صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان، ملاکنڈ اور مردان میں محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے منشیات فروشوں، سمگلروں اور سہولت کاروں کے خلاف چار بڑی کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف مقامات پر کی گئی ان کارروائیوں میں بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد کی گئی جبکہ خاتون سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمات درج کیے گئے۔ اس ضمن میں محکمہ ایکسائز سے موصولہ اعدادوشمار کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکل آفیسر نصراللہ خٹک کی زیر نگرانی ایس ایچ او حزب اللہ خان نے ڈیرہ درابن روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے 439 گرام چرس برآمد کرکے تین ملزمان گرفتار کیے۔ مقدمہ تھانہ ایکسائز ڈی آئی خان میں درج کرلیا گیا۔اسی طرح ڈی آئی خان ہی میں ای ٹی او فہیم نواز خان کی نگرانی میں انچارج انسپکٹر محمد الیاس نے جوائنٹ چیک پوسٹ امن میلہ پر کارروائی کے دوران گاڑی نمبر FDW 2233 سے 2000 گرام آئس برآمد کی۔ کاروائی میں ایک خاتون سمیت تین افراد گرفتار کرکے مقدمہ تھانہ ایکسائز میں درج کیا گیا۔اسی طرح ملاکنڈ میں سرکل آفیسر عاکف نواز خان کی نگرانی میں ایس ایچ او اذلان اسلم نے ملاکنڈ لیویز کی مدد سے شاہ حسین ولد خان بہادر کو گرفتار کیا جو 14 نومبر 2025 کو ایک چھاپے کے دوران ایکسائز کانسٹیبل کو زخمی کرکے فرار ہوگیا تھا۔مقدمہ نمبر 10/25 کے مطابق ملوث ملزم سے 261 گرام آئس برآمد ہوئی تھی۔ ملزم نے دوران تفتیش اپنے رشتہ دار سید نواب کا نام بھی بتایا۔ اس کے خلاف منشیات کے پانچ مقدمات درج ہیں۔مردان میں ایس ایچ او عماد خان نے لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے خفیہ اطلاع پر مردان چارسدہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمگلر سے 500 گرام آئس برآمد کرلی۔ ملزمہ کو موقع پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔واضح رہے کہ محکمہ ایکسائز صوبہ بھر میں منشیات فروشوں، سمگلروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہےاور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
The Two-Days Symposium on Youth for Climate Action: Empower, Engage, Endure was organized by the Department of Criminology in collaboration with Community World Service Asia, Pakistan Partnership Initiative and University of Peshawar Students’ Societies at Business Incubation Centre, University of Peshawar.
Dr. Mushtaq Ahmad Jan, Assistant Professor, Centre for Preparedness and Disaster Management, University of Peshawar, moderated the panel discussion on Youth for Climate Action: Empower, Engage, Endure opened the session by asking what role young people can play in addressing the climate crisis.
Dr. Hizbullah, Climate-Change Expert and Former Director, Department of Environmental Sciences, highlighted the link between climate change, air pollution, and greenhouse gas emissions, and pointed to programmes such as the One Billion Trees Tsunami, the Green Career Launchpad, and the Green Growth Initiative, while noting the shortage of climate-related research and the limited dissemination of existing studies for public awareness.
Mr. Syed Abdullah Shah, Additional Secretary at the Directorate of Sports and Youth Affairs, emphasised the religious and social responsibility of climate resilience and shared that the revised Youth Policy will focus on four key areas: education, employment, engagement, and environment.
Mr. Habib Jan, Director of the Environmental Protection Agency, Khyber Pakhtunkhwa, stressed that meaningful behavioural change requires ownership and responsibility, arguing that youth must be positioned as central stakeholders in policymaking. He outlined approaches to mitigation and adaptation, the need for funding, the importance of green entrepreneurship, and awareness on waste management and water conservation.
Mr. Kashif Syed, Bureau Chief, Pashtoon Digital shared his personal efforts, including planting 500 trees in his hometown and leading plantation activities across the University of Peshawar, calling for more practical, individual-level climate action.
