Home Blog Page 418

نگران صوبائی وزیر سماجی بہبود کی زیر صدارت محکمہ سماجی بہود کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ اجلاس

نگران صوبائی وزیر سماجی بہبودجسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے کہا ہے کہ منشیات میں مبتلا خواتین کی بحالی و علاج کیلئے پشاور میں جلد رہیبلیٹشن سنٹر(بحالی مرکز) کا افتتاح کیا جائے گا۔ جہاں پر صرف منشیات کے استعمال میں مبتلا خواتین کی بحالی ا ور ان کا علاج کیا جائے گا۔ یہ سرکاری سطح پر خواتین کے لئے پہلا رہیبلیٹشن سنٹر ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوشل ویلفیئر کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ اجلاس کی صدارت کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر فاروق خان، سینئر پلاننگ آفیسر سیمت محکمہ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔سیکرٹری سوشل ویلفیئر انیلہ درانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے سال 2023-24 کے تحت جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور چالیس منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔ جن میں 20 منصوبوں پر کام جاری ہے۔سات منصوبوں کو مالی مشکلات کی وجہ سے منجمد کردیا گیا جبکہ تیرہ منصوبوں کو تاحال منظور نہیں کیا گیا۔ اسطرح ان منصوبوں پر کل لاگت 13201 ملین روپے ہے۔ سالانہ بجٹ کے پہلے آٹھ مہینوں کیلئے اس منصوبوں کیلئے 716 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اجلاس میں جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور درپیش چیلنجز پر بحث ہوئی اور منصوبوں کی بہتری کیلئے ضروری ہدایات دی گئی۔ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سنٹر آف ایکسیلنس فار چائلڈ آرٹزم بنایا گیا جہاں پر آرٹزم میں مبتلا بچوں کا علاج و کونسلنگ کی جاتی ہے۔اسطرح صوبے میں مختلف اضلاع میں دارلامان کے قیام کے منصوبے جاری ہیں اوراسٹریٹ چلڈرن کیلئے مختلف اضلاع میں زمونگ کور اور صوبے کے گیارہ اضلاع میں رہیبلیٹشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں منشیات استعمال کرنے والے افراد کی بحالی کے ساتھ ان کا علاج کیا جائیگا۔ نگران صوبائی وزیر سماجی بہبود نے محکمہ سوشل ویلفیئر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نگران صوبائی حکومت معاشرے کے کمزور اور بے بس طبقے کی مددکے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اوروہ سوشل ویلفیئر کے جاری کئی منصوبوں اور مراکز کا خود دورہ کرچکی ہیں۔

خیبر پختونخوا: نگران وزیر کی زیر صدارت میں انتخابات 2024 کی تیاریوں پر اہم اجلاس منعقد۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عام انتخابات 2024 کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔متعلقہ صوبائی وزراء کے علاوہ چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈویژنل کمشنرز اورریجینل پولیس افسران بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریوں اور اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلی دفعہ ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع میں بیک وقت صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے لئے انتخابات ہونے جارہے ہیں،صوبے میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں پر انتخابات ہونگے۔شرکاءکو بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لئے صوبے میں 15737 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے، جن میں سے 4,812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6,581 حساس جبکہ 4,344 نارمل قرار دئے گئے ہیں۔صوبے میں 1919 پولنگ اسٹیشنز برفانی علاقوں میں ہونگے۔مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار 381 ہے۔انتخابات کی سکیورٹی کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 11 سکیورٹی اہلکار فی پولنگ اسٹیشن تعینات کئے جائیں گے جبکہ باقی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر سات، سات سکیورٹی اہلکار تعینات ہوںگے۔اسی طرح ضم اور جنوبی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر سات، سات اور نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار،چار اہلکار تعینات کئے جائیں گے جبکہ باقی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پانچ، پانچ اور نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار، چار اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو انتخابات کے لئے 115430 سکیورٹی اہلکار درکار ہیں جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 89959 اہلکار دستیاب ہیں۔ اس طرح صوبائی حکومت کو 25471 سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ فرانٹئیر کور کے چار ونگز اور فرانٹئیر کانسٹیبلری کے 165 پلاٹونز کی فراہمی کے لئے معاملہ وزارت داخلہ کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔اجلاس میں مزید آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر عام انتخابات کے لئے مختلف صوبائی محکموں سے 26213 اضافی اہلکاروں کا بندوبست کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں انتخابات کے دن امن و امان کی مانیٹرنگ کے لئے محکمہ داخلہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کنٹجنسی پلانز ترتیب دئے گئے ہیں۔اسی طرح عام انتخابات کے لئے سکیورٹی پلانز کے علاوہ ریسکیو ایمرجنسی پلانز اور ہیلتھ ایمرجنسی پلانز بھی ترتیب دئے گئے ہیں۔مزید برآں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پولنگ اسٹیشنز میں تنصیب کے لئے 5552 سی سی ٹی وی کیمرے دستیاب ہیں جبکہ مزید 11668 کیمروں کی فراہمی کے لئے 986 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح خصوصی افراد کی سہولت کے لئے 11689پولنگ اسٹیشنز میں ریمپس موجود ہیں جبکہ مزید 1536 ریمپس تعمیر کئے جارہے ہیں۔شرکاءکو بتایا گیا کہ برفانی علاقوں میں انتخابی عمل کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے پلانز ترتیب دیئے ہیں،برفانی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے درکار مشینری اور افرادی قوت کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاک افغان سرحد پر تجارتی سامان کی آمدورفت میں تعطل پر خیبر پختونخوا کے تاجروں کی مسائل پر غور

