Home Blog Page 44

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی میڈیا بریفننگ

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ڈیڑھ ماہ کے محدود عرصے میں محکمے کی نمایاں کارکردگی سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کی حفاظت،تعلیمی اداروں اور معاشرے کو منشیات کے خطرناک ناسور سے بچانے کا تہیہ رکھتے ہوئے مثالی کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔ منشیات فروشوں،ڈیلرز،سمگلرز اور سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی اور 4 نومبر 2025 سے 15 جنوری 2026 کے دوران کل 91 کاروائیاں کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1762 کلوگرام منشیات برآمد کرکے 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ انھوں نے ان کاروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کل 91ایف آئی آرز درج ہوئے، جس میں 47کلوگرام آئس، تقریبا 1702کلوگرام چرس، تقریبا 12 کلو گرام ہیروئن تقریبا،1 کلو گرام افیون، 7 بوتل شراب اور911عدد نشہ آور گولیاں ضبط کی گئی اور 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔محکمہ اطلاعات کے اطلاع سیل،سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ تاریخ میں اتنی مقدار میں بڑی مقدار میں منشیات نہیں پکڑی گئیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم منشیات کے حوالے سے قوانین بھی سخت کررہے ہیں اور جرمانے بھی بڑھا رہے ہیں تاکہ ہماری نسلوں کو برباد کرنے والے بچ نہ سکیں اور سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں نئے ایکسائز پولیس اسٹیشن بھی قائم کررہے ہیں اور اور اگر کوئی بھی آفیسر یا اہلکار منشیات کے معاملات میں ملوث پایا گیا تو اسکو گھر بھیج دیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں انسداد منشیات کے حوالے سے آگاہی پروگرام شروع کریں گے اور اگر کسی بھی یونیورسٹی میں منشیات فروشی یا عادی طلبہ کا پتہ چلا تو وہاں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایکسائز میں پہلے ریہب والانظام نہیں تھا اب کوشش کررہے ہیں کہ عادی افراد کو ایکسائز کے ذریعے بحالی مراکز تک پہنچائیں۔ انھوں نے مزید کہا اگر کسی بھی بحالی ادارے یا ہسپتال میں اگر علاج کے بجائے کوئی اور مقصد معلوم ہوا تو ہسپتال اور عملے کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا آج ہی ان لائن کھلی کچہری کے موقع پر چھوٹے اور بڑے منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارؤائی کے احکامات جاری کیئے ہیں۔محصولات،ٹیکس ریکوری میں نومبر اور دسمبر کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کہ منشیات کی روک تھام کے علاوہ محکمہ ایکسائزکو صوبائی محاصل کی وصولی میں بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ محصولات کی بہتری، شفافیت، اور وصولیوں میں مؤثر کارکردگی کے تحت محکمے کی جانب سے دو ماہ نومبر اور دسمبر کے اعداد و شمار میں واضح اضا فہ آیا ہے۔نومبر اور دسمبرکے دو ماہ کے دوران 2025 میں 1013 ملین روپے کی وصولی ہوئی ہے۔ جو گزشتہ سال کے اسی دورانئے کے مطابق تقریبا 12 فیصد 113 ملین اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جو محکمے کی بہتر حکمت عملی، نگرانی اور فیلڈ کارکردگی کا نتیجہ ہیاور انشاء اللہ مالی سال 26-2025 کا مقررہ ہدف 7 بلین ہے اور مقررہ ہدف سے ذیادہ ریکوری کر لی جائیگی۔قانونی اصلاحات اور عوامی سہولیات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عوامی سہولت، شفافیت، بہتر حکمرانی اور ریونیو میں اضافے کے لیے متعدد قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو تیز، آسان اور شفاف خدمات فراہم کرنا اور قومی خزانے کے لیے محصولات کی وصولی کو مؤثر بنانا ہے۔اس سلسلے میں پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کا آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن کا نظام بھی محکمہ میں نافذ کیا گیا ہے جبکہ پروفیشنل ٹیکس کے آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی شکایات اور مسائل کے حل کیلئے اوپن ڈے کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کے تحت سینکڑوں شکایات کا ازالہ کیا گیا، شکایات ملنے پر متعدد افسران و اہلکار معطل کیئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آج سے پہلی ای کھلی کچہری کا آغاز کردیا گیاہے جس میں عوام نے بھرپور شرکت کرکے 46 لاؤ کال موصول ہوئیں۔عوام نے محکمہ کے حوالے سے تقریبا 280 تاثراتی پیغامات بھیجے جس پر بروقت احکامات جاری کئے گئے۔سید فخرجہان نے کہا کہ بہترین عوامی مفاد اور ریوینو میں اضافہ کیلئے گاڑیوں کے یونیک /پسندیدہ نمبر وں کا قانون پاس کر کے باقاعدہ آغاز کر دیا گیاہے، جس کی پہلی نیلامی 27 جنوری 2026 ہو گی۔اس طرح اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس کے تحت 4 لاکھ سے زائد پراپرٹیز ڈیجیٹلائز کی گئی جبکہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 13 شہروں میں GIS سروے مکمل ہوا ہے۔