Dr. Shakeel Khan, Focal Person at the Business Incubation Centre, underlined the significance of youth as a vital component of national progress and highlighted the need for mobilising young people through awareness and effective youth-led initiatives.
The event also featured distinguished guest speakers, including Prof. Dr. Jahanzeb Khan, Vice Chancellor of the University of Science and Technology, invited as the Chief Guest, who discussed the social character of youth, environmental anxiety, weak legal implementation, and the identity crisis that limits youth ownership in climate action.
Prof. Dr. Naeem Qazi, Pro Vice Chancellor of the University of Peshawar, who encouraged an individual-centric approach to environmental responsibility and stressed the value of annual plantation drives.
Dr. Anwar Alam, Dean of the Faculty of Social Sciences, spoke about youth awareness of climate challenges and resilience.
In his closing remarks, Dr. Basharat Hussain, Chairman of the Department of Criminology, expressed gratitude to the speakers, panellists, and participants and reiterated that climate action must begin with individual commitment. The event concluded with a shield distribution ceremony, followed by a group photograph to formally mark the closing of the session.
Formal inauguration of the province’s first School-Based Assessment Portal “The present government gives utmost importance to the education sector,” — Minister for Education in his address at the inaugural ceremony
Khyber Pakhtunkhwa’s Minister for Elementary and Secondary Education, Arshad Ayub Khan, formally inaugurated the province’s first School-Based Assessment Portal on Friday at Nishtar Hall, Peshawar. The inauguration ceremony was attended by Secretary Elementary and Secondary Education Muhammad Khalid Khan, the Director of Elementary and Secondary Education, and other relevant officials.
Addressing the ceremony as the chief guest, the Minister for Elementary and Secondary Education, Arshad Ayub Khan, said that the present government attaches great importance to the education sector. He added that the government’s top priority is to introduce a clean and transparent education system and to provide all children in the province with equal access to high-quality, modern education that meets international standards.
He stated that under this portal, students from grade three to grade eight in schools across Khyber Pakhtunkhwa will take online examinations in English, Mathematics, and Science. Speaking further, the provincial minister said that through the School-Based Assessment Portal, students will be able to take their exams in an easy and transparent manner according to their academic abilities.
He added that the current government’s foremost priority is to ensure that all children in the province receive modern and quality education, and all available resources are being utilized to achieve this goal. Earlier, the provincial minister formally inaugurated the portal.
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی میں صنعتی ٹرانس فیٹی ایسڈز میں کمی کے حوالے سے تکنیکی مشاورتی اجلاس
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی میں صنعتی طور پر پیدا ہونے والے ٹرانس فیٹی ایسڈز کی روک تھام کے لیے ایک اہم تکنیکی مشاورتی اجلاس گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ اور یونیورسٹی آف کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفد نے شرکت کی۔وفد میں چیئرمین ڈاکٹر محمد عبد الحق، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم غفران سعید، اقرا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید ارسلان علی اور سندھ فوڈ اتھارٹی کی ڈاکٹر سیمہ اشرف شامل تھیں۔اجلاس میں شرکائ نے آئی ٹی ایف اے کے شہریوں کی صحت پر منفی اثرات اور پاکستان میں خوردنی تیل و چربی کی صنعت کے لیے مؤثر، عملی اور قابلِ عمل حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر ریگولیٹری کنٹرول، صنعتی تعمیل اور صارفین میں آگاہی کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل محمد واصف سعید نے وفد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں جاری اہم اصلاحات کے بارے میں بتایا کہ ریئل ٹائم ڈیجیٹل فیلڈ مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ ڈیش بورڈز، 15 سالہ فوڈ اینڈ ہیلتھ ڈیزیز برڈن بیس لائن اسٹڈی، مزید مؤثر ریگولیٹری انسپکشن فریم ورک، ہائی ٹیک لیبارٹری انفراسٹرکچر کی توسیع، اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے ذریعے رسک بیسڈ انفورسمنٹ جیسے اقدامات جاری ہیں۔