Home Blog Page 50

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا ٹیکس بک بورڈ میں مبینہ طور پر13کروڑ روپے لاگت کی اضافی نصابی کتب کی چھپائی کی تحقیقات کرنے اور اس معاملہ میں ملوث افرادکے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا ٹیکس بک بورڈ میں مبینہ طور پر13کروڑ روپے لاگت کی اضافی نصابی کتب کی چھپائی کی تحقیقات کرنے اور اس معاملہ میں ملوث افرادکے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے اس حوالے سے صوبائی وزیرنے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4لاکھ اضافی کتب کی چھپائی سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے اور اس معاملہ میں ملوث لوگوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی وزیر نے ٹیکس بک بورڈ کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ نصابی کتابوں کی پرنٹنگ میں شفافیت لائیں اور نصابی کتابوں کی چھپائی کے موجودہ طریقہ کار کو اصول و قواعد اور مالی امور سے ہم آہنگ بنائیں۔ یہ ہدایت انہوں نے خیبر پختونخوا ٹیکس بک بورڈ کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ بریفنگ اجلاس میں سیکر ٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد،خیبر پختونخوا ٹیکس بک بورڈ کے چئیر مین عابداللہ کاکا خیل، سیکرٹری ٹیکس بک بورڈ ڈاکٹر زین اللہ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پر ٹیکس بک بورڈ کے چئیر میں نے صوبائی وزیر تعلیم کو ٹیکس بک بورڈ کے امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر تعلیم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس بک بورڈ کتب کی چھپائی میں خاص خیال رکھیں اور ضرورت اور مارکیٹ کے مطابق پرنٹنگ کو یقینی بنائیں نیزکتابوں پر رقوم کے ضیاع کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں اس کے علاوہ نصابی کتابوں کے اعلیٰ معیار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ تعلیمی سال کے لئے جماعت نہم سے گیارویں جماعت تک کے نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لئے نئے نصاب کی کتابوں کی دستیابی کو بھی یقینی بنائیں۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات سے روکنا/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات سے روکنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے، شفیع جان

سہیل آفریدی کو نویں بار اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جو قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ کو ملاقات سے روکنا آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، شفیع جان

عمران خان کو سیاسی قیدی بنا کر رکھا گیا ہے، تمام مقدمات جعلی اور بے بنیاد ہیں،شفیع جان

عمران خان سے ملاقات روکنے کی کوششیں انہیں قوم اور پارٹی قیادت سے دور رکھنے کی سازش ہے، شفیع جان

پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے کسی صورت قبول نہیں، شفیع جان

عدالتی فیصلوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے، شفیع جان

پنجاب حکومت کا غیرآئینی رویہ جمہوری اقدار کی توہین ہے، شفیع جان

قومی مالیاتی کمیشن اجلاس / معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی قومی مالیاتی کمیشن اجلاس میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کریں گے، شفیع جان

نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی این ایف سی اجلاس میں صوبے کا مقدمہ مؤثر اور مدلل انداز میں پیش کریں گے، شفیع جان

اجلاس میں این ایف سی شیئرز اور وفاق کے ذمے پن بجلی منافع بقایا جات کا مقدمہ بھی پیش کیا جائیگا، شفیع جان

وفاق نے سابق فاٹا کے انضمام کے وقت ہر سال 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، شفیع جان

وفاق نے وعدے کے مطابق فنڈز جاری نہیں کیے، شفیع جان

وزیراعلیٰ این ایف سی میں فنڈز کی کم تقسیم اور وار آن ٹیرر کے کم فنڈز پر بھی تحفظات پیش کریں گے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وفاق کے ذمے 3500 ارب روپے واجبات ہیں، شفیع جان

فاٹا کے انتظامی انضمام کے باوجود این ایف سی شیئر میں اضافہ نہیں ہوا، شفیع جان

ضم شدہ اضلاع کی آبادی اور رقبہ شامل کرکے صوبے کا شیئر ازسرنو مقرر کیا جائے، شفیع جان

این ایف سی شیئر اس وقت عملاً ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے، جو آئین کی روح کے منافی ہے، شفیع جان

وفاق کی مالی تاخیر سے ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کے مسائل جنم لے رہے ہیں، شفیع جان

این ایف سی ایوارڈ میں شیئرز کے معاملے پر صوبے میں حکومت و اپوزیشن یکساں مؤقف رکھتی ہے، شفیع جان

