محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ریسرچ عبد الوہاب اور سیکرٹری زراعت کے پرائیویٹ سیکرٹری جان گل کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ زراعت دلنواز , ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران محکمہ زراعت کے افسران اور اہلکاروں نے ریٹائر ہونے والے افسران کی محکمہ زراعت کے لیے خدمات کو سراہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے ریٹائر ہونے والے افسران کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی طویل عرصے تک ادارے کے لیے خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ ملازمت کا اختتام ضرور ہے تاہم ادارے اور معاشرے کے لیے خدمات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے ریٹائر ہونے والے افسران کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کیں۔
صوبائی وزیر فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع خیبر کے واٹر سپلائی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع خیبر میں جاری واٹر سپلائی اسکیموں، ٹیوب ویلز کی صورتحال اور انہیں شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع خیبر میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام واٹر سپلائی سکیموں اور ٹیوب ویلز کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ایکسین خیبر نے صوبائی وزیر کو ضلع میں فعال اور غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں اور ٹیوب ویلز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع خیبر میں متعدد ٹیوب ویلز فعال ہیں، جن کے ذریعے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ کچھ ٹیوب ویلز اس وقت مختلف وجوہات کی بناء پر غیر فعال ہیں۔ صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ غیر فعال ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انہیں جلد از جلد فعال کر کے عوام کو پانی کی فراہمی بحال کی جائے گی۔اجلاس میں ضلع خیبر میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی صوبائی وزیر نے شمسی توانائی کے منصوبے پر پیش رفت، ممکنہ بجلی کی بچت اور عوام کو بلاتعطل پانی کی فراہمی کے لیے قابلِ عمل اقدامات پر بھی بریفنگ لی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی کا عمل تیز کیا جائے اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ ضلع خیبر میں واٹر سپلائی سکیموں اور ٹیوب ویلز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی پر ٹیوب ویلز کی منتقلی سے نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ پانی کی فراہمی کا نظام بھی مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے گا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع خیبر میں جاری تمام واٹر سپلائی سکیموں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور جہاں کہیں تکنیکی یا انتظامی مسائل درپیش ہوں انہیں فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے اصولوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، آبادی میں متوازن اضافے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے: طفیل انجم
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبودِ آبادی کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے اصولوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور آبادی میں متوازن اضافے کے حوالے سے رہنما اصولوں پر جامع اور مربوط انداز میں کام کیا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز پشاور میں محکمہ بہبودِ آبادی کی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل بہبودِ آبادی عبداللہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نوشیروان، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عمران شاہ سمیت محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ بہبودِ آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی، عوامی آگاہی، فیلڈ سروسز اور آبادی سے متعلق مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر معاونِ خصوصی طفیل انجم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے عوام میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو عوام کے لیے مزید آسان، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جائے جبکہ دور دراز علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات اور آگاہی پروگراموں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کے لیے محکمہ بہبودِ آبادی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمتِ عملی کے تحت اپنی خدمات کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جائے اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے کے مختلف طبقات تک معلومات پہنچانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔طفیل انجم نے مزید کہا کہ محکمہ کی کارکردگی میں بہتری، عوامی خدمات کے معیار میں اضافے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور جذبے کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تحصیل غازی کو پنجاب میں شامل کرنے کا پروپیگنڈا بے بنیاد، جعلی اعلامیہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، شفیع جان