خیبرپختونخوا کے پہلے سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم (STEAM) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا

خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور نئی نسل کو عصری علمی و تحقیقی طریقہ کار کے تحت تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ صوبے میں پہلے سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم (STEAM) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی کے شعبوں میں جدید تحقیق، تربیت اور تعلیمی معیار کو فروغ دینا ہے۔
سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم کی افتتاحی تقریب خیبرپختونخوا ہائر ایجوکیشن اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ٹریننگ (HEART)، حیات آباد پشاور میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی تھے۔ تقریب میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام، تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان افریدی نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم کا قیام صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی نوعیت کی ایک نمایاں اور دور رس اثرات رکھنے والی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز کے قیام سے طلبہ کو جدید سائنسی و تحقیقی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیم ماڈل جدید دنیا کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ مرکز نہ صرف اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ تحقیق اور اختراعات کے نئے در بھی کھولے گا۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تحقیق کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کو مارکیٹ بیسڈ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایسے مزید اقدامات جاری رکھے گی تاکہ صوبہ علمی و تعلیمی میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملہ قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے،اپنے بیان میں معاون خصوصی نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے نہ تو صوبائی حکومت کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منتخب عوامی نمائندوں اور عوام کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں شفیع جان نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تاہم صوبائی وزیر کے گھر کو نقصان پہنچا ہے،انہوں نے بتایا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور صوبائی حکومت اس حملے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں،خیبرپختونخوا ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت، ہزاروں پولیس اہلکار، سیکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کو اربوں روپے کے معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات اٹھانا پڑے لیکن بدقسمتی سے وفاق پر مسلط حکمران ٹولہ نہ صرف خیبرپختونخوا کے بقایا جات روکے ہوئے ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر صوبائی حکومت پر بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی الزام تراشی کر کے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں اور شہداء کی قربانیوں کی کھلی توہین کر رہا ہے جو ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں،معاون خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر وفاقی حکومت کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک، غیر سنجیدہ اور نیشنل ایکشن پلان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،وفاقی حکومت صوبے کو اس کے آئینی اور مالی حقوق دے رہی ہے، نہ ہی صوبے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے رہی ہے جو یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے،انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔

سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں ڈے کیئر سینٹر کا افتتاح

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں قائم ڈے کیئر سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات محمد عمران خان، ایڈیشنل سیکرٹری حضرت علی، ڈپٹی سیکرٹری بینش اقبال، ڈپٹی سیکرٹری انور اکبر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ڈے کیئر سینٹر کا قیام خواتین ملازمین کے لیے ایک اہم سہولت ہے، جس سے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال کا موقع ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں بہتر کام کرنے کا ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ڈے کیئر سینٹر کے قیام سے خواتین ملازمین اپنی ذمہ داریاں زیادہ توجہ اور اطمینان کے ساتھ انجام دے سکیں گی۔معاون خصوصی نے ڈے کیئر سینٹر کے قیام میں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات بینش اقبال کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ورسک روڈ سول سیکرٹریٹ میں کام کرنے والی خواتین ملازمین اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی اور مستقبل میں ایسی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت صوبہ بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کامیاب اور مؤثر کارروائیوں کیساتھ ساتھ منشیات کی طلب میں کمی، نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل کی طرف گامزن کرنے اور منشیات کے تباہ کن جسمانی، ذہنی، معاشی اور معاشرتی اثرات سے آگاہی کے لیے صوبہ بھر میں شعور بیداری مہم جاری ہے

