکیٹ سے روابط قائم کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو ایس ایڈ کے پروگرام برائے اقتصادی ترقی و بحالی کے سینئر ایگریکلچر سپیشلسٹ، ضیاء الرحمان نے پراجیکٹ کے متوقع نتائج پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خیبر پختونخوا اور ضم شُدَہ اضلاع میں پھلوں کی صنعت کو فروغ دینا، مقامی سطح پر بیماریوں سے پاک پودوں کی دستیابی، صوبے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مضبوط کرنا، اور براہ راست روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہدف ہے۔ان گرانٹس کا اجراء کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے ساتھ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور خیبر پختونخوا اور ضم شُدَہ اضلاع کی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