خیبرپختونخوا کےصوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے تحصیل غازی کو خیبرپختونخوا سے الگ کرکے پنجاب میں شامل کرنے کے حوالے سے چلائی جانے والی خبروں اور مبینہ جعلی اعلامیہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے منصب سنبھالنے کے بعد صبح و شام جھوٹے پروپیگنڈے اور جعلی خبریں پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
شفیع جان نے کہا کہ تحصیل غازی کو وفاق میں شامل کرنے کا پروپیگنڈا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عوام ایسے بے بنیاد پروپیگنڈے سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہر بار جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کا اپنا جھوٹ ہی ان کے گلے پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حیثیت یا حدود میں تبدیلی محض کسی اعلامیہ سے نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا اور آئینی ترمیم ضروری ہے۔ ایک جعلی اعلامیہ کے ذریعے خیبرپختونخوا کے کسی علاقے کی آئینی اور جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ تحصیل غازی خیبرپختونخوا کا حصہ ہے اور کسی جعلی اعلامیہ یا من گھڑت خبر سے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
شفیع جان نے کہا کہ عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے، اس کا تحفظ ہماری آئینی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔ عوام کے مینڈیٹ اور صوبے کی جغرافیائی وحدت کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جعلی اعلامیہ تیار کرنے اور اسے پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ جو عناصر مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کرکے عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اب جوابدہ ہونا پڑے گا۔
شفیع جان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جعلی ن اعلامیہ اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور سرکاری امور سے متعلق کسی بھی اطلاع کے لیے مستند سرکاری ذرائع سے تصدیق کرلیاکریں۔
Provincial Minister Arshad Ayub Khan Visits Government Girls Higher Secondary School Khanpur
Provincial Minister for Elementary & Secondary Education, Khyber Pakhtunkhwa, Arshad Ayub Khan visited the Government Girls Higher Secondary School Khanpur.
During the visit, the Provincial Minister inspected the building of 4 additional classrooms being constructed at a cost of Rs. 17.6 million, and 3 modern science laboratories being built at a cost of Rs. 22.47 million.
On the occasion, Arshad Ayub Khan directed the officials to ensure that all construction work is completed according to the prescribed standards and within the stipulated time, so that female students of the area can be provided with a better, safe and modern learning environment. He said that the Government of Khyber Pakhtunkhwa is providing all necessary resources to promote girls’ education.
During the visit, local elders met the Provincial Minister and appreciated his pro-education initiatives. They expressed their heartfelt gratitude to Arshad Ayub Khan for providing better facilities to female students, and stated that these steps are an important milestone towards educational development in the area.
At the end, the Provincial Minister said, “The vision of our government is to provide quality education and modern facilities to every daughter of Khyber Pakhtunkhwa so that they can become the bright future of the province and the country.”
اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے، شفیع جان
خیبر پختونخوا کےوزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں مذہبی جماعتوں سمیت دیگر سیاسی قوتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ محض ایک دن کی سرگرمی نہیں ہوگی، اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ ہم مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اس حوالے سے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا، تاہم ان کے آئینی و قانونی حقوق سلب کیے گئے اور تمام راستے مسدود کیے گئے ہیں۔ اب ہمارے پاس لانگ مارچ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک کو ملک گیر سطح پر منظم کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں کا بھی رخ کر رہے ہیں جبکہ مختلف جامعات میں سیمینارز کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے اور اقبال کے شاہین نوجوان اس تحریک کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں عوام کی شرکت لاکھوں میں ہوگی۔شفیع جان نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی بھی موجودہ حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اسے وفاقی حکومت میں شامل آئینی عہدے چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والے حکمرانوں کو اب عوام کی عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ عوامی مینڈیٹ کی بحالی، آئین و قانون کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کے لیے ہماری پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی
خوشحالی کے لیے معدنیات: مواقع، چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل کے عنوان سے، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ صوابی میں قومی سمپوزیم کا انعقاد
“خوشحالی کے لیے معدنیات: مواقع، چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل “کے عنوان سے، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ صوابی میں قومی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیر برائے معدنیات عارف احمد زئی تھے جبکہ ایبٹ آباد یونیورسٹی، فاٹا یونیورسٹی، جی آئی کے انسٹیٹیوٹ اور اے ایس ٹی سمیت مختلف جامعاتکے ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نےبھی تقریب میںشرکت کی۔ سمپوزیم میں صوبے کے معدنی وسائل کے بہترین استعمال، منرل ٹیسٹنگ، تجزیاتی صلاحیتوں کی بہتری اور صنعتوں کے ساتھ اکیڈیما کے مضبوط روابط کے قیام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر عارف احمد زئی کا کہنا تھاا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلٰی محمد سہیل آفریدی کی ہدایات کے تحت شعبہ معدنیات میں انقلابی اصلاحات لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے، تاہم ان وسائل سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے جدید سائنسی تحقیق، معیاری منرل ٹیسٹنگ اور انڈسٹری و اکیڈیمیا کے باہمی روابط انتہائی ضروری ہیں۔عارف احمد زئی نے کہا کہ اس منعقدہ سمپوزیم کی روشنی میں ایک مفصل رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جس میں منرل ڈویلپمنٹ کمپنی کے مستقبل کے اقدامات، جامع تحقیقی نتائج اور خصوصاً انجینئرنگ کے طلبہ کے فعال کردار کا خاکہ شامل ہوگا۔ صوبائی وزیر نے زور دیا کہ معدنیات کی مد میں تیز تر ترقی کے لیے طلبہ کا اس شعبے سے منسلک ہونا اور ان کی تحقیقی صلاحیتیں نہ صرف کلیدی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ صوبائی معیشت کی مضبوطی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
مستحق فنکاروں میں جدید الیکٹرک وہیل چیئرز اور سلائی مشینیں تقسیم — ملک لیاقت علی خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےمشیرِبرائے سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے آل آرٹسٹ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت کی، جہاں محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کی جانب سے مستحق اور بزرگ فنکاروں میں جدید الیکٹرک وہیل چیئرز اور سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ہماری فنکار برادری نے برسوں تک اپنی صلاحیتوں اور فن کے ذریعے عوام کو محظوظ کیا، معاشرے میں خوشیاں بانٹیں اور خیبرپختونخوا کے ثقافتی ورثے اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج اگر انہی فنکاروں میں سے کوئی مشکلات کا شکار ہے تو ان کا ساتھ دینا اور ان کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا مستحق، نادار اور کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑے گی، بلکہ ان کی ضروریات کے مطابق ہر ممکن سہولیاتفراہم کی جائے گی۔ مستحق فنکار ہماری معاشرتی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں اور ان کی خدمت دراصل اپنے ثقافتی ورثے کی خدمت ہے۔
ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ مستحق افراد کو الیکٹرک وہیل چیئرز کی فراہمی کا مقصد انہیں نقل و حرکت میں آسانی اور خودمختاری فراہم کرنا ہے، جبکہ سلائی مشینوں کی فراہمی کے ذریعے مستحق افراد کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔
مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کا بنیادی مشن عوام، خصوصاً بے سہارا، مستحق اور کمزور افراد کی خدمت اور ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن سے رہنمائی لیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور سرپرستی میں حکومت صوبے کے مستحق اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی مستحق شخص صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے حق اور بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مستحق اور خصوصی افراد کی گھر گھر جا کر رجسٹریشن کی جائے تاکہ ایسے تمام افراد کی نشاندہی اور ریکارڈ مرتب کیا جا سکے جو کسی وجہ سے سرکاری فلاحی پروگراموں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد اپنے حق سے محروم نہ رہے۔
ملک لیاقت علی خان نے مزید کہا کہ خصوصی افراد، بزرگ شہریوں، خواتین، مستحق خاندانوں اور فنکار برادری سمیت معاشرے کے تمام کمزور طبقات کی فلاح و بہبود محکمہ سماجی بہبود کی ترجیحات میں شامل ہے۔ فلاحی اقدامات کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت مند افراد کو ان کی حقیقی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ فنکاروں نے مشکل حالات میں بھی اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، اب وقت ہے کہ ہم ان کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ حکومت خیبرپختونخوا مستحق فنکاروں اور دیگر کمزور طبقات کی معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی اور انہیں ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