صوبے کو اس کا حق دلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وفود، معززین علاقہ اور شہریوں سے ملاقات کی

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وفود، معززین علاقہ اور شہریوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفود نے اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل، ترقیاتی کاموں میں درکار تعاون اور عوامی سہولیات سے متعلق صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے تمام وفود کی بات نہایت توجہ اور خلوص کے ساتھ سنی اور ہر مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری نوعیت کے کئی مسائل موقع پر ہی حل کروا ئے اور صوبائی وزیر ریاض خان کی کاوشوں اور بروقت اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت، مسائل کا بروقت حل اور ریلیف کی فراہمی خیبرپختونخوا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق صوبے کے ہر شہری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام شعبوں میں تیزی سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا وژن عوامی خدمت، شفافیت اور عملی کارکردگی پر مبنی ہے اور اسی وژن کے تحت محکمے بھرپور محنت سے کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے کہا کہ عوام کی خدمت کرنا ان کے لیے باعث اعزاز ہے اور عوامی مسائل کے حل میں انہیں دلی سکون ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی خدمت، میرٹ و انصاف اور شفاف طرز حکمرانی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور یہی ہماری سیاسی و عوامی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے دفتر اور حجرے کے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں۔ شہری جب چاہیں بلا جھجھک ملاقات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا سننا اور حل کرنا ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر ریاض خان سے چیئرمین ڈیڈیک بونیر کبیر خان، سابق ناظم آفسر خان اور ویلج کونسل چیئرمین وقار خان نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقے کو درپیش مختلف عوامی مسائل، جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Shafi Jan Strongly Condemns Terrorist Attack on Police Mobile Van in Dera Ismail Khan

Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafi Jan, strongly condemned the terrorist attack on a police mobile van in Dera Ismail Khan, expressing deep sorrow and grief over the martyrdom of three police personnel in the incident.
In a statement issued here, Shafi Jan said that anti-state elements will never be allowed to succeed in their nefarious designs. He stated that under the leadership of Chief Minister Muhammad Sohail Afridi, the provincial government is striving to establish sustainable peace. He added that the provincial government is taking concrete measures to enhance the capacity of the police, and maintaining peace remains the top priority of the government.
He noted that, for the first time in the province’s history, a Peace Jirga was convened in the Provincial Assembly, bringing together political leaders, elders, and representatives from all walks of life.
Shafi Jan further said that such acts of terrorism cannot weaken our resolve. He prayed for the elevation of the ranks of the martyrs and for the swift recovery of the injured, stating that the provincial government stands shoulder to shoulder with the families of the martyrs and will provide all possible assistance.
He added that the government and security agencies remain committed to eliminating terrorism and will continue to take all necessary measures to ensure the safety of the public.

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن صوبے کے بچوں کو ابتدائی تعلیم کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات اٹھارہا ہے اور ڈیجیٹل طریقوں سے معیاری تعلیم کی فراہمی میں اس کا بڑا کردار ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن صوبے کے بچوں کو ابتدائی تعلیم کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات اٹھارہا ہے اور ڈیجیٹل طریقوں سے معیاری تعلیم کی فراہمی میں اس کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ایجوکیشن کارڈ کا اجرائ کر رہی ہے اور بچے ایجوکیشن کارڈ کے ذریعے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن کے حوالے سے دی گئی بریفنگ میں کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان ، ایم ڈی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن قیصر عالم خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر کو منیجنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن فاونڈیشن نے ادارے کی کارکردگی سے متعلق تفصیل سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے صوبے کے سکولوں سے باہر بچوں کے لیے ایک پورٹل بنایا ہے جس سے سکول سے باہر کہ بچوں کی نشاندہی ممکن ہوگی جبکہ فاؤنڈیشن نویں جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک فزکس کیمسٹری بیالوجی کے 1264 پریکٹیکل ویب سائٹ مفت فراہم کر رہی ہے اور اسی طرح سے ادارہ ڈیجیٹل ٹریننگ بھی دے رہا ہے جبکہ کمیونٹی بیس سکولوں کو مزید فعال اور موثر بنایا جا رہا ہے صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن انگلش اور ریاضی کے مضامین پر زیادہ توجہ دے اور صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں جائیں بعد ازا ںصوبائی وزیر نے ایسٹس مینجمنٹ سسٹم کا باقاعدہ طور پر افتتاح بھی کیا۔

PCP & ICRC Mark World Day of PwDs with Focus on Inclusion, KP Minister Health lauds role of PCP & ICRC in rehabilitation sciences

The Paraplegic Centre Peshawar (PCP) and the International Committee of the Red Cross (ICRC) jointly observed the International Day of Persons with Disabilities 2025 in Peshawar by organizing a major event aimed at Fostering Disability-Inclusive Societies for Advancing Social Progress in Khyber Pakhtunkhwa.