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ سے پاک افغان چیمبر آف کامرس کے ایک وفد نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ملاقات کی اور پاک افغان سرحد پر تجارتی سامان کی آمدورفت میں تعطل کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے تاجروں کو درپیش مسائل سے وزیر اعلی کو آگاہ کیا۔ نگران صوبائی وزیر صنعت ڈاکٹر عامر عبداللہ کے علاوہ سیکرٹری صنعت اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وفد نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت گزشتہ چار دنوں سے تعطل کا شکار ہے۔ وفد کا کہنا تھا کہ سرحد پر کھڑے کنٹینرز میں پھل، سبزیاں اور دیگر جلدخراب ہونے والی اشیاء موجود ہیں جو خراب ہونے کا خدشہ ہے جس سے صوبے کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ وفد نے وزیر اعلی سے ان مال بردار گاڑیوں کو فوری طور پر نکالنے کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی درخواست کی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں صوبے کے تاجروں کو درپیش مسلے کا انہیں بخوبی ادراک ہے جس کو حل کرنے کے لئے ریاستی پالیسی کے اندر رہتے ہوئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ مسئلے کو فوری توجہ طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئےانہوں نے یقین دلایا کہ معاملہ جلد متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

نگران وزیر برائے سماجی بہبود کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پی ایچ اے میگا سٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا کی نگران وزیر برائے سماجی بہبود اور ریلیف و آبادکاری جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پی ایچ اے میگا سٹی کا اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نگران صوبائی وزیر تجارت، صنعت و امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ، نگران وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ اشفاق خان اورسیکرٹری ہاؤسنگ سمیت کے پی ایچ اے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ایچ اے میگا سٹی کے سائٹ وزٹ کے دوران کیے گئے مشاہدات پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ کابینہ کیمٹی کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے لینڈ یوزر قوانین کے مطابق متعلقہ زمین کو ہاؤسنگ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ سیلاب سے ممکنہ بچاؤ کیلئے خاطرخواہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ فیز ون کیلئے 1750 کنال زمین حاصل کی گئی ہے۔جبکہ 3434 پلاٹ کی الاٹمنٹ بھی کی گئی ہیں اور مذکورہ منصوبے میں پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا پہل ہیلپ لائن 911 سنٹر کا دورہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے پیر کے روز صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام چلنے والے پہل ہیلپ لائن 911 سنٹر پشاور کا دورہ کیا چیف سیکرٹری نے سنٹر کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پرنگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور، سیکرٹری ریلیف عنایت اللہ وسیم اور متعلقہ افسران بھی چیف سیکرٹری کے ہمراہ موجود تھے چیف سیکرٹری کو پہل ہیلپ لائن کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایمرجنسی، ریسکیو، پولیس، نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس سمیت دیگر اہم ہیلپ لائن کو پہل ہیلپ لائن کے ساتھ منسلک کرکے ایک پلیٹ فارم کے ذ ریعے عوام کو تمام ہیلپ لائن تک آسان رسائی فراہم کی جارہی ہے جبکہ مستقبل میں سماجی بہبود، سیر وسیاحت اور سائبر کرائم ہیلپ لائن کو بھی پہل ہیلپ لائن کے ساتھ منسلک کیا جائیگا۔ چیف سیکرٹری نے اس موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ناگہانی حالات میں پہل اور دیگر ہیلپ لائن کا عوام کے لیئے فوری رسپانس ممکن بنایا جائے تاکہ ایمرجنسی حالات میں ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مذکورہ ہیلپ لائن کے عملے کو زیادہ سے زیادہ مؤثر اور کارآمد بنانے کیلیے بہترین اور اچھی تربیت دی جائے ان ہیلپ لائن کے قیام کا بنیادی مقصد ایمرجنسی حالات پر قابو پانے اور متاثرہ لوگوں کو موقع پر ریسکیوخدمات فراہم کرنا ہے۔ کیونکہ ناگہانی حالات میں ریسکیو خدمات کی تاخیر سے زیادہ نقصانات کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔

نگران وزیر کی کارگل جنگ کے قومی ہیرو شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کو قوم کبھی بھول نہیں سکتی، ان واقعات نے ہمارے مجموعی قومی تشخص پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں، ان واقعات میں ملوث کرداروں کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے، ان کرداروں کو سزا نہیں دی گئی تو شہداء کے وارثین ہم سے یہ سوالات کرتے رہے ہیں گے، میں نے شہید کیپٹن کرنل شیر خان (نشان حیدر) کے مزار پر جب حاضری دی تو وہاں مجھ سے شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے بھائی انور شیر خان نے سوال کیا کہ کیا شہیدوں کا لہو اتنا سستا ہے، 9 مئی واقعات کے قومی مجرموں کو سزا کب ملے گی، شہداء کی حرمت کو پامال کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کب لایا جائے گا، ایسے سوالات پر میں لاجواب تھا، آنکھوں میں آنسو آئے اور شہید کے خاندان کو وزارت سے اپنا استعفیٰ لکھ کر پیش کر دیا، کیپٹن کرنل شیر خان تو ملک کے وہ سپوت تھے جنہوں نے روزے کی حالت میں دشمن کے مورچوں میں داخل ہوکر ملک کا دفاع کیا، ایسی بہادری دکھائی کہ بھارتی فوج کے بریگیڈیئر باجوہ بھی ان کی بہادری کے معترف ہوئے اور قومی اعزاز کے لئے ان کا نام تجویز کرنے کی سفارش کی، ہمارے آباؤاجداد نے اس ملک کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں خود میرے چاچا میجر رضا شاہ کاکاخیل 1965 جنگ کے پہلے شہید تھے، ملک کے لئے ان شہداء نے اپنا لہو پیش کیا ہے اور آج یہ عالم ہے کہ 9 مئی جیسے واقعہ کے نتیجے میں شہداء کے وارثین پوری قوم سے یہ سوال کررہے ہیں کہ شہداء کی حرمت پامال کرنے والوں کا حساب کب ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اطلاع سیل سول سیکریٹریٹ پشاور میں کارگل جنگ کے قومی ہیرو شہید کیپٹن کرنل شیر خان (نشان حیدر) کے بھائی انور شیر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان اور کیپٹن عمار نے جس جوانمردی اور بہادری سے ملک کے دفاع میں جانیں قربان کی ہیں قوم ایسی قربانیوں کو کبھی بھلا نہیں سکتی، شہداء کی حرمت کو پامال کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے پوری قوم منتظر ہے، ایسے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا اور سخت سزا دینی ہوگی.