خیبر پختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت صوبہ بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کامیاب اور مؤثر کارروائیوں کیساتھ ساتھ منشیات کی طلب میں کمی، نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل کی طرف گامزن کرنے اور منشیات کے تباہ کن جسمانی، ذہنی، معاشی اور معاشرتی اثرات سے آگاہی کے لیے صوبہ بھر میں شعور بیداری مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں آگاہی سیمینارز، واکس، کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اسی کڑی کے طور پر فضل الحق کالج مردان میں ایک بڑے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں خالد الیاس، سیکریٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں میڈم حفصہ عاشق، پرنسپل کالج خالد خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع مردان، ڈاکٹر ہدایت اللہ ہیڈ اینٹی ڈرگ کمیٹی، عاکف نواز خان سرکل آفیسر مردان، عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان سمیت محکمہ ایکسائز کے دیگر افسران، اہلکاروں، کالج اساتذہ اور طلباء کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر سیکریٹری محکمہ ایکسائز نے کالج کی وزیٹر بک میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور سیمینار سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے اور اسے منشیات جیسے ناسور سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ سیکریٹری ایکسائز نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا منشیات کے خلاف صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہیں بلکہ آگاہی، اصلاح اور بحالی کو بھی اپنی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ خود کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، کھیل اور تحقیق سے وابستہ رکھیں اور منشیات کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آگاہی ہی وہ مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذریعے منشیات کی طلب میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔سیمینار کے دوران سیکریٹری ایکسائز نے منتخب طلباء سے ملاقات کی اور انہیں باقاعدہ طور پر ایکسائز اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز کے بیجز لگائے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز نہ صرف اپنے تعلیمی ادارے بلکہ دیگر کالجز، اسکولز اور عوامی مقامات پر منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں گے اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کا پیغام دیں گے۔
بعد ازاں سیکریٹری محکمہ ایکسائز نے کالج میں زیتون کا پودا بھی لگایا، جو امن، صحت مند زندگی اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح درخت آنے والی نسلوں کے لیے سایہ اور ثمر فراہم کرتے ہیں، اسی طرح آج کی آگاہی مہمات مستقبل کی نسلوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے منشیات کے خلاف عملی کردار ادا کرنے اور ایک صحت مند، محفوظ اور خوشحال معاشرے کے قیام کے عزم کا اظہار کیا۔

حق اور سچ بولنے کا ہنر میرے لیڈر کا شیوہ ہے، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہا ہے کہ ان کے گھر پر گزشتہ روز کی صبح 6 بجکر 8 منٹ پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا۔تاہم انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ افسوسناک واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن گھر کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور اس ضمن میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیاہے۔ واقعہ کی تفصیلات میڈیا کو جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ وہ فسطائیت اور جبر کے اندھیروں کے خلاف ہر موڑ پر آواز بلند کر تے رہیں گے، ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بھی ایک ایسی سازش کی کڑی ہے جس کا مقصد ان کی آواز کو دبانا ہے۔ ڈاکٹر امجد علی نے واضح کیا کہ وہ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جبکہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے ان کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین وممبران اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی، ارباب محمد عثمان خان، عبدالمنعم مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر اور احمد کنڈی نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو بمعہ متعلقہ افسران، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد محکمے کی کارکردگی، عوامی خدمات اور پالیسی عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر سابقہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کی پیشرفت پر غور کیا گیا۔ رکن کمیٹی احمد کنڈی کے سوال کے جواب میں سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو نے بتایا کہ صوبے بھر میں مچھلیوں کے غیر فطری اور غیر قانونی شکار پر مکمل پابندی عائد ہے، جن میں جنریٹر اور دھماکہ خیز مواد کے ذریعے شکار شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جرائم پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران غیر قانونی شکار پر 92 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات آبی حیات کے تحفظ، مچھلیوں کی افزائش نسل اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔اجلاس میں لائیو سٹاک کے شعبے سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ رکن قائمہ کمیٹی ارباب محمد عثمان خان نے مذبح خانوں میں قصائیوں کی باقاعدہ تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف گوشت کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کمیٹی نے محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت کی کہ تمام ذیلی شعبہ جات بشمول ویٹرنری سروسز، ڈیری ڈیویلپمنٹ اور پولٹری کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔ اس موقع پر عبدالسلام آفریدی نے کہا کہ محکمہ عوام میں یہ شعور بیدار کرے کہ شکار اور ذبح کے کن طریقوں سے حلال و حرام کا تعین ہوتا ہے، تاکہ صحت اور مذہبی اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی شیر علی آفریدی نے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو کی مجموعی کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قائم ریسرچ سینٹرز اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں ڈیری فارمنگ، پولٹری اور فشریز کے شعبے معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمے کو جدید خطوط پر استوار کر کے اسے منافع بخش اور خود کفیل ادارہ بنایا جائے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ،حلال فوڈ اتھارٹی اور ٹی ایم اے سمیت متعلقہ محکموں کے افسران کو بھی طلب کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے محکمہ کو ہدایت کی کہ تمام احکامات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاس میں جامع پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی اعلامیہ سے پنجاب اور سندھ کے اوپن مارکیٹ میں آج گندم کے نرخ کم ہوگئے جبکہ سندھ اور پنجاب کے گندم ریلیز سے نرخ کیوں کم نہیں ہو رہے تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی اعلامیہ سے پنجاب اور سندھ کے اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کے نرخ کم ہوگئے جبکہ سندھ اور پنجاب کے گندم ریلیز سے نرخ کیوں کم نہیں ہو رہے تھے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملک میں گندم اور آٹے کا بحران پنجاب حکومت کی وجہ سے ہے ملکی گندم کا سارا انحصار پنجاب اور سندھ پر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے پر غیر قانونی پابندی عائد کی تھی اور مسلسل آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت نے زمینداروں سے 22 روپے من گندم خرید کر انکی کمر توڑ دی جبکہ انکی کمر سیدھی ہوگئی جنہوں نے گندم خریدی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گندم پابندی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کو 10 سے 12 فیصد آٹا مہنگا مل رھا ہے اور خیبرپختونخوا میں گندم کا نرخ 5 ہزار فی من تک پہنچ گیا تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے 136 میٹرک ٹن گندم ریلیز کرے گی اور خیبرپختونخوا حکومت کا 20 کلو آٹا کا تھیلا کا نرخ 2220 روپے مقرر ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا سرکاری آٹے تھیلا پر گرین سٹیمپ لگا ہوگا اب خیبرپختونخوا کے عوام کو آٹا 125 روپے فی کلو کی جگہ 104 روپے میں ملے گا۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے زیر صدارت تبدیل ہونے والی ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کے اعزاز میں الوداعی و یادگاری تقریب کا اہتمام

