Home Blog Page 45

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے صحت کا اجلاس — مالی امور و آڈٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ-

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور کے رحمان بابا کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ادریس خٹک نے کی، جبکہ کمیٹی کے ممبران انور خان، عبدالسلام آفریدی، مخدوم آفتاب، سیکرٹری صحت بمع متعلقہ عملہ، ڈائریکٹر آڈٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، لا ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں مالی سال 2018-19 کے دوران محکمہ صحت سے متعلق آڈٹ اعتراضات اور مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے محکمہ صحت سے متعلق آڈٹ پیراز کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے ضروری وضاحتیں طلب کیں۔ بعض اہم آڈٹ پیراز پر کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی نے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف محکمانہ انکوائریاں اور ریکوریز کے احکامات جاری کیے، جبکہ چند معمولی نوعیت کے پیراز کو پی اے سی فورم نے سیٹل کر دیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ ورکنگ پیپرز کے ساتھ ڈی ایس سی میٹنگز کے منٹس بھی لازمی منسلک کیے جائیں تاکہ ریکارڈ کی شفافیت اور تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔صوبائی اسمبلی کے سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت مالی نظم و ضبط کے استحکام اور شفافیت کے فروغ کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاسوں کو نہایت اہمیت دیتی ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پی اے سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے محکموں کی مالی کارکردگی میں بہتری، غلطیوں کی نشاندہی اور وسائل کے موثر استعمال کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، جو اچھی حکمرانی کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے بدھ کے روز پشاور کے علاقہ بڈھنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے نہر کے دونوں اطراف جاری ترقیاتی سرگرمیوں، حفاظتی بندوں، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے مجموعی انتظامات کا بغور جائزہ لیا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے بدھ کے روز پشاور کے علاقہ بڈھنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے نہر کے دونوں اطراف جاری ترقیاتی سرگرمیوں، حفاظتی بندوں، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے مجموعی انتظامات کا بغور جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز،چیف انجینئر اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ دورہ کے موقع پر متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر آبپاشی کو ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہدایت کی کہ بڈھنی نالہ اور اس سے ملحقہ نہری گزرگاہ کے اطراف حفاظتی پشتوں کی تعمیر و مضبوطی کے عمل کے کام کے رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال میں شہریوں کی زندگیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ریاض خان نے کہا کہ بڈھنی نالہ پشاور کے مصروف ترین علاقوں میں شامل ہے جہاں معمولی تاخیر بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا صفائی ستھرائی، ملبہ ہٹانے، نکاسی آب کی بہتری اور حفاظتی پشتوں کی بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اسی موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت شہریوں کی حفاظت، مؤثر نکاسی آب، سیلابی خطرات سے بچاؤ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ویژن کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنانا لازم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ تمام کام ترجیحی بنیادوں پر اور اعلیٰ معیار کے مطابق جلد مکمل کیے جائیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت عوامی ریلیف اور شہریوں کی سلامتی کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں تمام محکمے ایک جامع حکمت عملی کے تحت ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم کا ظاہر کیا کہ بڈھنی نالہ کے اطراف جاری منصوبے جلد مکمل کر کے عوام کو ایک محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کیا جائے گا۔

سیکریٹری لائیوسٹاک, فیشریز و کوآپریٹیو خیبرپختونخوا محمد طاہر اورکزئی نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یواین آئی ڈی او) کے تعاون سے محکمہ لائیوسٹاک میں قائم میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر کا دورہ کیا

سیکریٹری لائیوسٹاک, فیشریز و کوآپریٹیو خیبرپختونخوا محمد طاہر اورکزئی نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یواین آئی ڈی او) کے تعاون سے محکمہ لائیوسٹاک میں قائم میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہیں میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر میں دستیاب سہولیات، جدید آلات اور ٹریننگ کے نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جدید معیار کے مطابق قائم یہ میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر نہ صرف عوام کو معیاری اور محفوظ گوشت کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ گوشت سے وابستہ شعبے کے افراد کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر سیکریٹری لائیوسٹاک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے کے تعاون سے فعال بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ اس کے انتظام و انصرام میں مزید بہتری لائی جاسکے۔سیکریٹری لائیوسٹاک محمد طاہر اورکزئی نے کہا کہ عوام کو معیاری، صاف اور صحت بخش گوشت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جدید مذبح خانہ اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔میٹ پروسسنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر کی مکمل فعالی سے نہ صرف صارفین کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ گوشت کی کوالٹی میں بہتری سے مجموعی صحت کے شعبے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ڈاکٹر آصل خان بھی موجود تھے، جنہوں نے مختلف تکنیکی پہلوؤں پر سیکریٹری لائیوسٹاک کو آگاہ کیا۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی نوشہرہ میں بڑی کارروائی، مصنوعی دودھ بنانے والی فیکٹری پکڑ کر سیل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے نوشہرہ میں خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے مصنوعی اور ملاوٹی دودھ تیار کرنے والی فیکٹری پر گزشتہ روز چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران فیکٹری سے 350 لیٹرز تیار شدہ مصنوعی دودھ برآمد کر کے موقع پر تلف کر دیا گیا۔
فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور ڈویژن شیر رحمان کی نگرانی میں پشاور فوڈ سیفٹی ٹیم ٹاؤن -2 کے ہمراہ انڈسٹریل اسٹیٹ رسالپورمیں واقع مصنوعی اور ملاوٹی دودھ بنانے والی یونٹ پر چھاپہ مارا اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے کارروائی کے دوران دودھ کے نمونے موقع پر ہی چیک کیے۔ دودھ کے نمونے مصنوعی اور مضر صحت ثابت ہونے پر فیکٹری میں موجود مشینری، چیلرز، کیمیکل ڈرمز اور کیمیکلز سپلائی کرنے والی گاڑی سرکاری تحویل میں لے کر یونٹ کو سیل کر دیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ غیرقانونی کاروبار میں ملوث عناصر پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں جبکہ فیکٹری مالکان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کامیاب کارروائی کو سراہا اور کہا کہ جعلی، مصنوعی اور ملاوٹی دودھ کا مکروہ دھندہ کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں، کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے صوبہ بھر کیانسپکشن ٹیموں کو ہدایت کی کہ ایسے گھناؤنے کاروباروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔

صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز کی ایک روز میں 5 بڑی کارروائیاں،35 ہزار گرام منشیات برآمد، 6 ملزمان گرفتار

صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں، ڈیلروں اور سہولت کاروں کے خلاف موثر کارروائیاں تیز کر دیں ہیں۔ ایک ہی دن کے دوران محکمہ کے ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو نے پراونشل انچارج سعود خان گنڈاپور کی نگرانی میں پانچ بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے بھاری مقدار میں آئس، ہیروئن اور چرس برآمد کرلی جبکہ چھ ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمات درج کردیئے گئے۔محکمہ ایکسائز کے تفصیلات کے مطابق پہلی کارروائی میں 6000 گرام ہیروئن اور 3000 گرام آئس برآمد کی گئی۔دوسری کارروائی میں 19200 گرام چرس اور 500 گرام آئس قبضے میں لے لی گئی۔محکمہ کی تیسری کارروائی کے دوران 4800 گرام چرس برآمد ہوئی جبکہ چوتھی کارروائی میں 500 گرام آئس پکڑی گئی۔محکمہ کی جانب سے پانچویں کارروائی میں ہزارہ ریجن کے ایک تعلیمی ادارے کے طلباء کو آئس کی ترسیل اور فروخت میں ملوث دو ملزمان سے 1000 گرام آئس برآمد کرلی گئی۔محکمہ ایکسائز کے مطابق مجموعی طور پر 5000 گرام آئس، 6000 گرام ہیروئن اور 24000 گرام چرس برآمد کرتے ہوئے چھ ملزمان کو موقع پر گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔

26 نومبر کے حوالے سے پشاور میں تقریب/وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

گزشتہ سال 26 نومبرکوشہید پارٹی کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اج پشاور میں خصوصی تقریب منعقد ہوگی، شفیع جان

تقریب میں 26 نومبر کوپرامن احتجاج میں شہید ہونے والے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، شفیع جان

تقریب میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور پارٹی قیادت شرکت کریگی، شفیع جان

وفاقی حکومت نے 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے پرامن ریلی کے شرکاء پر بدترین ظلم و جبر کیا، شفیع جان

اسلام آباد میں 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے پرامن اور نہتے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، شفیع جان

پرامن کارکنوں پر فائرنگ سے پی ٹی آئی کارکنان شہید اور زخمی ہوئے، شفیع جان

پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین و قانون کے مطابق پُرامن سیاسی احتجاج کیا ہے، شفیع جان

جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، شفیع جان

پاکستان مسلم لیگ ن خوف عمران خان میں پرامن سیاسی احتجاج کی اجازت بھی نہیں دیتی، شفیع جان

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نام نہاد جمہوری جماعتیں ہے، شفیع جان

منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز کی ایک روز میں 5 بڑی کارروائیاں

منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز کی ایک روز میں 5 بڑی کارروائیاں

کارروائیوں میں 35 ہزار گرام سے زائد منشیات برآمد

ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو کی منشیات فروشوں اور سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائیاں تیز

پراونشل انچارج سعود خان گنڈاپور کی نگرانی میں پانچ کامیاب آپریشنز

پہلی کارروائی میں 6000 گرام ہیروئن اور 3000 گرام آئس برآمد

دوسری کارروائی میں 19,200 گرام چرس اور 500 گرام آئس قبضے میں لیئے گئے

تیسری کارروائی میں4800 گرام چرس برآمد

چوتھی کارروائی میں 500 گرام آئس پکڑی گئی

پانچویں کارروائی کے دوران ہزارہ کے تعلیمی ادارے میں آئس سپلائی میں ملوث دو ملزمان گرفتار