تقریب میں آل آرٹسٹ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی صدر مس سعدیہ خان، رکنِ صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد، ایسوسی ایشن کے کابینہ اراکین اور فنکار برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔
خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سوشل ویلفیئر، زکوٰۃ، عشر اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعہ کے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے قریب سپین جماعت کے مقام پر نئی تعمیر شدہ احساس پناہ گاہ (شیلٹر ہوم) کا افتتاح کیا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سوشل ویلفیئر، زکوٰۃ، عشر اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعہ کے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے قریب سپین جماعت کے مقام پر نئی تعمیر شدہ احساس پناہ گاہ (شیلٹر ہوم) کا افتتاح کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لیاقت علی خان کہا کہ یہ پناہ گاہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کے مطابق اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔
یہ سہولت محکمہ سوشل ویلفیئر، سپیشل ایجوکیشن اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ، حکومت خیبر پختونخوا، ڈسٹرکٹ پشاور کی جانب سے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے تیمارداروں، دیہاڑی دار مزدوروں اور صوبائی دارالحکومت سے گزرنے والے مسافروں کے لیے یہ محفوظ، باوقار اور آرام دہ قیام کی سہولت ہے۔پناہ گاہ میں غریب عوام اور مزدوروں کے لیے مفت رہائش اور خوراک کی سہولت دی جا ئے گی۔کمروں میں دو منزلہ بستر (بنک بیڈز) اور بستر کا مناسب انتظام کیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو رات گزارنے کے لیے صاف ستھری اور منظم جگہ میسر آئے گی۔پناہ گاہ میں ہفتہ وار خوراک کا مینو بھی آویزاں کیا گیا ہے تاکہ رہائشیوں کو ہفتے بھر مقررہ اور متنوع کھانا مل سکے۔ ہر روز ناشتے میں روغنی نان یا پراٹھا اور کالی چائے دی جائے گی، جبکہ رات کا کھانا روزانہ مختلف ہو گا: پیر کو قیمہ آلو روٹی، منگل کو دال یا لوبیا روٹی، بدھ کو چکن روسٹ چاول، جمعرات کو مکس سبزی روٹی، جمعہ کو چکن آلو روٹی، ہفتہ کو چنا چاول میوہ، اور اتوار کو گوشت آلو روٹی — ہر کھانے کے ساتھ کالی چائے بھی شامل ہو گی۔پناہ گاہ ہفتے کے ہر روز شام 6 بجے سے صبح 9 بجے تک کھلی رہے گی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر سوشل ویلفیئر نے کہا کہ نئی افتتاح شدہ پناہ گاہ خیبر پختونخوا بھر میں قائم کی جانے والی احساس پناہ گاہوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو صوبائی حکومت کے سوشل ویلفیئر پروگرام کے تحت کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پناہ گاہ کی مختلف سہولیات کا بھی جائزہ لیا، جن میں بیڈ رومز، کچن اور دیگر مقامات شامل تھے۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Reviews Progress on Health Sector Good Governance Road Map
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired an important meeting here on Friday to review progress on the Health Sector Good Governance Road Map. The meeting took stock of targets pertaining to the establishment of the Health Information and Service Delivery Unit (HISDU), phase-wise outsourcing of low-performing hospitals, provision of round-the-clock (24/7) childbirth services across 250 Basic Health Units, healthcare waste management and environmental compliance, strengthening of District Headquarters Hospitals, recruitment of doctors and nurses, polio eradication measures, and routine immunization.
The meeting was attended by the Secretary Health, the Coordinator of the Provincial Emergency Operation Center, and other senior officials and experts from the Health Department and the Directorate General Health Services.
While reviewing progress against the health reform targets, the Chief Secretary directed the concerned authorities to further strengthen routine immunization measures across the province. He commended the performance of the polio eradication team during the July special campaign, particularly appreciating the results achieved in the districts of Tank, South Waziristan Upper, and North Waziristan.
The Chief Secretary also directed the authorities to expedite the process for the establishment of the Health Information and Service Delivery Unit (HISDU) and to ensure the effective, phase-wise implementation of the outsourcing plan for the already identified low-performing hospitals.
The Chief Secretary emphasized that improving governance and service delivery in the health sector remains a top priority of the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, and directed the health, planning and development and finance departments to work in close coordination to ensure timely achievement of the set targets.