بعد ازاں وفد نے صوبائی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سینٹر فار ریسرچ کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لیب رحم لعزیز اور لیب کے ماہرین نے جدید لیبارٹری نظام، ٹیسٹنگ کے دائرہ کار میں توسیع، کوالٹی ایشورنس اور آٹومیشن پر مبنی ورک فلو سے متعلق بریفنگ دی۔وفد نے لیبارٹری کے جدید آلات، ڈیجیٹلائزیشن، مضبوط انفورسمنٹ سسٹمز، موبائل لیبز کے مؤثر استعمال اور جدید تحقیقی انفراسٹرکچر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا جدید وژن صوبے میں محفوظ غذائی نظام کے قیام کی مضبوط بنیاد ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں اداروں نے تکنیکی تعاون کے فروغ، تحقیقی شراکت داری کے استحکام اورآئی ٹی ایف اے میں کمی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سی پیک گرانٹ کے تحت سولرائزیشن پراجیکٹ سے متعلق محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کا اعلیٰ سطح اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت سی پیک گرانٹ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی موجودہ سکیموں کی سولرائزیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سی پیک گرانٹ کے تحت پانی کی سپلائی سکیموں کو قابلِ بھروسہ اور کم لاگت توانائی فراہم کرنے کے لیے سولرائزیشن ایک اہم جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پانی کے پمپنگ سسٹمز کو سولر انرجی پر منتقل کرتے ہوئے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی، نظام کی پائیداری اور دور دراز علاقوں میں بلاتعطل واٹر سپلائی یقینی بنانا ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ میں 10 پائلٹ بیسڈ سکیموں پر سولرائزیشن اور متعلقہ سول ورکس فزیکلی مکمل کر لیے گئے ہیں ان میں سے 4 سکیمیں باقاعدہ طور پر متعلقہ پی ایچ ای ڈویژنز کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ باقی سکیموں کا ہینڈ اوور عمل تکمیل کے مراحل میں ہے تکنیکی جانچ پڑتال، لوڈ اسیسمنٹ، پانی کے معیار کی ٹیسٹنگ اور سولر سسٹمز کی فزیبلٹی کے تمام مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سی پیک سولرائزیشن پروگرام کابنیادی مقاصد پانی کی فراہمی کے نظام کو سولر انرجی پر منتقل کرنا،آپریشن اینڈ مینٹیننس کے اخراجات میں کمی لانا،دور اُفتادہ علاقوں میں مستحکم اور ماحول دوست توانائی کا استعمال،پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور سروس ڈیلیوری میں بہتری سمیت عوام کو بلاتعطل پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی فراہمی کے تمام منصوبے براہِ راست عوامی فلاح سے جڑے ہیں، لہٰذا ان کی بروقت تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیح ہے سولرائزیشن سکیمیں محکمے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوں گی اور توانائی کے بحران کے دوران پانی کی فراہمی کو مستقل بنیادوں پر مستحکم بنائیں گی انہوں نے ہدایت جاری کی کہ متعلقہ افسران چینی حکام سے رابطہ تیز کریں تاکہ سامان کی فراہمی میں درکار عمل جلد مکمل ہو سکے صوبائی وزیر نے محکمہ کے افسران پر زور دیا کہ وہ ٹیم ورک، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور باہمی تعاون کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو اعلیٰ معیار کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
صوبائی وزیرِ صحت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری صحت کے ساتھ پولیو مہم کے آخری مرحلے کا آغاز کر دیا وزیرِ صحت خلیق الرحمان
صوبائی وزیرِ صحت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری صحت کے ساتھ پولیو مہم کے آخری مرحلے کا آغاز کر دیا وزیرِ صحت خلیق الرحمان
سروسز ہسپتال پولیس لائن پشاور میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰان
والدین اور اساتذہ سے پولیو مہم میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل وزیرِ صحت خلیق الرحمان
صوبے کے ہر ضلع اور ہر کونے تک پولیو ٹیمیں پہنچانے کے لیے کوششیں جاری وزیرِ صحت خلیق الرحمان
چار روزہ پولیو مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی وزیرِ صحت خلیق الرحمان
ویکسینیشن آگاہی کے لیے سیمینارز اور مہمات جاری وزیرِ صحت خلیق الرحمان
طلبہ، علما اور کمیونٹی پولیو کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کریں گے
وزیرِ صحت خلیق الرحمان