کارروائی میں 1000 گرام آئس برآمد

کاروائیوں میں مجموعی طور پر 5000 گرام آئس، 6000 گرام ہیروئن، 24,000 گرام چرس کی برآمدگی ہوئی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325کی سالگرہ کے موقع پر خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325کی سالگرہ کے موقع پر خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی۔سپیکر نے شرکائ کو خوش آمدید کہتے ہوئے خواتین کے حقوق اور ان کے معزز مقام پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خواتین معاشرتی تشکیل، امن اور خاندان کے استحکام کی بنیاد ہیں۔ اس موقع پر پیمان ایلومنائی ٹرسٹ اور سینٹر آف ایکسیلنس فار انسدادِ تشدد و انتہا پسندی کی جانب سے اجلاس کے مقاصد اورقرارداد 1325 کی اہمیت پر بریفنگ بھی دی گئی۔تقریب میں ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی، میڈیا، اکیڈمیا اور اراکینِ اسمبلی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ بشریٰ حیدر نے کہا کہ پائیدار امن خواتین کی فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ چیئرپرسن صوبائی کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے قرارداد 1325 کے چار بنیادی ستون روک تھام، شرکت، تحفظ اور ریلیف و ریکوری کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے امن و ترقی کے لیے ایک مضبوط عالمی فریم ورک قرار دیا۔ڈائریکٹر جنرل KPCVE ڈاکٹر قاسم خان نے اپنے خطاب میں خواتین کی شمولیت کو سماجی ہم آہنگی، پائیدار امن اور اچھی حکمرانی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ مرکزی سیشن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیمان ایلومنائی ٹرسٹ ڈاکٹر مسرت قدیم نے خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق قومی ایکشن پلان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کا فعال کردار اس عمل کی کامیابی کا بنیادی ستون ہے۔ تقریب کے اختتام پر خواتین اراکینِ اسمبلی کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن بھی ہوا، جہاں خواتین پارلیمنٹرینز بطور چیمپئنز کے عنوان سے ان کے کردار کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا-

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت نہری پانی کے استعمال کی فیس کی شرح سے متعلق اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت نہری پانی کے استعمال کی فیس کی شرح سے متعلق اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین ڈیڈیک بونیر کبیر خان، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں زرعی شعبے کے لیے مقررہ آبپاشی نرخوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور مختلف کیٹیگریز کے تحت صوبائی وزیر کو مجوزہ ریٹس پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کیش کراپس، دیگر فصلیں، کمرشل استعمال اور اینٹوں کے بھٹوں کی آبپاشی کے لیے پانی کے نرخوں کو موجودہ صورت حال، کسانوں کو درپیش مشکلات اور محاصل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کیش کراپس بشمول گنا، شکر چقندر، کاٹن اور آئل سیڈز کے لیے پانی کا بہاؤ، لفٹ ایریگیشن سکیم، ٹیوب ویلز اور دیگر نرخوں کا جائزہ بھی لیا گیا جبکہ دیگر فصلوں، کمرشل پانی کے استعمال اور اینٹوں کے بھٹوں کے لیے علیحدہ شرحیں تجویز کی گئیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت زرعی ترقی اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صوبے میں نہری نظام کی بہتری، پانی کے مؤثر استعمال اور آمدن کے شفاف نظام کی تشکیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نرخ اس طرح مرتب کئے جائیں گے کہ نہ صرف کسان طبقہ کو ریلیف ملے بلکہ محکمہ کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے ہدایت جاری کی کہ مجوزہ نرخ عوامی مفاد، زمینی حقائق اور کاشتکاروں کے معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے حتمی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں۔ انہوں نے اس ضمن میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو بھی ضروری قرار دیا۔

ڈاکٹر سمیرا شمس کا خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات پر زور

پشاور یونیورسٹی میں ’صنفی تشدد کے خاتمے کے لئے 16 روزہ مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن ان دی سٹیٹس آف وومن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بڑھتے ہوئے تشدد کے سنگین مسئلے کی فوری روک تھام کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تشدد دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ہراسانی کی سب سے خطرناک اقسام میں سے ایک بنتا جا رہا ہے اور صنفی برابری کے حصول کے لیے ڈیجیٹل تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے خبردار کیا کہ آن لائن ہراسانی اکثر حقیقی زندگی میں جبری دباؤ، بدسلوکی اور جسمانی تشدد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کارکنان، صحافی، سیاستدان، انسانی حقوق کے محافظ اور نوجوان لڑکیاں خصوصاً وہ خواتین جو عوامی یا آن لائن طور پر نمایاں ہوں زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔تقریب سے خطاب میں چیئرپرسن نے کمیشن کے بنیادی مینڈیٹ پر روشنی ڈالی، جس میں قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینا، ضروری اصلاحات تجویز کرنا اور سرکاری و نجی شعبوں میں خواتین کے حقوق و بااختیاری کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن مختلف سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور تعلیمی شعبے کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کے فروغ اور ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل تشدد کے سدباب میں درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمزور قانونی فریم ورک، ذمہ داری کا فقدان اور متاثرین کے لیے ناکافی مددگار نظام اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ان چیلنجز کا ادراک رکھتے ہوئے اس حوالے سے مؤثر پالیسی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ خواتین کے لئے محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی قومی ترقی کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو پیشہ ورانہ شعبوں اور سیاسی میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے آنا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف صوبے اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرسکیں بلکہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے مؤثر قانون سازی اور فیصلے سازی کا حصہ بھی بن سکیں۔