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت تبدیل ہونے والی ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کے اعزاز میں سول سیکرٹریٹ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا پشاور میں ایک سادہ اور پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سپیشل سیکرٹری خالد اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری عبد الحسیب، ایڈیشنل سیکرٹری توصیف خالد و ڈپٹی سیکرٹری محمد یوسف سمیت خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے کلکٹر صاحبان اور افسران نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کی خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی میں شاندار خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ دیانتداری، محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اُن کی قیادت میں محکمے نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی نگرانی میں ادارے نے اپنے مقرر کردہ اہداف سے زائد ٹیکس محصولات جمع کیے ہیں اور ادارے کے کئی کورٹ کیسز اپنے منطقی و قابلیت کے بنیاد پر جیتے ہیں۔ اس موقع پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے فوزیہ اقبال کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ فوزیہ اقبال جیسے افسران اداروں کے لیے اثاثہ ہوتے ہیں، اور ان کا تجربہ دیگر افسران کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس موقع پر دیگر افسران اور حکام نے بھی تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوزیہ اقبال ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور وژنری افسر تھے جن کی قیادت میں خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا انتظامی وژن اور ٹیم ورک کا جذبہ نوجوان افیسرز کے لئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوزیہ اقبال نے محکمے میں ایک مثبت اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دیا، اور اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔تقریب میں دیگر مقررین نے بھی فوزیہ اقبال کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ فوزیہ اقبال نے اپنے خطاب میں تمام افسران و اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کرتے رہے، اور انہیں خوشی ہے کہ وہ ایک باعزت انداز میں اپنی خدمات مکمل کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات اور فوزیہ اقبال کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار پر ہوا۔

آر ٹی ایس کمیشن کے احکامات پر سال 2025 میں 360 شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے احکامات پر سال 2025 کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں شہریوں کو مجموعی طور پر 360 ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نے کمیشن کو لکھا کہ کمیشن میں درج تمام 360 شہریوں کو احکامات کے مطابق لائسنز جاری کئے جا چکے ہیں۔ سب سے زیادہ مردان کے 154 شہریوں کی شکایات پر کارروائی کی گئی۔ چیف کمشنر آر ٹی ایس، محمد علی شہزادہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ صوبے میں عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور عوام کو ان کے قانونی حقوق بروقت فراہم کریں۔ کمیشن خدمات کی نگرانی کا عمل مؤثر انداز میں جاری رکھے گا تاکہ شفافیت، جوابدہی اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