Home Blog Page 50

خیبر پختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت صوبہ بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کامیاب اور مؤثر کارروائیوں کیساتھ ساتھ منشیات کی طلب میں کمی، نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل کی طرف گامزن کرنے اور منشیات کے تباہ کن جسمانی، ذہنی، معاشی اور معاشرتی اثرات سے آگاہی کے لیے صوبہ بھر میں شعور بیداری مہم جاری ہے

خیبر پختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت صوبہ بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کامیاب اور مؤثر کارروائیوں کیساتھ ساتھ منشیات کی طلب میں کمی، نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل کی طرف گامزن کرنے اور منشیات کے تباہ کن جسمانی، ذہنی، معاشی اور معاشرتی اثرات سے آگاہی کے لیے صوبہ بھر میں شعور بیداری مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں آگاہی سیمینارز، واکس، کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اسی کڑی کے طور پر فضل الحق کالج مردان میں ایک بڑے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں خالد الیاس، سیکریٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں میڈم حفصہ عاشق، پرنسپل کالج خالد خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع مردان، ڈاکٹر ہدایت اللہ ہیڈ اینٹی ڈرگ کمیٹی، عاکف نواز خان سرکل آفیسر مردان، عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان سمیت محکمہ ایکسائز کے دیگر افسران، اہلکاروں، کالج اساتذہ اور طلباء کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر سیکریٹری محکمہ ایکسائز نے کالج کی وزیٹر بک میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور سیمینار سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے اور اسے منشیات جیسے ناسور سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ سیکریٹری ایکسائز نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا منشیات کے خلاف صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہیں بلکہ آگاہی، اصلاح اور بحالی کو بھی اپنی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ خود کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، کھیل اور تحقیق سے وابستہ رکھیں اور منشیات کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آگاہی ہی وہ مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذریعے منشیات کی طلب میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔سیمینار کے دوران سیکریٹری ایکسائز نے منتخب طلباء سے ملاقات کی اور انہیں باقاعدہ طور پر ایکسائز اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز کے بیجز لگائے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز نہ صرف اپنے تعلیمی ادارے بلکہ دیگر کالجز، اسکولز اور عوامی مقامات پر منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں گے اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کا پیغام دیں گے۔
بعد ازاں سیکریٹری محکمہ ایکسائز نے کالج میں زیتون کا پودا بھی لگایا، جو امن، صحت مند زندگی اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح درخت آنے والی نسلوں کے لیے سایہ اور ثمر فراہم کرتے ہیں، اسی طرح آج کی آگاہی مہمات مستقبل کی نسلوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے منشیات کے خلاف عملی کردار ادا کرنے اور ایک صحت مند، محفوظ اور خوشحال معاشرے کے قیام کے عزم کا اظہار کیا۔

حق اور سچ بولنے کا ہنر میرے لیڈر کا شیوہ ہے، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہا ہے کہ ان کے گھر پر گزشتہ روز کی صبح 6 بجکر 8 منٹ پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا۔تاہم انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ افسوسناک واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن گھر کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور اس ضمن میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیاہے۔ واقعہ کی تفصیلات میڈیا کو جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ وہ فسطائیت اور جبر کے اندھیروں کے خلاف ہر موڑ پر آواز بلند کر تے رہیں گے، ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بھی ایک ایسی سازش کی کڑی ہے جس کا مقصد ان کی آواز کو دبانا ہے۔ ڈاکٹر امجد علی نے واضح کیا کہ وہ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جبکہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے ان کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین وممبران اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی، ارباب محمد عثمان خان، عبدالمنعم مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر اور احمد کنڈی نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو بمعہ متعلقہ افسران، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد محکمے کی کارکردگی، عوامی خدمات اور پالیسی عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر سابقہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کی پیشرفت پر غور کیا گیا۔ رکن کمیٹی احمد کنڈی کے سوال کے جواب میں سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو نے بتایا کہ صوبے بھر میں مچھلیوں کے غیر فطری اور غیر قانونی شکار پر مکمل پابندی عائد ہے، جن میں جنریٹر اور دھماکہ خیز مواد کے ذریعے شکار شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جرائم پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران غیر قانونی شکار پر 92 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات آبی حیات کے تحفظ، مچھلیوں کی افزائش نسل اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔اجلاس میں لائیو سٹاک کے شعبے سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ رکن قائمہ کمیٹی ارباب محمد عثمان خان نے مذبح خانوں میں قصائیوں کی باقاعدہ تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف گوشت کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کمیٹی نے محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت کی کہ تمام ذیلی شعبہ جات بشمول ویٹرنری سروسز، ڈیری ڈیویلپمنٹ اور پولٹری کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔ اس موقع پر عبدالسلام آفریدی نے کہا کہ محکمہ عوام میں یہ شعور بیدار کرے کہ شکار اور ذبح کے کن طریقوں سے حلال و حرام کا تعین ہوتا ہے، تاکہ صحت اور مذہبی اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی شیر علی آفریدی نے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو کی مجموعی کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قائم ریسرچ سینٹرز اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں ڈیری فارمنگ، پولٹری اور فشریز کے شعبے معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمے کو جدید خطوط پر استوار کر کے اسے منافع بخش اور خود کفیل ادارہ بنایا جائے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ،حلال فوڈ اتھارٹی اور ٹی ایم اے سمیت متعلقہ محکموں کے افسران کو بھی طلب کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے محکمہ کو ہدایت کی کہ تمام احکامات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاس میں جامع پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی اعلامیہ سے پنجاب اور سندھ کے اوپن مارکیٹ میں آج گندم کے نرخ کم ہوگئے جبکہ سندھ اور پنجاب کے گندم ریلیز سے نرخ کیوں کم نہیں ہو رہے تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا گندم ریلیز پالیسی اعلامیہ سے پنجاب اور سندھ کے اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کے نرخ کم ہوگئے جبکہ سندھ اور پنجاب کے گندم ریلیز سے نرخ کیوں کم نہیں ہو رہے تھے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملک میں گندم اور آٹے کا بحران پنجاب حکومت کی وجہ سے ہے ملکی گندم کا سارا انحصار پنجاب اور سندھ پر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے پر غیر قانونی پابندی عائد کی تھی اور مسلسل آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت نے زمینداروں سے 22 روپے من گندم خرید کر انکی کمر توڑ دی جبکہ انکی کمر سیدھی ہوگئی جنہوں نے گندم خریدی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گندم پابندی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کو 10 سے 12 فیصد آٹا مہنگا مل رھا ہے اور خیبرپختونخوا میں گندم کا نرخ 5 ہزار فی من تک پہنچ گیا تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے 136 میٹرک ٹن گندم ریلیز کرے گی اور خیبرپختونخوا حکومت کا 20 کلو آٹا کا تھیلا کا نرخ 2220 روپے مقرر ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا سرکاری آٹے تھیلا پر گرین سٹیمپ لگا ہوگا اب خیبرپختونخوا کے عوام کو آٹا 125 روپے فی کلو کی جگہ 104 روپے میں ملے گا۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے زیر صدارت تبدیل ہونے والی ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کے اعزاز میں الوداعی و یادگاری تقریب کا اہتمام