The event brought together members of the differently abled community (PwDs) who participated in various activities designed to highlight their skills and promote their full inclusion in society.

The Provincial Minister for Health Khaliqur Rehman addressed the gathering as chief guest and praised the Paraplegic Center Peshawar for its vital role in providing facilities and services to persons with disabilities.

He assured of the Provincial Government’s full cooperation and support for the physical and psychological rehabilitation of PwDs in this regard. He also commended the International Committee of the Red Cross (ICRC) for its role over several decades in the physical rehabilitation and social inclusion of persons with disabilities in the province. He added that, unfortunately, due to the prevailing circumstances, the province is more affected by accidents and terror incidents than others, making the allocation of resources for the physical rehabilitation of the affected people indispensable.

At the occasion Mr. Bruno Radicchi, Head of the ICRC Sub-delegation, spoke about the organization’s long-standing commitment to physical rehabilitation in Pakistan. He highlighted the extensive work done in the region:
“As a core area of the ICRC’s expertise since 1984 in Pakistan, our Physical Rehabilitation Program is dedicated not just by providing comprehensive services such as the delivery of over 43,000 artificial limbs and 136,000 supportive devices since 2009, but more essentially it also contributed to promoting the societal integration of Persons with physical disabilities.” He noted the strong partnership with the Paraplegic Centre Peshawar, which was established by the ICRC in the 1980s.

“Our work in Khyber Pakhtunkhwa, in partnership with Paraplegic center Peshawar and other organizations, supports 10 Physical Rehabilitation Centers across the province and focuses on empowering Persons with disabilities through access to education, vocational training and Micro-Economic Initiatives, ensuring they are recognized and included as both agents and beneficiaries of social development. Such events are a vital step toward promoting the long-term sustainability and social inclusion of PWDs in the region,” Mr. Radicchi added.

Addressing the ceremony, Dr. Syed Muhammad Ilyas, Chief Executive of the Paraplegic Center Peshawar, stated that in the past, the Center provided rehabilitation facilities for spinal cord patients not only from across Pakistan but also from neighboring Afghanistan. However, he noted that the rush of patients at the center has now exceeded its capacity manifolds. Therefore, there is a need to establish four additional similar centers within Khyber Pakhtunkhwa province alone. A moving segment of the event was a special poetry session conducted by the differently abled persons people themselves, where they used poetic language to highlight themes of empowerment and inclusion. Other important organizations actively working for the empowerment of differently abled persons also participated in the event as well as set up its stalls underscoring the collaborative effort needed to achieve true societal inclusion.

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن صوبے کے بچوں کو ابتدائی تعلیم کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات اٹھارہا ہے اور ڈیجیٹل طریقوں سے معیاری تعلیم کی فراہمی میں اس کا بڑا کردار ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن صوبے کے بچوں کو ابتدائی تعلیم کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات اٹھارہا ہے اور ڈیجیٹل طریقوں سے معیاری تعلیم کی فراہمی میں اس کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ایجوکیشن کارڈ کا اجرائ کر رہی ہے اور بچے ایجوکیشن کارڈ کے ذریعے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن کے حوالے سے دی گئی بریفنگ میں کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان ، ایم ڈی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فائونڈیشن قیصر عالم خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر کو منیجنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن فاونڈیشن نے ادارے کی کارکردگی سے متعلق تفصیل سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے صوبے کے سکولوں سے باہر بچوں کے لیے ایک پورٹل بنایا ہے جس سے سکول سے باہر کہ بچوں کی نشاندہی ممکن ہوگی جبکہ فاؤنڈیشن نویں جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک فزکس کیمسٹری بیالوجی کے 1264 پریکٹیکل ویب سائٹ مفت فراہم کر رہی ہے اور اسی طرح سے ادارہ ڈیجیٹل ٹریننگ بھی دے رہا ہے جبکہ کمیونٹی بیس سکولوں کو مزید فعال اور موثر بنایا جا رہا ہے صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن انگلش اور ریاضی کے مضامین پر زیادہ توجہ دے اور صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں جائیں بعد ازا ںصوبائی وزیر نے ایسٹس مینجمنٹ سسٹم کا باقاعدہ طور پر افتتاح بھی کیا۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسزمیں تقریب کا انعقاد،وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امورآفتاب عالم ایڈووکیٹ کی بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت

انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے نظامت قانون و انسانی حقوق کے زیر اہتمام، یو این ڈی پی اوریورپی یونین کے تعاون سے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز حیات آباد میں بدھ کے روز ایک آگہی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بنیادی انسانی حقوق،مساوات،عدل و انصاف کی اہمیت کے مختلف پہلوں کو اجا گر کیا گیا۔ تقریب میں وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبرپختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائیٹس، یو این ڈی پی،یورپی یونین، تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں،غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں وزیر قانون نے کہا کہ انسانی حقوق کی ترویج اور قانون کی بالادستی کے لیے ایسے فورمز نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی و معاشی استحکام کے لیے انسانی حقوق کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں، اور اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ صوبائی حکومت ہیومن رائٹس ڈپارٹمنٹ میں اصلاحات متعارف کروا رہی ہے اور موجودہ قوانین میں ترامیم کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنانا ہے۔آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 2025-26 کی اے ڈی پی میں انسانی حقوق کے فروغ سے متعلق ایک جامع منصوبہ شامل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔تقریب میں انسانی حقوق کے حوالے سے طبلہ و طالبات کے درمیان منعقد کی گئیں ڈاکومنٹریز ویڈیو مقابلے میں دس بہترین ویڈیوز پیش کی گئیں جنہیں شرکاء نے سراہا۔ تقریب میں تین بہترین ٹیموں کو نقد انعامات سے بھی نوازا گیا۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے 10دسمبر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے کی مناسبت سے تفصیلی گفتگوکی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے شعبہ امراضِ چشم (آفتھلمولوجی) کے یونٹس اور وارڈز کا دورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کا جائزہ لیا

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے شعبہ امراضِ چشم (آفتھلمولوجی) کے یونٹس اور وارڈز کا دورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ہسپتال کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شہزاد اکبر نے وزیر صحت کو جدید آنکھوں کے علاج کے متعلقہ یونٹس کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے شعبہ امراضِ چشم کی کارکردگی، دستیاب سہولیات، مریضوں کے ہجوم اور فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر صحت نے ماہر ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف اور جدید آلات کی مدد سے مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنے، وارڈز اور شعبوں کے مختلف حصوں کی صفائی سمیت مجموعی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیر صحت نے ایک اہم منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت محکمہ صحت محکمہ ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ مل کرسکولوں میں بچوں کے مفت آنکھوں کے معائنے کے لیے ماہر امراضِ چشم فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں کم عمری میں نظر کی کمزوری اور دیگر آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص کرنا ہے تاکہ ابتدائی مرحلے میں ہی علاج ممکن ہو اور مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔بعد ازاں وزیر صحت کو ہسپتال کی مجموعی سہولیات اور بالخصوص شعبہ امراضِ چشم کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ آنکھوں کے علاج کے شعبے کی بہتری کے لیے تمام درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید اور ضروری طبی آلات، جو تشخیص اور علاج کے عمل کو تیز کر سکیں، فوری طور پر فراہم کیے جائیں گے۔وزیر صحت نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مریضوں کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو شعبہ امراضِ چشم کی خدمات پر بھرپور اعتماد ہے، جو چوبیس گھنٹے انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کو ہدایت کی کہ وہ ایمانداری، جذبہ خدمت اور خوش اخلاقی کے ساتھ فرائض سرانجام دیں کیونکہ مریضوں کا اطمینان بنیادی طور پر عملے کے رویے اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل سے وابستہ ہوتا ہے۔عملے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ ڈاکٹرز موجودہ مشکل حالات میں فرنٹ لائن وارئیرز کا کردار ادا کر رہے ہیں اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط ٹیم ورک اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔وزیر صحت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی کیونکہ صوبہ اس وقت معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دستیاب وسائل کو شفاف انداز میں اور مؤثر طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال میں لایا جائے۔