نگران وزیر اعلی نے طلباء کو ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار قرار دیتے ہوئے تربیت پر زور۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے طلبہ کو ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ حصول تعلیم پر مرکوز کریں، اپنے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں، اپنے والدین اور قوم کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے دل لگا کر محنت کریں،مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار کریں اور مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے کی بھلائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار اور باروزگار بنانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دے کر اس پر عملدرآمد شروع کیا ہے تاکہ نوجوانوں کی مایوسیوں کو خوشی میں بدلا جاسکے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں صحیح معنوں میں قوم کا اثاثہ بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کرنل شیر خان کیڈٹ کالج صوابی کی دسویں یوم والدین کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید قوم کے عظیم ہیرو ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی اور تاریخ میں اپنا نام زندہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرنل شیر خان شہید نے جرا¿ت اور بہادری کی وہ داستان رقم کی جس کا دشمن نے بھی اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کیڈٹ کالج کے کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ کرنل شیر خان شہید کی جراءت اور بہادری کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور ملک و قوم کے لئے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ سید ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ کرنل شیر خان جیسے شہداءہمارے اصل ہیرو اور محسن ہیں اور زندہ قومیں کبھی اپنے محسنوں اور ہیروز کو نہیں بھولتیں، آج ہم جس پرامن فضا میں جی رہے ہیں وہ کرنل شیر خان جیسے لاکھوں شہداءکی قربانیوں کی مرہون منت ہے، اس اہم موقع پر ہم ان تمام شہداءکی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرنل شیر خان شہید کے نام پر قائم کیڈٹ کالج نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، کالج کی تعلیمی کارکردگی قابل تعریف ہے جبکہ کیڈٹس کی انفرادی کارکردگی متاثرکن ہے جس کا کریڈٹ کالج انتظامیہ، اساتذہ، کیڈٹس اور والدین سمیت سب کو جاتا ہے اور امید ہے کہ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں بھی کامیابیوں کا یہ سلسلہ مزید بہتر انداز میں جاری رکھے گا۔ والدین اور اساتذہ کو طلبہ کے سب سے بڑے محسن قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کیڈٹس پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اپنے ان محسنوں کو کھبی نہ بھولیں کیونکہ کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں اس کے والدین اور اساتذہ کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہیومین کیپیٹل ایکسپورٹ اسٹریٹجی پر عمل کی ہدایت کی۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کے تحت ہیومین کیپیٹل ایکسپورٹ اسٹریٹجی پر موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو اپنے اہداف کا واضح تعین کر کے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمت عملی کے تحت مجوزہ اقدامات کے سلسلے میں تمام متعلقہ حکام اپنے اہداف سے سے آگاہ کریں، حکومت اس کے مطابق معاونت فراہم کرے گی۔ یہ ایک عوامی فلاح کا منصوبہ ہے جس کو حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار موثر انداز میں ادا کرنا ہو گا۔ وہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ہیومین کیپیٹل ایکسپورٹ اسٹریٹجی کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ نگران صوبائی کابینہ کے متعلقہ اراکین کے علاوہ چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکریٹریز، ٹیوٹا، ایٹا، پی ایم آر یو، فارن ایڈ، سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ، آئی ٹی بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈویڑنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں جامعات اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز اور صوبائی محکموں کے مابین خلا کا جائزہ لیا گیا اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے مجوزہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکمت عملی کے تحت اس مقصد کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئیں جن میں سپیشلائزڈ پوسٹ گریجویٹ ہیلتھ کیئر پروگرام کی تخلیق، ہینڈ آن ٹریننگ اینڈ انٹرنشپ کورسز، اپ ڈیٹ ووکیشنل ٹریننگ پروگرام، ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ، سافٹ سکلز ڈویلپمنٹ اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ مذکورہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرکاری و نجی سطح پر متعلقہ محکموں، اداروں اور مراکز کا تعاون بھی حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی طرح حکمت عملی پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہر مجوزہ اقدام کے لیے باضابطہ ایکشن پلان، مطلوبہ اہداف، ادارہ جاتی فریم ورک، ٹائم لائن اور متوقع نتائج پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعات اور صوبائی محکموں کے مابین موجود خلا کو پر کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو وائس چانسلرز کے ساتھ علیحدہ سے اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہیومین کیپیٹل ایکسپورٹ پروگرام ٹیم ورک کا متقاضی ہے، تمام شراکت دار مکمل اطمینان اور اخلاص کے ساتھ کام کریں،صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے تمام تر تعاون فراہم کرے گی اور ہر قسم کے تحفظات ترجیحی بنیادوں پر دور کیے جائیں گے۔ ہم نے ہر صورت میں اس پروگرام کو کامیاب بنانا ہے اور اپنے نوجوانوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ اس مجموعی عمل میں یونیورسٹیز کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے وائس چانسلرز پر زور دیا کہ وہ جامعات میں جاری داخلوں میں زیادہ سے زیادہ مارکیٹ بیسڈ کورسز شامل کرنے کی کوشش کریں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر جامعات کے پاس موجود اسکالرشپس کو موثر انداز میں یوٹیلائز کرنے اور نئے سکالرشپس حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس مقصد کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

پی ٹی ڈی سی نے خیبرپختونخوا صوبے میں 19 جائیدادیں باضابطہ طور پر خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو منتقل