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت تبدیل ہونے والی ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کے اعزاز میں سول سیکرٹریٹ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا پشاور میں ایک سادہ اور پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سپیشل سیکرٹری خالد اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری عبد الحسیب، ایڈیشنل سیکرٹری توصیف خالد و ڈپٹی سیکرٹری محمد یوسف سمیت خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے کلکٹر صاحبان اور افسران نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کی خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی میں شاندار خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ دیانتداری، محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اُن کی قیادت میں محکمے نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی نگرانی میں ادارے نے اپنے مقرر کردہ اہداف سے زائد ٹیکس محصولات جمع کیے ہیں اور ادارے کے کئی کورٹ کیسز اپنے منطقی و قابلیت کے بنیاد پر جیتے ہیں۔ اس موقع پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے فوزیہ اقبال کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ فوزیہ اقبال جیسے افسران اداروں کے لیے اثاثہ ہوتے ہیں، اور ان کا تجربہ دیگر افسران کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس موقع پر دیگر افسران اور حکام نے بھی تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوزیہ اقبال ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور وژنری افسر تھے جن کی قیادت میں خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا انتظامی وژن اور ٹیم ورک کا جذبہ نوجوان افیسرز کے لئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوزیہ اقبال نے محکمے میں ایک مثبت اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دیا، اور اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔تقریب میں دیگر مقررین نے بھی فوزیہ اقبال کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ فوزیہ اقبال نے اپنے خطاب میں تمام افسران و اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کرتے رہے، اور انہیں خوشی ہے کہ وہ ایک باعزت انداز میں اپنی خدمات مکمل کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات اور فوزیہ اقبال کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار پر ہوا۔

آر ٹی ایس کمیشن کے احکامات پر سال 2025 میں 360 شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے احکامات پر سال 2025 کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں شہریوں کو مجموعی طور پر 360 ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نے کمیشن کو لکھا کہ کمیشن میں درج تمام 360 شہریوں کو احکامات کے مطابق لائسنز جاری کئے جا چکے ہیں۔ سب سے زیادہ مردان کے 154 شہریوں کی شکایات پر کارروائی کی گئی۔ چیف کمشنر آر ٹی ایس، محمد علی شہزادہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ صوبے میں عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور عوام کو ان کے قانونی حقوق بروقت فراہم کریں۔ کمیشن خدمات کی نگرانی کا عمل مؤثر انداز میں جاری رکھے گا تاکہ شفافیت، جوابدہی اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

صوبائی وزیر فضل شکورخان کی ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایات

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرزکو ہدایت کی ہے کہ ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی تمام جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار میں نمایاں تیزی لائی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مجوزہ ترقیاتی سکیموں کے پی سی ون پر بھی جلد از جلد مکمل ہوم ورک کرتے ہوئے انہیں منظوری کے لیے صوبائی ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) کو ارسال کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف جاری اور مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ایکسین مانسہرہ سردار خالد گنڈا پور اور جنوبی وزیرستان کے ایکسین میاں گل نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دونوں ایکسینز نے اپنے اپنے اضلاع میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جاری اور مجوزہ سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مفاد سے وابستہ سکیموں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پینے کے پانی اور سینیٹیشن کی فراہمی عوام کا بنیادی حق ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں نگرانی مؤثر بنائی جائے، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اضلاع کی ضروریات کے مطابق نئے منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ دور دراز علاقوں سمیت صوبے بھر میں عوام کو محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت لیگانئی ضلع بونیر میں سمال ڈیمز اور آبی ذخائر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت لیگانئی ضلع بونیر میں سمال ڈیمز اور آبی ذخائر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز اختر رشید اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع بونیر میں جاری اور مجوزہ آبی منصوبوں کا جائزہ لینا اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینا تھا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کو لیگانئی اور ضلع بونیر کے دیگر علاقوں میں سمال ڈیمز اور آبی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مصنوعی ڈیمز کی تعمیر سے متعلق مجوزہ منصوبے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، زرعی ضروریات اور علاقے میں پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آپشنز پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبے میں آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور پانی کے ذخائر میں اضافے کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لیگانئی میں مصنوعی ڈیمز کی تعمیر کے لیے فوری طور پر فزیبلٹی اسٹڈی کا آغاز کیا جائے اور جلد از جلد جامع اور قابل عمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ منصوبے پر بروقت عملی کام شروع کیا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سمال ڈیمز کے ساتھ ساتھ مصنوعی ڈیمز بھی نہایت فائدہ مند ثابت ہوں گے، جن کے ذریعے بارش اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے زرعی زمینوں کو سیراب کیا جا سکے گا، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی آبادی کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہو گے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضلع بونیر کے جن علاقوں میں پانی کی قلت درپیش ہے وہاں ترجیحی بنیادوں پر سمال ڈیمز کی نشاندہی کر کے تفصیلی اسٹڈی رپورٹس تیار کی جائیں صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی فلاح اور زراعت کے فروغ کے لیے آبی منصوبوں پر عملی اقدامات کو یقینی بنائے گی اور قابل عمل منصوبوں پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان کا زمونگ کور ماڈل سکول کا دورہ اور طلبہ سے خطاب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زمونگ کور ماڈل سکول کے بچوں کو ہر قسم کی سہولیات اور مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ وہ ایک بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم زمونگ کور ماڈل سکول میں طلباء کیلئے محکمہ کھیل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ یتیم اور مستحق بچوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مشیر کھیل و امور نوجوانان نے کہا کہ زمونگ کور اور خپل کور ماڈل سکول کے بچوں کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف درست رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے کی ہے۔تاج محمد خان ترند نے مزید بتایا کہ محکمہ کھیل بہت جلد انٹر مدارس، اقلیتی اور ٹرانس جینڈرسپورٹس کیمپس منعقد کر رہا ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ کھیل زمونگ کور کے بچوں کو تمام ضروری سہولیات اور تعاون فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں تحصیل کی سطح پر پلے گراؤنڈز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ نچلی سطح پر کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بحال اور مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری کھیل محمد آصف،ڈی جی کھیل تاشفین حیدر اور محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔

Divisional Task Force Meeting on Polio Eradication Held Under Hazara Commissioner

An important meeting of the Divisional Task Force on polio eradication was held under the chairmanship of Commissioner Hazara Division, Mr. Fayaz Ali Shah, to review preparedness for the upcoming polio vaccination campaign scheduled for February. The WHO Coordinator briefed participants on key operational aspects of the campaign.
Addressing the meeting, the Commissioner emphasized that accurate, timely, and reliable data is critical to improving campaign quality and promptly addressing gaps. He directed District Health Officers (DHOs) to deploy internal monitoring teams using their own resources to ensure full coverage of missed children.
He further instructed that during master trainers’ sessions, Union Council–level trainers should receive focused and effective training. Deputy Commissioners and DHOs were asked to personally visit training sessions to motivate master trainers, monitors, and field staff, thereby enhancing overall campaign performance.
Stressing the importance of timely and accurate reporting, the Commissioner called for comprehensive documentation of refusal cases to enable swift and effective follow-up. He also directed special attention to transit points, instructing DHOs to deploy staff to vaccinate children traveling with passengers and tourists.
Regarding security, the Commissioner ordered the preparation of a comprehensive police deployment plan to be shared with all Deputy Commissioners. He underscored that police personnel must accompany polio teams throughout the campaign to ensure security and operational effectiveness.
The Commissioner advised Deputy Commissioners and DHOs to develop district-specific plans based on local ground realities through close coordination. He also emphasized the participation of Assistant Commissioners and Additional Assistant Commissioners in evening review meetings to strengthen field-level supervision and implementation.
Reaffirming collective responsibility, the Commissioner stated that eradicating polio requires coordinated efforts, robust monitoring, and shared commitment. He expressed confidence that Hazara Division can be made polio-free through sustained collaboration.
Concluding the meeting, he directed that recorded messages from elected representatives, social workers, and religious scholars be disseminated on social media to raise public awareness about the importance of the polio campaign and ensure its success.