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان
اتوار کو کوہاٹ میں بڑا عوامی جلسہ ہوگا،کوہاٹ ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا مضبوط قلعہ رہا ہے،شفیع جان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوہاٹ جلسے سے اہم خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، شفیع جان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گورننس کے ساتھ ساتھ پارٹی بیانیہ بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں، شفیع جان
بانی چیئرمین عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو مذاکرات اور سیاسی تحریک کی ذمہ داری سونپی ہے، شفیع جان
اسپیکر قومی اسمبلی مذاکرات کی بات تو کررہے ہیں لیکن محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر اعلامیہ جاری نہیں کر رہے، شفیع جان
فیض حمید کا کورٹ مارشل ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، ہر ادارے میں سزا و جزا کا نظام ضروری ہے، شفیع جان
پی ٹی آئی کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات بے بنیاد اور جعلی ہیں، شفیع جان
جیل میں موجود ایک شخص کے خوف نے حکومت کو گورنر راج اور پارٹی پابندی جیسے شوشے چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، شفیع جان
ہری پور ضمنی الیکشن کے دستخط شدہ فارم 45 حاصل کر لیے گئے، شفیع جان
ہری پور ضمنی الیکشن میں پریزائڈنگ افسران کے بیان حلفی لیے جا رہے ہیں، شفیع جان
نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دسویں بار عمران خان سے ملاقات سے روکنا سیاسی انتقام اور کھلی توہینِ عدالت ہے : شفیع جان
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ صوبے کے وزیراعلی کےلئے بیئرئر کھڑے کیے گئے ہیں۔ محمد سہیل آفریدی پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلی ہے۔ کسی دوسرے ملک کا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے دسویں مرتبہ روکا گیا۔ جو سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ عدالت کی واضح اجازت کے باوجود نوجوان وزیراعلیٰ کو اڈیالہ جیل میں داخل ہونے نہیں دیا جا رہا جو کھلی توہینِ عدالت ہے۔ شفیع جان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں عمران خان کی غیر سیاسی بہنوں اور پی ٹی آئی قیادت پر اڈیالہ جیل کے قریب واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جو ریاستی جبر کی واضح اور شرمناک مثال ہے۔ اتنا ظلم کرو جتنا کہ برداشت کرسکیں۔ پی ٹی آئی اس وقت ملک مقبول ترین جماعت ہے۔
معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ منگل کی رات قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کے دھکم پیل کے باعث زخمی ہوئے اور ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ جو حکومتی رویے کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور پرامن سیاسی کارکنوں پر طاقت کا استعمال نہ صرف شرمناک ہے بلکہ بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پرامن احتجاج پر تشدد آئینِ پاکستان کی ضمانت کردہ آزادیاں سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی جانب سے پی ٹی آئی کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینے کے بیانیے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو غداری سے جوڑنا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے، طاقت کے زور پر سچ نہیں دبایا جا سکتا۔ عمران خان کے کروڑوں ووٹر ہر زیادتی یاد رکھیں گے اور اب فیصلہ عوام ہی کرے گی۔
قبل ازیں معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی
خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے ہیڈ آفس پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے ہیڈ آفس پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا۔ وزیرِ محنت نے پولی کلینک ہسپتال کے او پی ڈی، لیبارٹری اور دیگر طبی سیکشنز کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے دورے کے بعد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں سیکرٹری محنت / کمشنر ESSI میاں عادل اقبال، وائس کمشنر وسیم احمد خان، ڈائریکٹر میڈیکل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری ای ایس ایس آئی نے ادارے کے قیام، ساخت، افعال، صحت کے بنیادی ڈھانچے، وسائلِ آمدن اور اخراجات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ ای ایس ایس آئی کا قیام 1970 میں عمل میں آیا اور یہ ادارہ 2021 کے ایکٹ کے تحت خود انحصاری کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ رجسٹرڈ اداروں سے ملازمین کی اجرت کے 6 فیصد عطیات اس کا بنیادی مالی ذریعہ ہیں۔ ESSI ایک ہسپتال، پولی کلینک اور 39 طبی یونٹس کے ذریعے کارکنان اور ان کے خاندانوں کو مفت علاج و ادویات فراہم کرتا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کارکنان کو بیماری کی صورت میں تنخواہ کا 75 تا 100 فیصد، زچگی کی صورت میں 12 ہفتوں کی مکمل تنخواہ، دورانِ ملازمت چوٹ کی صورت میں 180 دن کا وظیفہ، جبکہ معذوری یا وفات کی صورت میں پنشن یا گریجویٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ادارے نے ڈیجیٹائز یشن کے سلسلے میں LMIS اور HMIS متعارف کرائے ہیں جبکہ 1,26,000 سے زائد کارکنان کے لیے ای کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ پشاور میں M&CC یونٹ، ڈی آئی خان میں 24 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر اور طبی مراکز میں سولر سسٹمز کی تنصیب بھی حالیہ کامیابیوں میں شامل ہے۔اس موقع پر وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے ڈاکٹرز میں ہاسپٹل انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (HIMS) کے نفاذ کے لیے لیپ ٹاپس بھی تقسیم کیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ آن لائن سسٹمز کے ذریعے مالی شفافیت، بہتر ریکارڈ مینجمنٹ اور عوام کو بروقت سہولیات تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔اپنے خطاب میں وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے کہا کہ میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ توانائی کی بچت کے لیے سولر سسٹمز کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے اور ادارے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ محنت کشوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ,چیف سیکرٹری کی زیرِ صدارت ٹاسک فورس کا اجلاس
خیبر پختونخوا میں قومی پولیو مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے انسدادِ پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس جمعرات کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت وڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر نے فورم کو مہم سے قبل کی تیاریوں، مہم کے دنوں کے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، مانیٹرنگ کے نظام، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور مہم کے بعد کے جائزے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو جنوبی اضلاع اور پشاور کے لئے خصوصی حکمت عملیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ ان علاقوں کے لئے مخصوص اقدامات پر بھی بات ہوئی جہاں پولیو کے ماحولیاتی نمونے تاحال مثبت آ رہے ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری صحت، محکمہ صحت کے دیگر سینئر حکام، نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اسلام آباد کے افسران، پولیو کے خاتمے کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی شراکت داروں کے نمائندے، اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ کمشنرز، ریجنل پولیس آفیسرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ حکام وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ہزارہ ڈویژن کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا، جہاں گزشتہ مہینوں میں پولیو کے نمونے مثبت آئے تھے۔ انہوں نے پشاور میں مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے کئے گئے خصوصی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ پشاور میں آبادی کے نقل و حمل اور اس ضمن میں وائرس کی ٹرانسمیشن کے خطرات کے پیشِ نظر چیف سیکرٹری نے ہدایات دیں کہ ضلع پشاور میں مہم کے لئے خصوصی اقدامات اور مانیٹرنگ مزید مؤثر بنائی جائے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے جنوبی اضلاع اور ضم اضلاع کے لئے تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ان اضلاع کی کارکردگی کو سراہا جنہوں نے بھرپور کوششوں سے پہلے مثبت آنے والے پولیو نمونے منفی کر دکھائے۔ خصوصاً ہزارہ ڈویژن کے وہ علاقے جہاں مسلسل اور منظم مہمات کے نتیجے میں پولیو وائرس کا خطرہ کافی حد تک کم ہوا ہے۔محکمہ صحت اور صوبائی ایمرجنسی سنٹر کو ہدایات جاری کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے میں مضبوط اور کامیاب مہم کے لئے جغرافیائی کوریج بہتر بنانا، ہر گھر تک رسائی ممکن بنانا اور ویکسینیشن سے رہ جانے والے بچوں پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود مہم کے دوران پیش رفت کا جائزہ باقاعدگی سے لیتے رہیں گے۔چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ مہم کے دوران زیادہ چوکس رہنا ہوگا، مسائل کی بروقت نشاندہی کرنی ہوگی اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے تب ہی ایک کامیاب مہم ممکن ہوگی۔ انہوں نے حساس اور ہائی رسک علاقوں میں پولیو ٹیموں کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