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) نے خیبرپختونخوا صوبے میں 19 جائیدادیں باضابطہ طور پر خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (کے پی سی ٹی اے) کو منتقل کردی ہیں. اس حوالے سے ایک اہم تقریب پشاور سروسز کلب میں منعقد ہوئی جس میں خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ،ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ و میوزیم بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب رانا اور کے پی سی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل برکت اللہ نے تقریب کے دوران متعلقہ دستاویزات پر دستخط کئے. اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا سید جبار شاہ، ڈی جی انفارمیشن محمد عمران، جنرل مینجر پی ٹی ڈی سی پراپرٹیز اشفاق احمد، سی ای او کوتھم احمد فہیم, ڈپٹی مینجر ٹوورزم اتھارٹی صنم بشیر، اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں نگراں وزیر سیاحت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ جائیدادیں خیبر پختونخوا میں سیاحت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ،ثقافت و سیاحت نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ان جائیدادوں کی صوبے کو منتقلی ایک اہم کام تھا جو آج کامیابی سے مکمل کرلیا گیا. پراپرٹیز کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جائیدادیں اپنے محل وقوع اور آرکیٹیکچر کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں ان پراپرٹیز کا موثر انتظام و استعمال یقینی بنایا جائے گا جس سے نہ صرف سیاحوں کو بہتر رہائشی سہولتیں ملیں گی بلکہ اس سے صوبے کی سیاحت اور سیاحتی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا. انہوں نے اس ضمن میں پی ٹی ڈی سی اور خیبرپختونخوا ٹوورزم اتھارٹی حکام کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے یہ اہم کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالوں کے جواب میں نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور مختلف ایونٹس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ جلد ایک تین روزہ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس پر کام جاری ہے. انہوں نے کہا کہ حال ہی میں چترال میں سیاحت کے فروغ سے متعلق ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء کی جانب بڑی عمدہ تجاویز پیش کی گئیں۔نگران وزیر سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ سیاحت کے حوالے سے خیبرپختونخوا کو منفرد مقام حاصل ہے، یہاں کی ثقافت اپنی مثال آپ ہے، مہمان نوازی ہماری پہچان ہے اور تہذیبوں اور ادیان سے متعلق جابجا پھیلے ہوئے تاریخی آثار اس کو سیاحت کے لئے نہایت ہی موزوں علاقہ بناتے ہیں. انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے ہم کیسے دنیا کے سامنے بہتر طریقے سے پیش کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا نگران وزیر کا لاہور دورہ، کرکٹ کے فروغ اور پی ایس ایل میچز پشاور میں منعقد کرانے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل، امور نوجوانان اور سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ مروت نے پی سی بی کے ہیڈ کوارٹرز قذافی اسٹیڈیم لاہور کا دورہ کیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف سے صوبے میں کرکٹ کے فروغ اور پی ایس ایل میچز کے پشاور میں منعقد کرانے کے حوالے اہم ملاقات کی ملاقات میں کئی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی دوران گفتگو خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ ہم چاہتے پاکستان سپر لیگ کے بعض میچز خیبر پختونخوا کے کرکٹ گراونڈز پر کھیلے جائیں تاکہ صوبے کے شائقین کرکٹ قومی اور بین الاقومی کرکٹرز کے کھیل سے لطف اندوز ہوسکیں، انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے خصوصی نمائشی میچز کو 25 جنوری سے 2فروری تک منعقد کرانے کے خواہاں ہیں، صوبے میں کرکٹ کی بحالی سے کرکٹ کو مزید فروغ ملے گا، صوبے میں کرکٹ کے حوالے سے کافی ٹیلنٹ موجودہے جسے سامنے لانے کیلیے محکمہ کھیل خیبر پختونخوا کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ارباب نیاز اور حیات آباد کرکٹ سٹڈیم پشاور کو نوجوانوں کو کھیل کیلیے دستیاب ہوں صوبے میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں پی ایس ایل اور انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد سے ہم نئے ٹیلنٹ کو سامنے لاسکتے ہیں جو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے ہے۔چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف نے کہا کہ میری خیبر پختونخوا کے وزیر کے ساتھ مفید ملاقات ہوئی۔ پی سی بی نے صوبائی حکومت سے تاریخی ارباب نیاز سٹیڈیم اور حیات آباد اسٹیڈیم اور ریجن کے دیگر گراؤنڈز کی تحویل کے لیے درخواست کی ہے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پی سی بی کو نہ صرف ہمارے کرکٹرز کو جدید سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ریجن میں کرکٹ کی مجموعی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